’’بے رنگ پیا‘‘

(Akhtar Sardar Chaudhry, Kassowal)
نامور ناول نگار امجد جاوید کا تصوف کے رنگ میں ڈوبا ہوا ایک ناول
یہ ناول علم تصوف پر ایک دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔

آپ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ کاغذ کا ایک پر چہ ہے۔وہ صاف ہے۔ہم اس پر لکھ سکتے ہیں۔ لیکن جس پر چے پر پہلے ہی لکھا ہوا ہے اگر آپ اس پر لکھیں گے تو آپ اوور رائٹنگ کریں گے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی بے رنگ ہے۔ اس نے بعد میں بے رنگ نہیں بننا، جو چیزیں ہم اسے دیتے ہیں، اس سے وہ ہمارے پیچھے لگ جائے گا۔اور پھر وہ ہمارے جیسا ہو جائے گا۔ اسے اپنی بے رنگی کااحساس ہی ختم ہو جائے گا۔اس بچے کاسارا علم کیا ہے، اس کا پیار، سچا پیار۔بے رنگی دل کی۔وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ سچے دل سے سچے پیار سے چل رہا ہے۔معاشرتی عدم توازن بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔بچے کو فطرت سلیمہ پر پیدا کیا گیا۔ وہ مثبت صلاحیتوں پر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن وہ جو بھی منفی لے گا، وہ دنیا ہی سے لے گا۔

بچے کی جبلت میں نفرت نہیں۔بگاڑ باہر کی طرف سے ہے۔جیسے بچے کو جو زبان دی جائے گی، وہی بولے گا۔ جرم سامنے نہیں ہوگا تو جرم سے واقف بھی نہیں ہوگا۔ ہر شے بدل جائے گی مگر اس کی محبت والی فطرت نہیں بدلے گی اور نہ اسے بدلا جا سکتا ہے۔اس کے اندر جو عشق کی بنیاد پڑی ہے وہ عشق دراصل بے رنگ ہے۔ اس کے اندر پڑی محبت بر قرار ہے۔ کیونکہ وہ بے رنگ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ محبت از خود ہے۔نفرت پیدا کرنی پڑتی ہے۔ دراصل وہ نفرت ظاہر کیوں ہوتی ہے۔ وہ معاشرتی بد اعتدالی ہے۔ باہر کا رد عمل ہے۔فی الحال اتنا ہی سمجھ لیں کہ بچے کی جو فطرت سلیمہ ہے وہ بے رنگ ہے۔ یہی ہمارا مقصود ہے۔

محترم امجد جاوید صاحب کے ناول ’’بے رنگ پیا‘‘ کے چند پہروں میں سے مکالمہ نکال کر ،کچھ فقرات کو حذف کرنے کے بعد میں نے اوپر والا پیراگراف ترتیب دیا ہے ۔جس میں وہ ایک مشہور حدیث صلی اﷲ علیہ وسلم ’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یامجوسی بنا دیتے ہیں ۔یہ اﷲ کی فطرت (اسلام) ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے ۔اﷲ کی فطرت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ،یہ ہی دین القیم ہے ۔(بخاری 1359 )

یہ ناول’’بے رنگ پیا ‘‘علم تصوف پر ایک دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے ۔جسے امجد جاوید صاحب نے اپنے مخصوص اور دل چسپ انداز میں ایک ناول کے روپ میں پیش کیا ہے ۔ امجد جاوید صاحب 27 ستمبر 1965 ء کو حاصل پور میں پیدا ہوئے۔ اسلامیہ یونیورسٹی سے ایم اے ابلاغیات اور ایم اے اقبالیات کے ڈگری حاصل کی ۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ادبی ذوق رکھتے ہیں۔ملک کے صف اول کے ادیب ہیں (اب تک دو درجن سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں ) ان کے لکھے پر تین تحقیقی مقالے لکھے جا چکے ہیں۔عشق مجازی اورعشق حقیقی ان کا خاص موضوع ہے ۔ صوفیانہ طرز تحریر ان کا خاصہ ہے۔ ایک زمانے میں جب علیم الحق حقی صاحب نے ناول ’’عشق کا شین‘‘ تشنہ رکھ چھوڑا تو پبلشر کے کہنے پہ امجد صاحب نے اس ناول کے دو حصے لکھے ۔بعد ازاں ’’عشق کا قاف ‘‘لکھا ۔جس پر ڈراما بھی فلمایا گیا ۔

ان کے چند ایک ناول اسی موضوع کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔خیال رہے میں نے چند ایک ناول کہا ہے ۔لیکن ان بارے اکثر افراد کی یہ رائے ہے جیسے انہوں نے صرف تصوف پر ہی لکھا ہو ۔حالانکہ انہوں نے ادب کی تقریبا تمام اصناف و اقسام پر لکھا ہے ۔ان کا ناول ’’قلندر ذات ‘‘،’’خونخوار‘‘اور ’’عورت ذات‘‘اس کی مثال ہے ۔اسی طرح ’’تمہیں چاہوں گا شدت سے‘‘نامی کتاب شاعری پر لکھی ہے ۔’’منٹو کے نسوانی کردار ‘‘ اور’’ کامیابی 30 دن میں ‘‘ منفرد کتابیں ہیں ۔یہ کہنا مناسب ہوگا کہ انہوں نے تصوف، عشق مجازی و عشق حقیقی ، اور پاکستانیت پرخوب لکھا ہے یا زیادہ لکھا ہے ۔

ایک جگہ وہ خود لکھتے ہیں کہ ’’ایک وقت آیا جب میں نے سوچا کہ میں کیا لکھتا جا رہا ہوں۔ صوفیا سے عقیدت تو تھی ہی سو میں نے یہ رستہ پکڑا۔ اس میں انسانیت کی بات زیادہ اچھے انداز میں کی جا سکتی ہے۔‘‘بات ہو رہی تھی امجد جاوید کے ناول ’’بے رنگ پیا ‘‘ کی یہ کہانی ہے ایک ایسی دوشیزہ کی، جس کی دسترس میں زندگی کے تمام رنگ تھے۔لیکن اس نے عشق میں فنا ہو کر بے رنگی اختیار کر لی تھی ۔اس کے بے رنگ حسن و حسن سلوک پر دنیا کے رنگوں میں ڈوبا ایک رئیس زادہ جب دیوانہ وار عاشق ہوا تو ایک نئی کہانی نے جنم لیا۔جو اپنے اندر دنیا داری کا رنگ لیے ہوئے بھی ہے اور آخرت کا بھی ،جس میں عشق مجازی کا رنگ ہے تو عشق حقیقی کا بھی ۔کہانی کا نام بے رنگ ہے لیکن اس میں آپ کو انسانیت یعنی تصوف اور سائنس کے رنگ بھی نمایاں طور پر نظر آئیں گے ۔لیکن سب سے اچھا رنگ تو اﷲ کا رنگ ہے ۔انسان جب بے رنگ ہو جائے تو اس پر اﷲ کا رنگ چڑھایا جا سکتا ہے ۔جناب امجد جاوید صاحب نے کچھ ایسا ہی پیغام اپنے ناو ل کے ذریعے قارئین تک پہنچانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

کہانی کی ابتدا ء عام سے انداز سے ہوتی ہے ۔پھر اس کے رنگ کھلنے شروع ہوتے ہیں ،تجسس بیدار ہوتا ہے ،اس کے ساتھ ہی معلومات و فلسفہ بیان کیا جاتا ہے جو کہانی میں ایسے شامل ہے کہ قاری ایک لمحہ کو بھی بور نہیں ہوتا،بلکہ جیسے جیسے کہانی کا مطالعہ کرتا جاتا ہے مزید جاننے کی لگن ہوتی ہے ۔مصنف بھی مزے لے کر ،تڑپا تڑپا کر علم کی پیاس بھجانے کا سامان کرتا ہے ۔بنیادی طور پر کہانی کے تین کردار ہیں ۔آیت النسا ،طاہر باجوہ اور سرمد لیکن کہانی اصل میں ایک ایسے فرد کے گرد گھوم رہی ہوتی ہے جس کا وجود ہی نہیں ہوتا جو مر چکا ہوتا ہے ۔ناول کا ایک اہم کردار سید ذیشان رسول شاہ ہے، جن کے افکار پر باقی کردار عملی طور پر گھوم رہے ہیں ۔اگر کہا جائے اس ناول کی سب سے خاص بات کیا ہے تو میں کہوں گا اس ناول میں جو تصوف کا فلسفہ خدمت انسانیت پیش کیا گیا ہے اسے عملی طور پر ثابت کرنے کی کوشش کی گی ہے کہ یوں یہ کوئی خالی خولی فلسفہ نہیں بلکہ عملی طور پر کیسے ممکن ہے بتایا گیا ہے ۔

عشق کے مراحل، سارے رنگوں کا صبغت اﷲ میں مدغم ہونا،اپنی ذات کا عرفان حاصل کرنا۔ انسان سے انسان کا تعلق۔انسان کی پیدائش کا مقصد جیسے اہم سوالات کے تسلی بخش جوابات سے رنگی کہانی ۔حاصل کلام یہ ہے کہ جب انسان، انسانیت کے لئے کسی بھی منفی جذبے کو اپنے اندر نہیں رکھتا، وہ بے رنگ ہوتا ہے۔

تصوف کے رنگ میں ڈوبا ناول صبغت اﷲ کے رنگ کو اجاگر کرتا ہے ۔انسان کی تمام کوششوں کا مقصد و حاصل اﷲ کی خوشنودی ہے اور خدمت خلق اس کا سب سے بہترین راستہ ہے ۔ ایک انسان کی محبت کب اور کیسے پوری کائنات کی محبت میں بدلتی اورڈھلتی ہے یہ اس ناول کا سب سے اہم نکتہ ہے ۔ہم امجد جاوید صاحب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو انہوں نے تصوف کی گتھیوں کو عام فہم بنا کر عام الناس تک پہنچانے کی بھر پور کوشش کی ہے ۔یہ ناول ’’بے رنگ پیا‘‘ انسان کے اندر سوچ کے نئے در کھولتا ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal

Read More Articles by Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal: 496 Articles with 336344 views »
Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal
Press Reporter at Columnist at Kassowal
Attended Government High School Kassowal
Lives in Kassowal, Punja
.. View More
02 May, 2019 Views: 475

Comments

آپ کی رائے