پنجابی زبان میں بچوں کا پہلا سفر نامہ ’’ ٹُردے ٹُردے‘‘

(Akhtar Sardar Chaudhry, Kassowal)

 ایک وقت وہ بھی تھا جب اردو ادب میں بہت اچھے سفر نامہ لکھنے والے تھے ۔مثلاََ مستنصر حسین تارڑ، کرنل اشفاق، عطاء الحق قاسمی، کرنل محمد خان، مفتی تقی عثمانی،علی سفیان آفاقی ،ابن انشاء وغیرہ پھر ہوا یہ کہ قاری کا کتاب سے رشتہ کمزور ہوا۔ اس کے کئی اور بھی اسباب ہیں ۔جس میں سوشل میڈیا سر فہرست ہے۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اچھا سفر نامہ بھی کم لکھا گیااور جہاں تک علاقائی زبانوں میں سفر نامے تو بہت ہی کم لکھے گئے ہیں۔اسی طرح پنجابی زبان میں سفر نامے نہ ہونے کے برابر ہیں ۔بچوں کے لیے تو پنجابی زبان میں بالکل ہی کوئی سفر نامہ موجود نہیں ہے۔

معروف صحافی شہزاد اسلم راجہ نے حال ہی میں پنجابی زبان میں بچوں کے لیے سب سے پہلا سفر نامہ لکھا ہے ۔شہزاد اسلم جو کہ علمی و ادبی حلقوں میں شہزاد اسلم راجہ کے نام سے جانے جاتے ہیں،وہ علم وادب اور قلم دوست کی حیثیت سے ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ ادبی تقریبات کی آن ،بان اور شان ہوتے ہیں۔ مختلف قومی اخبارات میں آوارگی کے نام سے کالم بھی لکھتے ہیں جن میں روزنامہ آفتاب لاہور، روزنامہ پاکستان ملتان، روزنامہ نوائے وقت ملتان، روزنامہ سماء لاہور، گوجرانوالہ، اسلام آباد، کراچی اور اس کے علاوہ روزنامہ حریف لاہور شامل ہیں۔ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ سے ہے۔

لکھنے لکھانے کا آغاز 1996 ء میں بچوں کے رسائل سے کیا ۔ شہزاد اسلم راجہ نے ایم اے پنجابی کیا اور اس کے بعد ایم اے اکنامکس پارٹ ون مکمل کیا لیکن روز گار میں ایسا پھنسے کہ پارٹ ٹونہ مکمل کر پائے۔وہ تقریباََ 2001 ء میں احمد پور شرقیہ سے لاہو ر روز گار کے سلسلہ میں آئے ۔اور ہمیشہ کے لیے لاہور کے ہی ہو کر رہ گئے ۔ کالم نگاری کا آغاز 2014 ء سے کیا جو کہ اب تک جاری ہے۔ بچوں اور بڑوں کا بہترین ادب تخلیق کیا اور علمی و ادبی حلقوں میں خوب نام کمایا۔ ان کے کالموں کا پہلا مجموعہ ’’آوارگی‘‘ کے نام سے منظر عام پر آچکا ہے۔ ماں بولی میں سفر ناموں پر مشتمل ’’ٹردے ٹردے ‘‘ ان کی دوسری کتاب ہے۔

شہزاد اسلم راجہ کے بچوں کے پہلے پنجابی سفر نامے ’’ٹردے ٹردے ‘‘کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرنے والوں میں زاہد شمسی،شہزاد عاطر،اشرف سہیل ،زاہد حسن اور حسیب اعجاز عاشر شامل ہیں ۔اس میں ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ انہوں نے یہ اظہار بھی پنجابی زبان میں کیا ہے اور خوب کیا ۔اس کتاب میں کئی ایک باتیں بہت ہی خاص ہیں جن میں سے ایک کتاب کی ابتداء ،زندگی سفر ہے (انسانی زندگی بے شمار سفراں نال بھری ہوندی اے)سے کیا گیا ہے اور کتاب کا اختتام نہ جانے کب زندگی کا آخری اسٹیشن آ جائے اس لیے ہمیں آخرت کے لیے تیاری کرنا چاہیے جیسے با معنی ،با مقصد اور دل موہ لینے والے انداز و الفاظ سے کیا گیا ہے ۔

اس میں یہ بھی ایک خاص بات ہے کہ کتاب کا انتساب مصنف نے اپنی ماں جی،اپنی بیوی اور اپنی جان سے پیاری بیٹی کے نام کیا ہے ۔کاش وہ اپنی بہن کا نام بھی لکھتے ان کے نام بھی انتساب ہوتا تو ایک مرد سے جڑے عورت کے چاروں رشتوں کی مالا مکمل ہو جاتی ۔میری درخواست ہے جب اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا جائے تو اس کمی کو دور کر دیا جائے ۔

سفر نامہ بیانیہ انداز بیاں میں لکھا جاتا ہے ۔اس میں مسافر دوران سفر اپنے تجربات و مشاہدات کو دوسروں کے لیے بیان کرتا ہے ۔شہزاد اسلم راجہ کا یہ سفر نامہ ان خوبیوں،شرائط وضبوابط پر پورا اترتا ہے جو ایک سفر نامے کے لیے لازم ہیں ۔وہ منظر نگاری اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ آپ دوران مطالعہ ایسے محسوس کرتے ہیں جیسے آپ بھی ان کے ہمراہ سفر کر رہے ہوں ۔اس پر وہ آپ کو بور کیے بناں گاڑی جس جس اسٹیشن سے بھی گزرتی ہے اس کی تاریخ و معلومات سے آگاہی فراہم کرتے جاتے ہیں ۔

مثلاََ اوکاڑہ کے بارے میں لکھتے ہیں ۔’’ایس سٹیشن دی عمارت انگریز دور وچ سن 1928 ء وچ بنی تے ہن عمارت خراب ہوندی جا رہی سی ۔محکمہ ریلوے کجھ سٹیشناں دی عمارتاں جہڑیاں بہت زیادہ پرانیاں تے ڈگن دے خطرے تے سن اوہنیاں 11 سٹیشناں نوں دوبارہ تعمیر کر رہیا اے ۔اوہناں 11 سٹیشناں وچ اوکاڑھ دا سٹیشن وی شامل اے ۔اوکاڑھ سٹیشن دی نویکلی عمارت دا افتتاح 18 جنوری 2018 نوں کیتا گیا ۔ایس سٹیشن دی عمارت 45580مربع کلو میٹر دی تھاں تے بنی ہوئی اے ۔‘‘

میں عرض کر رہا تھا اس سفر نامے میں جس علاقے بارے بھی لکھا گیا اس علاقے کے موسم،تاریخ ،سماجی و جغرافیائی حالات کو قلم بند کیا گیا ہے ۔بچوں کے اس ادبی سفر نامے میں پنجاب کی ثقافت بارے بہترین معلومات بچوں کی ذہنی سطح کو مد نظر رکھ کر مہیا کی گئی ہیں ۔لاہور ،کراچی،بہاولپور سمیت دیگر شہروں کے سفر بارے مصنف نے بڑی محبت سے لکھا ہے جو کہ معلومات سے بھر پور قابل تعریف اور قابل یاد داشت ہے۔ شہزاد اسلم راجہ نے اپنے سفر ناموں کو ماں بولی میں صفحہ قرطاس پر لکھ کر تاریخ رقم کر دی ہے ۔

سب سے اہم بات جو اس سفر نامے ’’ٹردے ٹردے ‘‘ کو دیگر تمام سفر ناموں سے مختلف و منفرد بناتی ہے وہ ہے اس کا سادہ انداز بیاں ۔راجہ صاحب اپنے مشاہدات کا بیان آسان پنجابی زبان میں بیان کرتے ہیں ۔انہیں اس کا احساس ہوتا ہے کہ وہ یہ کتاب بچوں کے لیے لکھ رہے ہیں ۔سادہ ،آسان زبان میں اظہار کے لیے وہ کئی ایک دفعہ اردو کے ایسے الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں جن کا ہم معنی لفظ پنجابی میں موجود ہے اور آسان بھی ہے ۔اسے خامی کہیں یا خوبی لیکن میرے خیال میں انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے تھا ۔وہ جب آپ کوپاکستان کے مشہور شہروں کی تاریخ بتاتے ہیں تو ساتھ وہاں کے رسم و رواج اور معلومات کے دریا کو کوزے میں بند کرتے جاتے ہیں ۔

اس طرح وہ معلومات کے ساتھ ہماری ثقافت اور اصلاح و تربیت بھی کرتے جاتے ہیں ۔اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ کہیں قاری بور نہ ہو ۔ان کے سفر نامے میں آپ کو بے جا لفاظی نہیں ملے گی ۔اس سفر نامے کی یہ خاص بات ہے جو اس سفر نامے کو ایک منفرد ترین مقام عطا کرتی ہے ۔ہر انسان کے اندر تجسس ضرورموجود ہوتا ہے ۔جاننے کا تجسس ،ان دیکھی دنیا دیکھنے کا شوق و تجسس ہر انسان نئی جگہوں ،فضاؤں ،علاقوں کو دیکھنا ،جاننا چاہتا ہے ۔بچوں میں تو یہ شوق بہت ہی زیادہ ہوتا ہے ۔اس تجسس کو سامنے رکھتے ہوئے شہزاد اسلم راجہ نے بچوں کے لیے یہ سفر نامہ ’’ٹردے ٹردے ‘‘لکھا ہے جس میں بچوں کی نفسیات اور ان کے شوق کو بھی مد نظر رکھا ہے ۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں دوران سفر بچوں کو گاڑی میں کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھنے کا بہت شوق ہوتا ہے ، اکثربچے گاڑی میں چیزیں بیچنے والوں بارے دلچسپی لیتے ہیں ، مختلف انواع کی کھانے پینے کی چیزوں کو کھانے کے لیے تو بچے سفرمیں شیدائی ہوتے ہیں ۔مصنف نے ایسی ہی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ذکر بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے کہ کتاب پڑھتے ہوئے آپ بے ساختہ انہیں داد دینے پر خود کو مجبور پائیں گے ۔
اس سفر نامے ’’ٹردے ٹردے ‘‘ کو چار چاند لگانے والی راجہ صاحب کی صحافتی آنکھ بھی شامل ہے ۔کیونکہ جو مشاہدہ ایک صحافی کر سکتا ہے ،جو وہ دیکھ ،سمجھ سکتا ہے اور جہاں تک ایک صحافی کی سوچ کی رسائی ہوتی ہے ۔وہاں تک عام مسافر یا ادیب نہیں پہنچ پاتا ۔اس بات کو یوں سمجھا جائے کسی علاقے ،منظر کو جس نظر سے ایک صحافی دیکھتا ہے اس مشاہداتی نظر سے اس علاقے کی رسم و رواج ،جگہوں کو اتنی باریک بینی سے عام فرد نہیں دیکھ پاتا ۔سفر نامے لکھے جاتے رہیں گے ۔جب تک دنیا کو دیکھنے کا شوق انسان میں موجود ہے اس وقت تک یہ سفر نامے لکھے جاتے رہیں گے۔لیکن بچوں کے لیے پنجابی زبان میں سب سے پہلا سفر نامہ لکھنے کا اعجاز شہزاد اسلم راجہ کے نام رہے گا ۔اس پر ہم انہیں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 389 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal

Read More Articles by Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal: 496 Articles with 285442 views »
Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal
Press Reporter at Columnist at Kassowal
Attended Government High School Kassowal
Lives in Kassowal, Punja
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: