بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر سیاست

(Ilyas Mohammad Hussain, )

وفاقی حکومت نے پیپلزپارٹی کی قیادت کو دھچکا لگانے کا فیصلہ کرہی لیا اس سے ان کی پریشانی میں اضافہ ہورہاہے اس لئے خورشید شاہ سے لے کر بلاول بھٹو چیخنے چلانے پر مجبورہوگئے ہیں یہ سب کے سب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بات کرتے ہیں غریبوں کی بات کوئی نہیں کرتا غریبوں کے مسائل حل ہوجائیں غریبوں کی حالت بہترہونی چاہیے نام کوئی بھی ہو نام میں کیا رکھاہے؟چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے انتہائی غم و غصہ کااظہار کرتے کہا بینظیر انکم سپورٹ کا نام تبدیل کرنا پروگرام کو بند کرنے کی سازش ہے کچھ لوگ یہ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ لوگ عوام دشمن اور غریب دشمن لوگ ہیں۔ یہ لانگ ٹرم سازش ہے، پہلے نام تبدیل کریں گے اور پھر رقم کم کریں گے جس کے بعد یہ پروگرام بند کر دیں گے کیونکہ موجودہ حکومت سمجھتی ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے پیسہ ضائع ہو رہا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ملک کا سب سے اچھا پروگرام ہے۔بلاول بھٹو کے خیال میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ناصرف خواتین مضبوط ہو رہی ہیں بلکہ معیشت کو بھی طاقت مل رہی ہے۔ وفاقی حکومت کے رویے کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ سید خورشید شاہ نے کمال کا تبصرہ کرتے ہوئے کہا مجھے ڈر ہے کہ نیا پاکستان والے کہیں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر نہ نکال دیں۔ وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ آپ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بینظیر بھٹو کا نام نکالنا چاہتے ہو، اس پر آپ کو شرم آنی چاہیے محترمہ بینظیر بھٹو نے پیپلز پارٹی کے لیے نہیں ملک کے لئے قربانی دی، عمران خان تم بینظیر کا نام ہٹانا چاہتے ہو مگر لوگوں کے دلوں سے کیسے نام ہٹاؤ گے، جو تاریخ خون سے لکھی جائے اس کا نام پانی سے نہیں مٹایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ ڈکٹیٹر بننا چاہتے ہیں تو صدام حسین کی طرح وردی پہن کر صدر بن جائیں، عمران خان تم اپناکام کرو ہم اپنا کام کریں گے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام تبدیل کرنے کے اقدام کے خلاف مزاحمت کریں گے، ضیاء الحق اور پرویز مشرف بھی بے نظیر بھٹو کے نام سے خوف زدہ تھے اور موجودہ حکومت مشرف کی بی ٹیم ہے جو بے نظیر کے نام سے خوف زدہ ہے کیونکہ بے نظیر بھٹو سے خوف زدہ نام نہاد سیاست دانوں کا یہی رویہ ہے پیپلز پارٹی نے ایک لاکھ 70 ہزار خواتین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2008 سے 2013 تک ماڈل اور بہترین حکومت تھی، اعداد و شمار کے ساتھ بات کرتا ہوں، کوئی مائی کا لعل آئے چیلنج کرے، میں جواب دوں گا۔شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹم بم بنا کر سرحدوں کی حفاظت کا اعلان کیا اور شہید بے نظیر بھٹو نے ملک کو میزائل ٹیکنالوجی دی، کوئی دشمن ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ایک ا وررہنما چودھری منظور نے کہا ہے کہ انکم سپورٹ پروگرام سے بینظیر شہید کا نام نکالنے کا اعلان آمرانہ سوچ کی عکاسی ہے۔عمران خان کو پتا ہی نہیں کہ پروگرام سے بینظیر بھٹو کا نام انتظامی حکم سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک قانون ہے، تبدیلی ترمیم کے بنا ممکن نہیں۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ شہید محترمہ سے تعصب رکھنے والے بے نقاب ہوچکے ہیں، کٹھ پتلی میں ہمت ہے تو اس پروگرام کا نام بدل کر دکھائیں۔ اور تو اور سعید غنی بھی سیخ پا ہوگئے کہنے لگے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو 2010میں باقاعدہ قانون بنا کر لایا گیا اور اسے بدلنے کے لئے قانون میں ترمیم کرنا ہو گی۔ وزیر اعظم عمران خان کوشش کر کے دیکھ لیں، سینٹ میں تو ان کی اکثریت نہیں، قومی اسمبلی میں بھی کامیابی نہیں ملے گی جبکہ وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے بینظیر انکم سپورٹ کا نام تبدیل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں نے وزیراعظم کو اس کی تجویز دی تھی، پیپلزپارٹی کے جیالے بینظیر انکم سپورٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں ویسے میں پروگرام کا نام تبدیل کرنے کے حق میں نہیں کیونکہ نام نہیں کام دیکھا جاتا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وضاحت دی ہے حکومت کی طرف سے سماجی امداد کے تمام اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کا کام کیا جارہا ہے اس حوالے سے نئی وزارت بنے گی، پاکستان بیت المال سمیت غریب و پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود اور امداد کیلئے قائم تمام اداروں اور محکموں کو اس وزارت کے ذریعے یکجا کیا جائے گا ۔گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کا کہنا تھا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیاہے کیونکہ سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی اس فلاحی منصوبے پر سیاست کررہی ہے موجود حکومت نے تاریخ میں پہلی بار غربت سے پسے طبقات کے بارے میں ٹھوس اقڈامات کرنے کا فیصلہ کیاہے جس سے پیپلزپارٹی خوفزدہ ہے کہ ان کی سیاست ختم ہوجائے گی ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل ہویا نہ ہو ایک بات ضرور ہے حکومت نے تالاب میں پتھرمارکر ارتعاش پیدا کردیاہے پیپلزپارٹی کے چھوٹے بڑے تمام رہنماؤں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے بیان بازی شروع کررکھی ہے وہ شایدیہ سمجھتے ہیں اتنا رولا ڈالنے سے ان کی سیاست زندہ ہو جائے گی حالانکہ ایسا ممکن نہیں پیپلزپارٹی کی سیاست تو بے نظیر بھٹو کی شہادت کے ساتھ ہی شہیدہوگئی تھی اس ‘‘شہادت ‘‘ کو کیش کرواکر آصف علی زرداری صدر ِ پاکستان بننے میں کامیاب ہوئے تھے یہ الگ بات ہے کہ یہ سب لوگ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بات کرتے ہیں غریبوں کی بات کوئی نہیں کرتا غریبوں کے مسائل حل ہوجائیں غریبوں کی حالت بہترہونی چاہیے نام کوئی بھی ہو نام میں کیا رکھاہے؟۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 173 Print Article Print
About the Author: Ilyas Mohammad Hussain

Read More Articles by Ilyas Mohammad Hussain: 189 Articles with 48732 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: