وحشی اور وحشت

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

سوشل میڈیاپرتازہ ترین کئی دھماکے دار خبریں گردش کررہی ہے جس میں جہانگیر ترین اور شہباز شریف کی لندن میں ممکنہ ملاقات کی بازگشت، حکومت اورزرداری وشریف فیملی کے درمیان ڈیل کی کہی ان کہی کہانیاں سرفہرست ہیں۔معروف صحافی ذوالفقار راحت کے حوالہ سے کہا جارہاہے کہ شریف خاندان اور آصف علی زرداری گھٹنے ٹیکنے نہیں جارہے بلکہ ٹیک چکے ہیں۔ شریف خاندان اور آصف علی زرداری اپنی جان شکنجے سے چھڑانے کے عوض حکومت کو تین تین بلین ڈالر دینے کو تیار ہیں اور دونوں کی طرف سے یہ پیشکش بہت ہی معتبر شخصیات وزیراعظم عمران خان کے پاس لے کر پہنچیں تھیں لیکن عمران خان نے یہ بات سننے سے انکار کر دیا۔یہ پیشکش کرنے والوں میں کچھ پی ٹی آئی کے سفارشی لوگ بھی موجود تھے،لیکن عمران خان نے سب کو شٹ اپ کال دے دی ان میں سے ایک ایسی شخصیت تھی جس کی وزیر ِ اعظم بہت عزت کرتے ہیں تو ان کو عمران خان نے پیشکش قبول کرنے سے معذرت کی۔وزیراعظمنے کہا کہ میں آفر ذاتی طور پر کسی این آر او کے طور پر قبول نہیں کروں گا۔یہ پرنسیپل فیصلہ ہے جس پر میں کبھی سمجھوتہ نہیں کروں گا۔عمران خان نے کہا کہ اگر اداروں میں کوئی پلی بار گین کا طریقہ کار موجود ہے تو اور وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہتا ہے اور کی گئی کرپشن پرپیسے دینا چاہتا ہے تو وہ ٹھیک ہے لیکن مجھ سے این آر او کی کوئی توقع نہ کی جائے۔وزیراعظم عمران خان نے اداروں کو یہ بھی واضح کیا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ شریف خاندان اور آصف زرداری کو ریلیف دینے کے لیے عمران خان پیسے لینے پر آمادہ ہو جائے گا تو ایسا ممکن نہیں ہے۔واضح رہے وفاقی وزیر فواد چوہدری بھی کچھ دن قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ شریف خاندان پلی بارگین کے ذریعے سے ریلیف حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی خبرکے تسلسل میں مسلم لیگ ن کے ایک سابقہ رہنما شیخ وقاص اکرم نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے دعویٰ کرڈالا کہ تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ ن کے درمیان یہ ڈیل جہانگیرترین اورمیاں شہباز شریف کے درمیان ملاقات لندن میں طے پائی تھی ڈیل طے کیا جانا تھاکہ کیسے ن لیگی راہنماؤں کو کرپشن کیسز سے بری کیا جائے؟ اور اس کے بدلے میں تحریکِ انصاف حکومت نے اپنی شرائط پیش کرنی تھیں جن کے بارے میں بات چیت ہو چکی تھی ۔ موصوف نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف مسلم لیگ ن کو ڈیل دینے کے لئے تیار ہو گئی تھی لیکن کام اس وقت خراب ہوگیا جب عین وقت پر میاں شہباز شریف لندن نہیں جا سکے کیونکہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل تھا اوریوں معاملہ کے حل سے پہلے ہی دونوں جماعتوں کے مابین کچھ اور تنازعات پیدا ہو گئے جن کی وجہ سے ڈیل نہ ہو سکی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف اگرایک یا دو ماہ کے لیے گرفتار بھی ہو جائیں تب بھی وہ مسلم لیگ ن میں مریم نواز شریف کی جگہ نہیں لے سکتے۔ جبکہ عمران خان اور فواد چوہدری کئی بار کہہ چکے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو کوئی ڈیل نہیں ملے گی تاہم اب ایک بڑا دعویٰ سامنا آیا ہے کہ ن لیگ اور پی ٹی آئی قیادت میں ڈیل طے ہو گئی تھی جس پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا تبصرہ تھا جہانگیر ترین لندن میں کیا کر رہے ہیں یہ بھی میرے علم میں نہیں اوران کی شہباز شریف کی لندن میں ممکنہ ملاقات کا بھی علم نہیں میں جہانگیرترین سے متعلق ابھی بھی بہت کچھ کہہ سکتا ہوں لیکن اب میں کچھ نہیں کہوں گا۔ جہانگیر خان ترین کا یہ کہناعمران خان کی مرضی اور خواہش پر جاتا ہوں،پاکستانکی خدمت کرنا میرا حق ہے اور کوئی بھی مجھ سے یہ حق چھین نہیں سکتا اس تناظرمیں کہاجاسکتاہے جہانگیرترین اورمیاں شہباز شریف کے درمیان ملاقات عمران خان کی مرضی و منشاء کے بغیرنہیں ہوسکتی۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار اوریا مقبول جان نے کچھ مزے کی باتیں کی ہیں ان کا کہنا ہے منی لانڈرنگ اور کرپشن کے معاملے پر پوری دنیا بے بس ہے۔ جنیوا کے ایک شہر کے اندر پانچ ہزار کے قریب سیاستدانوں کے جعلی اکاؤنٹس ہیں۔ سب سے زیادہ پر کیپیٹا انکم اس وقت جنیوا کی ہی ہے۔ سارے چور اچکوں کی دولت انہی اکاؤنٹس میں موجود ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ جنیوا اور ایسے کئی ممالک انہی چور اچکوں کی کمائی سے اپنی زندگیاں گزار رہے ہوتے ہیں۔ وہ کیوں ہمارے ریڈ وارنٹس کو قبول کریں گے ؟ وہ کبھی بھی جعلی اکاؤنٹ رکھنے والوں کی تفصیلات شیئر نہیں کریں گے۔ مدتوں ایک قانون رہا ہے کہ آپ اْس بینک اکاؤنٹ، جو سوئٹزر لینڈ کے اندر ہے، کوئی تفصیلات شئیر نہیں کر سکتے۔ کالم نگارکا کہنا ہے یہاں کا پیسہ لوٹ کر وہاں بھیجا جاتا ہے ، اسی کو منی لانڈرنگ کہتے ہیں جس کی کان و کان خبر بھی نہیں ہوتی۔پاکستان میں رہنے والے کسی بھی کاروباری آدمی کو پوچھیں کہ راجہ مارکیٹ کے پاس نہر پر دائیں جانب نواز شریف کا ایک دفتر ہوتا تھا اورسعید مہدی کے گھر کے سا تھ اْس دفتر میں بہت سارے لوگ منی لانڈرنگ کرتے تھے اْن چار پانچ لوگوں میں اسحاق ڈار بھی شامل تھے۔ایک عام سا سوال ہے کہ ایک آدمی یہاں کاروبار کر رہا ہے ، اْس کی ملز ہیں۔ اچانک ایک ٹنل بنتی ہے اْس ٹنل کے تحت کچھ رقم جاتی ہے جس کے بعد اچانک لندن اور دبئی میں فیکٹریاں لگ جاتی ہیں۔ اس کا جواب مانگتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی شہری نہیں ہیں۔ وائٹ کالر جرائم کے اندر ایسا ہوتا ہے کہ جس دن انگلینڈ کی حکومت حسن اور حسین نواز سے پوچھے گی کہ تمہاری اتنی جائیداد ہے تو اس کو بنانے کے لئے پیسہ کہاں سے آیا؟ اْس دن پتہ چلے گا کہ انہوں نے یہ پیسہ کب اور کیسے باہر بھیجا؟ ۔۔۔انکی باتوں میں سچائی ہو سکتی ہے لیکن جو برطانیہ الطاف حسین نے آج تک نہیں پوچھ سکا وہ حسن اور حسین نواز سے کیا پوچھے گا حالانکہ وہاں تو منی لانڈرنگ قتل سے بھی سنگین جرم ہے نیب نے آصف زرداری ان کی ہمشیرہ ،میاں نوازشریف، میاں شہبازشریف،نصرت شہباز،تہمینہ درانی کی مبینہ منی لانڈرنگ کے کئی کھاتے کھول رکھے ہیں جہاں اتنے نامی گرامی لوگوں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں وہاں بلاول بھٹو،مریم نواز،حسن اور حسین نواز ،سلمان شہباز اور حمزہ شہباز اور ان کے بہنوئی عمران کے خلاف کیا ہوگا کچھ نہیں کہا جا سکتا نوجوان جو قوموں کا مستقبل ہوتے ہیں لیکن ایک بات کا بڑا ملال ہے بیشتر سیاستدانوں کی ساری کی ساری نسل کرپٹ ہے مستقبل میں انہی میں سے کچھ اقتدار میں آئیں گے پھر سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا مستقبل کیسا ہوگا یہ سوچ سوچ ہی وحشت ہورہی ہے،خوف آرہاہے اگر ایسے لوگ ہی ہمارا مستقبل ہیں توپھر ہم اپنی آنے والے نسلوں کو ورثے میں کیا دے کرجارہے ہیں؟ یعنی ہماری قسمت میں سکون ہی نہیں۔ ہمارا کوئی مستقبل نہیں شاید ابن ِ انشاء نے اسی لئے کہا تھا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب،جوگی کا نگرمیں ٹھکانہ کیا

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 172 Print Article Print
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 218 Articles with 85376 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: