جاویدغامدی اور ڈاکٹر اسرار کی تشریح اور تفسیر کا فرق !

(Athar Masood Wani, Rawalpindi)

آج کل سوشل میڈیا پہ ممتاز و معروف مذہنی سکالر جاوید احمد غامدی کی مخالفت میں چند حلقے متحرک نظر آتے ہیں۔ یہ حلقے غامدی صاحب کی مخالفت میں جھوٹ اور غلط بیانی پر مبنی اپنی پوسٹوں سے غامدی صاحب کی تیزی سے بڑہتی مقبولیت سے خائف نظر آتے ہیں۔ ایسی ہی ایک پوسٹ پہ جب یہ کہا کہ ''محترم جاوید غامدی کے پائے کا کوئی عالم نظر نہیں آتا، اسلامی احکامات و ہدایات ، اسلام کے متمع نظرکے عین مطابق حق اور سچ کی بات کرنے والا عظیم عالم جاوید احمد غامدی ، عالم اسلام کا نہایت قیمتی سرمایہ ہے جس پہ مسلمان بجا طور پہ فخر کر سکتے ہیں''۔ اس پر ایک صاحب کا کہنا تھا کہ بلاشبہ غامدی صاحب ایک بڑے عالم ہے تاہم ڈاکٹر اسرار کو بھی ہم اعلی پائے کا عالم کہہ سکتے ہیں۔

بہت سے لوگ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کو بہت پسند کرتے ہیں۔ میں نے ڈاکٹر اسرار احمد کو کئی بار سنا ہے اور غور سے سنا ہے۔پہلی بات ان کی یہ دیکھی کہ اسلام کے حوالے ان کے اظہار میں جذبات کا انداز حاوی نظر آیاان کی تشریح،تفسیر میں بھی جذباتی انداز نظر آیا۔اسلامی ہدایات و احکامات کو آج کے جدید دور کے تقاضوں میں دیکھنے اور اظہار میں ان کی'' اپروچ'' غیر حقیقت پسندانہ دیکھنے میں آئی۔ڈاکٹر اسرار احمد کو اس طویل وڈیو میں بھی سنا ہے کہ جس میں ڈاکٹر اسرار احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ پاکستان کا '' کائونٹ ڈائون شروع ہو گیا ہے۔پاکستان کے '' کائونٹ ڈائون کی نشانیاں بھی بیان کرتے ہیں۔ڈاکٹر اسرار صاحب غزوہ ہند کی پیش گوئیاں اور غزوہ ہند شروع ہونے کا مرحلہ جلد شروع کرنے کی نوید سناتے ہیں، اس کے مراحل بھی بتاتے ہیں۔

یقین کیجئے مجھے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی اسلامی احکامات و ہدایات،قرآن اور حدیث کی تشریح اور تفسیر نے بالکل بھی متاثر نہیں کیا۔ اس جدید دور میں اسلامی تقاضوں کو غیر حقیقی ،جذباتی انداز بیان کرنا کوئی متاثر کن نہیں ہے۔ وہ اس بات کو ثابت کرتے نظر نہیں آئے بلکہ شاید یہ بات ان کے نزدیک اہم نہ ہو کہ اسلام کس طرح بدلتے دور کے تقاضوں پر پورا اترنے کی خاصیت رکھتا ہے ۔

محترم جناب جاوید احمد غامدی قرآن و حدیث کی وہ تشریح اور تفسیر کرتے ہیں جو آج کا تہذیب یافتہ ،علم کی ترقی کے معیار کے تقاضوں سے ہم آہنگ عالم بیان کرتا ہے۔سچائی غامدی صاحب کے اظہارو بیان میں نمایاں ہے۔کسی بھی تعصب،جذباتی ،مصنوعی پن سے پاک رہتے ہوئے علمی انداز میں قرآن و حدیث کے حوالوں کے ساتھ یوں بیان کرتے ہیں کہ کوئی بھی صاحب علم ان کے دلائل کی نفی نہیں کر سکتا۔ چاہے کوئی سامنے تسلیم نہ بھی کرے لیکن اس کا اعتراف اپنے دل میںضرور کرنے کرتا ہو گا۔

اسلام نے انفرادی اور اجتماعیت برابری کا سماجی اور سرکاری معیار پیش کیا ہے جس میں عام لوگوں کی بہتری کو فوقیت دی گئی ہے۔ غامدی صاحب اسلام کی روشنی میں جمہوریت کو معاشرے کے لئے اہم قرار دیا جانا دلائل سے ثابت کرتے ہیں ،اور تو اور ملک پر ایک قوت کے غاصبانہ قبضے کے حوالے سے غامدی صاحب نے جو بیان کیا اور اس متعلق جو صورتحال بیان کی ، وہ غامدی صاحب کا ہی خاصہ ہے کہ معاملات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں ،آج کے علمی ترقی یافتہ اور جدید دور میں قابل عمل بلکہ ضرورت کے تقاضوں سے ہم آہنگ بیان کرتے ہیں۔

دنیا میں علم و آگاہی تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے تمام مذاہب جذباتی،جنونی انداز رکھنے،اسلام آنے کے ابتدائی دور کے انداز کو ہی اصل اسلام سمجھنے، اس وقت کے وقت کے معاشرے کے رواجات کو بھی اسلام سے تعبیر کرنے، عبادات کو ہی مذہب سمجھنے، انسانی باہمی تعلقات، متوازی انسانی فلاح و بہبود کو غیر ضروری سمجھنے، مذہب کو مادی مفادات،توہم پرستی،شخصیت پرستی و دیگر ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنے اور دیگر عوامل کی وجہ سے مذہب دنیامیں کمزور سے کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد کی طرح کا طرز فکر و اظہار غیر حقیقت پسندانہ ہونے کے علاوہ اس سے مسلمانوں کی کمزور ی اور پسماندگی بھی دور نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس طرز فکر کے ساتھ دنیا کے مختلف قوموں کی طاقتوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے،یعنی جہالت ،پسماندگی ،غربت، کمزوری،بدحالی ہی ہمارا مقدر رہے۔جبکہ غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ ہر ایک کی بات سننی چاہئے،آپ اس پر اعتبار ہر گز نہ کریں،آپ کا ذہن،اپنے علم ویقین کے مطابق اس بات کا تجزئیہ کرے گا،ہو سکتا ہے کہ اس وقت آپ اتفاق نہ کریںاور کچھ عرصے بعد،مزید علم حاصل ہونے پر آپ وہ بات تسلیم کر لیں، لیکن اگر کان ،عقل کے دروازے بند کر لیں تو کیسے سیکھا جا سکتا ہے اور کیسے اصلاح ہو سکتی ہے؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1133 Print Article Print
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 514 Articles with 209398 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More

Reviews & Comments

Sir Basaday Ahtaram App us level pay nahee hain jis main app in skhsiyat kay baray main kuch kah sakain !!! KAl aap Neuton oor Eisntine kay baray main bathain gay oor phir Neuro surgry or rocket science pay bahas karain gay ?
By: Masood Mahmood, Ottawa on Jun, 13 2019
Reply Reply
0 Like
محترم مسعودوانی،
مسلمانوں کو دنیا کی قوموں سے ہر میدان میں مقابلہ کرنے کے لئے بھی قرآن اور سنت کے علم کی ضرورت ہی پڑے گی کیونکہ وہ قوم جن میں اس قرآن کو اتارا گیا ہے وہ بھی اس قرآن پر عمل کرنے کے سبب ہی عروج حاصل کر سکی اور عمل کرنے سے پہلے اس کا پڑھنا ضروری ہے تو میرا یہ سوال ہے کہ اپ نے قرآن کی عربی سمجھ کر از خود اسے پڑھنے اور سمجھنے کی کبھی کوشش کی ہے اگر کی ہے تو اس پر عمل کتنا ہے اور اگر نہیں تو پھر یہ عرض کریں کہ جس نے خود قرآن کو عربی میں سمجھنے اور پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور وہ ایک ایسے شخص پر تنقید فرما رہا ہے جس نے اپنی ساری زندگی قرآن سیکھنے اور سیکھانے میں گزار دی اوروہ غامدی اور اسرار صاحب کی تفسیر کا موازنہ فرما رہا ہے جو شاید قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ بھی صحیح نہ کر پائے اور اس کی حمایت فرما رہا ہے جس کے نذدیک کتا بھی حلال ہے۔
By: tariq. mahmood, Karachi on Jun, 13 2019
Reply Reply
0 Like
YAAR SIMPLE AUR SADA SEE BAAT HAI ..............HAMARAY AAQA ( S-A-W ) NAY JAB FARMA DIA KE QURAN AUR SUNNAT SE REHNUMAEE HAASIL KARO.......TO HUM SAB PAR FARZ HAI KE HUM KHUD QURAN AUR HADEES KO SAMJHAIN AUR USMEIN GHAUR KAREN........KISI BHI AALIM KA ANDAAZ CHAHAY KITNA HI DILNASHEEN YA KHOOB SURAT KYUN NA HO .......AGAR WO QURAN YA SUNNAT SE ZARRA BARABAR BHI MUKHALIF YA HUT KAR HO.......WO GHALAT HAI........HUM MEIN SE BOHOT SE LOGON NAY APNAY APNAY IDEALS RAKHAY HUAY HAIN ......WO JO KAHAIN THEEK BAQI SAB GHALAT........PLEASE AISA NA KAREN........ISLAM KI ASAL ROOH KO SAMJHAIN.........SHAKSEEAT PARASTI KE BOTOON KO TORAIN......
By: MUHAMMAD MUSHTAQ, Rawalpindi on Jun, 11 2019
Reply Reply
0 Like
غامدی صاحب صرف ایک لبرل سوچ والے مخصوص طبقے کو کو ہی آسان دین بتاتے ہیں جو شخص سنت نبوی بھی ماڈرن رکھے تو اس سے آپ کس طرح کی توقعات رکھ سکتے ہیں
By: Rashid Raqib, Bradford on Jun, 11 2019
Reply Reply
0 Like
جناب وانی صاحب سمجھ نہیں آتی کہ آپ اپنی رائے میں کہہ رھے ہیں کہ ڈاکٹر اسرار صاحب کا ترجمہ اور تشریح موجودہ ماڈرن دور کے مطابق نہیں ہے تو جناب آپ تشریح بھی کردیتے کہ ایک آدمی نماز پڑھے یا داڑھی رکھ لے تو اس سے ماڈرن دنیا کو کیا فرق پڑتا ھے؟
جبکہ یہودی کی بہت لمبی داڑھی ھوتی ھے لیکن کبھی کسی یہودی نے ماڈرن دور کو خطرے میں نہیں دیکھا
اسی طرح اسلام میں بھی طریقہ کارکے مطابق عمل کرنا ھوتا ھے
ھم نے اس کوقرآن اور حادیث کے مطابق پرکھنا ھوتا ھے نہ کہ اپنی طرف سے طے کریں کہ اسکو اسطرح نہیں اسطرح ھونا چاھیئے
By: S a khan, Khi on Jun, 08 2019
Reply Reply
3 Like
میرا تحریر میں متمع نظر یہ تھا کہ صدیوں سے دنیا میں مسلمان بدتر صورتحال کا شکار ہیں۔آگاہی اور شعور کے اس دور میں اس طرح کے راز بھی اب مخفی نہیں رہے کہ طالبان،القاعدہ اور داعش کی تشکیل میں امریکی کردار بنیادی طور پر شامل تھا۔عالم کو سچ معلوم ہوتا ہے، کیا عالم خود پر عیاں حقیقت کو عام لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے؟ یا ویسی ہی باتیں کرتا ہے جس سے لوگوں کے مذہبی جذبات کی تسکین ہوتی ہو؟
ڈاکٹر اسرار صاحب کی مزید وڈیوز دیکھیں تو بے اختیار کہہ اٹھا کہ یہ تو اسلام کے جذبات کی گرمی کے ساتھ مستقبل قریب میں جنگ و جدل کی '' نوید'' دیتے ہوئے ملکی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ارادوں میں پیش رفت کی راہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔
کالم میں یہی بیان کیا تھا کہ اس انداز فکر و عمل کے ساتھ مسلمانوں کی بہتری کے دن نہیں آ سکتے، ہمیں اسلامی احکامات و یدایات کے متمع نظر
کے مطابق اس طرح کی سوچ اور عمل کو اپنانا پڑے گا جس سے دنیا کی قوموں کا مسلمان ہر میدان میں مقابلہ کر سکیں ، لیکن اس کے لئے مسلمانوں کا جہالت اور آمریت سے چ چھٹکارہ پانے ناگزیر ہے۔
By: Athar Masud Wani, Rawalpindi on Jun, 10 2019
0 Like
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ