آؤ حکومت گراؤ!!!

(Prof Muhammad Khursheed Akhtar, Islamabad)

حسن نثار اکثر کہا کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے اور ملک کا مسئلہ اقتصادی زبوں حالی نہیں ہے بلکہ اخلاقی زوال ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اسی اخلاقی طاقت پر کھڑے ہیں۔کم از کم اپنے ملک ،معاشرے کو سچ،انصاف،انسانیت اوراخوت کے رشتے سے پروان چڑھانے میں ایک نمونہ بنتے ہیں۔ھم من حیث القوم اخلاقی زوال کا شکار ہیں۔سیاست تو اخلاقی گراوٹ کی علامت بن چکی ھے۔ابھی حکومت کو نو ماہ کا عرصہ ھوا ھے اور دعوت افطار مریم نواز اور بلاول بھٹو کے ایک صفحے کا ملاپ وجود پذیر ھونے کے لیے بے تاب ہے۔حکومت نے نو ماہ میں معیشت تباہ کر دی ذرہ اخلاقی جرات کریں اور بتائیں کہ آپ نے ڈالر،مہنگائی بے تحاشا قرضوں اور مافیا کو تحفظ اور چوری کے طریقے سیکھانے کے لیے کیا کیا کچھ نہیں کیا۔یہی نو ماہ کا گند ھوتا تو دوڑ کے صاف کیا جا سکتا۔لیکن اے خدا وندا نے معیشت و سیاست 35 سال کی باریوں نے عوام کو سوائے رسوائی،اخلاقی تباہی،کرپشن کا مضبوط نیٹ ورک اور بیوروکریسی کا غیر پیشہ ورانہ اور مفاد پرستی پر مبنی اسٹیٹس کو بلند وبالا فصیلوں کے ساتھ کس نے تعمیر کیا ھے۔عمران خان کی غلطیاں اپنی جگہ اور وہ اصلاحات کا بیڑا اٹھا رہا ھے تو غلطیاں کر رہا ہے۔اپ نے تو ملک کا کوئی طبقہ،کوئی ادارہ ایسا نہیں چھوڑا جس کا منہ کرپشن کے بغیر بند ھوتا ھو،ہاں سیاسی استحکام معیشت کے لئے ضروری ہے مگر کیا اس لیے کہ آپ سے حساب نہ لیا جائے۔یہ کون سا اخلاقی معیار ھے آپ کا کہ کل عمران زرداری بھائی بھائی اور آ ج مریم،بلاول اور ھمزہ بھائی۔اس کا مطلب ہے کہ عمران خان درست کہہ رہا تھا کہ تم خاندانی نظام اور سیاست کے پردے میں ایک ھو۔کیا حسین لوائی،ٹی ٹی انتقال قومی دولت کا باب بند کر دیا جائے تو جواری اسٹاک مارکیٹ اور ڈالر میں استحکام پیدا کر دیں۔؟ کیا گروی رکھے ادارے چھوڑنا جرم ھے۔کھربوں کا قرض فالٹ لائن سے نکالنا اور وآپس کرنا جرم ھے۔اداروں کو پاؤں پر کھڑا کرنا منافع بخش بنانا۔ڈیمز پر کام کا آغاز کرنا سرمایہ کاری اور تجارتی خسارے کوکم کرنا،غلط کام ھے۔اپ کی بیرونِ ملک دولت کو بے نقاب کرنا عوام سے زیادتی ھے۔ھاں مہنگائی۔ڈالر میں اضافہ جرم تو ھے لیکن یہ آ پ کے مافیا کی آ خری جبکہ ھے جس کو سہارا دینے کے لیے آ پ اکٹھے ھو نے جا رھے ھیں مگر پھر بے نقاب ھو جائیں گے۔کم از کم تین سال آ پ حکومت کو ختم کرنے کا تحریک چلانے کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہیں رکھتےآ پ کے پاس کچھ نہیں ھے 58 فیصد نوجوان آ پ کا وراثتی سیاسی گٹھ جوڑ اور جمہوریت سے عاری پارٹی سسٹم نہیں چلنے دیں گے۔نواز شریف صاحب کو ایک اور باغی۔ھمدردی۔اور دوسرے کو شاید کسی بڑی "شفقت" کی ضرورت ہے۔بہتر ھے کہ ذات سے نکل کر ملک کی سیاست کریں شاید مریم نواز اور بلاول بھٹو کا چانس بن جائے ورنہ اس سے خطرناک منظر آ پ کے لئے تیار ھے-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 157 Print Article Print
About the Author: Prof Muhammad Khursheed Akhtar

Read More Articles by Prof Muhammad Khursheed Akhtar: 20 Articles with 4831 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: