پاکستان میں نجی اسپتال مقتل گاہ بنے ہوئے ہیں۔۔۔!!

(جاوید صدیقی‎, Karachi)

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے اپنے منصب پر رہتے ہوئے جہاں سرکاری اسپتالوں کا نوٹس لیا تھا وہیں نجی اسپتال کو متنبہ کیا تھا کہ وہ مقتل گاہ نہ بنیں لیکن اس کی مدت ملازمت نے موقع نہ دیا کہ نجی اسپتالوں کی گرنیں نوچ لیں کئی نجی اسپتال نا اہل ڈکٹروں پر مشتمل ہیں اور جہاں قدرے بہتر ڈاکٹرز ہیں وہاں انتظامیہ قصائی بنی ہوئی ہے، بیشتر بڑے اسپتال فلاحی پلاٹوں پر بھی بنائے گئے لیکن وہاں پر فلاحی بنیاد کے بجائے لوڈ مار بربریت اور دولت کے حصول کیلئے انسان سوز عوامل دیکھنے میں آتے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہیں ہماری وزات صحت براہ راست اس بابت مجرم ہیں،اگر کراچی کی بات کی جائے تو آغا خان اسپتال،لیاقت نیشنل اسپتال، ضیا الدین اسپتال، مڈ ایسٹ اسپتال، دارلصحت اسپتال، پٹیل اسپتال خاص کر شامل ہیں، یہ وہ اسپتال ہیں جہاں مریض ایک بار چلا جائے تو اللہ ہی واپس اپنی قدرت سے باہر نکالے، کئی مریضوں نے شکایت کی کہ اگر پینل کا معاملہ ہو تو رقم بنانے کیلئے ہر وہ راہ اختیار کرتے ہیں جن سے زیادہ سے زیادہ رقم بٹوری جاسکے اس کے علاوہ خود ذاتی رقم سے علاج کرایا جائے تب بھی کسی طور نہیں بخشتے، مریضوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسپیشلسٹ ڈاکٹر گویا ٹریٹمنٹ اور معائنہ کیلئے اس طرح وقت دیتے ہیں گویا احسان کررہے ہوں، عام طور پر درج اسپتال اسپیشلسٹ کی فیس تو لیتے ہیں مگر اسپیشلسٹ ڈاکٹر اس طرح وقت نہیں دیتے جس طرح رقم وصول کی جاتی ہیں اور اگر مریض مرجائے تو اس کا جنازہ لینا ایک اذیت ناک طریقہ سے دیا جاتا ہے، سرکاری اسپتالوں کی بات کی جائے تو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جمہوری حکومتوں نے سوائے لوٹ مار، کرپشن، بد عنوانی کے کچھ عوامی مثبت کام نہیں کیئے، ستر سالوں میں پاکستان میں کوئی ایک سرکاری اسپتال ایسا نہیں جس کو مثالی کہا جاسکے،وزرا، مشیر، سیکریٹریز ،وزیراعظم اور صدور ہمیشہ سے پاکستانی خذانے سے بیرون ملک علاج کراتے چلے آئے ہیں لیکن کبھی بھی یہ نہیں سوچا کہ ان کے ووٹرز کہاں علاج کرائیں، دوسری جانب سابقہ تمام جمہوری حکومتوں نے اسپتال تو اسپتال دوائی ساز کمپنیوں سے بھاری معاوضے کی صورت میں کمیشن بٹورا، آج ادویات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔۔۔معزز قارئین!! تحقیق و مشاہدے کے بعد کئی محققین نے بتایا کہ آغا خان اسپتال کو انتہائی سستے داموں زمین اس شرط پر دی گئی تھی کہ وہ عوام کو بھی سستے ،اچھے اور معیاری علاج سے مستفید کریگا لیکن دنیا نے دیکھا کہ آغا خان اسپتال حکومتی عہد سے مکر گیا اور انتہائی مہنگے داموں علاج کرکے دولت بٹورتا رہا ، آغا خان اسپتال،لیاقت نیشنل اسپتال، ضیا الدین اسپتال، مڈ ایسٹ اسپتال، دارلصحت اسپتال، پٹیل اسپتال میں علاج کم مقتل گاہ زیادہ بن گئے ہیں، اس بارے مین جب دانشور، مفکر اور سینئر ڈاکرز سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ جب بھی کسی مقصد میں لالچ، حرص، متاع دولت کی نیت آجائے تو وہاں سے اللہ اپنی شفا کی برکتیں اٹھا لیتا ہے وہ جگہ صرف دکھاوے کی خوبصورت توہو سکتی ہے مگر شفا کیلئے نا ممکن!!

کوئٹہ،کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور پاکستان کے بڑے شہروں یعنی صوبائی دارلخلافہ میں شامل ہیں یہاں پر چند ایک کے علاوہ بڑے بڑے اسپتال عمارت کیلئے تو اچھے لگتے ہیں مگر علاج کیلئے مقتل گاہ ہیں، ایک صاحب نے تو یہاں تک کہ دیا کہ عمران خان کی والدہ اچھے اسپتال اور بہتر علاج نہ ہونے کے سبب کینسر کے مریض میں ہلاک ہوگئیں تھیں جس کا صدمہ آج تک عمران خان محسوس کرتے ہیں اسی سبب کم از کم ایک شخص تو ہے جس کے دل میں عوام کی اس بنیادی ضرورت کا احساس ہے ورنہ تمام ایوان انتہائی ظالم و جابر بنا ہوا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ کوئی کسی پارٹی سے آیا اور کسی کو پہلی بار ممبر اسمبلی بننے کی غشی طاری ہوئی ہے گویا سابق ہوں یا حاضر اس اہم ترین اشو پر آنکھ نہیں کھلتی بحرکیف اس امر کی ضرورت ہے کہ سپریم کورٹ سمیت حکومت وقت بڑے بڑے اسپتال کیلئے ایس او پیز تیار کرے اور اس ایس او پیز کی خلاف ورزی پر فی الفور بند کرکے حکومتی تحویل میں لے لیا جائے چند ایک بڑے اسپتالوں کے خلاف کاروائی کردی گئی تو آپ یقین جانئے سب سے سب اپنا قبلہ درست کرلیں گے انہیں معلوم ہے کہ یہاں ہر شئے بکتی ہے عدالتیں بکتی ہیں وکیل کے ضمیر خریدے جاتے ہیں تھانے بکتے ہیں قانون کو پاؤں تکے روند ا جاسکتا ہے بس دولت مند ہونا چاہیے اس بات کی بھی ضرورت نہیں کہ حلال کا کمایا ہو یا حرام کا کیونکہ حرام کاموں کیلئے ہی دولت خرچ بھی کرنی ہے اور کمانی بھی ہے-

معزز قارئین!!ہمارے کئی میڈیا اداروں نے حکومتی ایوانوں میں یہ بات بار بار یاد دہانی کرائی کہ نجی اسپتال مقتل گاہ بننے ہوئے ہیں کہیں عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار ہے تو کہیں پیرا میڈیکل اسٹاف ڈاکٹرز بننے ہوئے ہیں کئی چھاپے مارے گئے لیکن ایک آدھ دن بعد دوبارہ اپنی پرانی روش پر قائم رہتے ہوئے لوگوں کی زندگی سے گھلواڑ کرنے لگتے ہیں اس میں خود محکمہ صحت کے اہلکار اور پولیس شامل ہوتی ہے جب حکومتیں کرپٹ ہوں بدعنوان ہوں بد ترین سطح پر پہنچ چکی ہوں وہاں نہ تو ادارے درست ہوسکتے ہیں اور نہ ہی نظام بہتر چل سکتا ہےنظام کی بہتری کیلئے دعوے وعدے اور بیان بازی نہیں بلکہ عملی سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے اس کیلئے اپنے پرائے کی تمیز کو مٹانا پڑتا ہے عدل و انصاف پر قائم رہنا پڑتا ہے مخالفت کو برداشت کرنا پڑتا ہے پھر اللہ دائمی کامیابی و کامرانی سے نوازتا ہے لیکن حالیہ وقتوں میں ایسا نہیں دکھتا ہم عوام روز مرتے رہیں گے خود کو کوستے رہیں گے اپنے ووٹوں پر ماتم کشی کرتے رہیں گے کیونکہ نظام وہی ہے نظام کی تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے اس ماحول میں اس نظام میں صحت کے اچھے حصول نا ممکن ہیں اگر بات کی جائے چھوٹے شہروں کی تو وہاں پر انسان نہیں شاید بے جان بستے ہیں گویا انہیں جینے کا کوئی حق نہیں سب سے بڑا جرم ان کا یہی ہوتا ہے کہ وہ غریب ہیں اور پاکستان میں غریب ہونا خود اب ایک لعنت بن گیا ہے یا یوں کہ لیجئے کہ سیاستدانوں کا مصنوعی اظہار ہمدردی انسانیت کا پیغام اور غربت مٹاؤ تحریک یا مشن کیلئے ایک تصویر مل جاتی ہے یقین کیجئے اکثر لوگ کہتے ہیں کہ کاش پاکستان کے تمام غریب عوام مر جائیں پھر پوچھیں گے اب بتاؤ بینظیر کارڈ سے کون کون فائدہ اٹھاتا ہے آہستہ آہستہ مہنگائی بنیادی ضرورتوں کے فقدان سے غریب کو تڑپا تڑپا کر مارنے کے یہ عادی ہوچکے ہیں اسی سبب نجی اسپتال دھڑلے سے مقتال گاہ بن چکے ہیں موجودہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جسٹس صاحبان کی خاموشی نجی اسپتال کے مالکان کی حمایت نظر آتی ہے اس اہم ترین مسلے پر چیف جسٹس صاحبان کا خاموش رہنا عدل و انصاف پر تمانچہ ہے عدل و انصاف کی توہین ہےعدل و انصاف کا جنازہ ہے کب تک عوام مہنگے نجی اسپتالوں میں مرتے رہیں گے کب تک عوام نجی اسپتالوں کے عطائی ڈاکٹروں کے ہاتھوں زبح ہوتے رہیں گے کتنی ماں بین کرتی میڈیا کے آگے فریاد کریں گی کیا میڈیا ہی ان سب کا مداوا ہے کیا ریاست پاکستان اتنی بے بس لاچار ہے کہ ظلم و بربریت کے سامنے کمزور کھڑی سب کچھ تماشہ دیکھ رہی ہے یقینا پاکستان اس لیئے ہرگز ہرگز نہیں بنا تھا کہ وطن عزیز پاکستان کو آج کس حالت پر پہنچایا ہے اگر ریاست کے نظام کو اچھی طرح نہیں چلاسکتے تو انہیں بھی جینے کا کوئی حق نہیں جو عوام کو موت کے منہ میں ڈال رہے ہیں اور خود عیش و تعائش کی زندگی گزار رہے ہیںپاکستان دنیا کے ان چند ایک ممالک مین شامل ہے جہاں عوام کو بنیادی ضرورت تک مہیا نہیں جہاں کی حکومت کے خذانے خالی لیکن اشرفیہ عیش و عشرت سے مالا مال، جہاں ملک قرض در قرض تلے لیکن اشرفیہ مجرم ہوتے ہوئے با عزت بری واہ رے پاکستان تیرا کیا کہنا تیرے آستین کے سانپ تجھے ڈستے ہیں لیکن تو اف تک نہیں کرتا واہ رے پاکستان تیرے اندر منافق غدار دشمن برجمان ہیں لیکن تو پھر بھی کچھ نہیں کرتا آخر تجھ میں کوئی تیرا ایماندار بیٹا نہیں تیرا مخلص نہیں تجھ پر جاں نچھاور کرنے والا نہیں اے پاکستان مجھے تجھ پر رحم آتا ہےتیرے بگڑے نظام پر ترس آتا ہے اے پاکستان تجھے پلٹنا ہوگا خود کو بچانے کیلئےاور اس قوم کو ظالموں جابروں سے محفوظ رکھنے کیلئے اے پاکستان اب وقت آچکا ہے کہ تجھ میں سے جمہوریت کا یہ ڈھونگ ختم ہوجانا چاہئے تجھ کو ان بہروپیوں سے دور کرنا ہوگا جو برسوں سے تجھ پر جمہوریت کے نام پر تیرے ہی بچوں کا قتل کرتے چلے آرہے ہیں موجودہ حکومت اور جسٹس صاحبان کو سخت سے سخت تریناقدامات اٹھانے ہونگے ان میں پی سی ایس اور سی ایس ایس کے امتحانات کو شفاف بنانا ہوگا ان کی تقرریوں کو اہلیت و قابلیت پر مروج کرنا ہوگایہی نہیں کالج اور یونیورسٹیز کے امتحانی طریقہ کارون کو مکمل تبدیل کرنا ہوگا، تدریس کے عمل کو سختی سے نمٹنا ہوگا پھر کہیں جاکر ہمیں قابل ،ذہین لائق مسیحا میسر آسکیں گے بصورت ہم اپنی آزادی اور قربانیون کو کوستے رہیں کہ کہ ہم نے اس لئے ملک پاکستان لاکھوں مسلمانوں بہن بیٹیوں بزگوں اور جوانوں کی شہادت کی قربانیوں سے بنایا تھا معزز قارئین۔!! جب کسی ملک میں قانون کی حکمرانی ختم ہوجائے تو وہاں سوائے بربادی و تباہی کے کچھ حاصل نہیںاور یہی وجہ ہے کہ نجی اسپتال سمیت نجی اسکولوں کا بھی ایک جیسا ہی حال ہے معاشرے اور ملک کی بہتری کیلئے جمہوری نظام کو جلد از جلد ختم ہوجانا چاہئے تاکہ ان ظالموں سے حقیقی احتساب کرکے ان سے حساب لیا جاسکے اور ان کے گناہ کی سزا سرے عام دی جاسکے اللہ ہمارے اداروں کے سربراہوں کو ایمان کی دولت اور وطن عزیز پاکستان سےمخلص رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثماآمین۔۔اللہ پاکستان کو ہر دشمن سے محفوظ بھی رکھے آمین ثما آمین ۔۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جاوید صدیقی‎

Read More Articles by جاوید صدیقی‎: 308 Articles with 160587 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Apr, 2019 Views: 517

Comments

آپ کی رائے