’’سیاسی رنگروٹ‘‘کو حکم ملنے والا ہے ․․․!!

(Irfan Mustafa Sehrai, Lahore)

پاکستان میں جمہوریت کو عوام کی بہبود اور خوشحالی پر چلانے کی بجائے مفادپرستوں نے ذاتی مفادات اور فسطائیت کو بڑھانے کی کوششوں پر زور دیا ہے ۔عمران خان فاشزم ذہین کے مالک حکمران ہیں ،اسی لئے آمریت کو پسند کرتے ہیں ۔آمریت کی سادہ فہم تعریف یہی ہے کہ اپنے مخالفین کو طاقت کی بنیاد پر دبایا جائے ۔عمران خان بھی اسی ذہنیت کے مالک ہیں ،انہوں نے اقتدار تو کسی نہ کسی طرح حاصل کر لیا،مگر ملک میں انسانی اور معاشی مسائل کا تدارک کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔کیونکہ عمران خان جمہوریت پسند نہیں ہیں،اس لئے کسی بھی مخالف تحریک کو پسند نہیں کرتے اور اسے زور بازو سے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔حالانکہ خود ہمیشہ احتجاجی سیاست کرتے ہوئے اقتدار تک پہنچے ہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ یہ نصب شدہ وزیر اعظم ہیں،پھر بھی ہر کسی نے کوشش کی جمہوریت کے نام پر ایک جمہوری عہدے پر فائز شخصیت کے ساتھ نیک تمنائیں رکھی جائیں ۔عوام نے بھی نئے پاکستان کے چکر میں بہت سی امیدیں اور خواہشات دل میں پیدا کر لیں تھیں،انہیں اپنی سوچ کے متضاد رویے نے دلبرداشتہ کر دیا ہے ۔لیکن مغالطوں کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے،خیر عوام تو بڑی خاموشی سے بڑی قیمت دینے کی عادی ہے ۔

عوام سوجھ بوجھ رکھنے کے باوجود ڈگڈگی بجانے والوں کا تماشہ دیکھنے کی عادی ہو چکی ہے۔کنگ میکرز میڈیا کو استعمال کر کے ماحول بناتے ہیں ، انہیں ملک کی ترقی یا بدحالی سے کوئی سروکار نہیں ،اپنے مفادات کا حصول ضروری ہے ،جب تک پیادہ ان کے لئے فائدہ مند رہتا ہے،اقتدار کے مزے لیتا ہے ،مگر جیسے ہی کوئی جمبش ہوتی ہے ،معاملہ تبدیل ہو جاتا ہے ۔مشرف دور کے وسط میں نواز و زرداری فرشتے دکھائے جاتے تھے۔آصف علی زرداری سب پر بھاری تھا، مشرف شیطان ہو گیا ،آصف زرداری آئے ،کچھ ہی عرصے بعد زرداری حکومت کی چینلز پر دھلائی شروع ہو جاتی ہے اور میاں نواز شریف کو فرشتہ صفت دکھایا جاتا ہے ،زرداری حکومت فارغ ہوتی ہے ،کچھ عرٖصے بعد نواز شریف ملعون ثابت کر دیا جاتا ہے ، پانچ سال میڈیا ٹرائل جاری رہتا ہے ، حتٰی کہ عمران خان آ جاتے ہیں ۔لیکن آج وہی میڈیا جو عمران خان کے قصیدہ گاتے تھے ،انہیں کے نشانے پر ہیں ۔یہ عمران خان کی حمد وثناء کرتے ہوئے اینکر حضرات ہزار کیڑے نکال رہے ہیں ۔

جمہوریت کے نام پر اقتدار حاصل کرنے والی تحریک انصاف اورعمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی تھی،مگر حکومت میں آنے کے بعد بھی عضو معطل بنا دیا ہے ۔حزب اختلاف کے بغیر جمہوری نظام کا تصور ممکن نہیں ہے ،مگر عمران خان کی حزب اختلاف سے نفرت کی انتہا کہ آئین سے انحراف سے بھی گریز نہیں کرتے ۔عمران خان بنیادی پالیسی معاملات طاقتور اداروں کو سونپ کر آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی ترک کر چکے ہیں ۔ان طاقتوں کے اتنے زیادہ زیر تسلط ہیں کہ بغیر سوچے سمجھے وفاداری کر رہے ہیں ۔اٹھارہویں ترمیم میں صوبائی خودمختاری پر حملہ کر کے نیا سیاسی محاذ کھول لیا ہے ۔بے نظیر بھٹو انکم سپورٹ اسکیم کا نام تبدیل کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ․․․!!

حکومت مسلسل معاشی ناکامی ،خارجہ امور کی پسپائی ، سیاسی کشیدگی ،حکومتی نا اہلی ،مایوس کن کارکردگی ،کمر توڑ مہنگائی اور بے روزگاری کی آگ میں عوام جھلس کر رہ گئے ہیں ۔معیشت میں بہتری کا ایک ہی حل ہے کہ آمدن بڑھائی جائے ، مگر حکومت کی اس جانب کوئی توجہ نہیں ہے ، وزیر خزانہ جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں،بیان بازی اور سابقہ حکومت پر تمام تر بوجھ ڈال کر بری الزمہ ہو نے کی نا کام کوشش کرتے ہیں۔حکومت سے ابھی تک آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ نہیں ہوا ہے ،حکومت کی کوشش ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط پہلے ہی پوری کر دی جائیں تاکہ تنقید سے بچا جائے ،مگر کیا عوام اور حزب اختلاف اتنی ہی بے وقوف ہے کہ اس بات کو نہیں سمجھتی ۔

ویسے تو زیادہ تر وزراء عمران خان کی کشتی ڈبونے کے لئے کافی ہیں ،مگر اسد عمر جیسے وزیر عمران خان کو ڈبونے کے لئے کافی ہیں، جہانگیر ترین کی انٹری نے ہمیشہ ہل چل مچائی ہے ،ان کی آمد بلاوجہ نہیں ہوتی ، کہیں سے حکم ہوتا ہے تو جناب وارد ہوتے ہیں ۔اب جہانگیر ترین ایک جانب عمران خان کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہیں۔وہ نہ صرف عمران خان بلکہ پوری پارٹی کو پالتے رہیں ہیں ،پنجاب حکومت بنانے کا معاملہ ہو یا سینٹ کا انتخاب ،ہر معاملے میں جہانگیر ترین کا نا اہل ہوتے ہوئے بڑا رول رہا ہے ۔اب سیاست میں تا حیات نا اہل ہو کر بھی حکومتی کیبنٹ کا حصہ بنتے ہیں ،کیوں نہ بنیں ․․․؟سرمایہ لگانے کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ اب وہ دور سے حکومت کرنے والوں کو دیکھیں۔مثبت انداز میں دیکھا جائے ،تو اس میں کوئی برائی نہیں کہ کسی سپیشلسٹ سے مشورہ لے لیا جائے ،حکومت کو ایسا کرنا بھی چاہیے ،کہ اگر کسی مسئلے کو کوئی بھی بہتر انداز میں جانتا اور تجربہ رکھتا ہے ، اس سے ملک و قوم کی بھلائی کے لئے ضرور مشورہ لینا چاہیے ،مگر آئین اور قانون کو توڑ کر کسی شخص جوکہ عدالت نے نا اہل قرار دیا ہو ،جس پر یہ الزام باقائدہ ثابت ہوا ہے کہ اس نے اپنے چھوٹے ملازموں کے نام پر کروڑوں روپے کی ٹرانزکشن کی ہو۔اسے حکومت کیبنٹ میٹنگ میں بلا کر حکومتی معاملات میں حصہ دار بنائے تو اس سے فسطائیت ظاہر ہوتی ہے ۔تحریک انصاف کی وائس چیئرمین کی حیثیت پر شاہ محمود قریشی ہیں،یہ پی ٹی آئی کے واحد لیڈر ہیں جو جمہوری روایات کے ساتھ سیاست کر رہے ہیں ۔انہوں نے اپنا سیاسی حق استعمال کرتے ہوئے،غلط کو غلط کہا ہے ،مگرایسا کرنا فاشزم ذہن کے مالک لیڈر کے لئے نا پسندیدہ بات ہے ۔ 2013ء کے انتخابات سے پہلے انہیں گروپس کی وجہ سے پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑا تھا ۔اب پھر وہی سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔

عمران خان کی فطرت کو جاننے والے کہتے ہیں کہ یہ خود ایسا ماحول بناتے ہیں،جہاں سے گروپ بندی رہے اور جب جس گروپ کو چاہیں اسے استعمال کر سکیں ۔اس بار پارٹی کے اندرونی لڑائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ۔ویسے عمران سیاسی خود کشی کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ،ان کی اشتعال انگیزی اور محاذ آرائی کی پالیسی انہیں اس نہج پر لے جا ئے گی ،جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہو گی ۔جون میں بجٹ پیش ہونا ہے ،حکومت کے لئے مہنگائی اور بے روزگاری کا سیلاب سنبھالنا نا ممکن ہو گا۔اب عمران خان دبے الفاظ میں حکومت سے فرار کا راستہ اختیار کرنے پر آ چکے ہیں۔اس بارے اپنے وزراء سے باتیں کروانی شروع کر دی ہیں ۔آخر میں اپوزیشن پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے حکومت کو خیر باد کہنے کا راستہ ڈھونڈتے ہوں گے ۔

عمران خان کا وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھنے کا شوق پورا ہو چکا ہے ، انہیں علم ہو چکا کہ یہ کرسی دکھنے میں پھولوں کا سیج لگتی ہے مگر حقیقت میں کانٹوں کا بچھونا ہے ۔جمہوری قوتوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہیے،ان کی کوتاہیوں کی سزا نہ صرف عوام کو بھگتنی پڑی ہیں بلکہ انہیں بھی خمیازہ دینا پڑ رہا ہے ۔اگر ملک کو صحیحی ڈگر پر چلانا ہے ، تو متحد ہو کر لائحہ عمل مرتب کرنے کی جانب قدم بڑھانا ہو گا۔توانائی کے شعبے اور ایف بی آر کی اصلاحات کا کہا جا رہا تھا ،جو سامنے نہیں آئی ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن اپنے لانگ مارچ کو لے کر اسلام آباد کی تیاریوں میں ہیں ۔مکافات عمل کا دور بہت جلد شروع ہونے والا ہے ۔دوسرے تو برداشت کر گئے تھے ،کیونکہ سیاست کے پرانے کھلاڑی تھے ، انہیں اوپر نیچے کا اندازہ تھا ،مگر آپ توسیاست کے ’’ نئے رنگروٹ‘‘ ہیں۔دل سنبھال لیں،مشکل پیش آ سکتی ہے ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 197 Print Article Print
About the Author: Irfan Mustafa Sehrai

Read More Articles by Irfan Mustafa Sehrai: 119 Articles with 29091 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: