پرگیہ ٹھاکر : گاندھی اور گوڈسے کی میزان پرکھلا(امیت) شاہی کمل

(Dr Salim Khan, India)

ہندوستان میں جمہوریت دن دونی رات چوگنی ترقی کررہی ہے۔ نہرو کا زمانہ بیتا تو اندرا کا دور آیا۔ اٹل کے بعد مودی آئے ۔ اب یوگی کے بعد پرگیہ یگ کی آمد آمد ہے۔۲۹ ستمبر ۲۰۰۸؁ کو مالیگاؤں کی ایک مسجد کے قریب ہونے والے دھماکہ میں ۶ لوگ ہلاک اور۱۰۰افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اس دھماکہ کو کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی بارودی مواد سے لدی موٹر سائیکل سادھوی پرگیہ ٹھاکر کے نام پر رجسٹر تھی۔ پرگیہ نے بعد میں فون پر مہلوکین کی تعداد کے کم ہونے پرافسوس کا اظہار کیا تھا ۔ آنجہانئ ہیمنت کرکرے نے مالیگاوں بم بلاسٹ معاملے کا پردہ فاش کیا تھا ۔ اس مقدمہ میں پرگیہ کے علاوہ کرنل پروہت، رمیش اپادھیائے، اجئے، راہیرکیر، سدھاکر دیویدی، سدھاکر چترویدی اور سمیر کلکرنی بھی ماخوذ ہیں۔ ان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں، مجرمانہ سازش، قتل اور دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں ۔ خصوصی عدالت فی الحال گواہوں کے بیانات اور جرح کی تفصیلات قلمبند کررہی ہے۔ سماعت کے دوران مسلسل غیر حاضری پر برہم ہوکر خصوصی عدالت کے جج ونود چڈالکر نےپرگیہ اور پروہت سمیت تمام سات ملزمین کوہر ہفتہ میں ایک مرتبہ (عدالت میں) حاضری کی ہدایت کردی ۔

عدالت کے اس مبنی برانصاف رویہ کے سبب شدت پسند ہندو احیاء پرستوں کے اندر سادھوی کے تئیں ہمدردی کے جذبات پیدا ہوگئے اور اس کا فائدہ اٹھاکربھارتیہ جنتا پارٹی نے پرگیہ سنگھ ٹھاکرکوپارٹی میں شامل کرکے بھوپال سے دگوجئے سنگھ کے خلاف میدان میں اتاردیا۔ بی جے پی میں شمولیت کے بعد دفتر سے باہر آتے ہوئے پرگیہ سنگھ ٹھاکر نےاعلان کیا تھا کہ وہ بھوپال سے الیکشن لڑکر جیتیں گی ۔ پرگیہ ٹھاکر نے اس انتخابی مہم کو ‘‘دھرم یدھ’’ بنا دیا ۔ بی جے پی کی رکنیت اختیار کرنے سے قبل پرگیہ آر ایس ایس کی طلبا تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد(اے بی وی پی) اور وشواہندو پریشد(وی ایچ پی) کی مہیلا وِنگ درگا واہنی میں کام کرچکی ہیں ۔ مالیگاؤں دھماکہ کیس میں این آئی اے کی کلین چٹ کے باوجود خصوصی عدالت نے اسے بری کرنے سے انکار کرتے ہوئے مکوکاکے بجائے غیرقانونی سرگرمیاں روک تھام قانون کے تحت معاملہ درج کرلیا ۔ممبئی ہائی کورٹ نے ۲۰۱۷؁ میں پرگیہ کی ضمانت منظور کرلی اس سے ان کے سیاست کا دروازہ کھل گیا۔ بی جے پی کے لیے بھوپال ویسے تو محفوظ حلقہ ہےکیونکہ ۱۹۸۹؁ سے وہ اس پر قابض ہے لیکن پچھلے اسمبلی الیکشن میں یہاں کی ۸ میں ۳ نشستوں پر کانگریس نے جیت حاصل کرکے اسے فکر مند کردیا تھا۔

انتخابی دنگل میں کودنے کے بعد ویسے تو پرگیہ آئے دن کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑتی رہیں لیکن ان کے تین تنازعات بڑی بحث کا موضوع بنے ۔ اس میں سے پہلا ۲۶ نومبر کے ممبئی حملہ کو لے کر تھا ۔ اس میں جان گنوانے والے ممبئی اے ٹی ایس کے معروف سربراہ ہیمنت کرکرے کی موت کاسبب سادھوی نے اپنا شراپ (بددعا) بتایا ۔ اس نے کہا ہیمنت کرکرے نے جب مجھ سے کئی سوالات پوچھے تو میں نے بھگوان جانے کہہ دیا ۔ اس پر کرکرے نے کہا کہ توکیا جواب کے لئے بھگوان کے پاس جانا پڑے گا۔ اس پر میں نے کہا ہیمنت کرکرے برباد ہوجائے گا ۔ اس بددعاکے ٹھیک ڈیڑھ ماہ بعد اسے دہشت گردوں کی گولیاں لگیں۔ اس بیان پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور دگوجئے نے پوچھا کہ انہوں اظہر مسعود کو شراپ کیوں نہیں دیا ؟ سبھی سیاسی جماعتوں کے علاوہ سرکاری افسران کی تنظیم نے بھی اسے اپنی توہین قرار دیا۔ بی جے پی نے اسے سادھوی کا ذاتی موقف قرار دے کر خود کو الگ تو کیا مگر امیت شاہ نے سادھوی کو بے قصور ٹھہراتے ہوےاعلان کیا کہ وقت آنے پر وہ بھی اسیمانند کی مانند رہا ہوجائیں گی۔ ویسے شاہ جی اپنی مچال بھی دے سکتے تھے۔ اس کے بعد پرگیہ نے دعویٰ کیا کہ وہ بابری مسجد کو شہید کرنے کے لیے گنبد پر چڑھ گئی تھیں جبکہ تاریخ پیدائش کے حساب سے اس وقت ان کی عمر ساڑھے تین سال بنتی تھی۔ اس جھوٹ کو نبھانے کے لیے نئی تاریخ پیدائش گھڑی گئی جس میں دس سال کا اضافہ تھا ۔

اپنے حلقۂ انتخاب سے فارغ ہونے کے بعد پرگیہ ٹھاکر نے مالوہ میں ایک بہت بڑا تنازع کھڑا کردیا۔ اس نے ٹیلیویژن کے سامنے کہا کہ ‘ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے دیش بھکت تھے، ہیں اور رہیں گے’۔ پرگیہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ جو لوگ اسے دہشت گرد قرار دے رہے ہیں انہیں اپنے آپ کو دیکھنا چاہئے ۔ اس بار انتخابات میں ایسے لوگوں کو کرارا جواب دیا جائیگا ۔ ایک بار پھر بی جے پی نے خود کو پرگیہ ٹھاکر کے بیان سے علیحدہ کیا اور کہا کہ سادھوی کےاس نجی موقف سے بی جے پی اتفاق نہیں کرتی ۔ یہ معاملہ اتنا سنگین تھا کہ اس کی وضاحت کے لیے خود مودی کو میدان میں آنا پڑا۔ انہوں نے سخت لب و لہجے میں کہا کہ ، پرگیہ اور دوسرے لوگ جو گوڈسے او رباپو کے بارے میں بیان بازی کر رہے ہیں ، وہ خراب ہے ۔ ہر طرح سے لائق نفرت و مذمت ہے ، مہذب سماج میں ایسی باتیں نہیں کی جاتیں ، ایسے لفظ استعمال نہیں کیے جاتے ۔ آگے سے ایسا کہنے والوں کو ۱۰۰ بار سوچنا پڑے گا ، بھلے ہی پرگیہ نے معافی مانگ لی ہو لیکن وہ ان کو دل سے کبھی معاف نہیں کرپائیں گے۔ وزیر اعظم کے بیان کو بالائے طاق رکھ کر عوام نےپرگیہ کو معاف کردیا اور ان کےگاندھی نواز مخالفین کو کرارہ سبق سکھا دیا۔ آگے چل کر پرگیہ نے معافی مانگتے ہوئے کہہ دیا کہ ‘یہ میری ذاتی رائے ہے۔ میرا ارادہ کسی کو ٹھیس پہنچانے کا نہیں تھا۔ اگر میرے بیان سے کسی کو ٹھیس پہنچی ہے تو میں معافی مانگتی ہوں’۔ اس معافی نامہ میں کہیں بھی افسوس یا رجوع کا پہلو تو نہیں ہے لیکن پرگیہ کے بار بار تھوک کر چاٹنے کے منظر پھر سے تازہ ہوگیا ۔

گاندھی جی کو بی جے پی کس قدر اہمیت دیتی ہے اس کا اندازہ ایک حالیہ واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ ایک طرف بابائے قوم گاندھی کی توہین اور ان کے قاتل کی تعریف و توصیف کرنے والی سادھوی ہے اور دوسری جانب مرکزی وزیر نتن گڈکری کی تضحیک کرنے والے کارکنان ہیں ۔ پارٹی نے ان دونوں کے ساتھ یکساں جرم کا ارتکاب کرنے کے بعد مختلف رویہ اختیار کیا ۔ نتن گڈکری پر تنقید کرنے والے ناگپورشہر بی جے پی کے نائب صدر ہری سنگھ اور مجلس عاملہ کےرکن ابھے تِڑکے تھے ۔ ان رہنماؤں نے انتخابی نتائج سے پہلے موبائل پر ایک دوسرے کو گڈکری کی ہار کے بارے میں کہا تھا کہ وہ صرف امیروں کی سنتے ہیں اور پارٹی کے ایماندار کارکنان کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اس پر انہیں پارٹی سے یہ کہہ کر نکال باہر کیا گیا کیونکہ ‘‘پارٹی اس طرح کی بے ادبی کو برداشت نہیں کرتی’’۔ اس کے برعکس پرگیہ نے علی الاعلان گاندھی جی کے قاتل کو سراہا مگر اس کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام کرنے بجائے صرف مگر مچھ کے آنسو بہانے پر اکتفاء کیا گیا نیز اس کی حمایت کرنے والے سدانند گوڑا کو دوبارہ وزارت سے نوازہ گیا ۔ انتخاب میں کامیاب ہوجانے کے بعد پرگیہ ٹھاکر کو ایسا محسوس ہونے لگا گویا اس کے سارے قصور معاف ہوگئے ہیں حالانکہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور عدالت میں شواہد پیش کرکے بری ہونے میں زمین آسمان کا فرق ہوتاہے۔ ٹیلیویژن کیمرے کے سامنے پٹر پٹر بولنے والی سادھوی زبان کمرۂ عدالت میں گنگ ہوجاتی ہے اور اس کو کسی سوال کا جواب سجھائی نہیں دیتا۔ ایسا لگتا ہے گویا یادداشت ہی سلب ہوگئی ہو۔ ویسے گاندھی اور گوڈسے کے ہندوستان میں یہ فرق یہ ہے کہ گجرات کااستعفیٰ دینے والاملک کا وزیرداخلہ ہے، دہشت گردی کی سزا کاٹنے والی پرگیہ ایم پی بنی ہوئی ہے بقول آتش ؎
زمینِ چَمَن گل کھلاتی ہے کیا کیا.
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسےکیسے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 202 Print Article Print
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 732 Articles with 222927 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: