کمپیوٹر سے کینوس تک

(M Nazir Nasir, )

 تحریر : عبدالرؤف خان
انسانی طبعیت قدرتا حسن پسند ہوتی ہے خواہ وہ حسن صورت ہو یا حسن سیرت ہو اور رب ذوالجلال کو بھی حسن پسند ہے،چنانچہ ارشاد نبوی ﷺ ہیکہ:ان اﷲ جمیل ویحب الجمال،بیشک اﷲ پاک خوبصورت ہیں اور خوبصورتی کو پسند فرماتے ہیں۔خوش نویسی ایک ایسا حسن ہے جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور یہ حسن فن انسان کی مسلسل کوشش اور لگن سے تعلق رکھتا ہے لیکن عجیب بات یہ ہیکہ ہر کوشش کی انتہاء ضرور ہوتی ہے مثلا: انجینئر کا طالب علم محنت وکوشش کے بعد اپنی ڈگری حاصل کرلیتا ہے اور میڈیکل کا طالب علم کڑی محنت کے بعد ڈاکٹر بن جاتا ہے مگر خوش نویسی ایک ایسا بحر بہا ہے جسکی کوئی انتہاء نہیں جیسے کہ ایک فارسی شاعر نے کہا جسکا مفہوم ہیکہ! اگر آپ خوش نویس بننا چاہتے ہیں تو لکھتے رہیں،لکھتے رہیں اور لکھتے رہیں۔مگر اگر اسکے برعکس دیکھا جائے تو دورحاضر میں ٹیکنالوجی نے اتنی تیزی سے ترقی کی ہیکہ ہر شخص اسکا محتاج ہو گیا ہے خاص طور سے کمپیوٹر ،جو کہ ہر شخص کی ضرورت بن چکی ہے اور کیوں نہ ہو اسکے ذریعے سے بہت سے کام بہت ہی آسانی اور تیزی سے مکمل ہوجاتے ہیں مگر افسوس ہماری نوجوان نسل کی زندگیوں میں بھی اسکا کافی اثر نظر آرہا ہے اور بدقسمتی سے کمپیوٹر نے قلم و کتاب کی جگہ لے لی ہے جسکی وجہ سے بلعموم پوری دنیا میں تمام افراد اور بلخصوص طلباء میں خوش نویسی کا فقدان نظر آرہا ہے اور کمپیوٹر ٹائپنگ کو فوقیت دی جارہی ہے۔

لیکن آج بھی کئیں ممالک ایسے ہیں کہ جہاں سرکاری سطح پر (فن خطاطی) کے عالمی مقابلے منعقد کروائے جاتے ہیں اسی طرح کچھ لوگ انفرادی طور پر بھی اس فن کا مظاہرہ کرتے ہیں ،انہیں چند لوگوں میں ایک نیا ابھرتاہوا نام (محترمہ عروج خان صاحبہ ) کا ہے جنہوں نے حال ہی میں اپنے فن پاروں کی نمائشی پروگرام ترتیب دیا ہے ،یہ نمائشی پروگرام ۱،مئی ، ۲۰۱۹ کو بروز بدھ ،آرٹ کونسل آف پاکستان میں منعقد کروایا گیا جسمیں خطاطی کا ایک جدید رخ پیش کیا گیا جسکو محترمہ عروج نے (Digital Arabic Calligraphy) کے نام سے متعارف کروایا ۔ ان فن پاروں کی خصوصیت یہ تھی کہ یہ قلم اور کمپیوٹر دونوں کا مجموعہ تھے ،باوجود اسکے ان فن پاروں میں کسی بھی قسم کا عربی فونٹ اور خطاطی سے منسلک سافٹ وئیر استعمال نہیں تھا بلکہ یہ خالص طور سے محترمہ کا ایک تخلیقی کام تھا جو کہ فن خطاطی کو ایک نئی جانب گامزن کر رہا ہے اور یہ فن پارے ہر لحاظ سے لاجواب ہیں ۔ اس پروگرام میں آنے والے تمام مہمان ان فن پاروں کو دیکھ کر نہ صرف انکی دادرسی کرتے بلکہ ان کو اپنے گھر کی ذینت بنانے کے بھی خواہش مند تھے۔ اس پروگرام کا مقصد نہ صرف فن پاروں کی نمائش تھی بلکہ ہماری نوجوان نسل میں خوش نویسی کا رجحان پیدا کرنا ہے اور فن خطاطی کو ایک جدید طریقے سے پیش کرنا ہے۔

ہماری دعاء ہے کہ اﷲ پاک عروج کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اس محنت کا ان کو اپنی شایان شان بدلہ عطا فرمائے،لیکن یہ ایک عروج یا اس جیسے چند افراد کا کام نہیں جوفن خطاطی کو کمپیوٹرسے کینوس تک لائے اور اس کام کو لوگوں میں پھیلائے بلکہ ضرورت اس امر کی یہ ہیکہ ہم اس میدان میں اترے اور اپنے اپنے حصے کا کام سر انجام دیں کیونکہ یہ فن ہمارے مسلمان معاشرے کی عکاسی بھی کرتا ہے اور تاریخ بھی بیان کرتا ہے جس نے مسلمانوں کی تہذیب وتمدن پر بھی گہرا اثر چھوڑا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Nazir Nasir

Read More Articles by M Nazir Nasir: 7 Articles with 2659 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 May, 2019 Views: 833

Comments

آپ کی رائے