اسد عمر کا ساتھ دیں

(Iftikhar Chaudhry, )

عمران خان اور اسد عمر کے لئے بڑا آسان راستہ تھا آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو مان لیتے آنے والی نسلوں کو تیس ہزار ارب کی بجائے پچاس ہزار ارب کا مقروض کردیتے اور آرام سے حکومت کرتے۔پل سڑکیں انڈر پاس بنا کر خود بھی مزے کرتے اور اپنی پوری ٹیم کو بھی عیاشی کراتے۔لیکن مشکل راستہ چنا گیا۔ہر آنے والی حکومت جانے والی پر الزام لگاتی ہے کہ وہ کنگلا کر کے چلے گئے لیں مشرف دور کے بعد کے قرضے جس تیزی سے بڑھے اس کی تفصیلات میں جانے کی بجائے میں سادہ سے الفاظ میں بیان کرنا چاہوں گا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کیوں مجبور ہوئی کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائے۔پہلی اور اہم بات ہے کہ اوگرا نامی ایک ادارہ ہے جو آئل اور گیس کی اتھارٹی ہے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام آئیل کی قیمتیں بڑی ہیں ایک فارمولے کے تحت یہ قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں۔یقینا عوام چاہتی ہے کہ مہنگائی کے بم سے بچے لیکن سچ پوچھئے مجھے عام آدمی سے مخاطب نہیں ہونا بلکہ آج میں اپنی پارٹی کے کارکنان سے بات کرنا چاہتا ہوں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نہ صرف وشل میڈیا پر پارٹی کی کامیابی کے لئے جان لڑائی ہے بلکہ ہر احتجاج اور خاص طور پر دھرنے میں عمران خان کا ساتھ دیا آج وہ بد دل ہیں اکرام جدون کا کہنا تھا کہ انکل بتائیں ہم لوگوں کو کیا جواب دیں۔یہ میرے لئے بھی مشکل سوال تھا لیکن فیصل ستی سے جو بات چیت ہوئی اس میں بھی اسی قسم کا سوال تھا بلکہ انہوں نے تو ایک پوسٹ لگائی کے آپ اسد عمر کع کتنے نمبر دیں گے ان سب میں واحد آدمی تھا جس نے دس میں سے دس دئے باقی دوست احباب مارکس کم دینے کے ساتھ سخت الفاظ بھی کہہ گئے۔

ہوا یہ ہے کہ ہمیں نشے میں لگا دیا گیا ۔اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھوں آپ کو ایک لطیفہ سناتا ہوں۔ایک صاحب کو اپنی کمپنی کے لئے اکاؤٹینٹ کی ضرورت تھی اس نے انٹرویو کے لئے آنے والوں سے جو سوال کیا ان میں مشترکہ سوال تھا کہ بتائیے دو جمع دو کتنے ہوتے ہیں؟سب نے اس سوال کو آسان سمجھا اور کہا چار وہ انکار کر دیتا ایسے میں ایک صاحب تشریف لائے انہوں نے جواب میں کہا ھضور ہوتے تو چار ہیں لیکن آپ بتائیے پانچ کرنے ہیں چار یا پھر تین۔مالک نے اسے نوکری دے دی۔

یہاں اس مثال کو بتانے کے بعد کہنا چاہوں گا اسد عمر انہی لوگوں میں شامل تھا جس نے مالک کو سچ سچ بتایا کہ چار ہوتے ہیں۔اسحق ڈار شوکت عزیز اور بہت ماہر معاشیات اس ملک کے اعداد وشمار کے ساتھ کھیلتے رہے۔ایک موقع پر ایک عالمی ادارے نے پاکستان سے احتجاج بھی کیا۔مہنگے قرضے لئے گئے اور انہیں نمود و نمائش والے پراجیکٹس کے اوپر خرچ کیا گیا۔ماضی کی حکومتوں کی خواہش یہی تھے کہ وہ ایسے کام کریں جس سے الیکشن جیتا جائے ۔لیکن عمران خان نے اور ان کی ٹیم کے ایک بڑے فرد اسد عمر نے قوم کو سچ دکھایا اور لوگوں سے کہا کہ مشکل دنوں میں حوصلے اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔پاکستان کو مئی کے مہینے میں بھی دو ارب ڈالر کے قریب رقم ادا کرنی ہے۔سوچا جائے اگر یہ رقوم ہمارے پاس نہ ہوں تو اس کے لئے آسان راستہ آئی ایم ایف تھا کہ اس سے فورا امداد لے کر قوم کو مزید مقروض کر دیا جاتا۔دوستو!یہ کہاں کا انصاف ہے کہ قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکی جائے گجو متہ سے آزادی چوک کا کرایہ بیس روپے یہ کتنا بڑا دھوکہ ہے پہلی بات یہ ہے کہ اس پر خرچ ہی ساٹھ روپے ہوتا ہے باقی کے چالیس روپے مجھے بتائیے راجن پور رحیم یار خان جہلم دینہ گجرانوالا کے لوگوں کے سر کیوں چڑھے۔چلیئے مان لیا لاہور ملتان اور پنڈی کے لوگ اس سستے نشے سے فائدہ اٹھائیں اگر اٹھاتے ہیں تو وہ ہی دیں ناں۔

پہلی بات ہے گھر میں اگر کھانے کو نہ ہو مقروض ہوں تو میٹروز نہیں بنایا کرتے کوئی اچھا ہسپتال بنایا کرتے ہیں سکول بنائے جا سکتے ہیں۔لیکن بد قسمتی سے حکمرانوں نے اپنی ذات کے باہر نہیں سوچا ننھے ننھے بچوں کو ملینربنا دیا بیرون ملک جائدادیں بنا لیں۔جب کسی نے پوچھا تو ادھر ادھر کی چھوڑیں اور چلتے بنے۔کہتے ہیں میاں شہباز شریف سے کسی نے کہا لاہور شہر میں سیوریج کا نظام خراب ہے بہتر ہے اس پر خرچ کیا جائے کہنے لگے کتنا خرچ ہے پتہ چلا کوئی دو ارب روپے لگیں گے شہباز شریف کا جواب سنئیے کہا میرا دماغ خراب ہے کہ ایسے پراجیکٹ پر لگا دوں جو زمین کے نیچے ہو۔بہر حال اب لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ چلو مان لیا کہ وہ لٹیرے تھے انہوں نے ملک کو لوٹا لیکن اب گیس بجلی کے بل اور پٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں تحریک انصاف اس کو کیسے روکے گی؟اس کا جواب ہے پی ٹی آئی حتی الوسع کوشش کرے گی کہ آئی ایم ایف سے قرض نہ لے اور اگر لینا بھی پڑے تو کم سے کم لے۔دوستو!گیس بجلی پٹرول پر اضافہ ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے عوام سے پیسے مل سکتے ہیں۔ٹیکس دینے والوں کی تعداد شرمناک حد تک کم ہے۔ماضٰ کی حکومتوں نے ایف بی آر اور دیگر اداروں کا جو بیڑہ غرق کیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔یہ ادارے تطہیر کے عمل سے گزر رہے ہیں۔وہ وقت بھی جلد آئے گا جب لوگ ٹیکس نیٹ میں آئیں گے۔دل پر ہاتھ رکھ کر کہئے کہ آپ اپنے دائیں بائیں ان لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ کروڑوں روپوں کے گھروں میں رہتے ہیں لاکھوں کی گاڑی استعمال کرتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے۔اس کی بھی کئی وجوہات ہیں لیکن پاکستان اس خطے کا واحد ملک ہے جو ٹیکس دینے والوں کی بہت کم شرح رکھتا ہے-

آج جب کارکن مایوس ہے میں ایک دو باتیں کر کے اجازت چاہوں گا وہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے بچت کر کے اربوں روپے بچائے ہیں۔وزراء کو ٹارگٹ دئے گئے کہ وہ اپنی اپنی وزارتوں میں اخراجات کم کریں اس کا نتیجہ بھی سامنے ہے۔اگر سعودی عرب امارات ہماری مدد نہ کرتے اور امپورٹ بل کم نہ ہوتا تو یقین کیجئے پاکستان کی معیشت کا دھڑام تختہ ہو جاتا۔

ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ روپے کو جعلی آسرا دیا گیا تھا زر مبادلہ کے ذخائر قرضے لے کر بڑھائے گئے ۔یہاں پہلے ماہانہ خسارہ پانچ سو ملین ڈالر تھا جو جنوری میں تین سو ہوا اور اب اﷲ کے کرم سے کوئی خسارہ نہیں۔بیرون ملک پاکستانیوں نے زر مبادلہ بھی زیادہ بھیجا ہماری حکومت نے بہت ساری چیزوں پر ٹیکس لگا کر ڈالر کم خرچ کئے۔صرف موبائل فونز پر ٹیکس لگانے سے کروڑوں کی بچت ہوئی۔بیرون ملک پاکستانی مہنگے موبائل بھیجنے کی بجائے اپنے اقارب کو وہی رقم خرچے لئے بھیجتے ہیں جس سے خسارے میں کمی ہوئی ہے-

مجھے سیدھی سی بات کا جواب دیں کیا اسد عمر نے کوئی جواء کھیلا ہے لندن دبئی میں جائداد خریدی ہے اگر ایسا نہیں تو اس پر چڑھائی کرنا بے سود ہے۔اس کی مجبوری کو سمجھئے۔اس روز ٹاک شو مین ایک دوست کہہ رہے تھے کہ عمران خان خود اچھا ہے اس کی ٹیم اچھی نہیں ہے خدارا اس کا جواب دیں اور سمجھنے کی بات ہے کہ اگر ٹیم ٹھیک نہیں ہے تو اس کا سلیکٹر کہاں سے ٹھیک ہو گیا۔یا وہ خراب ہے اور اس کی ٹیم بھی۔البتہ آج شادی تھی یہاں گجرفیملی میں علی اعوان بھی آئے تھے ان سے بھی یہی بات ہوئی وہ مجھ سے متفق تھے کہ عمران خان کی ٹیم میں اگر کسی نے خیانت کی تو وہ اسے مثال بنا دے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ کارکنوں کا یہ شکوہ بجا ہے کہ منسٹرز ان کی بات نہیں سنتے فون نہیں لیتے میسیجز کا جواب نہیں دیتے تو جان لیجئے پارٹی کی تنظیم نو میں ارشد داد نے دن رات ایک کئے ہیں اور اوپر سے سیف اﷲ نیازی کی واپسی ایک ٹارزن کی واپسی کہی جا سکتی ہے۔سیف کا پرسوں جمیل عباسی،غلام نبی،فرید رحمان،کفیل صدیقی کی تقریب میں کہنا تھا کہ اب پارٹی ادارہ بنے گی اور حکومت میں شامل وزراء پارٹی کو جواب دہ ہوں گے۔یہی رولا میں ایک عرصے سے ڈالتا رہا ہوں کہ پاکستان میں ایسی پارٹیاں ہیں جو حکومت میں آ کر کارکن کو ساتھ جوڑے رکھنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔یقینا کارکنوں کی بات سچ ہے کہ اس کی سنی نہیں جاتی اسے عزت نہیں مل رہی۔مجھے یقین ہے سیف اﷲ نیازی اور انجینئر ارشد داد مل کر یہ عزت دلوائیں گے۔عمران خان کو بھی احساس ہے کہ مستقبل میں ایک بڑی لڑائی لڑنے جا رہا ہے۔اس کا ایجینڈہ ہی ایسا ہے کہ کرپٹ لوگوں کی چیخیں آسمانوں تک پہنچ رہی ہیں ادھر سے ایک لشکر فضل الرحمان بھی لے کر آ رہے ہیں۔یہ وہ بچے ہوں گے جو والدین نے مختلف مدارس میں قران کی تعلیمات حاصل کرنے بھیجے تھے میرا اﷲ کرم کرے گا ان طلباء میں پی ٹی آئی مقبول ہے یکم محرم کی چھٹی علماء کو وظائف مساجد میں شمسی توانائی تحفیظ قران کا انتظام اور سلیبس میں مسٹر چپس کو باہر کر کے سیرت النبیﷺ کو شامل کرنا جامعہ حقانیہ کی معاونت ،بائیس لاکھ بچوں کے مستقبل کی فکر یہ ایسی چیزیں ہیں جو انشاء اﷲ مولنا فضل الرحمان کے خواش اسلام آباد کو کچل کے رکھ دیں گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے ساتھیوں یہ مہنگائی بیروز گاری عارضی ہے جو اقدامات اسد عمر ان کی ٹیم کر رہی ہے اس کے ثمرات جلد آنا شروع ہوں گے۔

یقین کیجئے اگر ہم لوگ دل ہار گئے تو خان کمزور پڑ جائے گا۔گرچہ میں جانتا ہوں عمران خان کبھی ایسا نہیں کرے گا۔

کم از اس سازش کو ناکام بنائیے کہ اسد عمر نالائق ہے۔دشمن یا مخالف پہلے آپ کے پر کاٹتا ہے اور پھر کمزور کر کے شکار کرتا ہے۔ٹھان لیجئے کہ ہم نے ان کی سازش ناکام بنانی ہے۔میں اعداد و شمار میں الجھا کر آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا لیکن جان لیجئے کہ یہ سارا شور اس لئے ہے کہ ایک مرد حر نے چوروں اور ڈاکؤں پر ہاتھ ڈالا ہے اور اب اگر ہاتھ ڈل گیا ہے تو پھر اعتماد بھی تو برقرار رکھئے۔

پاکستان تحریک انصاف کی تشکیل نو کے کئی مقاصد ہیں۔کل کسی وقت جب حالات سنبھلے تو مڈ ٹرم الیکشن بھی ہو سکتا ہے۔مانگے تانگے کی حکومت ایک کمزور حکومت ہے۔ہمیں علم ہے کہ ہمارے لوگوں کے کام نہیں ہو رہے لیکن عمومی طور پر منظر بدل چکا ہے۔اس بدلے ہوئے منظر میں دو جمع دو کو چار ہی سمجھئے۔اس لئے کہ بنارسی ٹھگوں کا دور ختم ہے۔یہ کالم کسی اخبار سے زیادہ آپ کے لئے ہے۔اس کالم کو بڑی تعداد میں شیئر کیجئے اگر کوئی سوال کرنا ہے تو میسج کیجئے ای میل کیجئے کوشش کروں گا کہ سب کو جواب دے دوں۔

آخری بات اپنے دوستوں سے کرنی ہے خدارا اﷲ نے آپ کو سیٹ دے دی ہے جو آپ کے خوابوں میں بھی نہیں تھی کارکنوں کا خیال کریں انہیں عزت دیں۔اسد عمر کا ساتھ دیں میرا اﷲ بہتر کرے گا
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 272 Print Article Print
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 381 Articles with 121419 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More

Reviews & Comments

Language: