گہری باتیں -- اداکار علی انور کی گہری باتیں

(Munir Bin Bashir, Karachi)

خوش قسمت ہوتے ہیں وہ افراد جنہیں اپنی خفی صلاحیتوں کا اوائل عمر میں ہی ادراک ہو جاتا ہے اور جب یہ صلاحیتیں معاش کا ذریعہ بھی بن جائیں تو اس خوش نصیبی کی انتہا نہیں اور مزید بران یہ کہ اگر اساتذہ کرام بھی ایسے مل جائیں جو ان صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں ساتھ دیں تو کیا کہنے

پاکستان کے مختلف ٹی وی ڈرامہ چینلوں پر اداکاری کے جو ہر دکھانے والے جناب علی انور ایسے ہی افراد میں شامل ہیں
وہ کہتے ہیں اسٹیل ٹاوں کے اسکول میں جب وہ تعلیم کے مراحل طے کر رہے تھے تو وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے سامنے مشہور ڈراموں کے مکالموں کی نقل اتارا کرتے تھے - ان کے استاد سر سہیل ان کے اندر چھپے ہوئے فنکار کو پہچان گئے اور ان کی حوصلہ افزائی کی -

ان کے والد بھی ان کے ذہنی رجحان سے آگاہ ہو گئے تھے انہوں نے بھی پیٹھ تھپتھپائی اور ان کی خوبیوں کو سراہا - لیکن اس بات پر ان کے استاد سر سہیل اور والد صاحب ہم آہنگ تھے کہ عمر کے اس مرحلے میں اولین توجہ تعلیم کو دیں اور اداکاری کو ثانوی حیثیت دیں - بلکہ ایک مرتبہ جب علی انور کے امتحان کی ڈیٹ شیٹ آئی تو والد صاحب نے کہا " آج سے اداکاری الوداع الوداع اور پڑھائی اولیت اولیت "
یہ ہے علی انور کے بچپن کی داستاں
------------------------------------------
علی انور --
پاکستانی ٹی وی چینلز ڈرامہ چینل کے اداکار - پچاس سے زاید ڈراموں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں -
وہ ڈرامے جو آج بھی ٹی وی چینل کے ناظرین کو یاد ہیں
میں ہار نہیں مانوں گی
ہیرو بننے کی ترنگ
میں ستارہ
شہر یاراں
ڈائجسٹ رائٹر
آئینہ
ماضی
رسم
اور اجکل ڈرامہ ‘چاند کی پریاں ‘ میں اپنے ہنر دکھا رہے ہیں
ہر اداکاری دوسرے سے یکسر مختلف - ہر ڈرامے میں ایک نیا روپ - ہر منظر میں ایک نیا انداز -

کہیں مایوس نوجوان جسے نوکری سے نکالا جارہا ہے اور کشیدہ اعصاب کے ساتھ بے بسی کی تمام تاریکیاں اپنے لرزتے وجود میں اتارتے ہوئے کہہ رہا ہے 'اتنی جلدی مجھے نوکری کہاں سے ملے گی --میں کہاں جاؤں گا '------

کہیں دیہاتی ان پڑھ بیٹے کا کردار -- معاشرے کی حالت کی عکاسی بھی ہورہی ہے اور فن کا اظہار بھی ہورہا
ہے 'او ابا آپس میں لڑی جانا -- ہمارا خیال نہیں کرنا -- ہم کو تو تباہ کردیا تم نے '

کہیں ایک ایسے بھائی کا رول جس کی بہن ، ہٹ دھرم شوہر کے ظلم کا شکار ہے اور یہ ذہنی اذیت بھائی کے رگ و پے میں سرایت کرتی جارہی ہے - بھائی سوچتا رہتا ہے کہ کیسے اپنی بہن کو اس کے چنگل سے نکالے

اور وہ دشوار مرحلے کی کش مکش والی اداکاری کرتے ہوئے جس میں اپنی کزن سے اس کے کسی فرد سے تعلقات کے بارے میں معلوم کرنا -ایک طرف حجاب آڑے آرہا ہے اور دوسری طرف کزن کا رتبہ و احترام -
--------------------------------------------
میں جب ان کا انٹرویو کر رہا تھا تو مجھے جناب ذوالفقار علی بھٹو کا ایک انٹرویو یاد آگیا - وہ غالبا" اردو ڈائجسٹ کو انٹرویو دے رہے تھے اور وقت کی عدم دستیابی اس میں مانع آرہی تھی - تو فیصلہ یہ ہوا کہ جناب بھٹو کے ہوائی سفر کے دوران یہ انٹرویو کیا جائے - علی انور کا بھی یہی حال ہے - شو بز کے معاملات میں اس طرح مصروف ہیں کہ میرے لئے وقت ہی نہیں نکال پارہے تھے - کبھی ان کی مصروفیات آڑے آتیں اور کبھی میری - علی انور کو اس قصے کا علم نہیں لیکن انہوں نے تجویز یہی کیا کہ سفر کے دوران بھی باتیں کر لی جائیں - چنانچہ کچھ انٹرویو ایک کار میں سفر کے دوران ہوا - میرا یہ خیال تھا کہ ایک گھنٹے کے سفر میں کافی باتیں ہو جائیں گی لیکن یہ میری خام خیالی تھی - ان کے پاس اتنی باتیں تھیں کہ سفر ختم ہو گیا اور باتیں ختم نہیں ہوئیں
اداکاری کے فن کے تکنیکی امور پر باتوں میں ہم اتنا کھوئے ہوئے تھے کہ گھر پہنچ کر دروازہ کھلنے کے دوران سامنے بنے ہوئے لان میں بھی باتیں جاری رکھیں -
- دوسرا انٹرویو گھر کی تیسری منزل پر کھلے آسمان تلے لیا گیا -

مجھے اداکار حبیب بہت پسند تھے - -کئی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ تھی کہ اپنے انٹرویو کے دوران وہ سادگی سے جو دل میں ہو بتا دیتے تھے - اسی طرح ان کا ایک انٹرویو ان کی اداکاری کے ابتدائی سالوں میں ایسٹرن فلم میں چھپا تھا - اس زمانے میں انہیں ان کی فلم“آدمی“ کو نگار ایوارڈ سے نوازا گیا تھا - آداکار حبیب نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ " آدمی " کےمقابلے میں “زہر عشق“ میں ان کا م کافی مشکل اور پیچیدہ نوعیت کا تھا - میں نے علی انور سے سوال کیا کہ 'کیا آپ بھی محسوس کرتے ہیں ہیں کہ کسی ڈرامے میں آپ کی کارکردگی اچھی تھی لیکن اسے اتنی پذیرائی نہیں ملی اور اس کے مقابلے میں ان کے دوسرے -ڈراموں کو پسند کیا گیا
علی انور نے کہا کہ ان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی مسئلہ ہے - وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ڈ رامے "میں ستارہ " میں انہوں نے کافی محنت کی تھی - یہ دیہاتی ماحول کے پس منظر میں بنایا گیا تھا - ان کا لہجہ گنوار کا تھا - یہ آسان کام نہیں تھا لیکن انہوں نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا اور کئی لوگوں سے ملاقات بھی کی تھی تاکہ بعینہ وہی لہجہ اپنا سکیں - کچھ دوسرے ڈرامے بھی دیکھے کہ مکالمے کی ادائیگی میں خامیاں ہو ں تو دور ہو جائیں اور ڈرامے میں کسی قسم کا جھول نہ آئے - ڈرامے کے ڈائرکٹر اور پروڈیوسر نے بھی تعریف کی کہ نہایت ہی
-شاندار انداز میں مکالمات کی ادئیگی کی گئی ہے

لیکن لوگوں کے دل میں یہ ڈرامہ اپنا مقام بنانے میں ناکام رہا اور اس کے مقابلے میں " ڈائجسٹ رائٹر " زیادہ مقبول ہوا -
میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ سر سیدھی سیدھی بات ہے کہ لوگوں کے پسند کے معیار بدل گئے ہیں - پرانی اقدار دم توڑتی جارہی ہیں - لوگ گلیمر - فیشن -نت نئے کھانوں کو پسند کرتے ہیں - خوبصورت فرنیچر سے آرستہ گھر - بڑے بڑے ڈرائنگ روم ، ان کی کھڑکیوں پر لہراتے دلفریب پردے اور اختتام پر لٹکے ریشمی دھاگوں کے پھنے ، فرش پر دیدہ زیب رنگوں اور شیڈ کے ٹائلز ' نئے جدید دفاتر دیکھنا چاہتے ہیں - شاید اسطرح وہ بھی اپنے آپ کو اسی ماحول میں موجود پاتے ہیں اور ان کی تشنہ تمناؤں کو سکون ملتا ہے - قصہ مختصر اب دیکھنے والے دیہاتی ماحول سے فرار چاہتے ہیں - لوگ شلوار قمیض والے کو پسند نہیں کرتے - کپڑون کی جدید تراش خراش انہیں مرغوب ہے - کپڑوں کے ڈیزائن کا نیا ٹرینڈ کیا ہے جاننا چاہتے ہیں
-ان کی باتیں سن کر میں حیرت زدہ رہ گیا

ڈراموں میں گھسے پٹے مکالمات کیوں ہوتے ہیں ؟ یہ تھا میرا اگلا سوال - اب ان کے حیرت زدہ ہونے کی بات تھی
کیا مطلب ؟ اسی حیرت زدگی کے عالم میں انہوں نے سوال کیا -
میں نے کہا بہت عرصہ پہلے کی بات ہے - بلیک اینڈ وہائٹ فلموں کا دور تھا - اس زمانے میں ایک فقرہ عام تھا "امی --امی میں میٹرک میں پاس ہو گیا ہوں " - اسی زمانے میں مجھے وحید مراد کی ایک فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا - وحید مراد ایک بہت بڑا نام تھا - کالج گرلز ان کی کوئی فلم مس نہیں کر نا چاتی تھیں - انہیں چاکلیٹی ہیرو کہا جاتا تھا - یہ فلم اسی مقبولیت کے دور کی فلم تھی - اس میں دکھایا گیا تھا کہ وحید مراد کہیں اداس بیٹھے ہیں - کوئی انہیں تسلی تشفی دے رہا ہے اور سب ایک خواب سمجھ کر بھلانے کا مشورہ دے رہا ہے - یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد میں نے سوچا کہ اب وحید مراد یہ جملہ کہیں گے - اور بعینہ ایسے ہی ہوا - جو ڈائیلاگ میں نے سوچا تھا وہی وحید مرادنے کہا "یہ یادیں تو میری زندگی کا سرمایہ ہیں " مجھے افسوس ہوا کہ وحید مراد نے ایسا گھسا پٹا ڈائیلاگ کیوں کہا -- اور ہدایت کار نے کیوں شامل کیا -

علی انور نے کہا کہ کچھ سچوئیشن ( مواقع ) ایسے ہوتے ہیں کہ جو کہ عام طور پر زندگی میں پیش آتے ہی رہتے ہیں -ان میں مکالمے کی ادئیگی کے دوران اداکار اپنی طرف سے امپرؤمنٹ ( مزید درستگی ) کر دیتےہیں - اس لئے ایسے مکالمات دوبارہ زبان پر آجاتے ہیں -
میں ان کی بات سے زیادہ متفق نہیں ہوا
کیونکہ یرے نزدیک مکالمے تحریر کر نے والے کا مطالعہ وسیع ہوتا ہے - وہ ایک ہی صورتحال والے فقرے مختلف الفاظ میں تحریر کر نے کی صلاحیت رکھتا ہے - جب کہ ہمارے اداکاروں کا مطالعہ وسیع نہیں - البتہ مزاحیہ یا کامیڈی کے سین میں اداکار کو یہ سہولت دی جاسکتی ہے کہ وہ فی البدیہہ ذہن میں آنے والا والا فقرہ بول دے کیوں کہ ہر مکالمہ نگار مزاح کی حس نہیں رکھتا اور مزاحیہ جملے نہیں لکھ سکتا -یہ ایک الگ میدان ہے -
- میرے چہرے پر بے اطمینانی کے تاثرات دیکھے تو علی انور نے مزید کہا کہ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے کہ ڈائرکٹر صاحب کے پاس مکالمات ادا کرنے سے پہلے ان کا مسودہ پیش کیا گیا تو انہوں نے ہدایات دیں کہ “ یہ روائتی جملے ہیں انہیں حذف کردو "

علی انور نے ایک اور موقع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے مزید درستگی امپرؤمنٹ کے جذبے کے تحت کچھ فقرے کہے تو ڈائرکٹر صاحب نے غصے سے شوٹنگ رکوائی اور کہا کہ یہ کیا اول فول کہہ رہے ہو -وہی کئی بار کے سنے ہوئے الفاظ - شوٹنگ کے بعد مجھے معذرت کرنی پڑی -

----------------------------
کیا ڈرامے کے دوران اداکار کا مکالمے کی ادائیگی کے دوران یا سین فلم بند کروانے کے دوران ڈوب جا نا اور دیر تک اس کیفیت سے باہر نہ آنا ایک خوبی ہے یا خامی
یہ سوال سن کر علی انور ایک تذبذب کا شکار ہوئے - میں نے مزید وضاحت کی کہ جناب خرم سہیل نے اس بارے میں امریکی ڈراموں میں کام کر نے والے ایک بڑے ایکٹر جناب فاران طاہر جو پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں سے اس بابت سوال پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ایک اداکار جتنی تیزی سے کردار میں داخل ہوتا ہے اتنی ہی تزی سے اسے کردار سے نکل آنے کی مہارت ہونی چاہئے - اس کے لئے سخت ریاضت درکار ہے -

دوسری جانب عطاالحق قاسمی صاحب مشہور پاکستانی اداکار جناب علی اعجاز کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایک
مرتبہ علی اعجاز کسی ٹھیٹ دیہاتی کا کردار ادا کر رہے تھے - بہت ہی شاندار کارکردگی اور مہارت سے سین پانے طویل مکالمات بولے - سیٹ پر موجود تمام افراد ایک قسم کے سکتے میں آگئے - جناب عطاالحق قاسمی صاحب نے آگے بڑھ کر علی اعجاز کو اس بھرپور ادائیگی پر مبارک باد دی اور تعریف کی - عطاالحق قاسمی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے محسوس کیا کہ میری تعریف کو مرحوم علی اعجاز نے سپاٹ
چہرے سے سنا اور کوئی توجہ نہیں دی - عطالحق قاسمی کو تھوڑی سی شرمندگی بھی ہوئی - خیر دس پندرہ منٹ بعد علی اعجاز ان کے پاس آئے اور کہا کہ 'قاسمی صاحب کیا آپ مجھ سے کچھ کہہ رہے تھے میں سن نہیں سکا تھا - میں اس سین کی کیفیت سے اب باہر آیا ہوں‌-

میرا اپنا بھی یہی خیال ہے کہ ایک فنکار جب ڈوب کر اپنے فن کی تخلیق کر تا ہے تو کافی دیر تک اس کیفیت میں رہتا ہے -
خواہ وہ گلو کار ہو یا خطاط ہو - مصور ہو یا اداکار
سب ایک ہی کیفیت سے گزرتے ہیں - علی انور نے کہا کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہوتا رہتا ہے - سب سے زیادہ یہ کیفیت اس وقت ہوئی تھی جب وہ ایک ڈرامہ میں جاوید شیخ کے بیٹے کا کردار کر رہے تھے -
میرا خیال ہے کہ اس کیفیت کا ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کو احساس ہو رہا ہو کہ انہوں نے اتنے بڑے اداکار کے سامنے اداکاری کی ہے -
---------------------------------------
ایک فنکار پیدائشی طور پر فن کار ہوتا ہے یا بعد میں خود بخود بن جاتا ہے - یہ سوال کئی مرتبہ اٹھایا جاتا ہے اور اس پر بحث کی جاتی ہے - میرا اپنا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر فرد کے اندر کچھ صلاحیتیں ودیعت کر دیتا ہے - اب یہ اس فرد کا کام ہے کہ انہیں دریافت کرے اور انہیں اجاگر کرے - بعض ادارے بھی دعویٰ کرتے ہیں اور ان میں بچوں کے اسکول بھی شامل ہیں کہ وہ ایسی صلاحیتوں کو ڈھونڈتے ہیں اور انہیں مزید جلا بخشتے ہیں - ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے اس بات کا ادراک کر لیا تھا اور بہت پہلے ہی ڈراموں -فلموں اور تھیٹر ڈراموں میں کام کرنے کے شوقین افراد کے لئے ایک تربیتی ادارہ این ایس ڈی (نیشنل اسکول آف ڈرامہ ) حکومت کی سربراہی میں وزارت ثقافت کے تحت قائم کیا تھا - اس کے نگرانوں میں پنڈت جواہر لال نہرو جیسی شخصیات بھی تھیں - ایک زمانے میں اس ادارے کو یونیورسٹی کے درجے تک پہنچا دیا گیا تھا - اسے بھارت کے چوٹی کے اداکار مثلا" اوم پوری -نوازالدین صدیقی - نصیرالدین شاہ جیسے اداکاروں کی رہنمائی بھی حاصل رہی - پاکستان میں ایسا نہیں ہوا لیکن ہمیں جناب ضیاء محی الدین کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے اس ضرورت کو محسوس کیا اور پاکستان میں اداکاری کے اسلوب بتانے والے ادارے ' نیشنل اکیڈمی اف پرفارمنگ آرٹس“ کی بنیاد رکھی - علی انور اس ادارے سے تربیت حاصل کی اور اس کے بہت معترف ہیں - وہ کہتے ہیں کہ انہیں اس سے بہت فائدہ ہوا - اداکاری کی نئی نئی جہتوں کے بارے میں پتہ چلا - خامیوں سے آگاہی ہوئی جن سے انہوں نے پرہیز کیا اور ان کے فن میں نکھار آگیا - علی انور نے کہا کہ بھارت کے اداکاری سکھانے والے ادارے این ایس ڈی کی تاریخ تو قدیم ہے جب کہ ناپا کو بنے ہوئےجمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود اس نے قابل رشک کام کئے ہیں اور اپنی خامیوں پر قابو پالیا ہے - ہم سب کے ایک مدد گار کے طور پر ابھرا ہے اور ہم سباس کے شکر گزار ہیں - یہ وقت کی اہم ضرورت تھا
اداکار علی انور سے اداکاری کے اسرار و رموز پر بھی گفتگو ہوئی - رقص کی باریکیوں کی با بت بابت انہوں نے تفصیلی تبصرہ کیا - ان کا ایک رقص تو دھوم مچا گیا تھا اور ناظر تو اس میں کھو ہی جاتا تھا - لیکن کالم میں اتنی گنجائش نہیں کہ ان سب باتوں کو سمولے - انہیں کسی دوسرے کالم میں احاطہ تحریر میں لاؤں گا - فی الحال اتنا ہی کافی ہے

ادکار علی انور سے بذریعہ فیس بک یا جی میل بات کی جاسکتی ہے - وہ کوشش کرتے ہیں کہ سب کے سوالات کے جوابات دیں -البتہ مصروفیت کے سبب اس میں تاخیر ہو سکتی ہے
ان کا جی میل ایڈریس اور فیس بک ایڈریس درج ذیل ہیں
[email protected]
https://www.facebook.com/Ali-Anwar-the-Actor-223629801062990/

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 440 Print Article Print
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 102 Articles with 130568 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More

Reviews & Comments

ادا کاری اور ڈرامہ گاری کے دیگر شعبوں کے بارتے میں ایک مضمون ایکسپریس نیوز کراچی میں بھی چھپا تھا - اس میں ہالی ووڈ کے مشہور ہدایت کار جان ہسٹن کی بابت تحریر تھا
انہوں نے وارنر بردارز اسٹوڈیو میں اپنے لیے اسکرپٹ رائٹنگ کا شعبہ چُنا اور چار برس تک اس میدان میں کام کیا۔ جان ہسٹن نے اپنے اسکرپٹس سے ہالی وڈ میں شناخت بنا لی تھی۔Dr. Ehrlich’s Magic Bullet اور Sergeant York جیسی فلموں نے انہیں آسکر کی دوڑ میں شامل ہونے کا موقع دیا۔ اب جان ہسٹن نے فلم ڈائریکشن کی طرف قدم بڑھایا۔

سراغ رسانی اور سنسنی خیز واقعات پر مبنی ناول The Maltese Falcon وارنرز کی دو فلمیں ناکام رہی تھیں۔ جان ہسٹن نے اصرار تھا کہ وہ پہلی ڈائریکشن اِسی ناول کے لیے دیں گے۔ کوئی اُن سے متفق نہ تھا، مگر اجازت مل گئی۔ فلم سنیما کی زینت بنی تو سبھی حیران رہ گئے۔ فلم بینوں کے ساتھ ناقدین نے بھی اِسے خوب سراہا۔

یہ 1941 کی بات ہے، یہ فلم اُسی تیکنیک کا نتیجہ تھی، جس نے جان ہسٹن کو اپنے ہم عصروں میں ممتاز کیا۔ دوسری طرف فلم اپنے ناول سے قریب تھی۔ مکالموں میں غیرضروری تبدیلی یا کمی بیشی نہیں کی گئی تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ شائقین نے اسے پسند کیا اور ناقدین جان ہسٹن سے متأثر نظر آئے۔

امریکا کے مشہور ڈائریکٹر اور فلم نگار جارج اسٹیونز کے مطابق جان ہسٹن کے ہم عصر ڈائریکٹرز فلم بنانے کے بعد کاٹ چھانٹ میں خاصا وقت صرف کرتے، اس کے باوجود خامیاں رہ جاتیں۔ اس کے برعکس جان ہسٹن اپنے اسکرپٹ پر محنت کے ساتھ عکس بندی میں خاص مہارت کا مظاہرہ کرتے اور وہ تیکنیک انہیں کام یابی سے قریب کردیتی۔

دراصل، جان ہسٹن جس اسکرپٹ کی ڈائریکشن دینا چاہتے، اُسے دورانِ سفر یا شوٹ پر ساتھ رکھتے، وقت ملتا تو ہر سین پر نظر ڈالتے ہوئے اُس کا خاکہ بنا کر صفحے سے نتھی کردیتے۔ خاکے میں سین کی ڈیمانڈ کے مطابق تمام کردار اور پس منظر کے علاوہ دوسری باریکیوں جیسے روشنی یا سائے کی بھی وضاحت کردیتے۔ اِسی خاکے پر کیمرے کی پوزیشن، لائٹس اور کلوز اپ وغیرہ سے متعلق اگر کوئی بات ذہن میں ہوتی تو وہ بھی لکھ دیتے۔ بعد میں اِسی کے مطابق سین عکس بند کیا جاتا اور اُسی وقت ضروری کاٹ چھانٹ کے ساتھ بہت کم وقت میں سین فائنل کرلیا جاتا۔

یہ تیکنیک فلم کی ایڈیٹنگ کے جھنجھٹ اور کوفت سے بچانے کے ساتھ بجٹ کے حوالے سے کفایتی ثابت ہوئی۔ بقول ہسٹن، ’’ایسا بہت کم ہوا کہ پروڈکشن کے بعد فلم کے کسی سین میں تبدیلی یا کاٹ چھانٹ کی ہو، عرصے تک میں اپنے فلم ایڈیٹرز سے نہیں ملا تھا، اُن کا نام تک مجھے نہیں معلوم تھا۔‘‘

اُس دور کے معروف اداکار کہتے ہیں کہ اکثر ڈائریکٹرز پر خود واضح نہیں ہوتا تھا کہ وہ ہم سے کیا چاہتے ہیں، اور شوٹ میں خاصا وقت لگ جاتا، پھر ایڈیٹنگ کے دوران بھی کئی خامیاں سامنے آتیں اور اس میں بھی کافی وقت ضایع ہوتا۔ جان ہسٹن کی بابت ہالی وڈ میں مشہور تھا کہ وہ کیمرے کی آنکھ کو ’’اسنائپر‘‘ کی طرح استعمال کرتے تھے، جب کہ اکثر ہدایت کار اِسے ’’مشین گن‘‘ سمجھتے تھے۔ اِسی انفرادیت کی بنا پر جان ہسٹن کو فلمی صنعت میں روایت شکن اور نڈر ڈائریکٹر کہا گیا۔
By: Munir Bin Bashir, Karachi on May, 01 2019
Reply Reply
0 Like
Language: