سورج کا سجدہ ایک حدیث پر اعتراض اور اس کا جواب

(Ubaid Ullah Latif, )

تحریر : محمّد سلیم

گروپ میں ایک حدیث پر اعتراض آیا ہے ۔ حدیث مندرجہ ذیل ہے ۔

"حضرت ابوذر ر ضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جانتے ہو یہ سورج غروب ہو کر کہاں جاتا ہے؟ میں نے کہا خدا تعالیٰ اور اس کے رسول ہی خوب جانتےہیں ۔آپﷺ نے فرمایا : وہ عرش تلے جاکر خدا تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے،پھر(طلوع ہونے کی)اجازت طلب کرتا ہے ، تو اس کو اجازت دی جاتی ہے، اور قریب ہے کہ سورج سجدہ کرے اور قبول نہ کیا جائے ، اجازت طلب کرے اور اجازت نہ دی جائے اور سورج سے کہا جائے کہ جہاں سے آیا ہے وہاں سے لوٹ جا، پس آفتاب مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا-- یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا:
وَ الشَّمْسُ تَجْرِیۡ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا ؕ(سورئہ یس:آیت 38)
ترجمہ:’’اور آفتاب اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے۔‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا :اس کی قرار گاہ عرش کے نیچے ہے۔"
(بخاری ومسلم)

اس حدیث پر جو اعتراضات ہیں وہ یہ ہیں ۔
١ ۔ کیا سورج غروب ہوتا ہے یا ایسا زمین کی حرکت کے سبب ہمیں محسوس ہوتا ہے ؟
٢ ۔ حدیث میں واضح طور پر سورج کی حرکات کی بات ہو رہی ہے ۔ تو کیا سورج حرکت میں ہے ؟
٣ ۔ کیا سورج اور زمین کی گردش سے متعلق سائنس کا علم حتمی ہے ؟
٤ ۔ سورج کا سجدہ کس نوعیت کا ہوتا ہے ؟ کیا بے جان چیز بھی سجدہ کر سکتی ہے اور اس سجدے کے لیئے سورج کا رکنا ضروری ہے ؟

ان تمام معاملات پر آج ہم بات کریں گے ۔
١ ۔ کیا سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے یا ایسا زمین کی حرکت کے سبب ہمیں محسوس ہوتا ہے ؟
جواب ۔ سائنس کے اب تک کے علم کے مطابق ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سورج نہ تو طلوع ہوتا ہے نہ ہی غروب ہوتا ہے بلکہ یہ ہماری زمین ہے جس کی محوری گردش لیل و نہار کا باعث بنتی ہے ۔
اب یہاں ایک منطقی اور عقلی اعتراض یہ پیش کیا جاتا ہے کہ انسان کے پاس تو چلو آج سے چودہ سو سال پہلے علم نہیں تھا کہ سورج طلوع ہوتا ہے یا زمین ۔ مگر کیا زمین و آسمان کا خالق بھی اس بات سے ناواقف تھا ؟
میرے خیال سے ہمارے سامنے سورج کے طلوع و غروب کے جو ثابت شدہ حقائق ہیں ان کے مطابق یہ معاملہ علم رکھنے یا نہ رکھنے کا نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج کے طلوع و غروب کی بابت جو استعارتی جملے ہم آج سے پانچ سو سال پہلے اس علم کے بغیر ادا کرتے تھے آج علم آجانے کے بعد بھی ہم وہی جملے ادا کرتے ہیں ۔ ہمارے اندازِ گفتگو میں اس جدید علم نے پانچ سو سال گزرنے کے باوجود کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی ۔
اس کا ایک آسان تجربہ کر کے دیکھ لیں ۔
دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان کے پاس جایئے اور اس سے پوچھیئے کہ آج سورج کتنے بجے غروب ہو گا ۔ وہ گھڑی دیکھے گا اور آپ کو بتا دے گا کہ آج سورج اتنے بجے غروب ہو گا ۔ پھر دوسرے سائنسدان کے پاس جایئے ۔ وہاں سے بھی من و عن وہی جواب ملے گا ۔ کسی ڈاکٹر سے پوچھ لیجیئے ۔ وہ بھی آپ کو وقت بتا دے گا ۔ ایک ایک کر کے ساری دنیا کے تمام انسانوں سے پوچھ لیجیئے ۔ سب گھڑی کا ایک وقت بتا دیں گے کہ اتنے بجے ۔ مگر ان تمام پڑھے لکھوں میں سے کوئی ایک بھی شخص آپ پر یہ اعتراض نہیں اٹھائے گا کہ بھائی آپ کا سوال منطقی اعتبار سے غلط ہے ۔ غروب سورج نہیں ہوتا زمین ہوتی ہے ۔
پچھلے پانچ سو سالوں میں دنیا نے کوئی ایک بھی اخبار ایسا نہیں نکالا جس میں سورج کے طلوع و غروب کی جگہ زمین کے طلوع و غروب کے اوقات چھپتے ہوں ۔
کیا دنیا میں کسی ایک انسان کو بھی نہیں پتہ کہ سورج طلوع و غروب نہیں ہوتا بلکہ یہ ہماری زمین کی گردش ہے ؟
سب کو پتہ ہے ۔ علم رکھنے کے باوجود ہم محض آسانی کی غرض سے وہ بات کرتے ہیں جو ہر خاص و عام کے سمجھنے کے لیئے آسان ہو ۔
ہم عقلی اعتبار سے ہر شے کو اپنی نظر سے دیکھتے ہیں ۔
آپ ایک کاغذ پر 6 لکھیں ۔ پھر اسے ٹیبل پر رکھ کو سامنے ایک بندے کو بٹھائیں اور اس سے پوچھیں کہ یہ میں نے کیا لکھا ہے ؟ اس کا جواب ہو گا 9 ۔ جبکہ آپ کو وہ ابھی بھی 6 نظر آرہا ہے ۔ کیا وہ شخص جھوٹ بول رہا ہے یا آپ غلط ہیں ؟ نہ وہ جھوٹا ہے نہ آپ غلط ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ جس زوایئے سے چیزوں کو پرکھتے ہیں اسی کو بیان کرنے کے قابل ہوتے ہیں ۔ جو ہندسہ آپ کو اپنی جگہ بیٹھ کر 6 نظر آرہا ہے وہی ہندسہ اگر آپ اپنے مخالف کی جگہ جا کر دیکھیں گے تو 9 نظر آئے گا ۔ اس میں حماقت کہیں بھی نہیں ہے ۔
آپ کراچی سے لاہور جانے والی ٹرین میں سوار ہوں ۔ جب پہلے اسٹیشن پر ٹرین رکے تو ٹرین میں موجود کسی بہت پڑھے لکھے مسافر سے پوچھیں کہ بھائی لاہور آگیا ؟ وہ آپ کو جواب دے گا کہ جی نہیں ابھی حیدرآباد آیا ہے ۔ پھر اس سے اگلے اسٹیشن پر کسی اور سمجھدار مسافر سے پوچھیں کہ بھائی لاہور آگیا ؟ وہ بھی آپ کو اسی قسم کا جواب دے گا کہ بھائی ابھی تو خانیوال آیا ہے لاہور ابھی چھ گھنٹے بعد آئے گا ۔ آپ کا یہ متواتر سوال کسی بھی موقعے پر آپ کی تضحیک کا باعث نہیں بنے گا ۔ مگر لاہور پہنچ کر ایک رکشہ کرایئے اور پھر رکشے میں بیٹھ کر اس جاہل رکشہ ڈرائیور سے دوبارہ پوچھیئے کہ بھائی لاہور آگیا ؟ وہ ان پڑھ رکشہ ڈرائیور ایک قہقہہ مار کر کہے گا کہ بھائی لاہور کہیں گیا ہی نہیں تھا جو آگیا ۔ آپ لاہور آگئے ہو ۔
آپ کا یہ سوال کہ "لاہور آگیا" اس وقت تک منطقی تھا جب تک آپ ٹرین میں بیٹھے تھے ۔ لاہور پہنچ کر وہی سوال منطقی اعتبار سے غلط ہو گیا ۔
یہی معاملہ سورج کے طلوع و غروب کا بھی ہے ۔ آپ زمین پر رہتے ہوئے کبھی بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ زمین طلوع ہوتی ہے یا غروب ہوتی ہے ۔ ہاں یہ بات آپ سورج پر پہنچ کر ضرور کہہ سکتے ہیں ۔
لہٰذا زمین کے باسیوں کی یہ مجبوری ہے کہ وہ سورج کے طلوع و غروب کی ہی بات کریں ناکہ زمین کے طلوع و غروب کی ۔
قران میں ﷲ تعالیٰ اگر بیان کرتے ہیں کہ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں غروب تو یہ بات آج بھی اتنی ہی منطقی اور قابل فہم ہے جتنی نزول قران کے وقت تھی ۔ لیکن اگر قران میں یہ لکھا ہوتا کہ زمین طلوع و غروب ہوتی ہے تو یہ بات اس وقت بھی مضحکہ خیز ہوتی اور آج بھی ۔
آگے چلیئے ۔
٢ ۔ حدیث میں واضح طور پر سورج کی حرکات کی بات ہو رہی ہے ۔ تو کیا سورج حرکت میں ہے ؟
جواب ۔
قران و حدیث کے مطابق تو سورج ہمیشہ سے حرکت میں ہے ۔
سورہ الانبیاء آیت 33
وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ وَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ کُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَّسۡبَحُوۡنَ ﴿۳۳﴾
"وہی اللہ ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیرتے پھرتے ہیں ۔"
مگر سورج کی حرکت کے بارے میں پچھلے ہزار سالوں میں ہم انسانوں نے مختلف موقف بدلے ہیں ۔
پانچ سو سال پہلے تک زمین کو کائنات کا مرکز سمجھا جاتا تھا اور سورج اس کے گرد گھومتا تھا ۔ پھر آج سے پانچ سو سال پہلے کچھ سائنسدانوں نے سورج کو ساکن اور کائنات کا مرکز قرار دیا اور کہا کہ یہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے ۔ سائنس کا یہ سورج پانچ سو سال تک ساکن رہا ۔ پچھلی صدی عیسوی میں سائنس کے سورج نے ایک بار پھر پینترا بدلا اور حرکت میں آگیا ۔
سائنس کے یہ تمام نظریات اپنے ہر دور میں اس دور کے لوگوں کے حساب سے جدید ترین مصدقہ علم قرار پاتے رہے ۔ مگر اگلوں نے اسے دقیانوسی قرار دے دیا ۔
آج کی جدید ترین اور مصدقہ سائنس کے مطابق سورج نہ صرف اپنے مدار پر بلکہ محور پر بھی حرکت کرتا ہے ۔ سورج اپنے محور پر ایک چکر 25 دن میں مکمل کرتا ہے ۔ سورج اپنی ملکی وے گیلیکسی کے گرد ایک چکر 220 کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے 225 ملین سال میں مکمل کرتا ہے جسے ایک کاسمک سال کہتے ہیں ۔ بعنی پچھلے پانچ ارب سال میں جب سے سورج بنا ہے اپنی گیلیکسی کے گرد تقریباً بیس چکر لگا چکا ہے ۔
یہ اب تک کا جدید ترین سائنسی علم ہے ۔
آگے چلیں ۔
٣ ۔ کیا سورج اور زمین کی گردش سے متعلق سائنس کا علم حتمی ہے ؟
جواب ۔
سائنس کا کوئی بھی علم کبھی حتمی نہیں ہوتا ۔
مثال کے طور پر ہم ہمیشہ سے یہ جانتے ہیں کہ سورج مشرق سے طلوع ہو کر مغرب میں غروب ہوتا ہے ۔
مگر کیا واقعی ایسا ہوتا ہے ؟
سائنس کی جدید ترین تحقیق کے مطابق سورج اپنے انتہائی مشرق سے سال میں صرف ایک دن نکلتا ہے اور اپنے انتہائی مغرب میں سال میں صرف ایک دن غروب ہوتا ہے ۔ باقی تمام سال وہ طلوع مشرق سے ہی ہوتا ہے مگر اس کے طلوع ہونے کے مقام میں فرق ہوتا ہے ۔
عین ممکن ہے سائنس مستقبل قریب میں ایک قرانی آیت رب المشرقین و رب المغربین کی تصدیق کر دے ۔
پھر ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا زمین کی مداری گردش کا مرکز سورج ہی ہے ؟
اس سوال کا جواب بھی آپ کو حیران کر دے گا ۔
جدید سائنس کے مطابق اس زمین نے اپنی پیدائش کے بعد سے لے کر آج تک یعنی ساڑھے چار ارب سالوں میں کوئی ایک بھی چکر ایسا نہیں لگایا جس کے مرکز میں سورج ہو ۔
اگر آپ جیومیٹری کے جدید ترین اصولوں پر زمین کے مدار کی تصویر بنائیں اور اس کا مرکز معلوم کریں تو وہاں آپ کو خالی جگہ تو مل سکتی ہے مگر سورج نہیں ملے گا ۔ سورج اس سے مختلف مقام پر موجود ہو گا ۔
سائنس کے مطابق سورج ہر دن اپنے مدار میں ایک ڈگری کی تبدیلی لاتا ہے ۔ یہ تبدیلی اصل میں زمین کی ہوتی ہے جو سورج کے گرد گھوم رہی ہے مگر سائنس اس کو اسی طرح بیان کرتی ہے ۔
زمین کی اس مداری گردش کی ظاہری شکل ایک ہاف فرائی انڈے کی طرح ہوتی ہے جسے خواتین بالکل گول بنانے کی کوشش کرتی ہیں مگر اس کی زردی کبھی ایک کونے کی طرف زیادہ جھک جاتی ہے تو کبھی دوسرے کونے کی طرف ۔ یہی وجہ ہے کہ سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کا وقت روزانہ ایک سا نہیں ہوتا بلکہ اس میں روزانہ کی بنیاد پر فرق آتا ہے ۔
جب ہم سردیوں سے گرمیوں کے موسم کی طرف جا رہے ہوتے ہیں تو سورج کے ہمارے افق پر برقرار رہنے کا وقت دن بدن بڑھتا رہتا ہے ۔ روزانہ اس میں ایک دو منٹ کا اضافہ ہوتا ہے ۔ لیکن جب ہم گرمیوں سے سردیوں کی طرف جاتے ہیں تو سورج کے افق پر برقرار رہنے کے دورانیئے میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہو جاتی ہیں ۔
ایسا کیوں ہوتا ہے ؟
کیا سورج یا زمین کی گردش کی رفتار میں فرق آتا ہے ؟
جی نہیں ۔ یہ مدار کا فرق ہے ۔
سائنس کے مطابق گرمیوں میں سورج ہماری زمین سے نسبتاً دور سے گزرتا ہے ۔ یعنی آسمان پر اونچا ہو کر گزرتا ہے ۔ جس کی وجہ سے اس کا فاصلہ بڑھ جاتا ہے ۔ اسی طرح سردیوں میں قریب سے گزرتا ہے اور کم فاصلہ طے کرتے ہوئے جلدی ڈوب جاتا ہے ۔
اب یہ زمین ڈوبتی ہے یا سورج یہ سائنس کا کام ہے ۔ مگر سائنس بیان آج بھی سورج کو ہی کرتی ہے ۔
آگے چلیں ۔
٤ ۔ سورج کا سجدہ کس نوعیت کا ہوتا ہے ؟ کیا بے جان چیز بھی سجدہ کر سکتی ہے اور اس سجدے کے لیئے سورج کا رکنا ضروری ہے ؟
جواب ۔
یہاں ایک بات تو طے ہے کہ سورج اپنی گردش کے دوران جہاں مرضی چلا جائے رہتا وہ عرش کے نیچے ہی ہے ۔ یعنی حدیث کے ان الفاظ سے کہ "سورج عرش کے نیچے جا کر اپنے رب کو سجدہ کرتا ہے" سے یہ مغالطہ نہ کھایا جائے کہ زمین کو فلیٹ سمجھا گیا اور عرش زمین کے نیچے کہیں واقع ہو گا جہاں سورج غروب ہونے کے بعد چلا جاتا ہے ۔
حدیث ہی میں موجود آیت میں اس کی تردید ہو رہی ہے کہ وَ الشَّمْسُ تَجْرِیۡ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا ؕ(سورئہ یس:آیت 38)
ترجمہ:’’اور آفتاب اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے۔‘‘
یعنی یہاں یہی بات بیان ہو رہی ہے کہ اس سجدے اور اجازت کے لیئے سورج نہ تو اپنا مدار بدلتا ہے نہ ہی کہیں سکوت لیتا ہے ۔
سجدے سے ہمارے ذہن میں گمان پیدا ہوتا ہے کہ جس طرح ہم نماز کے دوران سات ہڈیوں پر سجدہ کرتے ہیں تو سورج پر بھی سات ہڈیوں کا سجدہ لازم ہے ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے ۔
سورہ بنی اسرائیل ۔ آیت 44
تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَ الۡاَرۡضُ وَ مَنۡ فِیۡہِنَّ ؕ وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ وَ لٰکِنۡ لَّا تَفۡقَہُوۡنَ تَسۡبِیۡحَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیۡمًا غَفُوۡرًا ﴿۴۴﴾
"ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں ۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو ۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے ۔ وہ بڑا برد بار اور بخشنے والا ہے ۔"
یہاں واضح بیان آرہا ہے کہ ﷲ کی جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ ﷲ کی تسبیح کرتی ہیں مگر ان کی تسبیحات کے طریقے کا فہم انسان کو نہیں دیا گیا ۔ سورج کے بارے میں اللہ کے رسول نے فرمایا کہ وہ سجدہ کرتا ہے اور اجازت مانگتا ہے تو یہ سجدہ کرنا اور اجازت مانگنا کس نوعیت کا ہے ہم اس فہم سے محروم ہیں ۔
پچھلے ہزار سال کی سائنس کی جو روئداد میں نے بیان کی اس کے مطابق سائنس کوئی اتنا قابلِ اعتماد علم نہیں ہے جس کی بنیاد پر قران و حدیث کی کسی بات کا انکار کر دیا جائے ۔ میرے حساب سے تو شک کرنا بھی نہیں بنتا ۔ میں تو آج جہاں کہیں قران میں اور سائنس میں تضاد دیکھتا ہوں تو بالکل واضح موقف رکھتا ہوں کہ اس معاملے میں سائنس ابھی حقائق تک نہیں پہنچی ۔
اس معاملے میں اتنی مثال ہی کافی ہو گی کہ آج سے پانچ سو سال پہلے جب سائنس نے سورج کو ساکن قرار دیا تو اس وقت اس نظریئے پر شکوک و شبہات کتنے تھے ؟ سائنس انتہائی اعتماد سے کہتی تھی کہ سورج حرکت نہیں کرتا ۔ یہ بالکل ساکن ہے ۔ باقی تمام چیزیں اس کے گرد گھومتی ہیں ۔ اس دور کے مسلمان جب قران میں پڑھتے ہوں گے کہ سورج حرکت میں ہے تو ان میں سے بعض اپنے قران کی بابت بھی تشکیک میں مبتلا ہو جاتے ہوں گے ۔ بعض سائنس کی وجہ سے کافر بھی ہوئے ہوں گے ۔ پھر اس کفر پر ان کا خاتمہ بھی ہو گیا ہو گا ۔ اب جبکہ ہم یہ جان گئے ہیں کہ سورج حرکت میں ہے اور قران کل بھی سچا تھا اور آج بھی سچا ہے تو وہ لوگ جو اس نظریئے کی وجہ سے کافر ہو گئے ہوں گے ان کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں ؟
کیا ان کی قبروں پر ان کو جا کر یہ علم دینے سے ان کا ایمان لوٹ آئے گا ؟
جی نہیں ۔
قران اپنی ابتدائی آیات میں ہی اعلان کرتا ہے ۔
الم ۔ ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚ ۖ ۛ فِیۡہ ِۚ ۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾
"الم ۔ اس کتاب ( کے اللہ کی کتاب ہونے ) میں کوئی شک نہیں پرہیزگاروں کو راہ دکھانے والی ہے ۔"
اس وقت اس روئے زمین پر انسان کے پاس جو سب سے مستند علم ہے وہ قران ہے ۔ جو کچھ بھی پرکھا جائے گا وہ اسی پر پرکھا جائے گا ۔ اسی کو پیمانہ بنایا جائے گا ۔
سائنس ایک غیر مصدقہ علم ہے جس پر نہ تو کسی صورت اندھا بھروسہ کیا جا سکتا ہے نہ ہی اسے پیمانہ بنایا جا سکتا ہے ۔
پھر ایک معاملہ یہ بھی ہے کہ قران کو ماننا یا نہ ماننا ایمان و کفر کا معاملہ ہے ۔ جبکہ سائنس کے نظریات کو ماننا خود سائنس دان بھی ضروری نہیں سمجھتے ۔ بہت سے ایسے نظریات ہیں جن کو کچھ سائنسدان مانتے ہیں کچھ نہیں مانتے ۔
سائنس جو مرضی نظریات قائم کرے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔ لیکن کوئی اگر سائنس کو بنیاد بنا کر قران یا حدیث پر اعتراض جڑنے کی کوشش کرے گا تو ہمیں پورا حق ہے کہ ہم اس سائنسی نظریئے کو کٹہرے میں لا کھڑا کریں ۔ سائنس سے اس کا ماضی پوچھیں ۔ نظریات کے صبح شام بدلنے کی وجہ پوچھیں ۔
پچھلے چودہ سو سالوں میں ہم نے قران کو کبھی بدلتے نہیں دیکھا ۔ مگر اسی دوران انسانی عقل سے حاصل کردہ اس علم سائنس کی جانے کتنی تھیوریاں سیکڑوں سال پوجے جانے کے بعد ردی کی ٹوکری کی نذر ہو گئیں ۔
کیوں ؟
کیا پیمانہ اسی کو کہتے ہیں ؟

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 288 Print Article Print
About the Author: عبیداللہ لطیف Ubaidullah Latif

Read More Articles by عبیداللہ لطیف Ubaidullah Latif: 87 Articles with 94970 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ