پولیس میں۔۔۔۔احتساب’’ خود سے‘‘

(Dr M Abdullah Tabasum, )

پھر دل کو مصفّا کرو اس لَوح پہ شاید ..مابینِ من و تُو نیا پیماں کوئی اترے۔۔اب رسمِ ستمِ حکمتِ خاصانِ زمیں ہے.....تائیدِ ستم مصلحتِ مفتیِ دیں ہے۔۔اب صدیوں کے اقرارِ اطاعت کو بدلنے........لازم ہے کہ انکار کا فرماں کوئی اترے
زمانہ بیت گیا حسرت ہی رہی کہ کبھی کوئی مسیحا اس زمین پر ایسا آئے کہ اس ملک کی خزاں رسیدہ، بوسیدہ اور رستے زخم کی سیاہ المناکی پر سکھ، خوشی اور آسودگی کا مرہم رکھ سکے، قانون کے رکھوالوں کے ہاتھوں ہونے والی اس صوبے کی ہولناکی اور دکھ کی سیاہ رات کو چیر کو امن و امان اور قانون کی صبح طلوع کرسکے، لاقانونیت کو لگام دے سکے، ایسی لگام دے کہ یہ قانون کے رکھوالے درست معنوں میں قانون کے نگہبان، عزتوں کے محافظ اور راہبر و رہنما بن جائیں، وہ اس شہر کے، اس ملک کے ہر شہری کی عزت اور جان و مال کی حفاظت اپنی جان و مال کی حفاظت کی طرح کریں، وہ اس ملک کے ہر شہری کو اسی طرح احترام دیں جس کے اس ملک کے شہری حق دار ہیں،اور ہم سب جانتے ہیں کہ کمیشن تو بے نظیر قتل کیس کا بھی بنا تھا، لیاقت علی خان قتل کیس کا بھی کمیشن بنا تھا، سقوطِ ڈھاکا کمیشن بھی بنایاگیا تھا، ارے یاد آیا، وہ انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کے اور سانحہ سائیوال کے بے گناہوں کے قتل کا بھی توکمیشن بنایا گیا تھا ناں،کمیشن تو اس ملک میں بہت بنتے ہیں، لیکن ان کی رپورٹ بھی تو کبھی منظرعام پر آئے،لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ ہم بھی قانون کے رکھوالوں کو ویسی ہی عزت دیں جس کے وہ مستحق ہیں، ’’پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی‘‘، قارئین آپ کو یاد ہوگا کہ پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک ڈراما ’’’’اندھیرا اجالا‘‘‘‘ کے نام سے ٹیلی کاسٹ کیا جاتا تھا جس میں جمیل فخری ہوشیار ترین ایس ایچ او، اور حوالدار عرفان کھوسٹ جو تھانہ کا محرر تھا انتہائی سادہ شخصیت کا مالک ہوتا ہے، ہمارے معاشرے میں بھی ایسے کردار موجود ہیں، پولیس کے بہت سے ایمان دار افسران اور اہلکار اس معاشرے کو سدھارنے میں لگے ہوئے ہیں، صرف چند کالی بھیڑوں اور گندی مچھلیوں نے معاملہ خراب کررکھا ہے، اگر ہمارے سیاستدان پولیس کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں اور قانون کی وردی میں چھپا بھیڑیا پکڑا جائے تو اسے نشانِ عبرت بنادیا جائے، تاکہ معاشرہ درست سمت کی طرف بڑھ سکے، اس کے لیے حکومت کو بھی پولیس ملازمین کی ضروریات اور اُن کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیے، بلا شک و شبہ پولیس میں ایمان دار اور اس معاشرے اور محکمے کو سدھارنے والے اعلی پولیس افسران کی کمی نہیں ہے ، گزشتہ روز ڈائریکٹر میڈیا پنجاب پولیس میڈم نبیلہ غضنفر صاحبہ نے چونکا دینے والی خبر دی کہ امجد جاوید سلیمی انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب نے دبنگ فیصلہ کیا ہے ، پنجاب پولیس میں انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی پر عملدرآمد جاری آئی جی پنجاب، امجد جاوید سلیمی نے 36ڈی ایس پیز کی معطلی کے احکامات جاری کر دئیے، پنجاب پولیس میں انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی سسٹم کو تیز کر دیا گیا، ادارے کو فرائض میں غفلت، کوتاہی، لاپرواہی، اختیارات سے تجاوز اور کرپشن جیسے سنگین الزامات میں ملوث عناصر سے پاک کر دیا جائے گا،احتساب کا عمل بلحاظ عہدہ جاری رہے گا 36ڈی ایس پیز کو محکمانہ انکوائری کے بعد قصور وار ثابت ہونے پر معطل کر دیا گیا، معطل ہونے والے افسران میں ایس ڈی پی او مغلپورہ، فتح احمد،ڈی ایس پی انسداد اغواء برائے تاوان سکواڈ لاہور، سید ریاض علی شاہ،ایس ڈی پی او نوانکوٹ، لاہور، محمد ریاض،ڈی ایس پی مغلپورہ، سٹی ٹریفک پولیس لاہور، فاتح عالم، ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم صدر لاہور، انور سعید طاہر، ڈی ایس پی اینٹی رابری لاہور، ملک داؤد احمد،ڈی ایس پی انارکلی سٹی ٹریفک لاہور، منصور ناجی،* ڈی ایس پی سکیورٹی ڈویژن X، لاہور، شیربہادر،ڈی ایس پی موبائلز اقبال ٹاؤن لاہور، ناصر حنیف، ڈی ایس پی سنٹرل پولیس آفس، لاہور ارشد لطیف، ایس ڈی پی او فیروز والاشیخوپورہ، خالد محمود ڈار، * ایس ڈی پی او پتوکی قصور، عاطف میراج، ایس ڈی پی او صدر منڈی بہاؤ الدین، طاہر مجید خان، ایس ڈی پی او ظفر وال نارووال، صابر حسین، ایس ڈی پی او ٹیکسلا راولپنڈی، جاوید حسن، ایس ڈی پی او حضرو، اٹک، سلیم اکبر، ایس ڈی پی او صدر سرگودھا، طاہر محمود، ایس ڈی پی او صدر قصور، ظفر اقبال، ٹریفک آفیسر سرگودھا، ڈی ایس پی محمد اقبال،ایس ڈی پی او بٹالہ کالونی فیصل آباد، لعل محمد کھوکھر،ایس ڈی پی او جڑانوالہ، فیصل آباد، نعیم عزیز،ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم I، فیصل آباد، سلیم حیدر شاہ ایس ڈی پی او شورکوٹ جھنگ، معین اشرف، ایس ڈی پی او گوجرہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خالد محمود خان، ایس ڈی پی او دہلی گیٹ ملتان، حاکم علی خان، ایس ڈی پی او کروڑ پکا، لودھراں، عبدالرحیم، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز وہاڑی، مظہر احمد وٹو، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز لودھراں، محمد عظیم، ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائمI، ڈی جی خان، رمیض احمد، ایس ڈی پی او چوبارہ، لیہ، فرحت رسول،ایس ڈی پی او جام پور، راجن پور، عاشق حسین، ایس ڈی پی او صدر، مظفر گڑھ، غضنفر عباس،ٹریفک آفیسر خانیوال، ڈی ایس پی محمد اشرف،ڈی ایس پی VIII-، ایس پی یو، پنجاب، خالد مسعود ناصر،ڈی ایس پی انوسٹی گیشن I-، فیصل آباد، طاہر مقصوداور ڈی ایس پی سنٹرل پولیس آفس لاہور، ملازم حسین شامل ہیں ،ان معطل ڈی ایس پیز کی خالی عہدوں پر ایماندار اور عوام دوست پولیس افسران کا تقرر کیا جائے ،تاکہ ان کالی بھیڑوں کی وجہ سے محکمہ بدنام ہوا ،اس داغ کو دھونے میں مدد مل سکے ،پولیس افسران جو محکمے کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں ،جو ایمان دار ،محنتی اور اپنے فرض پر جان قربان کرنے والے ہیں ،وہ چندکالی بھیڑیں کی وجہ سے پورا محکمہ بدنام ہو جاتا ہے ،احتساب کا یہ عمل جاری رہنا چائیے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ آئی جی پولیس پنجاب امجد جاوید سلیمی صاحب کو مشکلات درپیش ضرور ہوں گے ،مگر ان کو اپنے محکمے میں ان کام چوروں ،نااہل،لاپرواہی ،اور ، اختیارات سے تجاوز اور کرپشن جیسے سنگین الزامات میں ملوث عناصرکے خلاف ایکشن لینا ہو گا اور بروقت لینا ہو گا ،تو اس میں کوئی شک نہیں کہ محکمہ اپنا کھویا ہوا مقام اور عوام دوست پولیس فورس بنانے میں مدد ملے گی ،دوسری اہم خبر کہ اب بین الصوبائی پولیس آپریشنز ہوں گے،سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی پولیس نے ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کا قلع قمع کرنے کے لئے مشترکہ آپریشن کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے کچے کے علاقو ں اور دریائی جزیرے میں ڈاکوؤں، جرائم پیشہ افراد اور سہولت کاروں کی موجودگی کی اطلاع پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ آپریشن کے حوالے سے تینوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور آئی جی پولیس کے درمیان رابطہ رہے گا اورآپریشن کو حتمی شکل دی جائے گی، ڈاکوؤں کے خلاف گرینڈ آپریشن کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان بھی سندھ اور بلوچستان کے وزرا ئے اعلیٰ سے بات کریں گے، وفاقی حکومت کی مدد سے تینوں صوبوں کے سنگم پر موجود دریائی جزیرے اور کچے کے جنگلات میں آپریشن کیا جائے گا ،وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے احکامات پر پنجاب پولیس کی جانب سے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن شروع کیا جائے گا، جس میں سندھ اور بلوچستان پولیس کے افسران اور جوان بھی مشترکہ طور پر حصہ لیں گے، اس حوالے سے تینوں صوبوں کے پولیس افسران کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس گزشتہ ماہ کشمور میں منعقد ہوا تھا، اجلاس میں آر پی او، ڈیرہ غازی خان، عمر شیخ، آر پی او بہاولپور،عمران محمود، ڈی آئی جی لاڑکانہ، ڈی آئی جی سکھر اقبال دارا، ایس ایس پی کشمور سید اسد رضا شاہ سمیت بلوچستان، جعفرآباد، نصیر آباد، سبی، ڈیرہ بگٹی کے پولیس افسران نے شرکت کی تھی اور مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران سندھ پنجاب و بلوچستان کے پولیس افسران نے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کا اعلان کیا تھا،سندھ پولیس کو تین ریجن میں تقسیم کرنے اور سکھر ریجن میں ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر جمیل احمد کی جانب سے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد، ڈی آئی جی سکھر رینج اقبال دارا اور ایس ایس پی کشمور سید اسد رضا شاہ نے اس حوالے سے انہیں تفصیلات سے آگاہ کیا انہوں نے بتایا کہ ان کی تعیناتی سے قبل کشمور میں سندھ، پنجاب، بلوچستان پولیس کے اعلیٰ افسران کا اجلاس ہواتھا، جس کی سربراہی آر پی او ڈیرہ غازی خان عمر شیخ نے کی، اجلاس میں سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے کچے کے علاقوں میں موجود ڈاکوؤں، جرائم پیشہ عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی اورمشترکہ آپریشن کر نے کا فیصلہ کیا گیا،۔۔۔۔۔۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 200 Print Article Print
About the Author: Dr M Abdullah Tabasum

Read More Articles by Dr M Abdullah Tabasum: 63 Articles with 22274 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: