فوج کی عزت ‘حفاظت اور تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)

 آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق خرقمر چیک پوسٹ پر حملے کا مقصد گذشتہ روز گرفتار کیے جانے والے مبینہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑوانے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ چیک پوسٹ میں موجود اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس پر اہلکاروں نے اپنے تحفظ کی خاطر جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں 4 فوجی جوان زخمی اور ایک شہید ہوگیا جبکہ جوابی کارروائی میں حملہ آور گرو ہ کے 3 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔ علی وزیر سمیت 8 افراد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ محسن جاوید داوڑ ہجوم کی آڑ میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اس واقعے پر شہباز شریف نے کہا بندوقوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے،اپنے گھر میں لڑائی، فساد اور افراتفری کا دشمنوں کو فائدہ ہوگا۔جمعیت علماء اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جمہوری دنیا میں لوگوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے، انہیں اس سے روکنا اشتعال اور شدت کو جنم دیتا ہے، حکومت اور ریاستی قوت آئین اور قانون سے بالاتر نہیں۔بلاول بھٹو نے کہا میں نہیں سمجھتا محسن داوڑ سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کرسکتا ہے ، احتجاج کرنا سیاسی لوگوں کا حق ہے، ان پر بھی تشدد نہیں ہونا چاہیے۔جہاں تک اس واقعے کا تعلق ہے میں واضح طور پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ افواج پاکستان ‘ قومی دفاع کا واحد ذمہ دار ادارہ ہے ‘ حالات اور شواہد اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جن قبائلی علاقوں کے مسائل کو تنازعہ بنا کر محسن داوڑ اور علی وزیر جیسے لوگ ‘ فوجی پوسٹوں پر حملہ کررہے ہیں ‘ یہ لوگ اس وقت کہاں تھے جب تمام قبائلی علاقے دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنے ہوئے تھے ‘ یہ پاک فو ج کا ہی کارنامہ ہے جس نے جانوں کا نذرانہ دے کر ان قبائلی علاقوں میں امن قائم کیا اور وہاں زندگی کی بنیادی سہولتیں تیزی سے فراہم کی جارہی ہیں ‘ اب یہ علاقے خیبر پختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں اﷲ نے چاہا تو بہت جلد وہاں کاروبار ی سرگرمیاں ‘ ہسپتالوں ‘ سکول کالجز اور یونیورسٹی کی تعمیرشروع ہو گی۔ راتوں رات توقبائلی علاقوں کو پیرس نہیں بنایا جاسکتا اورنہ ہی وہاں کے مسائل یک جنبش حل کیے جاسکتے ہیں لیکن محسن داوڑ اور علی وزیر ‘ پاکستان اسمبلی کے ممبر ہونے کے باوجودافغان حکمرانوں کے اشارے پر ناچ رہے ہیں اور قبائلی عوام کے ذہنوں میں نفرت کے بیچ بو رہے ہیں ۔مجھے سب سے زیادہ افسوس سیاسی رہنماؤں کے بیانات پر ہوتا ہے جو فوجی پوسٹ پر حملہ آور ہونے والوں اور سیدھی فائرنگ کرنے والوں کے غم میں آنسو بہارہے ہیں۔ احتجاج کا جمہوری حق بے شک تمام پاکستانیوں کو حاصل ہے لیکن دنیا کا کوئی قانون اپنے ہی فوجیوں پر سیدھی گولیاں چلانے کی اجازت نہیں دیتا ۔ پاک فوج کی قربانیوں کو محب پاکستانی کبھی فراموش نہیں کرسکتے ۔ مولانا فضل الرحمن ‘ محمود اچکزئی اوراسفند یار ولی جیسے لوگ پختوتوں کے حقوق کی آڑ میں افغان حکمرانوں کی کٹھ پتلیاں بن کر پاکستان کے خلاف ہمیشہ سے سرگرم عمل رہے ہیں ‘ یہ وہ لوگ ہیں جو قبائلی ایجنسیوں کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے حق میں بھی نہیں تھے اب وہی لوگ افغان حکمرانوں کی زبان میں بات کررہے ہیں ‘میری نظر میں وہ محب وطن انسان ہر گز نہیں جو پاک فوج پر تنقیدکے نشتر برسائے اور فوج پر حملہ آور ہونے والوں کی حمایت کرے ۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے تمام سیاست دانوں کوجو افغانستان کے غم میں مرے جارہے ہیں ان کو وہاں ہی بھیج دیاجائے ۔ شہباز شریف ‘ بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن کو چاہیے کہ وہ قبائلی علاقوں میں جائیں اور ترقی کے عمل کو تیز کرنے اور زندگی کی سہولتوں کی فراہمی میں فوج اور حکومت کے مدد گار بنیں ۔ سیاست کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنا قومی فرض اداکریں اس وقت قبائلی عوام جن کے گھر بار ‘ دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے آپریشن کی وجہ سے تباہ ہوگئے ہیں اپنے اپنے پارٹی فنڈ سے بھی ان تباہ حال گھروں کی تعمیر شروع کرکے یہ ثابت کریں کہ پوری پاکستانی قوم دل و جان سے ان کے ساتھ ہے ۔ قومی یکجہتی کے اظہارکا یہ موقع ہر گز نہیں کھونا چاہیئے ویسے بھی 2جولائی کو قبائلی ایجنسیوں میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہورہے ہیں۔قبائلی عوام سے براہ راست مخاطب ہونے کا یہ بہترین موقع ہے ۔ایک بات ہم سب کو یاد رکھنی چاہیئے کہ فوج جس طرح ملک اور قوم کا تحفظ اپنی جان پر کھیل کرکرتی ہے اسی طرح عوام کو بھی فوجی چوکیوں ‘ فوجی تنصیبات اور فوجی جوانوں کی عزت و ناموس کا تحفظ اپنی جانوں پر کھیل کرکرنا ہوگا ۔ فوجی چوکیوں پر حملہ کرنے والے کسی بھی طرح محب وطن نہیں کہلاتے اور نہ ہی کسی اسمبلی کے رکن کو اجازت دی جاسکتی ہے کہ فوجی چوکی پر مسلح ہوکر حملہ آور ہوں ۔عیدالفطر کی آمد آمد ہے تمام محب وطن پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ بھارتی جارحیت سے بچانے کے لیے جو ہمارے فوجی جوان اگلے مورچوں پر دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں عید کی خوشیوں میں ان کو بھی شریک کریں۔ تحائف اور کھانے لے کر ان کے مورچوں میں پہنچیں جہاں وہ اس وقت موجود ہیں ۔اس طرح ان کو قوم کی جانب سے حوصلہ ملے گا کہ جن کے تحفظ کے لیے وہ جان قربان کرنے کو تیار ہیں وہ بھی ان کو بھولے نہیں ہیں۔ سیاست سے بالاتر ہوکر ہمیں اپنی فوج کی عزت ‘ تحفظ اور ناموس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیئے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 561 Articles with 282158 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jun, 2019 Views: 376

Comments

آپ کی رائے