مفتی اعظم ازبکستان سے ملاقات

(Abdul Quddus Muhammadi, )

علما و مشائخ کے ہمراہ علما و مشائخ کے دیس میں مصحف عثمانی کی زیارت کے بعد اسی احاطے میں واقع ازبکستان کے مفتی اعظم کے دفترجانا ہوا۔یہ دفتر بھی ایک پورا کمپلیکس ہے اور ازبکستان کے مفتی اعظم ازبک مسلمانوں کی فلاح وبہبود اور ازبکستان کے دینی امور کے ادارے کے سربراہ بھی ہیں- ان کے تین نائب مفتی ہیں اور اس ادارے میں مختلف شعبے قائم کیے گئے ہیں- اس ادارے کے ذمہ داران اور ازبکستان میں پاکستانی سفیر جناب عرفان شامی نے وفد کا خیر مقدم کیا اور پھر ایک وسیع وعریض ہال میں لے جایا گیا جہاں مفتی اعظم عثمانخان علیموف اور نائب مفتی عبدالعزیز منصور اور دیگر لوگ تشریف لائے۔ حسن اتفاق سے گزشتہ ہفتے حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب کے دورہ روس کے موقع پر یہاں کے نائب مفتی اعظم سے ماسکو اور چیچنیا میں مولانا جالندھری کی رفاقت رہی۔انہوں نے بہت زیادہ اعزاز واکرام سے نوازا۔ ازبکستان کے مفتی اعظم کے تین نائب مفتی ہیں جو اپنااپنا شعبہ سنبھالے ہوتے ہیں یہاں کے مفتی صرف فتوی اور دینی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری ہی نہیں نبھاتے بلکہ ازبکستان کے مسلمانوں کے دینی،فلاحی اور تربیتی امور کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ازبکستان کے مسلمانوں کے دینی امور کی نگرانی کرنے والے اس اداراے کے مختلف ذیلی شعبہ جات میں مساجد کی تعمیر،انتظام وانصرام،اوقاف کی دیکھ بھال،خواتین کی فلاح وبہبود،بچوں کی تعلیم وتربیت،نصاب کی تیاری،بیرونی دنیا کے دینی اداروں اور موسسات سے رابطے،دنیا بھر میں ہونے والے دینی کاموں اور سرگرمیوں میں شرکت،ازبکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف مدارس ومکاتب کا قیام اور حسن انتظام ---سب سلسلوں کا مرکز یہی ادارہ ہے۔مفتی اعظم ازبکستان نے وفد کے اراکین کو بتایا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ازبکستان حکومت کی طرف سے دینی اعتبار سے بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور دینی ماحول،دینی مراکز کے قیام،دینی درسگاہوں کی تعمیر وتوسیع کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے- انہوں نے بتایا کہ ازبکستان کے مختلف علاقوں میں دینی مراکز قائم کیے جارہے ہیں جن میں قرآن کریم،احادیث مبارکہ،فقہ،عقائد،تصوف سمیت دیگر علوم میں تخصص کروایا جاتا ہے اور ہر ایک شعبے کے لیے الگ ادارہ اور ماہرین کی الگ جماعتیں موجود ہیں،اس خطے میں علم الحدیث،علم فقہ اور دیگر جن جن حوالوں سے جو معروف شخصیات گزریں ان کے شہروں میں ان کے ناموں کی مناسبت سے مختلف مراکز قائم کیے گئے ہیں-جب ازبکستان کے مفتی اعظم اپنی حکومت اور اپنے ادارے کی طرف سے دین اور دینی علوم کی طرف واپس اور دینی مراکز اور اداروں کے قیام اور اس کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بتارہے تھے تو ہم سب سوچ رہے تھے کہ وہ لوگ جن سے دینی مراکز چھینے گئے,اسلامی ماحول کو جبر سے تبدیل کیا گیا, ماضی سے ان کا رشتہ توڑا گیا وہ تو واپس لوٹ رہے ہیں،ادارے قائم کررہے ہیں،دینی مراکز تشکیل دے رہے ہیں اور ہم جن کو اﷲ رب العزت نے وسط ایشیاکے تاریخی،تہذیبی اور علمی زوال کے بعد یہ امانت سپرد کی ہمارے خطے میں اس اعزاز سے محرومی اور دین سے دوری اور لادینیت کے خواب دیکھے جارہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ اطمینان بھی ہورہا تھا کہ ایسی کوئی بھی کوشش اور ایسا کوئی جبر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا اور بالآخر امت مسلمہ کا مستقبل اور بقا دین سے وابستگی میں ہی ہے اور اس حوالے سے وفاق المدارس اور پاکستانی مشائخ کی محنت,قربانیوں اور موقف پر بے اختیار سجدہ شکر بجا لانے کا دل کرتا ہے-۔مفتی اعظم ازبکستان کے بعد وفد کے سربراہ مولانا محمد حنیف جالندھری نے خطاب فرمایا انہوں نے ازبکستان میں دینی اور علمی اعتبار سے جو کروٹ لی جارہی ہے اور حکومت کی طرف سے جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اس پر ازبکستان حکومت اور بالخصوص مفتی اعظم اور ان کے رفقا کر خراج تحسین پیش کیا پھر مولانا جالندھری نے وفاق المدارس کا تعارف کروایا،پاکستان میں دینی اداروں کی محنت اور دینی ماحول کا اپنے مخصوص انداز میں تذکرہ کیا،وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے کسی قسم کی حکومتی مدد اور تعاون کے بغیر ملک بھر میں چلنے والے 23000 مدارس وجامعات کا حوالہ دیا،اڑھائی ملین طلبہ وطالبات کی تعلیم وکفالت کی ذمہ داری اٹھانے کا تذکرہ فرمایا۔ اس سال حفظ قرآن کریم کی تکمیل کرنے والے 78845 حفاظ وحافظات اور25000 علما وعالمات کی تیاری کے بارے میں جب بتایا تو مفتی اعظم، ان کے نائب اور تمام میزبان حیران رہ گئے۔وہ رشک بھری نظروں سے پاکستانی علما کو دیکھ رہے تھے۔مولانا محمد حنیف جالندھری نے اپنے مخصوص انداز میں پاکستان اور پاکستان کے دینی طبقات کی بھر پور نمائندگی کی انہوں نے اپنی گفتگو میں اس خطے کی عظمت رفتہ اور علمی روایات کے احیا کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جتنے اقدامات اٹھائے جارہے وہ خوش آئند ہیں لیکن اس خطے سے ماضی میں امت کو بہت کچھ ملا اس لیے اب بھی لوگوں کی یہاں سے بہت سی امیدیں اور توقعات وابستہ ہیں۔مولانا جالندھری نے مفتی اعظم کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔انہیں علمی حوالے سے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی,دینی مدارس کے اساتذہ وطلبہ کے ایکسچینچ پروگرام کی تجویز پیش کی،پاکستانی درسگاہوں اور اہل علم سے استفادہ کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا کہ پاکستانی علما ومشائخ کی کتب کا یہاں کی مقامی زبانوں میں اور یہاں کے علمی ورثے کا اردو میں ترجمہ کیا جانا چاہیے۔اس موقع پر معروف روحانی شخصیت حضرت مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی صاحب نے تزکیہ و احسان کے مراکز کے مابین روابط کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا-مکہ مکرمہ سے تشریف لائے ہوئے ہردلعزیز اور مقبول شیخ عمر مکی جانشین مولانا عبدالحفیظ مکی نے اپنی گفتگو میں مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں اپنے والد گرامی اور خاندان کے دیگر مشائخ کی خدمات کا تذکرہ کیا تو مفتی اعظم نے خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے ایک استاذ محترم کی وساطت سے مدرسہ صولتیہ سے فیض پایا ہے-شیخ عمر مکی نے انہیں مکہ مکرمہ میں مولانا عبدالحفیظ مکی کے قائم کردہ مرکز کے دورے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول فرمایا-ازبکستان کے مفتی اعظم نے پاکستان کے حوالے سے اپنی یادیں ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مولانا عبدالقادر آزاد کی دعوت پر جوانی میں پاکستان کا دورہ کیا,رمضان المبارک کا آخری عشرہ پاکستان میں گزارا عید پاکستان میں کی اور تراویح اور دیگر نمازیں بادشاہی مسجد میں ادا کیں- الغرض یہ اپنی نوعیت کی ایک یادگار اور تاریخی ملاقات تھی اگر اس موقع پر جن عزائم کا اظہار کیا گیا،دو طرفہ تعاون کاجوعہد کیا گیا اگر یہ سلسلہ جاری رہاتو اس کے بہت دور رس اثرات مرتب ہونگے اور ماورا النہر کے اہل علم کاامت پر جو احسان اور قرض ہے پاکستانی اہل علم اس قرض کو لوٹانے کی سعادت حاصل کرسکیں گے۔دعاہے کہ اﷲ رب العزت ہم سب کو علوم نبوت کی خدمت کے لیے قبول فرمالیں آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Quddus Muhammadi

Read More Articles by Abdul Quddus Muhammadi: 115 Articles with 77587 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Apr, 2019 Views: 517

Comments

آپ کی رائے