انتخاب : دورِ جدید کا ایک مہنگا تہوار

(Dr Salim Khan, India)

تہوار انسان کی ایک معاشرتی ضرورت ہے جس میں اجتماعی طور پرسارا سماج خوشیاں مناتا ہے۔ جمہوریت کا جشن یعنی الیکشن بھی اپنی خوشیوں سے قبل اخراجات کا بوجھ لے کر وارد ہوتا ہے ۔ انتخابات اپنے ساتھ پانچ قِسم کے اخراجات کا تقاضہ کرتے ہیں ۔ سب سے پہلا وہ خرچ وہ ہے جو الیکشن کمیشن پر یعنی سرکاری خزانے پر بوتھ سے لے کر سرکاری افسروں کی تعیناتی اور سیکورٹی فراہم کرنے پر آتا ہے۔ ہندوستان کے اندر پہلے عام انتخابات؁۱۹۵۲ میں منعقد ہوئے تھے ۔ اس پر الیکشن کمیشن نے سرکاری طور پر قریب ساڑھے دس کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔ اس کے ساتھ اگر مہنگائی کا اضافہ جوڑ دیا جائے تو وہ ۳۵۰ سے ۴۰۰ کروڈ کے آس پاس کی رقم بنتی ہے ۔ اس بار الیکشن کمیشن اس سے دس گنا زیادہ یعنی ۳۸۷۰ کروڈ روپئے خرچ کررہا ہے ۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ انتخاب سرکاری خزانے پر دس گنا سے زیادہ بڑا بوجھ بن گئے ہیں ۔ اس خرچ کا بڑ ا حصہ امیدواروں کو تحفظ فراہم کرنے پر خرچ ہوجاتا ہے۔ اضافہ کی شرح دیکھیں تو ؁۲۰۰۹ سے ؁۲۰۱۴ کے درمیان یہ خرچ ۱۱سو کروڈ سے ۱۵ سو کروڈ تک پہنچا یعنی ۳۰ فیصد کی بڑھوتری جبکہ ؁۲۰۱۹ میں یہ ۳۹ سو کروڈ یعنی ۱۰۰ کا اضافہ ہوگیا۔
 
یہ ستم ظریفی ہے کہ عوام کے نمائندوں کو عوام کے غم وغصے سے بچانے کے لیے ایک کثیر رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امیدواروں میں جرائم پیشہ لوگوں کی ایک بہت بڑی فوج شامل ہوگئی ہے۔ ان لوگوں کو عوام سے نہیں بلکہ اپنے سیاسی حریفوں سے خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ عوام کو ان سے ہمدردی نہیں ہوتی اس لیے وہ ان کی حفاظت نہیں کرتے ۔ لا محالہ حکومت کو یہ ذمہ داری ادا کرنی پڑتی ہے لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ عوام جذبات سے مغلوب ہوکران جرائم پیشہ لوگوں کو اپنا قیمتی ووٹ دے کر کامیاب ضرور کرتے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ۳۳ فیصدی ایوان زیریں کے منتخب شدہ ارکان نے اپنے خلاف مجرمانہ معاملات کا اعتراف انتخابی حلف ناموں میں کیا ہے۔ان میں سے۱۰۶کے خلاف قتل، قتل کی کوشش، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا، اغوا اور عورتوں کے خلاف جرم جیسے سنگین معاملات درج ہیں۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب ان میں سے کوئی کامیاب ہوجائے گا تو اس کی دبنگائی میں کمی ہوگی یا اضافہ ہوگا نیز اس کا شکار کون لوگ ہوں گے؟

انتخابات میں دوسرا سب سے بڑا خرچ ہوتا ہے مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے اشتہارات، تشہیر اور امیدواروں پر کیا جانے والے اخراجات ہیں ۔ پہلے زمانوں میں پوسٹر اور بینرس وغیرہ پر یہ خرچ ہوا کرتا تھا لیکن آج کل یہ سارا کام تجارتی اداروں سے کرایا جاتا ہے اور اس کا خرچ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اب پہلے کی طرح جلسہ وجلوس میں شریک ہونے والے بھی ر ضا کارانہ طور پر ذوق و شوق سے نہیں آتے بلکہ کرایہ پر انہیں بلانا پڑتا ہے ۔ اس طرح انتخاب کے موسم میں کچھ پیشہ ور لوگ بینڈ بجانے والوں کی طرح بلا تفریق ہر پارٹی کے اجتماعات کی رونق بڑھاتے ہیں اور حسبِ ضرورت زمدہ باد و مردہ باد کے نعرے لگاتے ہیں ۔ امیدوار کےاپنے حلقۂ انتخاب میں خرچ پرلگام لگانے کے لیے ۷۰ لاکھ روپے کی حد طے کی گئی ہے لیکن شاید ہی کوئی قابلِ ذکر امیدوار اس کا پاس و لحاظ کرپاتا ہوگا ۔ ان حدود کا تجاوز ایک عام بات ہوگئی بلکہ ماہرین کے مطابق وزیراعظم کے وارانسی روڈ شو کا ہی کم از کم خرچ سوا سو کروڈ بنتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں ’نوٹ دو ووٹ لو‘ کا چلن ہے، یعنی ووٹروں کو پیسہ پہنچانا یا پھر ان کے لیے ضرورت کی چیزیں مہیا کرنا معمول کی بات ہے۔ اس مقصد کی خاطر رقم پہنچانے کے لیے وزیراعظم کا ہیلی کاپٹر تک کے استعمال کا چرچا ہے۔ آئے دن سیاستدانوں اور ان کے اقرباء کے گھروں پر چھاپہ مار کر کروڈوں روپئے برآمد کیے جاتے ہیں ۔ انتخابی ریلیاں تو آج کل خوب ہوتی ہیں مگر چونکہ عام دنوں میں عوام کی فلاح وبہبود کا کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوتا اس لیے اپنے کاموں کی تشہیر کے بجائے مخالفین کی تنقید و تذلیل پر اکتفاء کیا جاتا ہے ۔ ایسا کرنا حزب اقتدار کی مجبوری ہوتی ہے نیز حزب اختلاف بے تکان وعدے کرتا چلا جاتا ہے ۔ انتخاب کے موسم میں اخبارات و رسائل کے بھی وارے نیارے ہوجاتے ہیں ۔ خبروں کو شائع کرنے کے علاوہ انہیں دبانے کے لیے اچھی خاصی رقم فراہم کی جاتی ہے ۔

تشہیر کے روایتی ذرائع جیسے ٹی وی چینلس، اخبارات اور ریڈیو سٹیشنوں میں آج کل فیس بک اور گوگل کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ہندوستان میں فیس بک کے ۲۰کروڑ صارفین ہیں ۔ اس لیے سماجی رابطوں پر اشتہار بازی کے معاملے میں بی جے پی سب سے آگے ہے جبکہ کانگریس چھٹے نمبر پر ہے۔ فروری ؁۲۰۱۹ کی مثال لیں جبکہ اشتہار بازی نے زور نہیں پکڑا تھا سوشیل میڈیا پر ۳ کروڈ ۷۶ لاکھ خرچ ہوئے ۔ اس میں سے بی جے پی کا حصہ ایک کروڑ ۲۱ لاکھ تھا۔ ان اخراجات کو جوڑ کر دیکھا جائے تو اس مرتبہ ۵۰ سے ۶۰ ہزار کروڈ روپئے ان انتخابات کی نذر ہوجائیں گے ۔ ویسے تو پچھلی مرتبہ کے لوک سبھا انتخابات میں ہی ہندوستان نے امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے مہنگاانتخاب منعقد کرنے کا اعزاز حاصل کرلیا تھا ۔ اس بار تو ہم نے دنیا کو اتنا پیچھے چھوڑ دیا ہے کہ کوئی ملک ہمسری کا تصور بھی نہیں کرسکتا لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس محنت ومشقت اور خرچ کے عوض عوام کو کیا ملتا ہے؟

اس خطیر رقم اور محنت کے بعد بھی نریندر مودی جیسے لوگ وزیراعظم بن کر اس لطیفے میں جان ڈال دیتے ہیں کہ کہ اگر کسی کو خدا کے وجود پر یقین کرنا ہوتو ہندوستان چلا آئے ۔ اس ملک کا چلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے کوئی غیر مرئی قوت اس کو چلارہی ہے۔ کروڈہا کروڈ روپئے صرف کرنے کے بعد جب کسی مودی جیسے وزیراعظم کے بارے میں سوال کیا جائے کہ وہ کیا کرتے ہیں تو طرح طرح کے جوابات موصول ہوں گے ۔ کوئی کہے گا وہ غیر ملکی دورے کرتے ہیں ۔ کسی کو ان کا اپنی والدہ سے آشیرواد لینا یاد آئے گا۔ کوئی ان کی تقریروں کو یاد کرے گا تو کوئی ان کے من کی بات کا ذکر کرے گا۔ آج کل انتخابی مہم زوروں پر ہے ۔ وہ ہرروز کہیں نہ کہیں خطاب فرما رہے ہیں اور جب ان سے فرصت ملتی ہے تو کسی نہ کسی چینل کو انٹرویو دینے کے لیے بیٹھ جاتے ہیں ۔ یہ سلسلہ ارنب گوسوامی سے شروع ہوکر اکشے کمار تک پہنچ گیاہے ۔اس موقع پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی ملک کے وزیر اعظم کی یہی ذمہ داریاں ہیں؟ اور اگر وہ اپنی ذمہ داری نہیں ادا کررہا ہو تو وہ سب کام کون کرتا ہے؟ نیز اگر کسی کے نہیں کرنے سے بھی وہ سب ہو جاتا ہے تو وزیراعظم بنانے کی اس مشق پر قوم کا کثیر سرمایہ کیوں خرچ کیاجاتاہے ؟
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1204 Articles with 436926 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 May, 2019 Views: 467

Comments

آپ کی رائے