اصل مجرم کون؟۔

(Syed Noorulhassan Gillani, )

بھارت اپنی مکاریوں اور چلاکیوں سے پیچھے نہ ہٹا ۔بھارت کے مختلف شہروں میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں حریت کانفرنس کے رہنماؤں ،کارکنوں اور تحریک آزادی میں سرگرم کشمیریوں کو جبر واستبداد کی کاروائیوں کا نشانہ بنانے کیلئے مودی نے باقاعدہ پولیس،حساس اداروں ، اعلیٰ آفیسرانوں اور اپنے ہندو انتہا پسند اہلکاروں پر مشتمل ایک خصوصی اسپیشل ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس کا سربراہ بھارتی وزارت داخلہ خود ہوں گے جن میں اُنہوں نے باقاعدہ ایک حکم نامہ بھی جاری کیا گیا ہے ۔خصوصی اسپیشل گروپ میں خاص کر پولیس ، انٹیلی جنس بیورو،سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن ،نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی ’’را‘‘اور ہندو انتہاپسند وں کے علاوہ محکمہ انکم ٹیکس کے نمائندے شامل کئے گئے ہیں ۔اِس اسپیشل فورس کی سربراہی کشمیر پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کریں گے ۔اسپیشل فورس کا ہر ہفتے اجلاس ہوا کرے گا ، جس کی رپورٹ مودی سرکار کو فراہم کرنے کے علاوہ داخلہ کو بھی فراہم کی جائے گی ۔اسپیشل فورس کا خصوصی کام ہوگا کہ وہ تعلیمی اداروں سمیت پروفیسرزاور اعلیٰ محکمہ جات میں جہاں مسلمان تعینات ہیں ٗ اُن پر باقاعدہ نظر رکھی جائے گی اور اُن کے خلاف کاروائی کرنے کیلئے ہر ممکن سازشیں تیار کی جائیں گی ۔جبکہ مقبوضہ علاقے میں بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہوئے جو مختلف تنظیموں کے رہنما اِس وقت موجود ہیں ٗ اِن رہنماؤں کی بھی نشاندہی کا سلسلہ شروع کیا جائیگا، جس کا اصل مقصد کسی بھی طریقے سے تحریک آزادی کی حمایت اور مدد کرتے ہو اُن کو کچلنے کیلئے اختیارات بروکار لائے جائیں گے ۔بھار ت میں جماعت اسلامی اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ اِس وقت پہلے نمبر پرہیں مگر اُس پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے اور مزید کی تیاریاں بھی شروع کی جارہی ہیں۔بھارت اپنی مکاری کی دلدل میں اِ س طرح پھنستا ہوا جارہا ہے کہ اس کو نہ تو اپنی عوام کا خیال ہے نہ ہی ساکھ کا ! بھارت جنگی جنون کو ہوا دینے کے درپر وہ اپنا سب کچھ بھول چکا ہے اور اُس نے اپنی تمام تر طاقت کا دارومدار مقبوضہ کشمیر پر لگا رکھا ہے جبکہ اِس وقت بھارت اپنے بجٹ کا 85%حصہ پاکستان مخالف سازشوں پر خرچ کررہا ہے تاکہ وہ پاکستان کی امیج پوری دنیا میں خراب کرسکے مگر بھارت اِن تمام تر کوششوں میں ناکام ہوچکا ہے پاکستان کو اﷲ کے فضل و کرم اور بزرگوں کی دعاؤں اور پاک فوج کی محنت سے دن بدن گراف اوپر ہوتا جارہا ہے گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر جموں کے علاقہ بانہال میں بھارتی فوج کی بس کے نزدیک ایک کار زوردار دھماکے سے مکمل طور پر تباہ ہوگئی جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کی بس کو بھی نقصان پہنچا ۔بھارتی فورسز نے جائے وقوعہ کا گھیرا کرلیا ، کار کا ڈرائیور فرار ہوگیا ۔تباہ ہونے والی کار کے ٹکڑوں کو فورینسیک لیب بھیج دیا گیا اور کار کی مالکیت کی چھان بین کی جارہی ہے ۔ابتدائی طور پر حادثہ سیلنڈر پھٹنے کے باعث پیش ہوا مگر اُس کے بعد بھارت نے مختلف علاقوں میں اپنی کاروائیوں میں تیزی سے اضافہ کرلیا ہے اب اگر کوئی سیلنڈر پھٹتا ہے یا کوئی ٹرانسفارمر مگر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج پورے ذور و شور سے علاقوں کے علاقوں کو گھیرے میں لے کر اپنی ظلمانہ کاروائیاں جارے رکھے ہوئے ہیں جس کی بڑی وجہ پوری دنیا میں اِس وقت بھارت کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے ۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما و تحریک حریت جموں و کشمیر کے چیئرمین محمد اشرف سرائی نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں گزشتہ روز دوران بڈگام،شوپیاں اور کپواڑہ ضلع میں شہید ہونے والے 6سے زائد نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپنے نوجوانوں کے گرم گرم لہو سے حق خداداریت کی تحریک کی آپاری کررہے ہیں ،بھارت کے جبراً قبضے سے آزادی حاصل کرنے کیلئے کشمیریوں کے عزم کا عہد کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے مقدس لہوکوہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور اُن کے عظیم مشن کوہر قیمت پر پائے تکمیل تک پہنچایا جائے گا،اب اگر بھارت کی امیج کی جانب نظر دوڑائی جائے تو امریکی اخبار’’واشنگٹن پوسٹ ‘‘کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی انتہاء اور قابض فوج کی جانب سے بڑھتا ہوئے مظالم کی وجہ سے اساتذہ اور پڑھا لکھا طبقہ بھی تحریک آزادی کا حصہ بن رہا ہے اور بھارت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، انکشاف کیا ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘کے صحافیوں نے بھی مقبوضہ کشمیر کا رخ کیا وہاں کی صورتحال کا جائزہ لیا لیکن صرف سری نگر تک محدو د رہنے اور بھارت مخالف افراد سے نہ ملنے کی شرط پر اندر جانے کی اجازت ملی جس کی سب سے بڑی مثال بھارت اپنی مکاریوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے ،مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مقیم مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو عالمی دنیا پر کسی صورت نشر نہیں ہونے دیتے ،’’واشنگٹن پوسٹ‘‘کے مطابق بھارتی فورسز کا تضحیک آمیزہ رویہ انتہائی تعلیم یافتہ کشمیریوں کو تحریک آزادی کا حصہ بننے پر مجبور کررہا ہے اور خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیری نوجوانوں کی بڑی تعداد نے بھارت کے ظلم و ستم سے تنگ آکر مذمت کا راستہ اختیار کیا جبکہ سری نگر میں آج بھی کسی نہ کسی دیوار پر 2016ء میں شہید کئے جانے والے نوجوان برہان وانی کا نام ضرور لکھا ہوا نظر آئے گا ۔مقبوضہ وادی میں آج بھی بھارتی درندگی کے نشان نمایاں طور پر نظر آرہے ہیں مگر اُس کے باوجود نہ تو اقوام متحدہ نے کوئی نوٹس لیا نہ ہی بھارت پر پابندی جس سے سینکڑوں سوالا ت نظر آرہے ہیں ۔اِس وقت مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی درندگی کی جانب ایک نظر دوڑائیں تو پیلٹ گن کا شکار ہونے والے 60%کشمیریوں کی بینائی متاثر ہوئی ہے جبکہ 36%متاثرہ افراد کی بینائی بری طرح متاثر ہوچکی ہے اور 10%سے 12%مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں مگر اُس کے باوجود عالمی دنیا کو مسلمانوں کا خون اور دھکتی ہوئی آگ نظر نہیں آرہی ،بھارت اب بھی اپنے اتحادی اور مکار ملکوں کی مدد سے بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو کچلنے کیلئے اسپیشل فورس کا مقصد ہی کسی نہ کسی طریقے سے مسلمانوں کا خاتمہ ضروری کرنے کا تحیہ کررکھا ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ بھارتی حکومت کے ظلم و ستم سے تنگ آکر گزشتہ 6سالوں سے مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک میں تیزی سے اضافہ ہوتا آرہا ہے جہاں اُس سے قبل تحریک آزادی کے شیدائی کم پڑھے لکھے ہوا کرتے تھے مگر گزشتہ 6سالوں میں تحریک آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے کیلئے اُن ہاتھوں نے بھی گنیں اٹھائی جن میں قلم اور پھول پکڑے ہوئے تھے مگر اِس میں قصوروار کون ؟ اگر اقوام متحدہ یہی سوال بھارتی حکومت سے پوچھے کہ اُنہوں نے کیا بویا اور کیا پایا ؟ بجائے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرنے امن کا گہوارہ قائم کرنے تاکہ ملک میں امن اور سلامتی قائم رہے جس سے نہ بھارتی حکومت کو پرابلم ہو نہ ہی دہشتگردی ،بھارت نے خود پڑھے لکھے طبقے کو مجبور کیا کہ وہ بھارتی حکومت کے خلاف کھڑے ہوں ۔پھر تو اصل مجرم کون ہے ؟ اِس کا فیصلہ تو اقوام عالم کرے ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 180 Print Article Print
About the Author: Syed Noorulhassan Gillani

Read More Articles by Syed Noorulhassan Gillani: 7 Articles with 1539 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: