ظلم و بربریت

(Dr B.A Khurram, Karachi)

تحریر ۔۔۔چوہدری فیصل جاوید
سوشل میڈیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کی وائرل ہونے والی ویڈیوز دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے آخر مسلمانوں کا قصور کیا ہے.برما میں حکومتی سرپرستی میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم دنیا نے دیکھے فلسطین پر ہونے والے مظالم بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں کشمیر میں فوج کی جانب سے ہونے والے آئے روز درندگی کے واقعات انسانیت کی تذلیل اور ظلم ستم کی داستانیں بھی عالمی میڈیا پر گردش کرتی نظر نہیں آتی اسی طرح دنیا بھر میں مسلمانوں پر ظلم و ستم ہو رہا ہے شام فلسطین چیچنیا بوسنیا عراق میں بھی مسلمانوں پر ہی مظالم ہو رہے ہیں یہاں تک کہ زندہ مسلمانوں کو جلایا جا رہا ہے معصوم بچوں کے ٹکڑے کیے جا رہے ہیں مگر اقوام متحدہ خاموش ہے انسانی حقوق کی دعویدار تمام بڑی بڑی تنظیمیں خاموش کیوں ہے کیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم انہیں نظر نہیں آتے یا پھر عالمی قوتوں کی نظر میں مسلمان انسانیت کے زمرے میں نہیں آتے مغرب میں ایک کتا مرنے پر چیخ و پکار ہوتی ہے مگر برما کشمیر فلسطین چیچنیا بوسنیا کے حالات پر یہ خاموش کیوں ہیں کہ یہ مسلمانوں کی نسل کشی کی عالمی سازش تو نہیں ہے یہ سب لوگ ان میں ملوث تو نہیں ہیں بات صرف چند ممالک کی نہیں بلکہ پوری دنیا میں مسلمانوں پر ہی ظلم عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں ان سے بے خبر نہیں بلکہ وہ باخبر ہیں لیکن یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے کشمیر میں ہونے والے ظلم سے تمام عالمی قوتیں باخبر ہیں مگر پھر بھی خاموشی کس بات کی اپنا حق مانگنے اور ایک آزاد زندگی جینے کی تمنا دہشتگردی ہے بھارت 70 سال سے کشمیریوں پر مظالم سے مظالم ڈھا رہا ہے لاکھوں کشمیری جام شہادت نوش فرما چکے ہیں ریاست جموں کشمیر کے باسی بند پنجرے میں برسوں سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں چھے لاکھ افراد شہید ہو چکے ہیں مگر دنیا کی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو کچھ نظر نہیں آیا کشمیریوں کا کا قصور صرف یہی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جینا چاہتے ہیں اس جرم کی وجہ سے لاکھوں شہیدہزاروں معذور کردیئے خواتین کی بے حرمتی کی جاتی ہے مال و متا لوٹا جاتا ہے لاکھوں لوگ تو ہجرت کرکے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں آزادی کا خواب دیکھنے والی آنکھوں کو بے نور کر دیا گیا اور ریاستی جبر کے ذریعے کشمیریوں کے جینے کے تمام راستے بند کر دیے گئے بھارت کی اس دہشت گردی اور جبر سے کشمیریوں کی زندگی گھٹ کر رہ گئی مگر پھر بھی کشمیری نوجوان بچوں بوڑھوں اور خواتین نے بھارتیوں کے جبر مسلسل کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا مگر بھارت کے مظالم اور دہشتگردی یہاں بھی نہیں رکی نوجوانوں کو جیپوں سے باندھ کر گھسیٹ گھسیٹ کر مار دیا جاتا ہے تو کہیں سربازار تشدد کر کے مار دیا جاتا ہے علمائے کرام کی داڑھی سے پکڑ کر چہرے پر تشدد کیا جاتا ہے اور ان کو اپنی گاؤ ماتا اور اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے کیا انڈیا میں اقلیتوں کے حقوق نہیں ہیں کیا یہ انسانیت کی تذلیل نہیں تو اور کیا ہے یہ کھلی دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے-

پاکستان یا کسی بھی اسلامی ملک میں کوئی بھی غیر مسلم اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر سچے دین اسلام میں اگر شامل ہوجائے تو عالمی میڈیا پر چیخ و پکار شروع ہوجاتی ہے مگر مسلمانوں پر ظلم و ستم بربریت کے ذریعے اپنے مذہب کے مطابق عبادات کروانے پر مجبور کیا جاتا ہے مگر ایک سچا مسلمان تڑپ تڑپ کر اپنی جان دے دیتا ہے مگر دین اسلام کے دائرہ میں ہی رہتا ہے المیہ تو یہ ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے انسانیت سوز واقعات اقوام عالم کو نظر کیوں نہیں آتے مگر افسوس کے ایک آزادی کی تحریک چلانے والے رہنما کو دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا حق کیوں مانگ رہا ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کی جا رہی ہے ان تمام ممالک چیچنیا بوسنیا فلسطین عراق شام کشمیر کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کی انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور نام نہاد انسانی حقوق کے دعوے دار و اقوام متحدہ بھی مسلمانوں کی نسل کشی کی سازش میں برابر کے شریک تو نہیں ادھر پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے کلبھوشن کے لیے بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں جاگ جاتی ہیں مگر دنیا بھر میں مسلمان معصوم بچوں بوڑھوں اور خواتین پر ہونے والے ظلم و تشدد کی خبر لینے والا کوئی نہیں آپ پوری دنیا میں نظر دوڑائیں آپ کو مسلمانوں پر ہی مظالم نظر آئیں گے گزشتہ دنوں مسلمانوں کو مسجد میں دوران عبادت شہید کردیا گیا مگر پھر بھی مسلمانوں کو ہی انتہا پسند و دہشتگر کہا جاتا ہے آخر کیوں؟؟ تمام مسلم ممالک کو مل کر اس پر بیانات کے علاوہ عملی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی کیونکہ یہ ایک عالمی سازش ہے کہ اسلام کو بد نام کیا جائے اور دنیا بھر میں مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ گرا دیے جائیں اگر عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام عالم تمام اقلیتوں اور مذاہب کے لئے غیر جانبدار ہے تو پھر انہیں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم نظر کیوں نہیں آتے تمام مسلمان ممالک کے سربراہان اور او آئی سی کو مل کر فلسطین چیچنیا بوسنیا عراق شام کشمیر میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و بربریت کے لیے حکمت عملی تیار کرنی چاہیے-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 165 Print Article Print
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 476 Articles with 152052 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: