پوسد میں للن اور کلن

(Dr Salim Khan, India)

پوسد ٹائمز کے مدیر للن خان ایکزٹ پول کے سامنے سر پکڑ کر بیٹھے تھے کہ رپورٹر کلن ان کے کمرے میں داخل ہوکر بولا صاحب آ پ دفتر میں اداس بیٹھے ہیں اور باہر جشن منایا جارہا ہے۔
للن نے حیرت سے کہا ابھی سے جشن ؟ ارے بھائی پولس کو فون کرو کہیں فساد نہ ہوجائے۔
کیوں ! اس میں فساد کیا بات ہے؟
ارے بھائی سیاسی جشن میں اشتعال انگیز نعروں کےسوا ہوتا ہی کیاہے؟ پھر اس کا ردعمل سامنے آئے تو فساد ہوجاتا ہے۔
جی نہیں جناب یہ غیر سیاسی جشن ہندو مسلمان مل کر منارہے ہیں ۔
اچھا؟ للن نے پھر سوال کیا وہ کیوں ؟؟
وہ اپنے محلے کے امام صاحب حافظ مجیب الرحمٰن کو اکولہ کی خصوصی عدالت نے باعزت بری کردیا ہے۔
وہی نا جنہیں٢٠١٥؁ میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر چاقو زنی کی واردات کے بعد اے ٹی ایس نےگرفتار کیا تھا ۔
جی ہاں اوران کے ساتھ گرفتار ہونے والے بے قصور نوجوان شعیب خان کو بھی رہائی نصیب ہوئی ۔ اللہ نےرمضان میں دو دونوں کی دادرسی فرمائی۔
للن نے کہا مجھے تو پہلے دن سے یقین تھا کہ مولانا مجیب الرحمٰن پر اشتعال انگیز تقریر کرنے اور تشدد میں ملوث ہونے کا الزام بے بنیاد ہے ۔
کلن بولا ارے صاحب شعیب خان تو میرا ہم جماعت تھا۔ وہ کبھی بھی اس طرح کی کارروائی میں ملوث نہیں ہوسکتا مگربلا وجہ اس کو پھنسا دیا گیا ۔
لیکن یہ سب ہوا کیسے ؟للن نے پوچھا
اے پی سی آر کے ایڈوکیٹ علی رضا خان نے نہایت منظم انداز میں بیباکی کے ساتھ پیروی کرتے ہوے سارے الزامات کو غلط ثابت کردیا ۔
یہ تو بڑی اچھی بات ہے میری رائے تو یہ ہے کہ اب اے پی سی آر کو ان افسران پر پنجہ کسنا چاہیے کہ جنہوں یہ جھوٹے الزامات لگائے تھے ۔
جی ہاں اس کے بغیر ایسی وارادات پر لگام نہیں لگے گی لیکن یہ کیا؟ ساری قوم ایکزٹ پول میں کھوئی ہوئی ہےاورآپ ملیشیا کی خبر دیکھ رہے ہیں ؟
جی ہاں کلن اس ہیجان میں ایک اہم خبر سب کی نظروں سے اوجھل ہو گئی ۔
کلن نے چونک کر پوچھا اوہو کون سی خبر ؟
وہی رافیل لڑاکا جہازوں کے اچانک اترنے پر مجبور ہونے کا سماچار۔
اوہو یہ کیسے ہوسکتاہےصاحب کہ رافیل کا جہاز اترےتو اس کا سواگت کرنے کے لیے پردھان سیوک نہ جائیں اور میڈیا پیچھے رہ جائے۔
وہ تو مجھے بھی معلوم ہے لیکن رافیل کا وہ جہاز احمد آباد میں تھوڑی نا اترے کہ مودی جی اس کا سواگت کریں ۔ان کو تو ملیشیا میں اترنا پڑ گیا۔
ملیشیا میں؟ ارے وہ وہاں کیسے پہنچ گئے؟ ڈیسالٹ نے غلط پتہ پر بھیج دیا تھا کیا ؟ یہ تو غلط بات ہے کہ بدنامی اٹھا کر خصوصی قیمت پر جہاز ہم خریدیں اور انہیں کہیں اور پہنچا دیاجائے ۔ یہ تو بہت بڑی ناانصافی ہے ۔
ارے بھائی کلن ملیشیا والے ایسے بیوقوف تھوڑی نا ہیں جو اتنا مہنگا جہاز خرید لیں ؟
تو کیا آپ اپنے پردھان سیوک کوکم سمجھتے ہیں ۔ وہ توانل امبانی کے ڈوبتے جہاز ڈوبتے جہاز کو سنبھالنے کی خاطر انہوں نے یہ سودہ کرلیا
لیکن انل تو پھر بھی دیوالیہ ہوگیا ۔
کلن بولا اب مودی جی کوشش ہی تو کرسکتے ہیں ۔ کسی قسمت کیسے بدل سکتے ہیں؟
جی ہاں مجھے بھی اندازہ ہے کہ کسی گجراتی سے بہتر مول بھاو کو ئی اورنہیں کرسکتا ہے ؟
کلن نے سوال کیا ملیشیا نے اگرجہاز خریدے ہی نہیں تو کیا رافیل کے جہاز وہاں کسی سرجیکل اسٹرائیک کے لیے گئے تھے؟
ایسی بات نہیں ۔ وہ تو اپنے بحری بیڑے میں مشق کررہے تھے ۔
تو کیا کوئی قزاق انہیں اغواء کرکے ملیشیا لے گیا؟
جی نہیں بادل ، بارش میرا مطلب ہے موسم کی خرابی کے سبب ان کو اترنے پر مجبور ہونا پڑا ۔
ارے یہ کیسا جہاز خرید لیا اپنے پردھان سیوک نے جو بادل بارش کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتا؟ لیکن ملیشیا نے اپنے علاقہ میں پرواز پراعتراض نہیں کیا؟
نہیں کیا کیونکہ نیول کمانڈر عارف نے راڈار کی مدد سے دیکھ کرپتہ لگا لیا کہ وہ جہاز ملیشیائی سمندری حدود سے ۱۰۰ میل دور مشق کررہے تھے۔
لیکن مودی جی تو کہتے ہیں کہ بادلوں کو چیر کر رڈار کی آنکھ جہاز کو نہیں دیکھ سکتی پھر ان لوگوں نے کیسے دیکھ لیا ؟
ارے بھائی پاکستان کے رڈار بادلوں میں ہندوستانی جہاز کو نہیں دیکھ سکتے ۔اب نہ تو وہ جہاز ہندوستانی ہے اور نہ رڈار پاکستانی ! کیا سمجھے؟
سمجھ گیا لیکن پھر کیا ہوا؟
ملیشیا والوں نے اسکندر مدا ائیر بیس پر اتارنے کے بعد فوجیوں کی تلاشی لی۔ چونکہ ان میں سے کوئی ہتھیار سے لیس نہیں تھا اس لیے اجازت دے دی ۔
ارے وہ تو بڑے بیوقوف نکلے ۔ اتنا کچھ ہوگیا اور کوئی سیاست نہیں کی؟
ارے بھائی جب حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے تو سیاسی تماشے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ وہاں یہ معاملہ ہی نہیں ہے۔
تو کیا فرانسیسی حکومت نے اس حسن سلوک کے عوض ملیشیا کو ایک آدھ جہاز تحفہ میں دے دیا ؟
جی نہیں اس تنگدل قوم سے یہ توقع کرنا عبث ہے ۔ جب موسم ٹھیک ہوا تو سات میں پانچ جہاز لوٹ گئے ۔
اور دو کیوں نہیں لوٹے ؟
اس لیے کہ ان کو مرمت کی ضرورت لاحق ہوگئی ۔
بھئی کمال ہے یہ تو بڑا نازک مزاج طیارہ نکلا۔ ذرا سا بھیگنے پر زکام ہوگیا ۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن سوچواگر ہمارا رافیل موسم کی خرابی کے سبب غلطی سے پاکستان کے حدود میں داخل ہوجائے تو کیا ہوگا ؟
کچھ نہیں وہ پاکستانی رڈار کو نظر ہی نہیں آئے گا ۔
ایسے میں وہ ایمرجنسی لینڈنگ کی اجازت کیسے لے گا؟ اس لیے کہیں جل سمادھی اس کا مقدر نہ بن جائے؟
جی نہیں کلن انتخاب کے بعد دوبارہ ہند پاک تعلقات سدھر جائیں گے اور وہ ابھینندن کی مانند بلا اجازت اترنے کے باوجود لوٹا دیئے جائیں گے ۔
کلن نے سینہ پھلا کر کہا اورہمارے پردھان سیوک مودی سے پاکستان ڈرتا بھی تو ہے؟
للن نے مسکرا کر پوچھا اگر ایسا ہے تو ڈرا دھمکا کر کلبھوشن جادھو کو چھڑا کیوں نہیں لیا جاتا؟
کلن لاجواب ہوگیا اور بولا صاحب رافیل کی اڑان سے نکل کر باہر آئیں اور یہ پوسد کے جشن کی تصاویر دیکھیں ۔
جی ہاں کلن، کل اپنے اخبار کی شاہ سرخی یہی ہوگی اور یہ تصویریں صفحۂ اول کی زینت بنیں گی ۔
ٹھیک ہے سرمیں خبر بنا تا ہوں۔
للن نے کہا اورہاں یہ لو اے پی سی آر مہاراشٹر کے صدر اسلم غازی کانمبر ان سے رابطہ کر کے تاثرات ضرور شامل کرنا ۔
سر آپ ان کو کیسے جانتے ہیں؟
وہ بہت بھلے آدمی ہیں۔ پوسدمیں ان کا آنا جانا رہاہے ۔ اب جلدی سے خبر بناکر مجھے دکھاو۔ کیا سمجھے؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 116 Print Article Print
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 709 Articles with 214199 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: