آزادکشمیر اسمبلی کا تعزیتی شادی چلن اور مظلوم طلبہ ؟

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarabad)
آزادکشمیر اسمبلی کا تعزیتی شادی چلن اور مظلوم طلبہ ؟

آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس 13 ویں آئینی ترمیم کے بعد سال میں 60 دِن ہونا لازمی ہے جس کے لیے اجلاسوں کے ایجنڈے میں زیر غور لائے جانے کا مواد(بزنس) بھی ضروری ہے اس حوالے سے قانون سازی اہم ایشوز سمیت متعلقہ اُمور پر سب کو ساتھ لے کر چلنا حکومتی فریضہ ہے تو حکومتی کارکردگی عوامی ایشوز سمیت خامیوں پر ایجنڈے کو بامقصد بنانے میں اپوزیشن کا زیادہ کلیدی کردار بنتا ہے موجودہ ایوان میں آئین نو سمیت منسلکہ اُمور کو حالات حاضرہ کے مطابق ڈھالنے کے کام ہوئے ہیں تاہم اپوزیشن بشمول کابینہ میں نہ شامل حزب اقتدار سے ارکان سرگرم تعمیری کردار ادا کرنے میں غیر فعال تاثر کے حامل ثابت ہوئے ہیں حالانکہ نئے آنے والوں میں زیادہ بڑھ چڑھ کر جستجو فطری امر ہے بشمول مخصوص نشستوں والوں کو منوانا چاہیے ان کا انتخاب درست فیصلہ تھا اپوزیشن میں قائد حزب اختلاف چوہدری یاسین ‘ دو سابق وزرائے اعظم سردار عتیق ‘ چوہدری عبدالمجید بار بار منتخب ہونے والے ملک نوازسمیت 49 کے ایوان میں 11ممبران ہیں تاہم ٹیم ورک اور تیاری کے فقدان نے سارے ماحول کو ایسا رنگ دے رکھا ہوتا ہے جیسے کسی کے انتقال پر تعزیت کیلئے آنے والا پہلے خاموشی سے بیٹھ جاتا ہے پھر لواحقین سے مرحوم کے مرنے کی وجوہات پوچھتے ہیں اور پہلے سے موجود میں سے اُٹھنے والے کے انتظار میں ہوتے ہیں ان میں سے کوئی اُٹھے تو ہمیں بھی رُخصت مل جائے تعزیت بھی نمائشی تماشہ بنا دی گئی ہے موبائلوں سے فوٹو بنانا بطور چڑھاوہ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا ثواب کے بجائے حاضری ہو گئی ہے یہی حال تقریبات شادی کا ہے زیادہ سے زیادہ وی وی آئی پی بلانا ان کے شایان شان انتظامات کے لیے خرچے اور جلسوں جیسے مقابلے کا دور دورہ کر کے معاشرتی خرافات کا عذاب چل رہا ہے ‘ اللہ کی رضا کے لیے تعزیت مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کر کے اُٹھو جاؤ پھر مکمل انٹرویو تعلقات فوٹوز کے اندازیا شادی خوشی کے موقع پر قریبی رشتہ دار‘ قریبی دوست پڑوسی مدعو کرنے کے تقاضے کے بجائے وی آئی پی خصوصاً سیاستدان کو ایک دِن میں پانچ دس سلامی دینے سفر کے گاڑی پیٹرول کے خرچے کرا کر دیانتداری کے خواب دیکھنا ظلم نہیں تو کیا ہے پھر رہنما وہ ہے جو اپنے ساتھ چلنے والے کارکن ‘ سپورٹرز ‘ ووٹرز کو سمجھائے صحیح بات بتائے بجائے اس کی غلط بات خواہش پر کٹھ پتلی بنے وہ لیڈر نہیں طوطا ہے جس کا تماشہ ارد گرد کھڑے لوگ فال نکالتے ہوئے دیکھتے ہیں یعنی بے وقوف بننے اور بنانے کے رسم و رواج انفرادی ‘ اجتماعی بدحالی کے سامان ہیں پھر رونا ملک نظام پرہوتا ہے یہی حال آفیسرز کا نمایاں ہونے کے شوق کا ہے تو عدل و انصاف سے منسلک صاحبان خود بہت ذہین ہیں ایسے خود کش ‘ شادی ‘ تعزیت کے طوفان میں سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق نے اپنی صاحبزادی کی تقریب رُخصتی میں باوقار مختصر حاضری کا اہتمام کر کے ناصرف بہ حیثیت راہنما جرات مندانہ ‘ دانشمندانہ صفات کا اظہار کیا بلکہ اپنے ہزاروں سپورٹرز ‘ ووٹرز سمیت وسیع حلقہ احباب کو سفر و غیرہ کی زحمت تکلیف سے بچا لیا جس کا احساس نہ کر کے اکثربڑے کہلانے والے تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگ وباء کو ناسور بنانے میں فخر محسوس فرماتے ہیں حالانکہ یہ احساس کمتری کا اظہار ہے ‘ سیاست کار‘ علماء ‘ ججز ‘ آفیسرز سب شعبہ جات کے منصب مقام والے سماج کا معمار ہیں ان کو اپنے ماتحت جونیئرز سمیت عوام کیلئے بطور مسیحا پیش آنا چاہیے جو بیماری میں دوائی سے زیادہ مضر صحت عوامل سے پرہیز کو اصل علاج بتاتا ہے جس طرح خاتون رُکن اسمبلی فائزہ احسن نے قرآن و سنت کو اُردو ترجمعہ کے ساتھ پڑھانے اور سب طلبہ کے ایک جگہ جمع ہونے اسمبلی کے وقت اہتمام کی قرارداد پیش کی ‘ وزیراعظم فاروق حیدر نے اسی پر فوری عملدرآمد کا حکم دیا یہ سب سے اچھی بات و عمل ہے جو دنیا و آخرت کا معاون و مددگار ہو گا مگر ہر جلسہ ‘ جلوس ‘ تقریب ‘ اجلاس میں ہر چیز کا نصاب کا حصہ بنا کر بچوں کو انسان کے بجائے گدھا بنایا جا رہا ہے ‘ سرکاری نجی سکولز میں کم از کم مڈل تک نصاب کو ایک جیسے چار پانچ مختصر کتابوں تک لایا جائے تو سماج میں انفرادی ‘ اجتماعی ‘ معیشت پر بوجھ نمائشی رسم و رواج سے نجات کے لیے حکومت اپوزیشن ملکر ایوان سے عہد عزم کے ساتھ خود عمل کریں تو بہت سارے کام بغیر خرچے تقرری اور وقت محنت کے بغیر ہو جائیں گے نیز احترام عزت بھی دلوں میں مقام حاصل کرے گی ورنہ ایوان سمیت باقی ایوان والوں کی پہچان شادی ‘ تعزیت کے احوال جیسی ہوتی جا رہی ہے اگر نیشنل پارلیمنٹ میں مشاہد حسین سید (سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن) کی چیئرمین شپ میں وفاقی وزیر بشمول تمام جماعتوں کے ارکان کی قائمہ کمیٹی منظور پٹیشن سمیت سب کو بلا کر ملاقات کو زبردست قرار دے سکتی ہے جو واقعتا بہت اعلیٰ اقدام ہے تو ایوان آزادی چوک دھرنے میں بیٹھے پڑھے لکھے باشعور افراد کو ملنے اور جائز نکات پر بطور متفقہ قرارداد غوروفکر اپنی سفارشات حکومت پاکستان کو بھیج کر قومی ‘ ملکی‘ اجتماعی ایشوز کے حل میں کردار ادا کرنے سے کیوں محروم ہے ؟؟؟؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 204 Articles with 67755 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Apr, 2019 Views: 298

Comments

آپ کی رائے