یہ تو مضحکہ خیز ہے۔

(Kanwal Naveed, Karachi)

ہم جس معاشرہ میں رہتے ہیں وہاں بسا اوقات سچ کو بیان کرنے کے لیے زبان کو کھینچ کر گدی سے باہر لانا پڑتا ہے کیونکہ ہماراڈر ہمیں بولنے ہی نہیں دیتا ۔ بولنے دے بھی تو کیسے؟ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں مردوں کی ایسی حکومت ہے کہ اگر کسی عورت کو غلطی سے بھی کچھ بننے یا ہونے کاخبط سوار ہو جائے تو وہ انہی کی جی حضوری میں سر خم کیے نظر آتی ہے۔کچھ عورتیں تو مردوں کا مقابلہ کرنے کے چکر میں مرد بننے کی کوشش کرتی ہیں ۔ پھر ان کا وہ حساب ہوتا ہے آدھا تیتر ، آدھا بٹیر۔میری دوست نے مایوسی سے دانت پیستے ہوئے کہا۔تم کیوں نہیں آئی میرے ساتھ احتجاج کے لیے۔ آزادی نسواں کے لیے احتجاج میں ہر عورت کو شامل ہونا چاہیے۔
میں کچھ دیر خاموش رہی تاکہ وہ اور ذیادہ جو دل میں بھڑاس رکھتی ہے بول دے۔ جب وہ کچھ نہ بولی تو میں نے کہا، اصل مسلہ عورت ہونا نہیں بلکہ خود آگاہی کا ہے۔مسلہ صرف مردوں کے ساتھ نہیں ہے۔ مسلہ ہمارے ساتھ ہے۔ اس نے پھر آزادی نسواں کا پرچار کرتے ہوئے افسردگی سے ایک شعر سنایا۔
آہ کہ وہ خواب جو ٹوٹنے کے لیے ہیں ۔
آہ کہ وہ خزانے جو فقط لٹنے کے لیے ہیں ۔
کراتا ہے فقط تجربہ حقیقت سے روشناس ۔
مقدر بنتے ہی کچھ فقط پھوٹنے کے لیے ہیں۔
فلم کا وہ ڈائیلاگ سنا ہے ، جس میں ایک عورت کہتی ہے کہ جن کی قسمت اچھی ہوتی ہے وہ دنیا میں لڑکی بن کر نہیں آتا۔ اس کے چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہو چکے تھے ۔
اس نےمذید کہا۔ مسلہ ہمارے ساتھ ہے۔ کون سی عورت پانچ سال کی بچی کے ساتھ ذیادتی کرتی ہے۔ کبھی سنا ہے کوئی مرد غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا ہو۔ کون سی بیوی دھکے دے کر شوہر کو گھر سے نکال دیتی ہے۔ میرے ہنسنے پر وہ مذید رنجیدہ ہو گئی۔
میں نے ہنس کر کہا۔اچھا یہ سب ٹھیک ہے ، مگر یہ بتاو ،یہ جو ابھی تم نے مسائل گنوائے ہیں ، ان میں سے چند تمہارے سامنے ہو رہے ہو ،تم کیا کرو گی۔ اس نے کہا کچھ بھی نہیں ۔ میں کیا کر سکتی ہوں ؟کچھ دن پہلے میں نے ایک آرٹیکل دیکھا اس میں اتنی خوبصورتی سے کہا گیا تھا کہ عورت کو گھر کے اندر دبک کر رہنا چاہیے۔ باہر اس کے لیے خطرہ ہے ۔ مو صوف نے کچھ اس طرح سے لکھا تھا۔ ایک بکریوں کاگروپ اپنے مالک کی نگرانی میں سکون سے رہتا تھا۔ ایک دن بکریوں میں سے کچھ نے احتجاج شروع کر دیا کہ انہیں آزادی چاہیے۔ مالک نے نہ چاہتے ہوئے بھی اجاذت دے دی۔ اب بکریاں بغیر مالک کے گھومنے لگی۔ انہیں ان کی آزادی بہت بھلی لگ رہی تھی مگر چند دن گزرے اور بھیڑیوں نے دیکھا کہ بکریاں نگران کے بغیر ہیں تو وہ موقع پا کر کسی بکری کو نوچ ڈالتے۔ احتجاج کرنے والی بکریوں کو اب احساس ہوا کہ وہ جس چیز کو قید سمجھ رہی تھیں وہ ان کے لیے نعمت تھی۔ لہذا میری بہنوں کو پردے اور چار دیواری کی عظمت کو سمجھنا چاہیے۔ بھیڑے تو چاہتے ہی یہی ہیں کہ کوئی بکری اکیلی مل جائے۔
دیکھو یہ ہے سوچ اس معاشرے کی۔عورت اور بکری میں کوئی فرق ہی نہیں ۔ موصوف نے آدھا سچ لکھا ہے۔ وہ جن کو بھیڑے کہہ رہا ہے وہ مالک کے سکے ہی ہیں اسی کے ہم جنس ہیں ۔ وہ عورت کو باہر کے بھیڑیے تو دیکھا رہا ہے لیکن اندر کے بھیڑے کو بکری کا ہمدرد کہہ رہا ہے۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ عورت کو دنوں طرف ہی برابر کا خطرہ ہے۔ میں کیا غلط کہہ رہی ہوں۔بولو۔ گھروں میں جس قدر عورتوں کے ساتھ ظلم ہوتے ہیں ،کسی سے چھپے ہوئے نہیں ۔ یہ اندر کے بھیڑے کبھی تو عورت کو جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں تو کبھی ذہنی اور جذباتی مار مارتے ہیں ۔ جب تک بکری دودھ دینے کے قابل ہوتی ہے تب تک نگران اسے اچھا چارہ اور پیار بھرا ماحول دیتا ہے۔ جب بکری اس کے مطلب کو پورا نہیں کرتی یا کرنے کے قابل نہیں رہتی تو وہ ہی مالک اپنا اصل روپ دیکھاتا ہے اور بھیڑیا بن جاتا ہے۔
مجھے اس کے نقطہ نظر کو سن کر تھوڑی سی الجھن ہوئی ۔ میں نے اس کی تقریر میں مداخلت کرتے ہوئے کہا۔ اگرچہ تمہاری کچھ باتیں درست ہیں مگر کسی ایک آرٹیکل کی بنیاد پر تم عورت کو بکری قرار دے لو تو غلط ہو گا۔
جن موصوف نے سمجھانے کی غرض سے عورت کو بکری سے مشابہ قرار دیا ہے ان کی سوچ کی کمی کو ہم سب مردوں کی سوچ قرار نہیں دے سکتے۔ ہم جس کلچر سے وابسطہ ہیں وہاں عورت اور مرد مختلف قسم کے کاموں سے منسوب کر دیئے گئے ہیں ۔شاہد وہ صرف یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ عورت بازار کے لیے مناسب نہیں ۔اس کے سمجھانے کا طریقہ غلط تھا۔سچ بھی یہی ہے کہ عور ت کے لیے چادر اور چاردیواری کا تقدس اہم ہونا چاہیے۔ہمارا دین بھی ہم سے یہی توقع کرتا ہے کہ ہم گھروں میں رہیں ۔ دبک کر رہیں ایسی کوئی بات میرے علم میں تو نہیں ۔
میں سمجھتی ہو ں کہ کلچر کو تبدیلی کی ضرورت ہے اور دقیہ نوسی روایات اور رسومات کو نکال باہرکرنے کے لیے عورتوں کو قابل بننا ہو گا۔ اللہ تعالی بھی قرآن مجید میں فرماتا ہے ۔ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ چونکہ ہمارے دین میں نان نفقہ کی زمہ داری مرد کو سونپی گئی ہے تو عورتیں اپنے آپ کو اس قا بل ہی نہیں بناتی کہ وہ معاشی طور پر مستحکم ہوں ۔ان کے نزدیک روٹیاں بنانے کے لیے کسی ہنر کی کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ بعض آدمی اپنی بیویوں کو اپنا نوکر تصور کرنے لگتے ہیں ۔ اس میں پورا قصور آدمی کا بھی نہیں ہے۔ جب ایک آدمی کو یہ احساس ہو جائے کہ خواہ وہ کچھ بھی کرئے ، اس کی بیوی نے اسے چھوڑ کر کہا ں جانا ہے تو اگر وہ اچھے اخلاق کا نہیں تو ضرور گھٹیا حرکتوں پر مائل ہو گا۔ دوسری طرف ایک اچھا آدمی اپنی بیوی کو اپنا قیمتی اثاثہ سمجھے گا ۔ جو کسی بھی قیمت ہر اُسی کا رہنے والا ہے۔ میرے خیال میں عورتوں کو معاشی طور پر مستحکم ہونا چاہیے۔ اس کا ٹھیک طریقہ یہ نہیں کہ ہر عورت نوکری کرنے لگے بلکہ اس کا درست حل یہ ہو گا کہ ہر عورت کوئی نہ کوئی ایسا ہنر رکھتی ہو کہ وہ کسی مرد کی محتاج نہ رہے۔ اگر اس کا بد قسمتی سے ایک برے آدمی سے واسطہ پڑ جائے تو وہ اپنی ذات کو اپنے بچوں کو سنبھال سکے۔ ظلم کرنے والے سے ظلم سہنے والے کا قصور ذیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہ ظلم کرنے کی روایت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں بچیوں کو تعلیم بھی صرف اچھے رشتے کے حصول کے لیے دلوائی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں 80 فی صد گھرانوں میں بچیوں کی ملازمت کو بُرا سمجھا جاتا ہے۔ لڑکیاں بھی اسی سوچ کے ساتھ اگلے گھروں میں جاتی ہیں کہ ان کا شوہر ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھے گا۔ ایسا ہوتا بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اچھے گھرانوں کا یہی چلن ہے۔ کچھ نااہل مردوں نے جو اپنی ذات کو اونچا دیکھانے کے لیے عورت پر حکم چلانے کو اپنا حق سمجھتے ہیں چند عورتوں کو باغی بنا دیا ہے۔ اس سے معاشرے کی شکل ہی بدل کر رہ گئی ہے۔ حکومت کرنے کی خواہش اب صرف مردوں میں نہیں بلکہ عورتوں میں بھی پیدا ہو چکی ہے۔ یہ بات عورت کو سمجھنا ہو گی۔ نیک چلن آدمی جب ان باغی عورتوں کو دیکھتے ہیں تو وہ اپنی بیویوں کو وہ جائز اختیارات بھی نہیں دے پاتے جو ان کا حق ہیں ۔ اب اگر آئینہ دیکھا جائے تو قصور دونوں طرف ہی نظر آتا ہے۔عورت اور آدمی میں آدمی کو ایک درجہ فضیلت دی گئی ہے۔یہ بات عورتوں کو تسلیم کرنی چاہیے۔
اگر غور کرو تو پتہ چلے گا وہ بھی عورتیں ہی ہیں جو ایک شادی شدہ آدمی کے ساتھ آفس کے بعد برگر پوائنٹ پر نظر آتی ہیں ۔ وہ بھی عورتیں ہی ہیں جو کھلے عام آدمیوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہیں ۔ جہاں تم نے ذیادتی کی بات کی تو ٹی وی میں وہ خبر بھی تم نے دیکھی ہو گی جہاں سکی ماں نے اپنے ہی بچوں کو اس لیےجان سے مار ڈالا تا کہ شوہر کو تکلیف دے سکے ۔
احساس ہی احساس کو پیدا کرتا ہے۔ عورتوں کے مسائل عورتیں خود حل کر سکتی ہیں ۔ کوئی ایسا احتجاج نہیں جو سڑک پر ہو۔گھر کی لڑائی جب سڑک پر آتی ہے تو تماشا بن جاتی ہے۔ ہمارے ہاں تماشا دیکھنا ہر کسی کو پسند ہے مگر تماشا بننا کسی کو پسند نہیں ۔ مسائل کو تھوڑا اوپر سے دیکھنا ہو گا۔ ایک انگریزی محاورہ ہے کہ پہلے قابل بنو پھر خواہش کرو۔ عورت کے لیے میری سوچ یہی ہے۔
ایک کہانی سناتی ہوں ،شاہد کہ تمہیں میری بات سمجھ آئے۔ ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ اپنے کچے سے مکان میں رہتی تھی۔ گھر کا دروازہ نہ تھا ۔ بس پردہ ہی لگا تھا ، جو دروازے کا کام کرتا تھا ۔
میاں بیوی دونوں صبر وشکر کی زندگی گزارتے تھے۔ بیوی ہمیشہ شوہر سے کہتی، کچھ بھی کر کےگھر کا دروازہ لگا دو ۔ کوئی اندر گھس آئے تو ؟ آدمی کہتا ،ہاں جب بھی کچھ پیسے جمع ہو جائیں تو ضرور لگاوں گا۔ اس کے شوہر کے چپل کا ایک جوڑا ہمیشہ پردے کے ساتھ پڑا رہتا تھا۔ وہ گھر سے چلا جاتا پھر بھی وہ چپل وہیں رہتے۔ اس عورت کی ایک سہیلی اسے اکثر کہتی ،یہ چپل یہاں سے ہٹا دیا کرو ،جب تمہارا شوہر گھر پر نہیں ہوتا تب بھی لگتا ہے گھر ہی میں ہے ۔ ان چپلوں کی وجہ سے۔ مگر وہ بیوی ہنس کر کہتی ۔ تمہارے بھائی نے کہا ہے یہ یہاں ہی رہیں تو میں تو ان کی خواہش کا جی جان سے احترام کرتی ہوں ۔
یوں وقت گزرتا گیا۔ ان کی اولاد نہ تھی ۔ میاں جو بھی کماتا بیوی کو لا کر دیتا اور بیوی بھی پوری ایمانداری سے گھر کے فرائض پورے کرتی ۔ ایک دن بیوی کی سہیلی نے اسے بھرکا دیا۔ بولی! تمہیں ڈر نہیں لگتا ۔ اپنے شوہر سے کہتی کیوں نہیں کہ دروازہ لگوا کر دے۔ اگر نہیں لگوا سکتا تو تم خود کیوں نہیں کچھ کام کرتی کہ اتنے پیسے جمع ہوجانیں، جو تم دروازہ لگوا لو۔یہاں پاس میں فیکڑی ہے ،تمہیں کام مل جائے گا۔ سہیلی کے جانے کے بعد عورت کو لگا ،اس کا شوہر کسی کام کا نہیں ۔ایک دروازہ جو اسے لگوا کر نہیں دے سکتا اور کیا کرئے گا۔ وہ سارا دن اپنے شوہر کو کوستی رہی۔ شام کو تھکا ہارا جب اس کا شوہر واپس آیا تو اس نے بیوی کا منہ بنا دیکھا۔ پریشانی سے پوچھا ۔ کیا ہوا۔
بیوی نے غصے سے کہا۔ کتنے سال ہو گئے تم سے ایک دروازہ نہیں لگوایا جا سکا ۔ اگر کوئی چور گھر میں گھس آئے تو ۔ تمہیں میری کچھ پروا نہیں ۔ آدمی نے بڑی کوشش کی کہ بیوی کو کسی طرح راضی کرئے ،مگر بیوی تھی کہ ماننے کو تیار ہی نہ تھی۔ اس نے شوہر سے کہا۔ میں خود کچھ نہ کچھ کر کے اب یہ دروازہ بنواوں گی۔ شوہر نے غصے سے کہا اچھا میں کل دروازاہ لگوا دوں گا۔ میں نہیں چاہتا کہ میری بیوی کسی فیکڑی میں مردوں کے ساتھ کام کرئے۔شوہر نے دوسرے دن ایسا ہی کیا۔ بیوی خوش ہو گئی ۔ دوسرے دن جب اس کی سہیلی آئی تو اس نے فخر سے کہا۔ دیکھا میں نے دروازہ لگوا لیا۔ اس کی سہیلی نے ہنس کر کہا۔ تمہارا شوہر تو بہت چالاک ہے۔ اتنے عرصے سے تمہیں اُلو بنا رہا ہے۔ اس کے پاس رقم تھی لیکن !
وہ دیر تک ہنستی رہی ۔ بے چاری بیوی اپنے شوہر کو کوسنے لگی۔دانت پیس رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی ، کسی نے آ کر بتایا کہ اس کے شوہر کو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے ،اس نے چوری کی تھی۔ بیوی کے تو ہوش اُڑ گئے۔ سہیلی تو اپنے گھر چلی گئی مگر وہ بیوی بے چین ہو کر پھر رہی تھی۔ ایک احساس جرم نے اسے گھیر لیا۔
پولیس نے اس غریب آدمی کو خوب مارا ۔ اس رات اس کی بیوی تما م رات جاگتی رہی ،اگرچہ دروازہ تو بند تھا مگر خوف سے اسے نیند نہیں آئی ۔آدھی رات کو اسے دروازے پر دستک محسوس ہوئی۔ وہ دروازے کے پاس گئی تو اسے عجیب سی آوازیں سنائی دے رہی تھی۔ کچھ آدمیوں کے ہنسنے کی آواز۔وہ کانپ کر رہ گئی۔ اسے سمجھ آ چکی تھی کہ عورت کا محافظ دروازہ نہیں شوہر ہوتا ہے۔ دوسرے دن اس نے اس پولیس والے سے روتے ہوئے کہاوہ اس کے گھر کا دروازہ اتار لیں اور اس کا شوہر واپس کر دیں ۔
انسانوں کے ساتھ بُرا اچھا ہوتا ہے۔ جنس سے مبرا ہو کر سوچا جائے تو کتنے ہی معصوم لڑکے بھی ذیادتی کا شکار ہوتے ہیں ۔ تعلیم کا حق انہیں بھی میسر نہیں ۔ اگر ہم نے اپنی سوچ نہ بدلی تو ہم اپنے معاشرے کو لڑکوں جیسی لڑکیاں دینے لگے گئے۔سچ تو یہ ہے کہ نہ کوئی مرد عورت کی طرح بن سکتا ہے نہ کوئی عورت مرد جیسی بن سکتی ہے۔۔ ہر کسی کا اپنا ایک کردار ہے۔اصل چیز قابلیت ہے ۔عورت اور مرد دونوں کو معاشی طور پر مستحکم ہونا چاہیے۔ اصل معیار قابلیت ہے۔
محبت کی نفسیات کتاب میں ایک بہت خوبصورت بات لکھی ہوئی ہے کہ دو لوگ جو ہر لحاظ سے خود مختار ہو ۔ایک دوسرے سے الگ رہ کر بھی باوقار زندگی گزار سکتے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے کو چن لیں ۔ اس لیے ساتھ رہیں کہ اس سے ان کے جیون کو بہتری ملے گی ۔ اسی صورت وہ ایک دوسرے سے محبت کر سکتے ہیں ۔محتاج انسان کسی کو کیا دے گا۔
باغ ایک طرح کے پھولوں سےخوبصورت نہیں لگتا بلکہ رنگ رنگ کے پھول اسے حسن دیتے ہیں ۔ کوئی کسی کو غلام نہیں بنا سکتا جب تک کہ کوئی غلامی پر تیار نہ ہو۔ آج ہمیں خود کو مظلوم ثابت کرنے کی نہیں بلکہ اپنی قابلیت کو منوانے کی ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں جہاں کہا گیا ہےکہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔وہاں مرد اور عورت کو الگ الگ کر کے بیان نہیں کیا گیا۔ ایک سچ یہ بھی ہے کہ کچھ مردوں نے اپنے فائدے کے لیے اپنی عورتوں کی نمائش شروع کر دی ہے ، جبکہ ہمارے نبی ﷺ نے دنیا کا سب سے قیمتی خزانہ مرد کے پاس اس کی نیک بیوی کو قرار دیا ہے۔ دوسری طرف عورت کے لیے اس نماز کو افضل قرار دیا ہے جو گھر کے صحن کی بجائے کمرے کے اندر ہو۔ آج عورتوں کو گھروں سے باہر رہنے کا شوق ہے اور آدمی کو حکومت کرنے کا ایسا خبط ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کا ہی آقا بننے کی کوشش کرتا ہے۔
میری دوست نے بڑی خاموشی سے کہانی سنی اور پھر بولی تو تم کہتی ہو کہ عورت کا اپنا قصور ہے۔ آدمی کا کوئی قصور نہیں ۔ میں نے اس کی طرف دیکھ کر پورے یقین سے کہا۔ ہاں میں یہ اس لیے کہتی ہوں کہ آدمی کی تربیت ایک عورت کرتی ہے جو اس کی ماں ہوتی ہےجبکہ کوئی آدمی کسی عورت کی تربیت نہیں کر سکتا ۔ عورت بطور ماں وہ کام کر سکتی ہے جو ایک مرد کبھی نہیں کر سکتا۔سڑکوں پر احتجاج کرنے کی بجائے ہمیں گھروں میں تربیت پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
ختمی بات تو یہ ہے کہ ،کسی کے بکری کہنے سے کوئی عورت بکری نہیں بن سکتی ،کیونکہ بکریوں کے پاوں کے نیچے جنت کی نوید رب نے نہیں دی۔ آزادی گھروں سے باہر نوکریاں کرنے سے نہیں ملتی،نہ ہی گھروں میں رہنے والی عورتیں غلام ہوتی ہیں ۔محتاج انسان غلام ہوتا ہے۔ وہ مرد بھی ہو سکتا ہے اور عورت بھی۔ کسی بھی انسان کو اچھی زندگی گزارنے کے لیے جیون ساتھی کی ضرورت نہیں خواہش ہوتی ہے۔جب رشتے ضرورت کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں تو ضرورت پوری ہونے کے بعد رشتے کا ختم ہونا لازمی ہے۔
میری دوست میری طرف ایسے دیکھ رہی تھی جیسے اسے میری بات کی سمجھ ہی نہ آئی ہو۔ اس نے کچھ دیر میرے خاموش رہنے کے بعد کہا۔ ضرورت ہی تو رشتوں کو جوڑ کر رکھتی ہے۔میں نے کہا نہیں ، یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے اسی لیے تو آج ہمارا معاشرہ تنزلی کا شکار ہے۔ اس نے کہا تم یہ کہہ رہی ہو کہ عورت کو نوکری نہیں کرنی چاہیے۔میں نے کہا میں یہ کہہ رہی ہوں کہ عورت کو نوکری کرنی چاہیے یا نہیں یہ فیصلہ اس کا اپنا ہونا چاہیے۔ فیصلےکرنے کے لیے قابلیت کا ہونا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں عورتوں کو باتیں کرنے اور رونا رونے سے فرصت نہیں ۔ ہمارے ہاں کی عورتیں مسلہ کے حل کی بجائے مسلہ پر گفت و شنید تک محدود رہتی ہیں ۔ عورت اور مردزندگی کے دو پیروں کی طرح ہیں ،جب ایک آگے جاتا ہے تو دوسرے کو پیچھےرہنا ہی ہوتا ہے ،جب دوسرا آگے جاتا ہے تو ایک والا پیچھے ہوتا ہے۔ یوں زندگی آگے بڑھتی ہے۔ جہاں پیچھے والا پیچھے اور آگے والا آگے رہے وہاں زندگی جامد ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں جو پاوں آگے ہے۔ وہ آگے ہی رہنا چاہتا ہے ۔چاہے وہ مرد ہے یا عورت،یہ سوچے سمجھے بغیر کہ وہ اگر دوسرے پاوں کو آگے نہیں آنے دے گا تو خود بھی وہیں کا وہیں رہ جائے گا۔زندگی میں ترقی و خوشحالی کے لیے مرد اور عورت کو ساتھ ساتھ ہی رہنا ہو گا۔ حقوق و فرائض کے سلسلے میں در پیش مسائل کو مل جل کر حل کرنا ہو گا۔اگر کوئی فریق سچ میں گھٹیا ہے تو دین میں طلاق بھی ایک نعمت ہے۔ سڑکوں پر اس طرح سے آنا کسی صورت ٹھیک نہیں ۔یہ تو مضحکہ خیز ہے۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1340 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 161822 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: