تھائی لینڈ کے کرنسی اور لوگوں کی صفائی کی عادت

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
تھائی لینڈ کے مقامی لوگ اپنے ملک کی تیار کردہ اشیاء ہی استعمال کرتے ہیں جس کا اندازہ یہاں پر آکر ہواچھوٹی سے چھوٹی چیز بھی مقامی طور پر تیار ہوتی ہیں اور چھوٹے بڑے جنرل سٹور پر دستیاب ہیں جسے عام لوگ خوشی خوشی لیتے ہیں. اب اس کے مقابلے میں اگر بہتر چیز بھی غیر ملکی کمپنی کا بنا ہوا ہو تو اسے مقامی لوگ نہیں خریدتے. تھائی لینڈ کے بازار میں پینے کے پانی کے تیار بوتلوں سے لیکر چپل اورخوراک کی مختلف اشیاء لوگ زیادہ خریدتے ہیں. مقامی لوگوں سے جب میں نے سوال کیا کہ غیر ملکی چیز تو اس سے بہتر ہوتی ہیں تو ہنس کر اپنی ملک کی تیار کردہ چیزوں کو لیکر کہتے ہیں its good. الیکٹرانکس کی اشیاء دیکھ لیں. تھائی لینڈ کی لوگوں کی اچھی باتیں یہی ہیں اپنے ملک کی اشیاء کو خریدتے ہیں جس سے مقامی صنعتوں کو فروغ ملتا ہے.

تھائی لینڈ کے مقامی لوگ اپنے ملک کی تیار کردہ اشیاء ہی استعمال کرتے ہیں جس کا اندازہ یہاں پر آکر ہواچھوٹی سے چھوٹی چیز بھی مقامی طور پر تیار ہوتی ہیں اور چھوٹے بڑے جنرل سٹور پر دستیاب ہیں جسے عام لوگ خوشی خوشی لیتے ہیں. اب اس کے مقابلے میں اگر بہتر چیز بھی غیر ملکی کمپنی کا بنا ہوا ہو تو اسے مقامی لوگ نہیں خریدتے. تھائی لینڈ کے بازار میں پینے کے پانی کے تیار بوتلوں سے لیکر چپل اورخوراک کی مختلف اشیاء لوگ زیادہ خریدتے ہیں. مقامی لوگوں سے جب میں نے سوال کیا کہ غیر ملکی چیز تو اس سے بہتر ہوتی ہیں تو ہنس کر اپنی ملک کی تیار کردہ چیزوں کو لیکر کہتے ہیں its good. الیکٹرانکس کی اشیاء دیکھ لیں. تھائی لینڈ کی لوگوں کی اچھی باتیں یہی ہیں اپنے ملک کی اشیاء کو خریدتے ہیں جس سے مقامی صنعتوں کو فروغ ملتا ہے.

ایک ہم پاکستانی لوگ ہیں برانڈ کے نام کی چیزوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں.بات کہاں سے کہاں تک جارہی ہیں کچھ عرصہ قبل ہمارے ایک دوست کی دکان جو کے کباڑ کے شوز کا کام کرتے ہیں نے ایک مشہور برانڈ کی شوز میرے آگے کردی کہ یہ لے لو اچھی چیز ہے. میں نے قیمت پوچھی تو کہنے لگے کہ تین ہزار روپے میں مل سکتی ہیں جبکہ اس کی اصل قیمت پندرہ ہزار روپے ہیں. میں نے کہہ دیا کہ میں نے اس کے نام کو چاٹنا تھوڑی ہے تین ہزار میں لوکل اچھی چیز مل سکتی ہیں تو وہ دوست میرے اوپر ہنسنے لگا کہ تمھیں برانڈ کا کیا پتہ..اسی برانڈ کے چکرمیں ہم نے اپنی ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا مقامی صنعتوں میں بننے والی کوئی چیز ہمیں پسند نہیں آتی. حالانکہ وہی چیز جب باہر سے کسی غیر ملکی لیبل سے پاکستان میں لائی جاتی ہیں تو ہم لوگ بڑے خوش ہو کر خریداری کرتے ہیں جو کہ افسوسناک بھی ہے اور ساتھ میں ہماری غلام ذہنیت کی عکاسی بھی کرتی ہیں -سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ ہماری احساس برتری ہے یا احساس کمتری لیکن اپنے ملک کی تیار کردہ اشیاء کی ہمارے ہاں بالکل ویلیو نہیں جبکہ اس کے مقابلے میں تھائی لینڈ کے لوگوں میں اپنے ملکی اشیاء کی قدر زیادہ ہے-

تھائی لینڈ کے لوگ کاروبار کے حوالے سے بہت ہوشیار ہیں -ہمارے ہاں لوگ کرنسی کو روپے بولتے ہیں وہاں پر اسے بھات کہا جاتا ہے ایک عجیب بات جو کہ عجیب سی بھی ہے کہ ایک بھات سے لیکر دو بھات‘ پانچ بھات او دس بھات کے سکے بھی ہیں اور ساتھ میں کرنسی نوٹ بھی. جو ہر جگہ قابل قبول ہیں اور ہر جگہ پر استعمال ہوتے ہیں خریداری آپ چھوٹے سے بازار میں کررہے ہیں یابڑ ے جنرل سٹور پر کاغذ کے بنے بھات یا سکے ہرکوئی لیتا ہے اور اس پر کوئی ناک نہیں چڑھاتا. جیسے کہ ہمارے ہاں کسی کو سکے دو تو جواب ملتا ہے کہ یہ کیا ریزگاری دے رہے ہو نوٹ دو.

بات تھائی لینڈ کے لوگوں کے کاروبار کے حوالے سے ہورہی ہیں آپ جہاں سے بھی خریداری کریں دکاندار خریداری کے بعد لازما خریداری کرنے والے کو شکریہ کہے گا.ایک دو دفعہ ہوٹل سے نکلنے کے بعد میں نے چاکلیٹ کی خریداری کی تو سیلز گرل نے سر جھکا کرشکریہ ادا کیا. عجیب سا لگا کہ میں نے اتنی خریداری نہیں کی لیکن اس نے شکریہ ادا کیا جوابا میں نے بھی شکریہ ادا کیا اور باہر نکل آیا.یہی سلسلہ بڑے سے بڑے جنرل سٹور پر بھی آپ کو تھائی لینڈ میں ہر جگہ دیکھنے کو ملے گا.

بنکاک کے سیر کے دوران جس چیز نے مجھے ذاتی طور پر سب سے زیادہ متاثر کیا وہ تھائی لینڈ کے لوگوں کی صفائی کی عادت ہے. سڑک کنارے ریڑھی پر فروٹ سے لیکر گوشت جس میں بیشتر سور کا ہوتا ہے فروخت ہوتا ہے لیکن کہیں پر گندگی کے ڈھیر نظر نہیں آتے. جس طرح ہمارے ہاں ریڑھی پر کیلے فروخت ہوتے ہیں لوگ آکر لیتے ہیں اور یہی گند اسی ریڑھی کے سائڈ پر گرا دیتے ہیں نہ تو خریداری والے کو عقل ہے اور نہ ہی ہی فروخت کرنے والا اس بات کی فکر کرتا ہے کہ جس جگہ پر وہ کھڑا ہے وہ گندی ہورہی ہیں. نتیجہ شام کو یہ نکلتا ہے کہ ریڑھی والا اپنی دکانداری تو کر جاتا ہے لیکن گندگی کے ڈھیر پیچھے چھوڑ جاتا ہے.اب اس کے مقابلے میں بنکاک کے روڈوں پر کھڑے ریڑھی بانوں کو دیکھ لیں کہ جو بھی چیز فروخت کررہے ہوں اسی چیز کے گند رکھنے کیلئے سائیڈ پر علیحدہ شاپنگ بیگ رکھا ہوتا ہے آپ بھلے سے خریداری کریں یا کھڑے کھڑے کھالیں گندگی آپ نے لازمی اسی شاپر میں ڈالنا ہے. نہ مچھر نہ مکھیاں اور نہ ہی گند. ڈسپلن انہی لوگوں کے زندگی میں ہے. ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور صفائی نصف ایمان ہے لیکن ہمارا آدھا ایمان کہاں پر ہے. اس کا اندازہ ہر کوئی اپنے عادتوں سے کرلیں.

تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں سیر کے دوران جس چیز نے متاثر کیا وہ عام شہری کو حاصل حقوق ہے اگر آپ سڑک کراس کررہے ہیں اور جیسے ہی آپ نے سڑک کے مخصوص لائن پر جہاں پرپیدل چلنے والوں کیلئے مخصوص نشانات ہیں پاؤں رکھ دیا تو گاڑیاں روک جاتی ہیں اور یہ اسی وقت تک رکی ہوتی ہیں جب تک مسافر اسی لائن پر رواں دواں ہوتے ہیں اور یہ عمل مقامی لوگوں سمیت سیاحوں کیلئے بھی ہے کسی کار والے کو جلدی نہیں ہوتی کہ ہارن پر ہارن بجا رہا ہے کہ جلدی سے سڑک خالی کرو ہم نے جانا ہے.اسی کے مقابلے میں ہم اپنے ارد گرد دیکھ لیں.جو پیدل چلنا والا شخص ہے اس کی تو کوئی اوقات ہی نہیں اسی کے مقابلے میں سائیکل والا اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھ رہا ہے اورپیدل چلنے والے کو الو کا پٹھا‘ اسی کے مقابلے میں موٹر سائیکل والا سائیکل والے کو کم تر سمجھ رہا ہے‘ یہی صورتحال موٹر کار والے کی موٹر سائیکل والے کیساتھ ہیں ہمارے ہاں جیسے جیسے گاڑی بڑی ہوتی ہیں اسی مقابلے میں ہم دوسروں کو کمتر سمجھتے ہیں.

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 273 Print Article Print
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 272 Articles with 123574 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More

Reviews & Comments

Language: