مقصدِ انسان

(Afifa, Daska)
گناہوں سے جھلستی روح پر آنسو جب شبنم بن کر ٹپکتے ہیں تو روح پھول کی طرح کھل کر پاکیزہ ہو جاتی ہے۔

ہر انسان دنیا میں ایک مقصد کیلۓ بھیجا جاتا ہے۔اور اس مقصد کو پورا کرنے کیلۓ اسے کچھ وقت دیا جاتا ہے جسے عرف عام میں زندگی کہتے ہیں۔زندگی ختم ہونے سے مراد اس وقت کا ختم ہو جانا ہے جو ایک انسان کو اس کے مقصد کے حصول کیلۓ دیا جاتا ہے۔

انسان کا مقصد اس دنیا میں خود کو پہچاننا ہے۔اگر وہ خود کو پہچانے گا تو ہی خدا کو پہچانے گا۔خدا مسجد،قرآن،نماز یا سجدوں میں نہیں ملتا،خدا تو روح کی پاکیزگی سے ملتا ہے۔اور روح کی پاکیزگی خود کو پہچاننے سے ہوتی ہے۔

خود کو پہچاننے کا سفر نفس کو مارنے سے ہوتا ہے۔اور جس دن یہ نفس مکمل طور پر فنا ہو جائے اور اس کا انسان سے تعلق ختم ہو جائے تو انسان تکلیف سے تڑپ اٹھتا ہے،وہ خود کو محسوس کرتا ہے۔اس کی آنکھوں سے ٹپکتے آنسو اس کی روح کو پاکیزہ کر دیتے ہیں۔

گناہوں سے جھلستی روح پر آنسو جب شبنم بن کر ٹپکتے ہیں تو روح پھول کی طرح کھل کر پاکیزہ ہو جاتی ہے۔اور یہی پاکیزگی انسان کو رب سے ملاتی ہے۔وہ دنیا سے بیگانہ رب کے عشق کی زنجیروں میں قید خود کو آزاد کر لیتا ہے۔

جب رب سے پوچھا :"اے میرے رب!میرے ہمراز!مجھے میرے سوالوں،مشکلوں، الجھنوں،درد اور تکالیف کا ایک حل بتا۔"
تو جواب آیا:"تیری ہر چیز کا حل تو خود ہے۔"
پوچھا :"وہ کیسے؟"
جواب آیا:"تو خود کو پہچان لے تو مجھے پہچان لے گا اور میں کافی ہوں تیرے لیے۔"

وہ جو رب ہے نہ وہی سب ہے۔جس نے اسے پا لیا اس کو روح کی پاکیزگی عطا ہو گٸ اور اس نے اپنا مقصڊتخلیق پا لیا ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afifa
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Jun, 2019 Views: 340

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ