عمران خان کا اجنبی سیاسی تہذیب

(Hammad Hassan, )

ولی خان اور ان کے ورکر میزبان تھے اور پشاور میں اپوزیشن جماعتوں کے انتخابی اتحاد کا جلسہ تھا ،ان جماعتوں کی مشترکہ صدارتی اُمیدوار فاطمہ جناح تھی جوں ہی فاطمہ جناح سٹیج پر آئی تو تمام کرسیوں پر سنیٹر لیڈرز براجمان تھے ۔ ولی خان بھی ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے جوں ہی فاطمہ جناح پر نظر پڑی تو بھاگ کر گئے فاطمہ جناح کے سر پر بھائیوں کی طرح دست شفقت رکھا ھاتھ سے پکڑا اور اپنی کرسی پر بٹھا کر خود ایک عام کارکن کی طرح کرسی کے پیچھے کھڑے ہو گئیے اور دیر تک کھڑے رھے کیونکہ سٹیج پر دوسری کرسی موجود نہ تھی.

ولی خان ،خان عبدالغفار خان کے بیٹے تھے جبکہ فاطمہ جناح قائداعظم محمد علی جناح کی بہن ۔

دونوں خاندانوں کے درمیان سیاسی اختلاف غضب کا تھا لیکن ذاتی احترام ایسا کہ ایک زمانے کو ششدر کر دیا تھا ۔

مسلم لیگ کے قیوم خان اور نیشنل عوامی پارٹی کے خان عبدالولی خان کے درمیان سیاسی تناؤ ھمیشہ انتھا کو چھوتا ہوا محسوس ہوا ، حتٰی کہ بابڑہ جیسے خونچکاں واقعات بھی اسی تاریخ کا حصہ بنے لیکن یہی قیوم خان جب ستّر کے عشرے میں بھٹو حکومت میں وفاقی وزیر داخلہ اور مخلوط حکومت کا حصہ تھے تب ولی خان اور اس کےساتھی حیدرآباد ٹریبیونل میں پابند سلاسل تھے ،قیوم خان کے سخت سیاسی مخالف ولی خان کی اھلیہ بیگم نسیم ولی خان پارٹی کو متحرک کرنے گھر سے نکل آئی تھیں اور تحریک چلا رہی تھیں اس تحریک کو عوامی نیشنل پارٹی کے سخت جان ورکر عروج پر لے گئے اور بھٹو حکومت کو بہت حد تک پریشان کیا اس حوالے سے وزیر اعظم بھٹو نے پرائم منسٹر ھاؤس میں میٹنگ بلوائی تھی اسی میٹنگ میں بھٹو نے بیگم نسیم ولی کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ کہے سامنے بیھٹے ہوئے وزیر داخلہ قیوم خان کا چہرہ سُرخ ہوگیا اور اپنی کرسی سے اُٹھ کر بھٹو جیسے آدمی سے کہا زبان سنھبال کر بات کریں مجھے اختلاف ولی خان سے ہے بیگم نسیم میری بہن جیسی ہے تلخی اتنی بڑھی کہ بات طعنوں اور گالیوں تک پہنچی اور قیوم خان میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے ( اس واقعہ کے چشم دید گواہ قیوم خان کے سیکیورٹی افسر ذاکر خان زندہ ہیں اور پشاور میں مقیم ہیں۔) بعد میں قیوم خان نے اس " گستاخی" کی کیا قیمت ادا کی وہ ایک الگ کہانی ھے.

اکبر بگٹی بلوچ قوم پرستی کے سر خیل تھے جبکہ چودھری ظہور الہی مسلم لیگ سے وابستہ کٹر پاکستانیت کے علمبردار لیکن نظریاتی بعد کے باوجود دونوں میں ذاتی دوستی اور احترام کا ایسا رشتہ کے باید و شاید ۔ مچھ جیل سے عدالتی پیشی کے لئے کو ئٹہ لاتے ھوئے اکبر بگٹی نے اپنے دوست ظہور الہی کو ایک قاتلانہ حملے سے بچایا بھی اور دوست کی خاطر دشمنی بھی مول لی تھی.

افغان جنگ کے دوران اے این پی اور جماعت اسلامی نظریاتی محاذ پر شدت کے ساتھ ایک دوسرے کے مد مقابل تھے لیکن انہی دنوں جماعت کے امیر قاضی حسین احمد مرحوم تنظیمی دورے پر چارسدہ گئے توولی خان کو پیغام بھیجا کہ دوپہر کا کھانا آپ کے ھاں کھاؤں گا کھانے کے بعد دونوں گپیں ھانکتے اور قہقہے لگانے دکھائی دئیے ۔

نوابزادہ نصراللہ اور خواجہ خیر الدین جبکہ پیر پگاڑا اور شاہ احمد نورانی کی پارٹیاں اور سیاسی نظریات الگ الگ تھے لیکن باھمی دوستی اور احترام کا جذبہ ایک جیسا ۔

اسی طرح نوازشریف اوربے نظیر بھٹو ایک دوسرے کے سیاسی حریف تھے لیکن بے نظیر بھٹو پنڈی کی سڑکوں پر ایک شامِ الم میں ماری گئیں تو تھوڑی دیر بعد نواز شریف اس کے سرھانے کھڑا جیالوں کو گلے لگاتا اور آنسو بھاتا دکھائی دیا ۔

یہ تھی ھماری قابل فخر اور شاندار روایتوں سے مزین وہ سیا سی خیمہ جس میں اچانک عمران خان گھس آیا اور پھر کہاں کا ذاتی تعلق و دوستی اور کونسی تھذیب و شائستگی ، پھر تو بات اپنے ھاتھوں سے پھانسی دونگا اورچور ڈاکو لٹیرا سے ہوتی ہوئی گیلی شلواروں تک جا پہنچی صرف اسی پر ہی بس ہوتا تو ھم قلمی مو شکا فیوں کی ھنر مندی سے کام لیتے ہوئے حرف و لفظ کے معنی و مفھوم سے نا شناسی ، سادہ بیانی ، زبان کی پھسلن حتٰی کہ بلند فشار خون کے بہانے ٹانک کر اس ادھڑے اور بوسیدہ و بد رنگ سیاسی پوشاک کو بھی اطلس و کمخواب بنا دیتے لیکن خان صاحب اپنی نظرئیے و بیانئیے سمیت اس حد تک جا پہنچے کہ مشرقی تہذیب و تمدن ایک کرا ھت بھری اجنبیت کے ساتھ دیکھتا رہ گیا ۔

کبھی کبھی تو ایسا محسوس ھوتا ھے کہ سینکڑوں سالوں سے رواداری ھمدردی اور شائستگی سے معمور تہذیب کو خان صاب نے نہ صرف بے دردی سے مار ڈالا بلکہ اب اسکی لاش کو گلیوں کی جوھڑ میں کھنچتے ھوئے ان سیٹیوں اور تالیوں کا لطف اٹھا رھا ھے جو سفاکی اور بیگانگی کے ایک غول سے بر آمد ھو رھے ہیں.

بےنظیر بھٹو کی موت پر ان کے خاندان والوں سے عمران خان کی حاضری اور تعزیت تو درکنار ھمدردی کے دو بول تک نہیں کہے حالانکہ بے نظیربھٹو کے شدید سیاسی مخالفین سمیت تمام جماعتوں کے رھنما اپنے اپنے آنسو ان کی دھلیز پر چھوڑ آئے تھے ۔

پشاورکا بلور حاندان مظلومیت اور ھمدردی کا ایک سوگوار استعارہ ہے مدتوں اس خاندان کے مردوں کے پرخچے اُڑتے خواتین بیوہ ہوتیں اور بچے یتیم ہوتے گئے کون سنگدل ہو گا جس کی آنکھوں میں نمی نہ اُتری ھو یاجس نے موقع ملتے ہی اس خاندان کے ویران آنگن میں حاضری نہ دی ہو لیکن عمران خان ایسی ویران آنگنوں میں آنسوؤ ں کے سوغات بانٹنےوالےآدمی ہی نہیں اور وہ بھی ان کے ھاں جو اس کے جماعت کا حصہ نہیں ، اور تو اور اپنےسگے چچا زاد بھائی نجیب اللہ نیازی ( جوپنجاب اسمبلی کے ممبر تھے ) کی موت پر حاضری تودرکنار تعزیتی بیان تک سے گریز کیا کیونکہ مرحوم اور اس کا بڑا بھائی حفیظ
اللہ نیازی سیاسی مخالف تھے ۔

اورپھر اس حوالے سے کلثوم نوازکا معاملہ تو رونگھٹے کھڑے کر دیتاہے ۔

اُف خدایا!

تمھاری زمین پر ایسی سفاکدرندگی بھی پل رہی ہے؟

ایک بےضرر بلکہ غیر سیاسی خاتون اپنے خاندان پر اترے آزمائش و ابتلاء کے قھر آلود موسموں میں اور  غریب الوطنی میں کینسر سے ایڑیاں رگڑرگڑ کرمر رہی تھیں لیکن دوسری طرف سرِ شام ٹیلی وژن چینلوں پر زھریلے قہقہوں کے ساتھ عمران خان کے پیروکار پھیل جاتے اور موت سے بر سر پیکار آخری سانسیں لیتی مریضہ کو ڈرامہ باز کہہ کر اس کا مذاق اُڑاتے رھتے. ۔
بس بھی کروں خُدا کی قسم مزید لکھا نہیں جاتا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 341 Print Article Print
About the Author: Hammad Hassan

Read More Articles by Hammad Hassan: 19 Articles with 3466 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

عمران خان کا اجنبی سیاسی تہذیب (Hammad Hassan) 11 Apri. is a good article as it has reminded us that besides the political differences, our politicians were very courteous to each other. They were more courteous when the matter pertained to a woman. Of course Islam also teaches us for the same. But Hamad Hassa, you have been too fast in divulging hatred, venomous propaganda against one party head. If wanted to brng some reform in Mr. Khan's behaviour then you have failed in your effort. I hope you must have penned down your views about Nawaz's effort to kill Imran Khan, to force Jamaima to leave Pakistan, to launch Reham Khan and Gula Lai to marr Khan's political career and quite recently, pass stupid/ irrational remarks by Na-Ahl Sharif ' ex wazirs about Khan's present wife. The political scene has been polluted by the Corrupt, Usurpers of Wealth and Authority, Na-ahl to run the affairs of the State, Promoters of Nepotism, Favouritism, Expert in Money Laundering, Protectors/ Sponsors of "Bai Nami Accounts. You name any vice , and you will see our Politicians "First on the Victory Stand" Alas! our Media did not play positive role in putting these politicians on the right path. We, with the exception of a ver few, were swayed away and lured in by thcorrupt politicians. Did we follow "Majid Nazami or figure like him? Answer is "No." Many of us did not maintain the "Dignity of our Pen." Can you sparesome time to write articles : How to extract the looted money back? "
By: sarwar, lahore on Apr, 14 2019
Reply Reply
0 Like
Language: