وہ جو اب ہم میں نہیں ۔ ایک تعارف٬ ویڈیو

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)
اردو کے صاحبانِ علم و دانش ، محبان قلم و قرطاس ،معروف شاعر ، ادیب، کالم نگار اہل سیاست اور صحافی

کتاب کے عنوان ’وہ جو اب ہم میں نہیں‘ سے واضح ہے کہ کتاب میں شامل یہ مضامین ، کالم اور خاکے اُن احباب پر لکھے گئے جو اب اِس دُنیا میں نہیں رہے ۔ یہ شخصیات صاحبانِ علم و دانش ، محبان قلم و قرطاس ، بیشترمعروف شاعر ، ادیب، کالم نگار اور صحافی ہیں۔ کچھ مضامین و کالم ایسے ہیں جوکسی بھی شاعر و ادیب کے سانحۂ ارتحال، برسی یا یوم پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کر نے کے لیے قلم بند کیے گئے۔ البتہ اس مجموعہ میں شامل تمام ہی شخصیات وہ ہیں جو شہر خموشاں میں جابسی ہیں۔ البتہ ان کی علمی ادبی خدمات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے ان کی تخلیقات انہیں مدتوں زندہ رکھیں گی۔ بعض شخصیات کو دنیا سے رخصت ہوئے دو سو سال سے بھی زیادہ ہوگئے لیکن آن بھی ان کا نام اور ان کا علمی و ادبی کلام ضرورت مندوں کے کام آرہا ہے۔ کتاب میں شامل شخصیات غالب کو جدا ہوئے ڈیڑھ سو سال ہوگئے،میر تقی میر ؔکودو سو سے زیادہ عرصہ ہوگیا، اسی طرح بیخودؔ دہلوی،اقبالؔ ،بہادر شاہ ظفر، احسان دانش، فیضؔ،عدمؔ،ناصرؔ کاظمی، احمد فرازؔ، انو قدسیہ ، حبیب جالب ؔ ،پروفیسر صابر لودھی ، جوشؔ ملیح آبادی ، اسلم فرخی ، بابائے اردو ڈاکٹر مولوی مولوی عبدالحق ، پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق کو ثر، پرنسپل طاہرہ قاضی، قرۃ العین حیدر ، شفیع عقیل، منٹو، جونؔایلیا ، مولانا حسرت موہانی، دریاؔ لکھنؤی ، ریاض ؔانصاری جیوری ، پروفیسر آفاق احمدبھوپالی خواجہ حسن ثانی نظامی ؒ، فرمان فتح پوری ، مسعود احمد برکاتی ، محمد احمد سبزواری، جنید جمشید، سید انور محمود مرحوم، اخترؔ جونا گڑھی کی علمی ادبی خدمات انہیں تادیر زندہ رکھیں گی۔ ان کی تخلیقات سے نئی نسل استفادہ کرتی رہے گی۔ اﷲ ان کی مغفرت فرمائے اور اپنے جوار رحمت میں جگہ دے ۔ آمین۔
 


شخصیات ہمیشہ سے ہی میرے علمی ذوق کا محور رہی ہیں۔مجھے اﷲ کی اس مخلوق یعنی حضرت انسان سے محبت ہے اس لیے کہ مجھے اپنے اپنے آپ سے محبت ہے اور جو شخص اپنے آپ سے نفرت نہیں کرے گا وہ کسی اور انسان سے بھی نفرت نہیں کرسکتا۔انسان کائینات کا سردار ہے ، اسے تخلیق کرنے کے بعد اﷲ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ انسان کو سجدہ کریں۔ بڑائی کی بنیاد تقویٰ ہے، عمل صالح پر قائم رہنے پر ہے۔اسی بنیاد پر اﷲ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا۔ جب اﷲ نے انسان کو اس قدر بلند درجہ عطا کیا تو ہم انسانوں پر بھی فرض ہے کہ انسان کی بڑائی کو ، اس کے درجہ کو پہچانیں۔ یہ گویا خود اپنے آپ کو پہچاننا ہے۔ شخصیات پر لکھنا میر اشوقِ فراواں رہا ہے ۔ زندگی کی پانچویں دیہائی ہے قلم و قرطاس سے رشتہ قائم کیے ہوئے۔ اس طویل سفر میں سب سے زیادہ میرا موضوع حضرت انسان ہی رہاہے۔ ان میں شاعر، ادیب، اساتذہ، صحافی، کالم نگار، نثر نگار، اہل سیاست، سماجی شخصیات ، میرے قریبی دوست اور وہ بھی جن کا رشتہ و تعلق میری ذات سے کسی نہ کسی طور رہا، ان میں میرے بعض عزیز و اقارب بھی ہیں جن کو میں نے اپناموضوع بنا یا۔ شخصیات کااحاطہ کرتی یہ میری آٹھویں تصنیف ہے۔ان میں ڈاکٹر عبدالمعید، اختر ایچ صدیقی(انگریزی)، عادل عثمانی(انگریزی)، ڈاکٹر غنی الا کرم سبزواری شیخ محمد ابرہیم آزادؔ : شخصیت و شاعری پر الگ الگ تصانیف ہیں جب کہ سوانحی مجموعوں اور خاکوں پر مشتمل تصانیف میں ’یادوں کی مالا‘، جھولی میں ہیرے اور موتی‘، ’رشحاتِ قلم ‘ اور اب ’وہ جواب ہم میں نہیں‘۔ کتابی سلسلہ نے میرا خاص شمارہ بھی شائع کیا اس میں بھی شخصیات پر لکھے گئے مضامین شامل ہیں۔
 


زیرنظر مجموعہ میں جن شخصیات پر مضامین یا کالم شامل ہیں وہ تمام شائع شدہ ہیں۔ بعض اخبارات ، ادبی جرائد اور بعض مختلف ویب سائٹس پر شائع ہوئے۔ البتہ تمام مضامین اور کالم اردو کی معروف ویب ’ہماری ویب ‘ پر آن لائن موجود ہیں۔ ان مضامین کو گوگل پر بھی سرچ کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا کہ شخصیات کو اپنا موضوع بنا نے کا میرا مقصد یہ تھا کہ میں کسی بھی شاعر و ادیب کی نثر نگاری اور علمی و ادبی خدمات کواپنا موضوع بناؤں جو تھوڑی بہت صلاحیت تھی اسے بروئے کار لاتے ہوئے اپنی زندگی کے تجربات و مشاہدات کو اپنی آنے والی نسل تک پہنچا ؤں ، اس میں کہا تک کامیاب ہوا ، اس کا فیصلہ محترم قارئین ہی بہت کرسکیں گے ؂
رفتہ گانِ عہد کو یاد رکھنا چاہتا ہوں
ہے یہ ایک فرض سو نبھا نا چاہتا ہوں
زندگی کے سفر میں جو ہوا حاصل رئیسؔ
زندگی کو بہ احترام لوٹا نا چاہتا ہوں
 


پیشِ نظر کتاب ’وہ جو اب ہم میں نہیں‘ میں34 کالم و مضامین ہیں۔ آخری مضمون میراایک خواب ہے ۔ اس خواب میں مَیں مر جاتا ہوں، مرنے کے بعد کی کیفیت اور صورت حال کو دیکھتا اور محوس کرتا ہوں، قبر میں ہونے والے سوال و جواب اور پھر عالم بالا میں شاعروں ادیبوں اور اپنے عزیز رشتہ داروں اور آخر میں اپنی ماں سے ملاقات کی خواہش اور ان سے ملنے پر خواب کا اختتام ہوجاتا ہے۔ جن ادیبوں، شاعروں ، کالم نگاروں پر لکھے گئے مضامین و کالم کتاب کا حصہ ہیں ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
۱۔ میر تقی میرؔ۔ اردو غزل کے بے تاج بادشاہ
۲۔ غالبؔ ہر دور کا شاعر ہے
۳۔ استاذ الشعراافتخار الملک سید وحید الدین احمدبیخودؔ دہلوی
۴۔ اقبالؔ : ایک نابغۂ روزگار شخصیت
۵۔ بہادر شاہ ظفر: ایک شاعر ایک مطالعہ
۶۔ احسان دانش: میرے ہم وطن
۷۔ فیض احمد فیضؔکا 107واں یوم پیدائش
۸۔ عدمؔ اردو کے زود گو شاعر۔جدا ہوئے 37سال بیت گئے
۹۔ ناصرؔ کاظمی، ہماری ویب
۱۰۔ احمد فرازؔ۔خوبصورت خیالوں اور پر کشش لب ولہجے کا شاعر
۱۱۔ بانو قدسیہ ۔ اردو ادب کا درخشاں ستارہ
۱۲۔ حبیب جالب ؔ
۱۳۔ پروفیسر صابر لودھی بھی اﷲ کو پیارے ہوئے
۱۴۔ جوشؔ ملیح آبادی ۔ اردو کا پر جوش شاعر
۱۵۔ اسلم فرخی ’’پروفیسرڈاکٹر اسلم فرخی کا سفرِ آخر
۱۶۔ بابائے اردو ڈاکٹر مولوی مولوی عبدالحق
۱۷۔ پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق کو ثر بھی اﷲ کو پیارے ہوئے
۱۸۔ پرنسپل طاہرہ قاضی: بہادری ،فرض شناسی اور قربانی کی اعلیٰ مثال
۱۹۔ قرۃ العین حیدر ۔افسانہ وناول نگاری کی بادشاہ
۲۰ ۔ شفیع عقیل(شین عین)بہترین مبصر‘لوگ داستانوں کے امین
۲۱۔ منٹو: سعادت حسن منٹو۔
۲۲۔ جونؔایلیا کا خط انور مقصود کے نام۔عالم بالا سے
۲۳۔ مولانا حسرت موہانی
۲۴۔ دریاؔ لکھنؤی ۔شخصیت و شاعری
۲۵ ریاض ؔانصاری جیوری شاگرد ِ رشید نوح ؔ ناروی ۔ شخصیت و شاعری
۲۶۔ پروفیسر آفاق احمدبھوپالی ۔شاعر ، ادیب ، ماہر اقبالیات و غالبیات
۲۷۔ خواجہ حسن ثانی نظامی ؒسجادہ نشیں خواجہ نظام الدین اولیاؒکا سانحہ ارتحال
۲۸۔ فرمان فتح پوری کا سفر آخر
۲۹۔ مسعود احمد برکاتی ۔ مدیر ہمدرد نونہال
۳۰۔ محمد احمد سبزواری:کالم نگار محمد احمد سبزواری کی رحلت
۳۱۔ جنید جمشید: موسیقی سے پرہیزگاری اور شہادت
۳۲۔ سید انور محمود مرحوم : بے باک کالم نگار تھے
۳۳۔ اخترؔ جونا گڑھی کا سانحۂ ارتحال
۳۴۔ خواب کی باتیں:میرا مرنا، تدفین، سوال و جواب اور عالم بالا میں احباب سے ملاقات

کیوں کہ یہ کتاب ادیبوں اور شاعروں کی شخصیت و علمی ادبی کاوشوں کا احاطہ کرتی ہے اس لیے امید ہے کہ اس سے زبان و ادب کے طلبہ استفادہ کریں گے۔ کتاب کی اشاعت کا بار حسب سابق فضلی بک سپرمارکیٹ، اردو بازار، کراچی نے اٹھایا جس کے لیے میں جناب ساجد فضلی صاحب کا شکر گزار ہوں۔کئی سالوں سے یہ میری اکثر تصانیف کی اشاعتی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔ مصنف اور ناشر کا رشتہ بہت ہی اہم ہوتا ہے۔ مصنف اگر تخلیق کار ہے توناشراس تخلیق کو دنیا کے سامنے لانے کا موجب ہوتاہے۔اس طرح مصنف اور ناشر لازم و ملزوم کے رشتہ میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ (30مارچ2019ء)

Comments Print Article Print
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
06 May, 2019 Views: 1783

Comments

آپ کی رائے
Respected Sir. Very important and historical Research. Great
By: Arif Jameel, Lahore on Aug, 04 2019
Reply Reply
0 Like
Sir Congrates for your book woh Jo hum mae nahi.Will love to read this book about Adabi poets and Stories Writers which are still an asset to our Adab and will be followed by new Writers and poets to achieve something from there said words and poem versus.Allah bless you Sir for all your beautiful Writings.Ameen
By: Dr Tanvir Anwar Khan, Karachi on Aug, 02 2019
Reply Reply
0 Like