سپین ایک نظر میں

(Munawar Khursheed, London)

گذشتہ دنوں سپین جانے کا اتفاق ہوا۔یہ ایک بہت ہی خوبصور ت ملک ہے۔دیکھ کر بہت لطف آیا۔سوچا آپ سب کے لئے چند بنیادی معلومات رقم کردوں ۔شاید کسی بھائی کوکسی بھی رنگ میں فائدہ ہوجائے۔
آ ب وہوا
اس خطہ کی آب وہوایورپ کے باقی ممالک کی نسبت گرم ہے۔دسمبر میں بھی اس کا درجہ حرارت بیس کے قریب ہوتاہے جبکہ دیگر ممالک میں خاصی سردی ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یورپ بھر سے سیاح سن باتھ کی تلاش میں یہاں سرگردان نظرآتے ہیں۔
لوگ
اس ملک کا رقبہ۔۔550،990 مربع میل ہے۔
2018 کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 46،72 ملین ہے۔
یہاں کے لوگ بہت ملنسار اور خوش اخلاق ہیں۔آپ کسی شخص سےکسی مقام کے بارے میں سوال کریں تو ایسےلگتا ہے ۔ اس کا دل چاہتا ہے۔کہ وہ سائل کو منزل مقصود ت پہنچا کر ہی آئے۔
ایک روز خاکسار ڈیالیسز کے لئے قرطبہ میں ایک ڈیالیسز سنٹر میں گیا۔میری اہلیہ بھی میرے ہمراہ تھی۔وہ میرے ساتھ ڈیالیسز روم میں نہیں جاسکتی تھیں۔اس لئے انہیں انتظار گاہ میں ہی بیٹھنا پڑا۔دیگر مریضوں کےعزیز واقارب بھی اس ہال میں بیٹھے گپ شپ میں مصروف تھے۔کیونکہ کافی دیر تک انہیں یہاں بیٹھنا ہوتا ہے ۔اس لئے سامان خوردونوش بھی ساتھ لے آتے ہیں۔پورے ہال میں میری اہلیہ ہی برقعہ پوش تھیں۔لیکن قریب بیٹھی ہوئی فیملیوں نے ان کے ساتھ بہت ہی مروت کا برتاو کیا۔ کھانے پینے کی دعوت دی بلکہ اس پر اصرار بھی کیا۔یہ بات اس قوم کے خوبصورت اخلاق کی مظہر ہے۔ہر کوئی آپ کو مسکرا کر ملتا ہے۔ اورہمیشہ ہی اولا کہہ کر آپ کو سلام کرتا ہے۔اولا سے مراد، انگریزی میں ہیلو ہوتا ہے۔دوکاندا ر کسی کو اجنبی جان کر داو لگانے کی کوشش نہیں کرتے۔بلکہ خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں۔‍‍‍‍
زبانیں
کہتے ہیں دنیا بھر میں 6500زبانیں بولی جاتی ہیں۔سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان مندارین چینی ہے۔جسے 1،213،000،000 لوگ بولتے ہیں۔افریقہ میں تو بسا اوقات قریبی دیہاتوں کی زبانیں بھی مختلف ہوتی ہیں ۔جو قومیں زیادہ سفر کرتی ہیں انہیں زیادہ زبانیں بولنی آتی ہیں۔
سپین میں پانچ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جن میں سےقتلان اور سپینش زیادہ بولی جاتی ہیں سپین کی نیشنل زبان سپینش ہے۔یہ زبان اٹالین اور فرنچ وغیرہ کے بہت قریب ہے۔اس میں بعض الفاظ تو گیمبیا کی زبان منڈنگا کے بھی ہیں۔ممکن جن دنوں پرتگال کی مغربی افریقہ میں حکومت تھی۔جس کی وجہ سے حکمران کی زبان کے بعض کلمات ابھی تک وہاں رائج ہوں۔
شادی بیاہ
جن دنوں میں پیڈروآباد نامی گاوں میں رہائش پزیر تھا۔مجھے ہفتہ میں تین بار ڈیالیسز کے لئے قریبی مرکزی شہر قرطبہ جانا ہوتا تھا۔ڈیالیسز کے شعبہ کی طرف سے میرے لئے ٹرانسپورٹ کا انتظام تھا۔قواعد کے مطابق ہر مریض کے لئے علاج کی خاطر ٹرانسپورٹ کا انتظام مفت کیا جاتا ہے۔
میرے لئے ایک ٹیکسی کا انتظام کیا گیا۔ڈرائیور ایک خاتون تھیں۔ اس کے ساتھ اس کا ایک دوست بھی جایا کرتاتھا۔۔لیکن ان کی شادی نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ان کا شادی کا کوئی پرگرام تھا۔خاتون نے بتایا کہ وہ گیارہ بہن بھائی ہیں لیکن اب ان بہن بھائیوں میں سے اکثر نے شادی نہیں کی۔اور نہ ان کا کوئی ایسا پروگرام ہے۔اس سے قاری کرام اندازہ کرسکتے ہیں ۔اس دور میں ان کے ہاںشادی کی کیا اہمیت ہے۔کہتے ہیں کہ آج کل نوجوان نسل شادی کے بندھن سے آزاد ہی زندگی بسر کرنا چاہتی ہے۔اسے ایک قیدتصور کرتی ہے۔
سفری سہولیات
ملک بھر میں نے تیز ٹرینیں چلتی ہیں۔لیکن صرف بڑے شہروں تک سہولت محدود ہے۔بسیں ہر جگہ پہنچتی ہیں۔بسیں خاصی آرام دہ ہیں۔انٹر نیشنل مسافروں کے لئے ہر بڑے شہرمیں ائر پورٹ موجود ہیں۔
مذھب
یہاں مقامی لوگ مذھبا عیسائی ہیں۔لیکن حقیقت یہ کہ بس نام کے عیسائی ہیں۔عملا لا مذھب ہوچکے ہیں۔ ممکن ہے س کبھی سیاسی مفاد کی خاطر دین کا چولہ پہن لیں ۔حقیقت میں ان کا مذھب سے کوئی علاقہ نہیں ہے ۔
یہاں مسلمانوں کی تعداد خاصی محدود ہے۔جسے آٹے میں نمک کے برابر کہتے ہیں۔مسلمان بے چارے یہاں بے چارگی کی حالت میں ہیں ۔جن کی اکثریت افریقن ممالک یا مراکو سے ہے۔کچھ پاکستانی بھائی بھی ہیں۔جو محنت مزدوری کرکے پیٹ پالتے ہیں۔ان میں سے خاصی تعداد غیر قانونی طور پر یہاں مقیم ہے۔جو ہر وقت پکڑے جانے کے خوف کا شکار ہیں۔
خوراک
یہاں چاول،مچھلی، دالیں ، سبزیاں بہت ملتی ہیں۔علاوہ ازیں ہر قسم کا گوشت استعمال ہوتا ہے۔زیتون کا تیل بکثرت استعمال ہوتا ہے۔کھانوں میں نمک بہت کم استعمال کرتے ہیں۔ممکن ہے اگر ان کے علاقہ میں بھی کوئی کھیوڑہ کا پہاڑی سلسلہ مل جاتا تو یہاں کے لوگ بھی نمک کا زیادہ استعمال کرتے۔مرچ ،تیل اور مصالحوں کا استعمال بہت کم کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں ان کے کھانے مزیدار نہیں لگتے جبکہ یہ لوگ اسے بڑی خوشی سے کھاتے ہیں۔یہی وجہ کہ ان کے ہاں بہت کم لوگ فربہ ہوتے ہیں۔
سڑکیں
اس ملک کی سڑکیں بہت زبردست ہیں۔اکثر نئی ہیں ۔ پہلے تو اس ملک کی معاشی حالت خاصی کمزور تھی۔ اس لئے اس غربت کا اثر تو ان کی ہر چیز پر تھا۔لیکن جب سے ان کا الحاق یورپین یونین سے ہوا ۔ان کے حالات خاصے بہتر نظرآرہے ہیں۔مجھے بعض خاصے لمبے سفر کرنے کا موقع ملا ہے۔اس سفر میں تکلیف یا تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوا ، پہلی بات تو یہ ہے۔ یہاں سڑکوں پر ٹریفک بہت کم ہے،دوسرے سڑکیں بہت عمدہ ہیں ،تیسرے سڑک کی اطراف میں سرسبز دلکش کھیتوں کے پُرفریب نظارے آپ کا ساتھ دیتے ہیں ۔جس کی وجہ سے آپ کو اپنے سفر کا احساس تک نہیں ہوتا ہے۔
• صحت
• یہاں کے لوگ باقی یورپین اقوام ی طرح سرخ وسفید رنگت کے ہی ہیں۔اکثر لوگ لمبی عمر پاتے ہیں۔کہتے ہیں ۔اس کا ایک راز تو زیتون کے تیل کا باقاعدگی سے استعمال ہے۔ہاں ایک اور بات بھی میں نے مشاہدہ کی ہے کہ لوگ بہت تیز چلتے ہیں۔اس ملک میں اکثر علاقے نشیب وفراز ہیں اس لئے عام سفر میں بھی کبھی آپ اونچائی کی طرف جاتے ہیں پھر تھوڑی دیر میں اترائی شروع ہوجاتی ہے۔جس کی وجہ سے عام آدمی کوتھکاوٹ کا احساس ہوجاتا ہے۔لیکن مقامی لوگ چونکہ بچپن سے اس کے عادی ہیں اس لئے ان کے قوی مضبوط ہوجاتے ہیں۔لیکن ان کی نئی نسل غیر صحت مند نظرآتی ہے۔ نوجوان ڈھیلے ڈھالے دکھائی دیتے ہیں ۔ ناک اورکان میں بالیاں وغیرہ ڈالے نظر آتے ہیں۔چہروں پر نشہ آور اشیاء کے اثرات نظر آتے ہیں۔
سمندر
اللہ تعالی نے اس سرزمین کو زرخیز زمینی نعمت کے علاوہ سینکڑوں میل نیلگوں گہرےسمندر سے بھی نواز رکھا ہے۔جس کے ساحل بہت خوبصورت ہیں۔گرم موسم کی وجہ سے دنیا بھر سے لاکھوں سیاح گرم پانی اوردھوپ کی تلاش میں ادھر کا رخ کرلیتے ہیں۔یہاں ساحل بہت زیادہ خوبصورت ہیں۔جن کے قریب عالیشان مکانات تعمیر ہیں ۔جس سے معلوم ہوتا دنیا بھر سے امیر طبقہ کے لوگوں نے یہاں لطف اندوز ہونے کے لئے آرام دہ مکان تعمیر کررکھے ہیں۔
معیشت
عام شہری کی آمدایک ہزار یورو سے کم ہے۔پاکستانی،ہندوستانی اور دیگر اقوام کے لوگ محنت مزدوری کرکے پیٹ پالتے ہیں۔ عام طو پر یہ لوگ بلڈنگ کا کام کرتے ہیں۔پھل توڑتے ہیں یا دیگرمزدوری کے کام کرتے ہیں۔ہر کوئی اپنی معاشی تنگدستی کا گلہ کرتا نظر آتا ہے۔مکان اور ان میں سامان واجبی سا نظر آتا ہے۔جو ان کی حالت زار بیان کردیتا ہے۔
رہائش
کرائے پر مکان کافی سستے ہیں عام سا مکان دوسو یورو سے لے کر چار سو تک مل جاتا ہے۔
اگر آپ مکان خریدنا چاہتے ہیں سستا مکان تیس ہزار یورو تک بھی مل جاتا ہے۔لیکن مہنگا مکان جتنا گُڑ ڈالیں گے اتنا ہی میٹھا ہوگا۔
• تاریخی مقامات
• قرطبہ کی جامع مسجد
کسی دور میں دنیا کی سب سے بڑی مسجد تھی۔ظالم وقت اور حکمرانوں کی نفرت کی بھینٹ چڑھ کر چرچ میں تبدیل کردی گئی ہے۔اب اس سے اللہ اکبر کی صدا کی بجائے گھنٹوں کی آواز گونجتی ہے۔
الحمراء
• یہ ایک بہت ہی خوبصورت محل ہے۔جو غرناطہ میں ہے۔یادرہے۔ یہ شہرمسلمانوں کا آخری دارا جسے دارالحکومت تھا۔ اس کی خستہ حالی دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ کھنڈر بتاتے ہیں کہ عمارت حسین تھی۔تاہم اس کے بنانے والوں کے انجام پر بھی افسوس ہوتا ہے۔
• مدینۃ الزہراء
• یہ گذشتہ ادوار کی ایک نشانی ہے۔جسے ایک بادشاہ جن کا نام عبدالرحمان الثالث نے تاج محل کی طرح اپنی ملکہ زھراء کی یاد میں تعمیر کی تھی۔جس کی تکمیل پر 25 سال لگے۔ہزارہا سیاح ہر روز اس کو دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے آتے ہیں۔
• قلعے ملک میں بے شمار قلعے پہاڑیوں پر تعمیر نظر آتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ یہ اپنی عظمت کا اظہار اور حملہ آوروں کے خوف سے یہ قلعے بنائے گئے تھے۔لیکن مع الاسف یہ قلعہ بھی ان کے کام نہ آسکے۔
• بارسلونا میں ایک چرچ جس کانام لا سر گاردا فامیلا ہے۔ 150 سال سے زیر تعمیر ہے۔کہتے ہیں یہ بھی دنیا کے عجوبات میں شمار ہوتا ہے۔ابھی بھی اس میں کام جاری ہے۔
اہم شہر
سپین کے شہروں،دیہاتو ں اور قصبوں کے ناموںپر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام عربی ہیں۔چند معروف شہروں کے نام کچھ یوں ہیں۔
میڈرڈ۔۔۔بارسلونا۔۔۔ویلینسیا۔۔۔قرطبہ۔۔۔۔۔غرناطہ۔۔۔ملاگا۔۔۔۔المیریا
المرسیہ۔۔۔ملاگا۔۔۔۔ساویہ۔۔۔مابیا۔۔
زراعت
اگر چہ یہاں کی زمین زیادہ تر پتھریلی ہے۔لیکن اس کے باوجود بڑی محنت اور جانفشانی کے ساتھ اس میں پھلدار درختوں نے رونق لگادی ہے۔
ویلینسا کے علاقہ میں مالٹے کی حکومت ہے۔ایسے معلوم ہوتا کہ ہم سپین کی بجائے سرگودھا کے علاقہ میں میل ہا میل تک مالٹوں کے باغات میں ہیں۔
قرطبہ وغیرہ کے علاقہ میں زیتون کی بہار ہے۔اسی طرح مرسیہ وغیرہ کی جانب انگور اور انار کی دلکشی نظر آتی ہے۔ الغرض یہ ملک زرعی اعتبار امتیازی مقام کا حامل ہے۔اس کی سبزیاں اور پھل دیگر ممالک کے میزوں پر سجتے ہیں۔
آپ کی خدمت میں خاکسار نے حسب توفیق اور حسب ذوق کچھ معلومات رقم کردی ہیں۔اگر مفید پائیں تو دعا کردیں کہ اللہ کریم انجام بخیر فرما دے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Munawar Khursheed

Read More Articles by Munawar Khursheed: 35 Articles with 23110 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Apr, 2019 Views: 819

Comments

آپ کی رائے