بزم فکر و فن کی محفل مشاعرہ

(واجد نواز ڈھول , Bhakkar)
بزم فکر و فن سرگودھا ڈویژن کے سب سے بڑے کالج گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج بھکر کی ادبی تنظیم ہے جو ضلع میں ادب کے فروغ کے لیے بھرپور کام کررہی ہے۔ گزشتہ روز ہونے والی محفل مشاعرہ میں ملک کے نامور شعراء حضرات نے اپنا کلام پیش کیا۔

ایک دور تھا جب بھکر کو ادب کے اعتبار سے '' تھل کا لکھنئو '' کہا جاتا تھا، خلیل رام پوری، حیا رام پوری ، باقر بخاری، ذاکر برنی ، خلش صہبائی جیسے شعرا ء اور ادب کی نامور شخصیات نے صحرا کی تپتی ریت پر ادب و سخن کی تعمیر و ترویج میں اہم کردار ادا کیا ۔ ملک کے بڑے بڑے شعرائ، ادبائ، اس دھرتی پر قدم رنجہ فرمایا کرتے تھے۔ باقاعدہ ادبی محافل کا انعقاد کیا جاتا، غزل، شعر ، اور مرثیہ کلام پیش کیا جاتا اور ادبی صف میں شامل ہونے والے ادب نواز '' نمازیوں '' کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی، قافیہ اور ردیف کے پل صراط پر چلتے ہوئے جہاں شعراء وہیں ادباء بھی ادب کے تمام رنگ و ثنا ایک ہی محفل میں بیان کردیتے تھے اور عوام کی طرف سے انہیں دیا جانے والا دادِ تحسین کا تاج بھی نمایاں ہوتا ، داد و تعریف میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا جاتا تھا۔ تھل کے لکھنئو میں ادب پروان چڑھتا رہا، ادبی محافل ، مشاعرے منعقد کیے جاتے رہے، عوام جرائم سے نفرت اور آپس کا درد بانٹنے والے تھے۔ ایک عرصہ تک ادب و سخن کی محافل کا سلسلہ چلتا رہا ، شعرا اپنے کلام کے ذریعے پیار اور امن کو فروغ دیتے رہے۔

1980ء سے 1990ء کے عشرہ کے دوران ادب و سخن کے ریگزار میں پروفیسر بشیر احمد بشر، موسی کلیم بخاری،پروفیسر اثر ترمذی ،پروفیسر تنویر صہبائی ،استاد شمشاد نظر جیسے پھول اپنی آب و تاب کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے ۔ ادب و سخن کے ساتھ ساتھ ان پھولوں نے بھکر کے اندر محبت اور امن کو فروغ دیتے ہوئے ادبی فضا میں مزید خوشبوئیں بکھیریں ، اور ادب کو نئی جہت عطا کی۔ ان ادب شناس شخصیات نے مل کر تھل کے لکھنئو میں ایک پودا لگانے کی سعی شروع کردی ، ادبی محافل کا سلسلہ تو جاری تھا مگر ایک ادبی تنظیم کے قیام کی اشد ضرورت تھی۔ 1980ء میں پروفیسر بشیر احمد بشر کی سربراہی میں پروفیسر اثر ترمذی صاحب نے '' سوسائٹی بورڈ'' کے نام سے ایک ادبی تنظیم قائم کی جس نے ضلع بھکر کے ادبی لکھنئو میں مزید جدت پیدا کی۔

پروفیسر بشیر احمد بشرنہ صرف اچھے ماہر تعلیم تھے بلکہ ادب، تحقیق، شاعری، انگلش لٹریچر کے حوالے سے اپنے وقت کے '' گرو '' گردانے جاتے تھے ۔ بشر صاحب نے عمر بھر قلم اور کتاب سے اپنا رشتہ استوار رکھا ، انہیں بلاشبہ اردو ادب کے میدانِ تحقیق و تخلیق کا '' جری سپاہی '' قرار دیا جاسکتا ہے۔ اہل قلم و کتب کا ایک وسیع حلقہ ان کا گرویدہ تھا ، آج بھی ہے اور رہے گا۔ مرحوم حقیقی معنوں میں ایک سچے، سُچے ادیب اور محقق و تخلیق کار تھے۔

راقم کی تحقیق کے مطابق 1980ء میں بشر صاحب نے جنابِ اثر ترمذی کے ساتھ مل کر سوسائٹی بورڈ کے پلیٹ فارم سے ادبی محافل کے انعقاد کا آغاز کیا، ان کے رفیق کاروں میں پروفیسر رانا شبیر ، پروفیسر نذیر احمد شبلی بھی شامل تھے۔ انہیں باادب شخصیات کی کوششوں سے بزم فکر و فن کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مقصد ناصرف تھل کے لکھنئو میں نئی خوشبوئیں بکھیرنا تھا بلکہ ادب اور فن کے ساتھ ساتھ '' فکر '' اور '' فن '' کولے کر اس قوم کے اندر جذبہ حب الوطنی، ادب سے لگائو اور ایک اچھا اور مفید شہری بنانے کی سعی تھی۔ بزم فکر و فن کے بانیوں میں بشر صاحب کے ساتھ ساتھ پروفیسر اثر ترمذی صاحب کا نامِ گرامی صف اول میں شمار ہوتا ہے۔ بزم فکر و فن کے پہلے صدر جناب اثر ترمذی صاحب جبکہ جنرل سیکرٹری کے لیے خوبصورت لب و لہجے کے مالک اور اپنی تحریروں کے ذریعے ہر باشعور کا دل گردہ ہلا دینے والی شخصیت جناب پروفیسر منیر بلوچ صاحب کا نام سامنے آتا ہے۔ وقت کے نشیب و فراز سے مقابلہ کرتے ہوئے دونوں ادب نواز ، ادب شناس شخصیات نے نہ صرف ادب بلکہ فن کے فروغ کے لیے بھی کارہائے نمایاں پیش کیے ۔ یہ ان دنوں کی حسین یادیں ہیں جب تھل کے صحرا میں ملک کے نامور شعرا ، ادیب ان محافل میں شرکت کرتے تھے ، ان میں انور مسعود، منو بھائی، سلمان گیلانی، عباس اطہر ، محمود ہاشمی (مرحوم ) ، عزیز اکبر شاہد کے علاوہ پڑوسی اضلاع کے نامی گرامی شعرا شامل ہیں ۔ ڈرامہ، ادبی محافل، مقابلہ جات، مشاعرے کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری رہا۔ اس کارواں میں دیگر ادب نواز زعما کے ساتھ پروفیسر نذیر احمد شبلی بھی شامل تھے۔ مجروح سلطان پوری نے کیا خوب کہا کہ
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

بزم فکر و فن کے پلیٹ فارم سے '' ادب '' اور '' فن '' کی ترویج ہوتی رہی ، نوجوان ہیروں کو پالش کیا جاتا رہا، ان محافل میںفقط ادب اور فن ہی نہیں بلکہ اخلاقیات ( کردار سازی ) کی ترجمانی بھی کی جاتی رہی، امن کی صدائیں گونجتی رہیں، محبت کا پیغام عام ہوتا رہا۔بے زباں طائر سرمستِ نواہوتے رہے۔
لالہ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہ
بے زباں طائر کو سرمستِ نوا کرتی ہے یہ

پروفیسر بشیر احمد بشیر ( مرحوم ) سے لے کر پروفیسر دلدار حیدر خان اور اب پروفیسر محمد ایوب چوہان ( پرنسپل ) تک ، ادارہ کے ہر سربراہ نے اس '' ادبی منافع بخش '' تنظیم کے فروغ کے لیے ہمیشہ ساتھ دیا ہے اور ہر حوالے سے معاونت میں پیش پیش رہے ہیں۔
بخشے ہے جلوہ گل ذوقِ تماشہ غالب
چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہوجانا

صدر بزم پروفیسر ڈاکٹر قمر عباس نے پروفیسر ڈاکٹر اشرف کمال ، پروفیسر ڈاکٹر سعید عاصم ، پروفیسر امان اللہ کلیم ، پروفیسر محمد افضل راشد ، پروفیسر افتخار طیب ، پروفیسرخضر عباس خان، پروفیسر رائو محمد ساجد، پروفیسر قلب عباس،پروفیسر ملک نصیر اعوان، پروفیسر مسعود انجم ، پروفیسر ثناء اللہ خان جیسی ہنر مند اور اپنے کام میں مہارت رکھنے والی شخصیات کے ساتھ مل کر ایک بار پھر تھل دھرتی کو '' تھل کا لکھنئو '' بنادیا ہے۔ ڈرامہ، ادبی محافل،ادبی مقابلہ جات، او رمشاعروں کے ذریعے انارکی ، دہشت، حوس اور حبس کے اس موسم میں ناصرف عوام کو تفریح و توضیع فراہم کی ہے بلکہ ادب و فن کے فروغ میں بھی تاریخی خدمات سرانجام دی ہیں۔
ہمیں تشہیر کی خواہش نہیں بس روشنی کی ہے
کسی کو مت بتانا یہ دیے ہم نے جلائے ہیں

پروفیسر محمد ایوب چوہان جیسے ادب پرور پرنسپل کی معاونت نے بزم فکر و فن کی ٹیم کے حوصلے پست نہیں ہونے دیے۔ اگر یہاں وائس پرنسپل پروفیسر نسیم حیدر خان شہانی کی خدمات کا اعتراف نہ کیا جائے تو راقم کی یہ تحریر ادھوری تصور کی جائے گی۔ بزم فکر و فن کے مشاعرہ کی کامیابی اور انتظامات میں بھرپور معاونت اور پھر رات گئے تک مشاعرہ میں موجودگی یقینا نسیم حیدر خان شہانی کی ادب دوستی کا نتیجہ ہے۔
تذکرہ میر کا غالب کی زباں تک آیا
اعترافِ ہنر ، اربابِ ہنر کرتے ہیں

6 اپریل 2019ء کی شب گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج بھکر میں ادب و سخن کی کی برسات رات گئے تک جاری رہی۔ شرکاء کے قلب و اذہان میں موجود دنیاوی گرد اور گھٹن پر شعراء بادل بن کر ایسا برسے کہ ساری گرد اور غبار کو دھو ڈالا۔ منیبہ اکبر کے عارفانہ کلام نے مہمانوں اور شرکاء میں وجد طاری کردیا۔
محفل مشاعرہ میں عالمی شہرت یافتہ شعراء نے دھنک بن کر ادب کے سب رنگ بکھیر دیے۔لاہور، فیصل آباد، جھنگ، ننکانہ صاحب، چینوٹ سمیت سرائیکی پٹی اور مقامی شعراء نے کلام پیش کرکے تھل کی مٹی کو ادب و سخن سے نواز دیا۔ محفل مشاعرہ کی صدارت رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ نے کی جبکہ مہمانان خصوصی سید اشفاق حسین بخاری ڈپٹی سیکرٹری پلاننگ پنجاب، پروفیسر دلدار حیدر خان ڈائریکٹر کالجز سرگودھا ڈویژن اور پروفیسر غلام رسول جھمٹ ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز تھے۔ محفل مشاعرہ میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، اساتذہ، ریٹائرڈ پرنسپلز، ہیڈماسٹر، طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج بھکر کی خوش قسمتی کہ یہاں ملک کے نامور شاعر ، ادیب واجد امیر جیسے اُردو ادب کے '' امام'' تشریف لائے ۔ یقینا اُن کی آمد سے تھل کے ادب نواز نمازیوں کی ادبی عبادت کی تسکین ہوگئی۔ واجد امیر نہ صرف شاعر بلکہ اچھے کالم نگار بھی ہیں۔ اُن کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں۔
آنکھ کی پتلیوں کو غور سے دیکھ
تیری تصویر ہوبہو ہے یہاں

انجم سلیمی اردو نظم و غزل کے ایک توانا لہجے کے طور پر عرصے سے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اُردو غزل کو ایک نئے ذائقے سے آشنا کروایا ہے۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے انجم سلیمی سامعین کی نفسیات کو بخوبی جانتے ہیں اور اپنے فن میں اُن کا کئی ثانی نہیں۔ فیصل آباد کی ادبی محافل اُن کے بغیر ادھوری تصور کی جاتی ہیں۔ انجم سلیمی کی غزل ملاحظہ فرمائیں۔
ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں
ابھی میں اپنے حجابات میں پڑا ہوا ہوں
مجھے یقیں ہی نہیں آ رہا کہ یہ میں ہوں
عجب توہم و شبہات میں پڑا ہوا ہوں
گزر رہی ہے مجھے روندتی ہوئی دنیا
قدیم و کہنہ روایات میں پڑا ہوا ہوں
بچائو کا کوئی رستہ نہیں بچا مجھ میں
میں اپنے خانہئِ شہ مات میں پڑا ہوا ہوں
میں اپنے دل پہ بہت ظلم کرنے والا تھا
سو اب جہان مکافات میں پڑا ہوا ہوں
،
لاہور سے آنے والا ایک اور بڑا نام کے جس کو رقم کرنے کے لیے مجھے اپنی نشست سے کھڑا ہونا پڑرہا ہے۔ اُن کے نام کا ایک ایک حرف لکھتے ہوئے مجھے اُن کے شعر کا یہ مصرع بار بار ستائے جارہا ہے کہ '' تجھے زندگی کا شعور تھا، تیرا کیا بنا؟'' ۔۔۔۔ میری مراد ملک کے نامور شاعر ادیب پروفیسر ڈاکٹر تیمور حسن تیمور ہیں۔ وہ بصارت سے محروم ( یہ حوالہ دینا میری مجبوری ہے ، معذرت) ہیں مگر بصیرت سے نہیں۔ ڈاکٹر تیمور حسن تیمور وہ سب کچھ دیکھ ، سن اور محسوس کرسکتے ہیں جو صاحب بصارت کی نظر سے اوجھل رہتا ہے۔ ڈاکٹر تیمور حسن تیمور ایک سچا ، کھرا اور صاحب بصیرت شاعر ہے جن کو ان دیکھے مناظر تک رسائی حاصل ہے۔
حیرتِ چشم سمٹ آتی ہے لہجے میں تیرے
تیرے لہجے سے میں آنکھوں کا مزا لیتا ہوں

ڈاکٹر تیمور حسن تیمور کی اس غزل نے راقم کی آنکھوں کے پردوں کو پانیوں سے معطر کردیا۔ یہ کلام جس کا ایک ایک لفظ پروفیسر ڈاکٹر سعید عاصم نے اُن کی آمد پر اتنی خوبصورت ادائیگی سے ادا کیا کہ بس ۔۔
تجھے زندگی کا شعور تھا، تیرا کیا بنا؟
تو خاموش کیوں ہے، مجھے بتا تیرا کیا بنا؟
نئی منزلوں کی تلاش تھی سو بچھڑ گئے
میں بچھڑ کے تجھ سے بھٹک گیا، تیرا کیا بنا؟
مجھے علم تھا کہ شکست میرا نصیب ہے
تو امیدوار تھا جیت کا، تیرا کیا بنا؟
جو نصیب سے تیری جنگ تھی، وہ میری بھی تھی
میں تو کامیاب نہ ہوسکا، تیرا کیا بنا؟
میں الگ تھا اس لئے مجھ کو اس کی سزا ملی
تو بھی دوسروں سے تھا کچھ جدا، تیرا کیا بنا؟

مشاعرہ میں پنجابی ادب کا ایک بڑا نام بھی زینت افروز ہوا۔ رائے محمد خان ناصر کھرل پنجابی ادب کی مالا کے حسین و جمیل موتی ہیں جن کا ادبی شجرہ بابا گرونانک ، بابا فرید سے ، سلطان باہو سے شا ہ حسین، بلھے شاہ سے میاں محمد بخش ،وارث شاہ، سے خواجہ غلام فرید سے جاملتا ہے۔ رائے محمد خان ناصر تاریخی شہر ننکانہ صاحب کے ایک نواحی گائوں کوٹ امیر علی خان میں پیدا ہوئے۔

وہ نہ صرف معیاری ادب تخلیق کرنے والے ہیں بلکہ ادب اور ادباکی سرپرستی میں بھی وہ سرفہرست نظر آتے ہیں ۔ اُن میں منیبہ اکبر کا نام جلی حروف میں لکھا جائے گا۔رائے محمد خان ناصر معروف ادبی تنظیم وجدان کے سرپرست ہیں ۔رائے محمد خان ناصر کھرل کا کلام پیش خدمت ہے۔
مینوں کڈھیا کیہ جھولے چوں مداری
تماشے میرے وچ وڑگئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنڈ کرگئے اودوں دے مینوں رستے
جدوں دے میرے پیر تلکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نی میں ون ہیٹھ اگی ہوئی ٹاہلی
تے لوکی مینوں دھی آکھدے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چل تورئیے دا ساگ لیائے
نی کوٹھے اتے کاں بولیا

مشاعرہ میں سرائیکی ادب کے ایک بڑے نام سائیں مصطفی خادم کی دھواں دھار انٹری نے سامعین کو '' واہ واہ '' کہنے پر مجبور کردیا۔ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے مصطفی خادم کا اسلوب اپنی مثال آپ ہے۔
دعائیں دا اثر ھے نہ دوا لگدی ھے
زندگی آپ کنوں آپ خفا لگدی ھے

ملک کے نامور شاعر اور خانیوال دھرتی کے ستارے سائیں ندیم ناجد کے خالص لکھنوی انداز سے مشاعرہ کے سامعین کو جھومنے پر مجبور کردیا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جہاں ندیم ناجد ہوں وہاں تالیوں کی گونج اور مقرر مقرر کی آوازیں نہ سنائی دیں۔ ندیم ناجد کی شاعری خصوصا کافیاں دل کو موہ لیتی ہیں۔
یہ اِذنِ کن ھے ، دعا ھے کہ معجزہ ھے کوئی
بعینِ خون ، رگوں میں مری بہا ھے کوئی !!
بنا کے روز بہانہ دعائوں کو یا رب ...
دراصل آیتیں چہرے سے مل رھا ھے کوئی
کمالِ کوزہ گری ھے کہ عشق ھے ، کیا ھے ۔؟؟
چراغِ حجرہِ وحدت میں ڈھل رھا ھے کوئی !

محفل مشاعرہ میں سرائیکی دھرتی کے ''دل'' یعنی بہاولپور سے تعلق رکھنے والے شاعر محمد افضل خان پہلی مرتبہ بزم فکر و فن کے مشاعرہ میں بھکر تشریف لائے۔ اُن کا انداز تکلم اور پختہ شاعری سامعین کے دلوں کو موہ لیتی ہے۔ افضل خان کے اشعار بارش کی ننھی بوندوںکی طرح برستے ہوئے ایک شفاف ندی کا روپ دھار لیتے ہیں اور وہ ندی قلب و نظر کی کھیتیاں سیراب کرتی ہے۔
تبھی تو میں محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا
یہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا
گرفتار وفا رونے کا کوئی ایک موسم رکھ
جو نالہ روز بہہ نکلے وہ برساتی نہیں ہوتا
بچھڑنے کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو
محبت میں کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا
تمہیں دل میں جگہ دی تھی نظر سے دور کیا کرتے
جو مرکز میں ٹھہر جائے مضافاتی نہیں ہوتا

افضل کی شاعری کا اپنا ڈھنگ ہے، ان کی شاعری اپنے اسلوب اور اثر پذیری کی وجہ سے قبولیت کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ افضل خان کی ایک اور غزل ملاحظہ فرمائیں۔
راہ بھولا ہوں مگر یہ مری خامی تو نہیں
میں کہیں اور سے آیا ہوں مقامی تو نہیں
اونچا لہجہ ہے فقط زور دلائل کے لیے
اے مری جاں یہ مری تلخ کلامی تو نہیں
تیری مسند پہ کوئی اور نہیں آ سکتا
یہ مرا دل ہے کوئی خالی اسامی تو نہیں
میں ہمہ وقت محبت میں پڑا رہتا تھا
پھر کسی دوست سے پوچھا یہ غلامی تو نہیں

محفل مشاعرہ کی خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں اردو ، سرائیکی کے علاوہ پنجابی رنگ بھی نمایاں تھے۔ میڈم طاہرہ سرا شیخوپورہ، ڈاکٹر پروفیسر محمد فیصل جپہ چینیوٹ، آفتاب نواب ننکانہ صاحب، مہر الطاف بھروانہ آف جھنگ ، خالد اقبال خالد چینوٹ نے پنجابی سرائیکی شاعری کی خوشبوئیں بکھیر دیں۔ لاہور سے آنے والے مہمان شاعر فخر عباس نے پختہ اور جامع مزاحیہ اشعار پڑھ کر خوب داد حاصل کی۔ اس کے علاوہ دیگر نامور شعراء نجف علی شاہ بخاری، سید تنویر فائز بخاری، پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف کمال،پروفیسر ڈاکٹر سعید عاصم، ارشد حسین حیدری، اقبال حسین خان، مضطر کاظمی، پروفیسر محمد افضل راشد، نیئر اقبال، پروفیسر قلب عباس، پروفیسر مشتاق احمد بھٹی، سید شاہد بخاری، پروفیسر ناصر گوندل، پروفیسر عمران راہب ، صفدر کربلائی، علمدار علمی، جاوید دانش، سید عامر شاہ، پروفیسر ثناء اللہ ثناء ، عطاء شائق، شعیب صدیقی ، وسیم گلشن، خضر عباس، قیامت بخاری سمیت دیگر مقامی شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ محفل کی نظامت کے فرائض ملک کے نامور شاعر ادیب پروفیسر ڈاکٹر سعید عاصم اور پروفیسر قلب عباس عابس نے سرانجام دیے۔ محفل میں منیبہ اکبر آف ننکانہ صاحب نے عارفانہ کلام پیش کرکے محفل میں وجدانی رنگ بکھیر دیے۔ سامعین کے اصرار پر انہیں تین مرتبہ سٹیج پر کلام پیش کرنے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھل دھرتی ادب و سخن کی دولت سے مالا مال ہے۔ بزم فکر و فن کے مشاعرہ نے '' تھل کے لکھنئو'' کی یاد تازہ کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھکر میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، ادب کے ہیروں کو تراشنے کے لیے بزم فکر و فن مثبت کردار ادا کررہی ہے۔ بعدازاں ڈپٹی سیکرٹری پلاننگ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب سید اشفاق حسین بخاری اور ڈائریکٹر کالجز سرگودھا ڈویژنم پروفیسر دلدار حیدر خان نے پرنسپل ادارہ پروفیسر محمد ایوب چوہان اور اُس کی ٹیم بشمول اراکین بزم فکر و فن کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ محفل مشاعرہ کے جملہ انتظامات کی نگرانی وائس پرنسپل پروفیسر نسیم حیدر خان شہانی اور صدر بزم فکر و فن پروفیسر ڈاکٹر قمر عباس اپنی ٹیم کے ہمراہ کرتے رہے۔ مشاعرہ میں تمام مکاتب فکر کے افراد جن میں ڈاکٹر عتیق الرحمن قریشی، ریٹائرڈ پرنسپل پروفیسر غلام حسین بھٹی، پروفیسر عاقل خان نیازی، پروفیسر حبیب اللہ خان نیازی، ڈاکٹر محمد سلیم چوہان، اشفاق احمد قریشی، ملک محمد یوسف چھینہ، حاجی یونس اولکھ، تنویر احمد بھٹی، عبدالعزیز انجم، پروفیسر ملک منیر حسین چھینہ، جاوید علی بھڈوال ڈسٹرکٹ منیجر ٹیوٹا بھکر میانولی، سید طاہر حسین شاہ کونسلر، پروفیسر مطلوب اطہر ، پروفیسر چوہدری امجد سعید صدر پی پی ایل اے بھکر، زاہد سلطان رائو، پروفیسر ظفر حسین ظفرسمیت عمائدین شہر، طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ خدا وند کریم بزم فکر و فن کے اس '' ادبی لنگر'' کو جاری و ساری رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ پاکستان زندہ باد ۔ پاک فوج پائندہ باد

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: واجد نواز ڈھول

Read More Articles by واجد نواز ڈھول : 57 Articles with 42375 views »
i like those who love humanity.. View More
17 Apr, 2019 Views: 686

Comments

آپ کی رائے