پاکستان ،ایران اور سعوی عرب کے لیے لمحہ فکریہ ۔

مشرقِ وسطیٰ کے بگڑتے ہوئے حالات 90کی دہائی کی طرح دھکیلے جا رہے ہیں ایک طرف تو امریکہ نے ایران سے جوہری معاہدے سے روح گردانی کر کے اس کے خلاف تجارتی پابندیاں نافز کر دی ہیں تو دوسری طرف امریکہ نے اپنا دوسرا بحری بیڑا ابراہم لنکن کو B52بمبار جہازوں کے خیلج فارس بھیج دیا جو کہ بڑی آب و تاب سے اپنا جنگی ماحول بنائے ہوئے ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ ہر گز نہیں چاہتے۔آج ایران کے سپریم لیڈر نے بھی اپنے جرنیلوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ایران کی کتنی بھی مخالفت ہو جائے ان کے درمیان جنگ نہیں ہو گی اور پہلی بار ایران میں اہلسنت الجماعت کے اکابرین سے سپریم لیڈر کہتے ہیں کہ ہم سب نے مل کر انقلاب لایا ہے امریکی بحری بیڑے کے آنے کے بعد سپریم لیڈر کا اہلِ سنت الجماعت سے ملنا معنی خیز ہے ایران میں یہودی وزیر اور ڈئریکٹر جنرل بن سکتا ہے لیکن اہل سنت نہیں بن سکتا جو کہ ایران کے لئے سوالیہ نشان ہے۔اسی ہفتے امریکہ نے ایران کی چاہ بہار بندر گاہ کو امریکی پابندیوں سے استثنی دے دی ہے۔دونوں ملکوں کے لیڈر یہ دعوے کر رہے ہیں کہ ان کے درمیان کبھی بھی جنگ نہیں ہو گی تو پھر یہ راتوں رات بحری بیڑا کس مقصد کے لئے خلیج فارس میں بھجوایاگیا۔دومہینے پہلے امریکہ نے اپنے تھاڈ میزائل رات و رات اسرائیل پہنچائے اتنی عجلت میں شاید اسرائیل پر کسی نے جنگ مسلط کر دی ہو۔ اسی ہفتے فجیرہ میں سعودی جہازوں پر حملہ ہوا اور بحرِ احمر پر واقع ینبع میں آئیل فیلڈ پر ڈرؤن سے حملے بھی ہوئے اور اسی ہفتے سوڈان کے صدر بشیر کا تختہ الٹ دیا گیا۔ اور اسی ہفتے بلوچستان میں دہشت گردی کی ایک لہر نے علاقے کو لپیٹ میں لے لیا۔گزشتہ دو سالوں سے اسرائیل نے شام پر کئی فضائی حملے کئے لیکن ایران نے اسکا کوئی جواب نہیں دیا۔ ہماری پاکستانی قوم اکثر یہ سوال اٹھاتی ہے ویسے تو ایران یوم بیت القدس بھی مناتا ہے لیکن اسرائیل کے خلاف اس نے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جب خلیج کی جنگ میں عراق نے اسرائیل پر 52سکڈ میزائیل داغے تھے تو بھی ایران نے اس حملے کی حمایت نہیں کی تھی۔اگر ایران امریکہ کو اپنا اتنا ہی دشمن سمجھتا ہے تو جب امریکہ نے پچھلے سال شام کی کیمیائی لیبارٹری تباہ کی تھی تو اس وقت اس کی فوج حرکت میں کیوں نہیں آئی۔اِس وقت پاک چائینہ اقتصادی راہداری منصوبہ پوری قوت کے ساتھ رواں دواں ہے ۔ سعودی عرب نے بھی گوادر میں ریفائنری کے لئے جگہ لینے کی کوشش شروع کر دی ہے اور وہاں تقریباً دس ارب ڈالر کی ریفائنری لگنی ہے جس میں لاکھوں بیرل کروڈ آئیل صاف ہو گا۔ گوادر کی 60کلومیٹر ساحلی پٹی بہت گہری ہے جہاں بڑے سے بڑے جہاز لنگر انداز ہو سکیں گئے جو کہ خطے کی سب سے گہری بندر گا ہ ہے۔امریکہ چائینہ کو گوادر میں کامیاب نہیں دیکھنا چاہتا ۔بے شک ایران نے 65کی جنگ میں پاکستان کی مدد کی اور سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم بھی کیا لیکن اب اس کی وا بسطگی بھارت کے ساتھ زیادہ ہو گئی ہے جس کی وجہ سے ایران نے اپنے پڑوسی اور برادر ملک پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو چاہ بہار کی بندر گاہ دے دی جہاں وہ بیٹھ کر پاکستان کے خلاف شب و روزساز باز کر رہا ہے جس کی ریاستِ پاکستان اور عوام میں پریشانی پائی جاتی ہے۔ عمان نے ابھی اپنی ایک بندر گا ہ دقم کا حصہ بھارت کو دے دیا جو کہ پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ حالیہ دنوں ایران سے دہشت گرد گوادر آئے اور پاکستانیوں کا قتلِ عام کر کے واپس چلے گئے اس کا سوال اکثر لوگ اٹھاتے ہیں یہ سب کڑیاں یا تو پاکستان کے خلاف کوئی بڑا محاز کھولنے کے لئے ہیں یا پھر سعودی عرب جو کہ عالم اسلام کا ایک بڑا ملک ہے جس کی اکثریتی آبادی سنی ہے البتہ مشرق میں خطیف میں اور جنوب میں نجران میں اہلِ تشیع بستے ہیں ۔نجران کا علاقہ سعودیہ کا بہت بڑا علاقہ ہے اور انہیں الیامی کہتے ہیں سعودی عرب کی یہ خصوصیت ہے وہاں تمام شہریوں کو یکساں شہری حقوق حاصل ہیں لیکن امریکہ انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔۔ سعودی عرب اور ایران کی کوئی مشترکہ سرحد نہیں ہے اس کے باوجود ان دونوں برادر اسلامی ممالک میں دہائیوں سے ناراضگی چلی آرہی ہے ایک طرف تو ایران پرشدید پابندیاں ہیں تو دوسری طرف اسرائیل کو شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دیا گیا ہے اورگریٹر اسرائیل خلیج میں اپنے پر پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی فوج میں اسرائیلی فوجی بھی ہوتے ہیں جو کہ اپنے آپ کو امریکی کہتے ہیں۔یہ فوجی ان علاقوں میں اپنی منصوبہ بندی کر رہے ہوتے ہیں اِس وقت امریکہ ایشیاء اور مشرقِ وسطی سے اپنی حمایت کھو چکا ہے اب وہ دوبارہ 1991کی طرح جنگی حالات پیدا کر کے یہاں اپنے مستقل اڈے قائم کرنا چاہتا ہے۔اب وہ اپنی جگہ بنانے کے لئے یا تو پاکستان کے سی پیک کو سبوتاژ کر نے کوشش کرے گا یا پھر ایران اور سعودیہ کو آپس میں لڑا کر وہاں بیٹھنے کی کوشش کرے گا۔کوئی مسلمان نہیں چاہتا کہ مسلمانوں کی طاقت مسلمانوں پر ضائع ہو۔سعودی ولی عہد بہت سمجھدار اور ایرانی صدر فہم و فراست والے ہیں وہ کبھی بھی نہیں چائیں گئے کہ ان کا پیسہ جنگ میں تباہ ہو۔ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا تجارتی حب دبئی ہے جو کہ ایران کے باکل سامنے ہے اور فائرنگ رینج پر ہے دوسرا دنیا کا زیادہ تر تیل مشرقِ وسطہ سے نکلتا ہے اگر جنگ سعودیہ ایران یا امریکہ ایران کے ساتھ ہوئی تو پورا مشرقِ وسطہ متاثر ہو گا ۔ خاص کر پاکستان جس کا تقریباً تیس لاکھ آ دمی برسرِ روزگار ہے۔ اسی طرح خطے میں بھارت کے بھی ساٹھ لاکھ سے زیادہ آدمی بر سرِ روزگار ہیں۔ جنگ کی صورت میں بہت بڑا معاشی بحران پیدا ہو گا۔اس صورتِ حال میں ایک طرف تو استعماری قوتوں کی سازشیں ہمارے سامنے ہیں وہیں ان کو روکنا بھی ہمار ا فرض ہے۔پاکستان کو چین اور روس کو اس صورتِ حال کے حوالے سے اعتماد میں لینا چایئے اور اگے بڑھ کر ثالثی کا کردار ادا کرنا چایئے جس طرح طالبان اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستان عالمِ اسلام کی واحد سپر پاور ہے اور اگر اپنے پورے قد کے ساتھ کھڑا ہو جائے توہمیں امید ہے کہ یہ معاملات بطریق احسن طے پائیں گئے۔تعلقات میں اتار چڑاو ضرور رہتا ہے لیکن پڑوسی اور بھائی کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔ نشیب و فراز کے باوجود ایران کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہونے چایئے۔یہ ہمارے دونوں برادر ملکوں کی خارجہ پالیسی میں خامی رہی ہے کہ سات دہائیوں سے معاشی تعلقات ہونے کے باوجو د ایک دوسرے کے ملکوں میں اپنے بنک نہیں کھولے ۔مشرقِ وسطہ میں اگر ایک دفعہ دوبارہ امریکہ نے اپنے اڈے بنا لیئے تو آنے والے وقتوں میں سعودی عرب کیلئے شدید مشکلات پیدا کر سکتی ہے جس کا اظہار امریکی ڈیفنس میگزین جرنل میں کرنل رائف پیٹر نے "2006بلڈ بارڈر ـ" (خونی سرحدیں)کے نام سے جو نقشہ جا ری کیا۔ جس کی تمام مسلمانوں کو مزہمت کرنی چایئے ۔ اس میں آزاد بلوچستان، آزاد کردستان اور خاکمِ بدھن سعودی عرب کے بھی ٹکڑے دکھائی دیئے گئے۔ دن بدن پاکستان پر بڑھتا معاشی دباؤاور عدم استحکام اور اداروں کے خلاف نفرت استعماری قوتیں ایسا ماحول پیدا کر رہی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان اپنے داخلی معاملات میں الجھا رہے اور اپنا کوئی کلیدی اور تاریخی کردار ادا نہ کر سکے۔ مشرقِ وسطہ اور پاکستان کے پاس یہ قیمتی وقت ہے کہ وہ اپنی عوام کو متحد منظم اور متحرک کریں اور ان تمام قوتوں کے خلاف مزہمت کریں جو عالمِ اسلام میں تفریق اور عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہیں۔پاکستان کو اب west look پالیسی کی بجائے east lookپالیسی اپنانی ہو گی۔ ختم شد
 

Muhammad Abdullah Hameed Gull
About the Author: Muhammad Abdullah Hameed Gull Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.