روک سکو تو روک لو

(Umar Jozvi, )

 ہم نے پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی اورپالیسیوں پرجب اخلاق کے دائرے میں تنقیدکی توتحریک انصاف کے بہی خواہوں نے ہمارے الفاظ اورہمدردانہ مشوروں کایہ کہہ کرمذاق اڑایاکہ ،،یہ ایساہے کہ کوئی شادی کے دومہینے کے بعددلہن سے بچہ مانگے،،تحریک انصاف کی حکومت کے ابھی پانچ چھ مہینے نہیں ہوئے اورآپ اس سے بچے مانگنے لگے ہیں ۔پی ٹی آئی کے کارکنوں ،بہی خواہوں اورسپورٹروں کایہ مؤقف شائدکہ اپنی جگہ ٹھیک اورگلہ بجاہومگرنئی نویلی حکومت سے جمعہ جمعہ آٹھ دن بعدبچہ مانگاکس نے ہے ۔۔؟ویسے پی ٹی آئی کی نئی نویلی حکومت توڈولی میں ہی اپنے ساتھ میکے سے اتنے بچے لیکرآئی کہ اب اس سے مزیدکوئی بچہ مانگنے کاتک ہی نہیں بنتا۔آج یہ جومسائل پرمسائل اوربحرانوں پربحران جنم لے رہے ہیں یہ توپیداہی پی ٹی آئی کے ان بچھڑوں کی وجہ سے ہورہے ہیں ۔تحریک انصاف کی نئی نویلی حکومت اگرمیکے سے اتنے بچے نہ لیکر آتی توحالات اس نہج تک کبھی نہ پہنچتے۔حکومت جی کے ساتھ میکے سے آنے والے نافرمان اوربدمست بچوں نے توباپ کی سادگی، غربت،شرافت اورایماندار ی کاکوئی خیال رکھااورنہ ہی حکومت ماں جی کے شرم وحیاکاکوئی لحاظ رکھا۔ان بچوں کی جانب سے ہنی مون پیریڈکے دوران ہی اپنی ضداوراناکے صدقے من پسندوزارتوں کاحصول اوراباجی کے مشوروں کے بغیرگھرکے معاملات میں بے جامداخلت نے نہ صرف گھربلکہ چندہی مہینوں میں پورے سسرال کوہی ہلاکے رکھ دیاہے۔بغیرکسی پڑھائی اورٹریننگ کے ہرمرض کی دوااورہرشعبے کے نام نہادماہربننے والے پی ٹی آئی کے ان بچھڑوں کے سیاسی کھیل کودنے ملک کی معیشت سمیت اکثرشعبوں کاایساستیاناس کیاکہ آج کراچی سے گلگت اورمکران سے چترال تک ملک کاہرغریب سرپکڑنے،چیخنے اورچلانے پرمجبورہے۔وفاقی کابینہ میں شامل بیرون ممالک سے امپورٹ اورایکسپورٹ شدہ نام کے ماہراوردیانتداروزیرجوکل تک آئی ایم ایف پرہزاربارلعنت بھیج کرتھوکتے تھے آج وہ اپنی اسی تھوک کوبڑی ڈھٹائی اوربے شرمی کے ساتھ چاٹ رہے ہیں ۔عوام نے وزیراعظم عمران خان کوامیدکی آخری کرن سمجھ کرعام انتخابات میں تحریک انصاف کوووٹ دیئے لیکن میکے سے آنے والے پی ٹی آئی کے ان بچھڑوں نے چندہی مہینوں میں عمران خان کوبدسے بدنام کرکے نئی نویلی حکومت کی ناک کاٹ ڈالی ہے ۔ان وزیروں اورمشیروں کی وجہ سے عوام نئی حکومت سے بدظن ہوچکے ہیں ۔پی ٹی آئی کے ان بچھڑوں اورسابق وزیراعظم نوازشریف اورآصف علی زرداری کے چیلوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ۔نوازشریف اورآصف علی زرداری کے چیلے جس طرح کام سے زیادہ دم ہلاتے تھے ان سے بھی زیادہ دم ہلانے والایہ کام آج پی ٹی آئی کے یہ بچھڑے وزیراورمشیرکررہے ہیں ۔مدینے کی ریاست میں پہلے حکمرانوں نے اپنے پیٹ پرپتھرباندھے پھررعایاکواس کی ترغیب دی لیکن نئے پاکستان کومدینے جیسی ریاست بنانے کے دعویدارخودآج ایک ایک وقت میں دس دس روٹیاں توڑرہے ہیں مگررعایاکوایک وقت میں ایک روٹی کھانے کی ترغیب دے رہے ہیں ۔ملک کے معاشی حالات اگراتنے خراب ہیں توپھریہ وزیراورمشیربھاری تنخواہوں اورمراعات سے دستبردارکیوں نہیں ہوتے۔۔؟عوام کوپیٹ پرپتھرباندھنے کادرس دینے والے پہلے اپنے پیٹ پرچھوٹی سی کنکری کیوں نہیں باندھتے۔۔؟اقتدارمیں آنے والوں کی عیاشیوں اورحرام خوریوں کے لئے خزانہ کبھی خالی نہیں ہوتانہ معاشی حالات کبھی خراب ہوتے ہیں لیکن بات جب ایک وقت کی روٹی کے لئے ترسنے ،تڑپنے اوررلنے والے غریب عوام کی آتی ہے توپھرخزانہ بھی خالی ہوتاہے اورمعاشی حالات بھی ٹھیک نہیں ہوتے ۔کیاخزانہ بھرنے اورمعاشی حالات ٹھیک کرنے کاٹھیکہ غریبوں نے ہی لیاہے۔۔؟بھاری تنخواہیں اورمراعات حکمران اوران کے چیلے لیں۔ عیاشیوں پرعیاشیاں وزیراورمشیرکریں ۔ قوم کے خزانے کوباپ داداکی جاگیرسمجھ کرحکمران ہڑپ کریں لیکن پھربھریں غریب۔یہ کونساانصاف اورکہاں کاقانون ہے۔۔؟دوروپے کی ماچس کی ڈبی پربھی غریبوں سے ایک روپے کاٹیکس لیاجائے۔پھرجب حکمرانوں کی عیاشیوں اورشراب وکباب کی محفلیں سجانے کے لئے پیسے تھوڑے کم ہوجائیں توپھرقرض اتاروملک سنوارو،وزیراعظم سیلاب زدگان وڈیمزفنڈاوردیگرطریقوں سے مداریوں کی طرح غریبوں کی جیبوں کوٹٹولناشروع کردیاجائے۔اقتدارمیں آنے والے ہرحکمران اوراس کے چیلوں نے اقتدارمیں آنے کے بعدہمیشہ قومی خزانے کولوٹ کراپنے لئے جائیدادیں بنائیں۔حکمرانوں کاکوئی چھوٹاسے چھوٹاچیلابھی آج کروڑوں اوراربوں میں کھیل رہاہے۔ہرحکمران اورسیاستدان نے ،،ملک وقوم کی خدمت،،کے نام پرغریبوں کاخون نچوڑاورچوس کراپنے لئے دنیامیں بڑے بڑے تاج اورتاج محل بنائے۔سادگی میں آنکھیں کھولنے اوراسی سادگی میں مرنے والے اس ملک کے غریب عوام کوسادگی اورکفایت شعاری کادرس دینے دینے والے وزیراعظم عمران خان کی کابینہ اورٹیم میں بھی ایسے ایسے اژدھے زبان پھیلائے بیٹھے ہیں جوکروڑوں اوراربوں کے مالک ہیں ۔غریبوں کوایک روٹی کھانے کی ترغیب دینے کی بجائے یہ اژدھے اگراپنے مال کاچوتھائی حصہ بھی ملک کے نام کردیں تونہ صرف ملک میں جاری یہ معاشی بحران ختم ہوجائے گابلکہ وزیراعظم عمران خان کوملک چلانے کے لئے پھرکسی اورکے آگے ہاتھ اوردامن بھی پھیلانانہیں پڑے گامگرایساممکن نہیں کیونکہ غریب کی ایک روٹی پربھوکے کتوں کی طرح نظررکھنے والے ان سیاسی مداریوں کااتنادل اورگردہ کہاں۔۔؟ کہ وہ اپنے مال کا کچھ حصہ ملک وقوم کے نام کردیں۔جن لوگوں کاکام ہی غریبوں کے منہ سے نوالہ چھیننااوران کی جیبوں کوٹٹولناہووہ بھلاملک وقوم کولقمہ کیسے دے سکتے ہیں ۔۔؟موجودہ حکمرانوں کوتواپنے علاوہ سابق تمام حکمران اورسیاستدان چوروڈاکونظرآتے ہیں ان کے سیاسی درس سن کریوں محسوس ہوتاہے کہ اس ملک میں ان کے علاوہ کوئی ایمانداراورمحب وطن نہیں مگرانتہائی معذرت کے ساتھ دوسروں کوایک روٹی کھانے کی ترغیب دے کرخودایک ایک وقت پردس دس روٹیاں توڑنے والے نہ ایماندارہوسکتے ہیں اورنہ ہی محب وطن۔ایمانداری اورحب الوطنی کاتقاضاتویہ ہے کہ خودروکھی سوکھی کھاکرملک کی ترقی اورقوم کی خوشحالی کے لئے جانی اورمالی قربانی دی جائے مگریہاں تومعاملہ ہی الٹ ہے۔خودکوایماندارکہنے اورملک کومدینے جیسی ریاست بنانے کے دعوے کرنے والے اپنے پیٹ پرذرہ ظلم کرناتوگوارہ نہیں کررہے لیکن رعایاکوایک روٹی پرقناعت وصبرکی تلقین کررہے ہیں ۔واقعی بادشاہ ایسے ہی ہوتے ہیں ۔جب بھی ملک وقوم پرکوئی مشکل یاکوئی امتحان آتاہے توپھریہ شاہی لوگ کسی کو دہی چاول اورکسی کوایک روٹی کھانے اورکسی کوٹماٹرسے دوررہنے کے مفت مشورے دیتے ہیں ۔جوقیمتی مشورے یہ اقتدارمیں آنے کے بعدعوام کودیتے ہیں انہی مشوروں پردس فیصدبھی اگریہ خودعمل کریں تودنیامیں کسی غریب کوبھوک سے ایڑھیاں رگڑنے اوربلبلانے کی نوبت ہی نہ آئے۔اس ملک کے غریب توانہی بادشاہ ٹائپ حکمرانوں کے ہاتھوں برسوں سے قربانیوں پرقربانیاں دے رہے ہیں لیکن ملک میں معاشی بحران کے نام پرغریبوں کوایک روٹی کھانے کی ترغیب اورمشورہ دینے والے حکمران ذرہ ایک منٹ کے لئے اپنے گریبان میں جھانکیں کیاوہ ایک روٹی پرگزارہ کرپائیں گے۔۔؟ مال ،دولت اورطاقت کے نشے میں مدہوش حکمران روٹی روٹی کرکے غریبوں کی غربت کامذاق اڑاکراﷲ کے عذاب کودعوت نہ دیں ۔رزق کاوعدہ جس رب نے کیاہے وہ غریبوں کو ان حکمرانوں سے بھی بہتررزق دے رہاہے۔ غریبوں کوایک روٹی کھانے کی ترغیب اورمشورے دینے والے پہلے اپنے پیٹ کی فکرکریں پھرغریبوں کومشورے دیں ۔یہ پرانانہیں نیاپاکستان ہے اب عوام ایک اوردونہیں ایک ایک وقت میں تین تین روٹیاں کھائیں گے تم روک سکوتوروک لو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umar Jozvi

Read More Articles by Umar Jozvi: 105 Articles with 31117 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Apr, 2019 Views: 281

Comments

آپ کی رائے