ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

(Ahsan ul haq, Karachi)

کاشف اقبال تھیلیسیمیا کئیر ٹرسٹ مجاہد کالونی سٹیڈیم روڈ پر واقع ہے۔ کاشف اقبال تھیلیسیمیا ٹرسٹ کے بانی محمد اقبال اور ان کی اہلیہ دونوں تھیلیسیمیا مائنر ہیں۔چنانچہ ان کا بیٹا تھیلیسیمیا میجر کا شکا ر ہوا اور 16 سال کی عمر میں انتقال کے بعد محمد اقبال نے اس ٹرسٹ کو قائم کیا ۔پاکستان میں 6000 سے زائد بچے تھیلیسیمیا کے مرض سے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔پیدائش کے 6 ماہ سے 8 ماہ کے اندر یا کبھی 8 سے 10 سالہ بچوں کے اندر اس مرض کی تشخیص ہوتی ہے۔اس کے بعد تاحیا ت خون کی منتقلی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔اس مرض کے شکا ر بچوں کو خلیات منتقل لکئے جاتے ہیں جس کے باعث فولاد چونکہ بڑھ جاتا ہے ۔ اسے کم کرنے کے لئے ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔اس ٹرسٹ میں لوگ آ کر اپنے خون کا معائنہ بھی کرواتے ہیں تا کہ وہ جان سکیں کہ وہ تھیلیسیمیا مائنر کا شکار تو نہیں ہیں ۔

کاشف اقبال تھیلیسیمیا ٹرسٹ میں کوں کے معائنے کے لئے جدید مشینیں بھی ہیں جو 56 سیکنڈ میں تھیلیسیمیا ما ئنر کی تشخیص کرتی ہیں ۔تھیلیسیمیا مائنر کوئی بیماری نہیں لیکن اگر تھیلیسیمیا مائنر کے شکار افراد شادی کر لیں تو پیدا ہونے والی اولاد میں تھیلیسیمیا میجر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ اس ٹرسٹ کی اپنی فارمیسی ہے جو بچوں کو کم قیمت پر ادویات فراہم کرتی ہے ۔ جن میں بلخصوص آئرن ٹیبلٹس شامل ہیں ۔کاشف اقبال تھیلیسیمیا ٹرسٹ میں 3000 سے ذائد بچے رجسٹر ڈ ہیں ۔ جو خون کی منتقلی کے لئے وہاں آتے ہیں ان میں ذیادہ تر کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے ۔اس مقصد کے لئئے بچوں کے لئے نرسری فراہم کی گئی ہے تا کہ بچے بلڈ ٹرانسپلانٹ کے عمل کو بخوشی کروائیں۔

بچوں کو کھیل کود سے ساتھ ساتھ بنیادی تعلیم بھی اس ٹرسٹ کا خاصا ہے ۔ یہاں خون کا بندوبست اور اس کو manage کرنے کے لئے باشعور اور متحرک عملہ موجود ہے۔ نہایت دوستانہ ماحول میں آنے والے بچوں کو کھانا مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ اس ادارے کا مقصد ہر نسل ، رنگ ، ذات سے بالا تر ہو کر انسانیت کی خدمت کرنا ہے ۔اس ٹرسٹ کے بانی محمد اقبال کا صرف یہی مقصد ہے کہ تھیلیسیمیا سے متاثرہ افراد کی زندگی بچائی جا سکے۔کیونکہ
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
جو آتے ہیں کام دوسروں کے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ahsan ul haq

Read More Articles by Ahsan ul haq: 10 Articles with 4643 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Apr, 2019 Views: 607

Comments

آپ کی رائے