گرفتاری کا خوف

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

 سیاسی مبصرین تو پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ ماضی کے حکمرانوں کے لئے جون کا مہینہ بھاری ہے اس ماہ کئی اہم شخصیات کی گرفتاری عمل میں لائے جانے کا امکان ہے سابق صدر آصف علی زرداری کو گرفتار کر لیا گیاہے درجنوں کی باری آنے والی ہے۔ نیب نے بلاول بھٹو زرداری سے اوپل 225 منصوبے میں جواب طلب کر رکھا ہے، جبکہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی کیس کی تحقیقات بھی آخری مرحلے میں ہے۔چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے قائم علی شاہ اور مراد علی شاہ کے خلاف ٹھٹھہ اور دادو شوگر ملز کیس کی انکوائریز کی باقاعدہ تحقیقات کی منظوری دے دی ہے جن کی گرفتاری کا بھی واضح امکان ہے۔وزیر دفاع پرویز خٹک کے خلاف مالم جبہ کیس میں بھی اہم گرفتاریوں کا فیصلہ ہوگا جبکہ ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کر دیا جائے گا شنیدہے کہ سیدخورشید شاہ، بلاول بھٹو زراری، حمزہ شہبازشریف،مولانافضل الرحمن،فریال تالپور سمیت ایک لمبی فہرست ہے جن کی گرفتاری کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ایک طرف تو کرپشن اور منی لانڈرنگ کے درجنوں مقدمات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جارہاہے ان ملزمان کو ان کے مخالفین چور اور ڈاکو کے القاب سے پکارتے ہیں دوسری طرف ان کی پیشیوں کے موقعہ پر سینکڑوں اہلکار سخت گرمی اورحبس میں دیوٹی انجام دے رہے ہیں گویا یہ بھی ان کیلئے ایک قسم کا پروٹوکول ہے یہ عوام کے ساتھ کتنا سنگین مذاق ہے کہ ان لوگوں نے ملکی خزانہ کی لوٹ مارکرکے اپنے لئے دولت کے پہاڑ جمع کرلئے ہیں جس کے نتیجہ میں پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب ہے ان کی لوٹ مار کی وجہ سے عام پاکستانیوں پر نت نئے ٹیکسز لگائے جارہے ہیں انہوں نے پاکستان کے قانون کو موم کی ناک بنارکھاہے کرپشن اور منی لانڈرنگ میں گوڈے گوڈے ملوث ملزمان کیلئے جیل میں ایئرکنڈیشنڈ کی سہولیات،دنیا جہاں کی آسائشیں فراہم کی جاتی ہیں،سپیکر ، ان کو پارلیمنٹیرینز جان کر پروڈکشن آرڈر جاری کردیتا ہے،اسمبلی کے اندر اور باہر حامی احتجاج کرکے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں کہ گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے اس صورت ِ حال پر تبصرو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد کارکنان سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ جیالے اشتعال میں نہ آئیں، متنازعہ عدالتی فیصلوں کوعوام نے کبھی قبول نہیں کیا اور ہم نے ہمیشہ عدالتوں میں اپنی بے گناہی کوثابت کیا ہے پیپلزپارٹی جانبدارانہ عدالتی فیصلوں کے باوجود قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ۔ آصف زرداری کی گرفتاری پر کمال یہ ہوا کہ اس کے خلاف مسلم لیگ ن نے بھی بھرپور احتجاج کیا ہے حالانکہ یہ مقدمہ مسلم لیگ ن کے دور ِ حکومت میں فائل ہوا اس سے بڑی بے شرمی،بے ثباتی اور دھٹائی کی اور کیا مثال ہو سکت ہے کہ محض باہمی مفادات کیلئے ایک دوسروں کو سڑکوں پر گھسیٹنے والے شیرو شکر ہوگئے ہیں اور آج ایک دوسرے کی صفائیاں دیتے پھرتے ہیں۔ تاریخ یہ ہے کہ زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں 2015 ء میں پیش رفت ہوئی۔ 2018 ء میں زرداری سمیت کچھ بڑے نام منظر عام پر آئے۔ کیس میں تحقیقات سے پاپڑ‘ ریڑھی اور فالودے والوں کے بے نامی اکاؤنٹس سامنے آئے۔ زرداری نے نیب کی ممکنہ گرفتاری سے بچنے کیلئے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے انہیں پانچ مرتبہ عبوری ضمانت دی۔ نیب آزاد اور خود مختار ادارہ ہونے کا ثبوت دیا نیب بلاامتیاز احتساب کر رہا ہے فریال تالپور کے معاملے پر خواتین کا تقدس ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فی الحال گرفتارنہیں کیا گیا۔ یہ بھی کہاجارہاہے کہ نواز شریف اور زرداری نے قرضے بیرون ملک جائیدادیں بنانے کیلئے لئے تھے،کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ٹیکنیکل طریقے دریافت کئے ۔ جعلی بنک اکاؤنٹس کیس منی لانڈرنگ وائٹ کالر کرائم کی کلاسک مثال ہے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کیس کی تحقیقات میں سست روی پر از خود نوٹس لیا تھا جس کے بعداس میں تیزی آئی اب حالات یہ ہیں کہ جب بھی اپوزیشن سے کوئی سوال کیاجاتاہے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہونے کا شور مچ جاتاہے۔سابقہ حکمرانوں زرداری اور شریف خاندان کی کرپشن کا طریقہ ٔ کار میں بڑی مماثلت ہے اب یہ تو معلوم نہیں جعلی بنک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کا طریقہ ٔ واردات کس نے ایجادکیا غالب خیال ہے کہ شریف خاندان نے زرداری صاحب سے استفادہ کیاہے ملازمین کے بعداب ٹیکسی ڈرائیور کے ذریعے کروڑوں کی منی لانڈرنگ کرکے ملک کو کھوکھلاکردیا گیا پھر بھی یہ لوگ اداروں کو گھورتے ہیں یقینا ایسے لوگ ملک وقوم کیلئے ناسور ہیں۔بہرحال اپوزیشن جماعتوں کا یہ خیال ہے کہ احتساب کے نام پر انتقام لیا جارہا ہے۔نیب غیرجانبدارہوتی تووزیر اعظم کی بھی بہن کٹہرے میں ہوتی وزیر اعظم کے دوستوں کے لئے الگ قانون اور اپوزیشن کے لئے الگ قانون ہے لیکن ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ آصف زرداری کی گرفتاری اور مستقبل قریب میں سیدخورشید شاہ، بلاول بھٹو زراری، حمزہ شہبازشریف،مولانافضل الرحمن،فریال تالپور کی گرفتاری کے خوف نے اپوزیشن جماعتوں کو ایک دوسرے کے مزیدقریب کردیاہے یہ سب کے سب گرفتاری سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاؤں ماریں گے اتنا ہی نیب کی دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے ا ب ان کیلئے ایک ہی راستہ ہے کسی طرح عمران خان کی حکومت کو عدم استحکام سے دوچارکردیں آج اپوزیشن کیلئے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا بہترین موقعہ ہے لیکن لگتاہے قیامت خیزگرمی اپوزیشن کے ارادوں کو متزلزل کرکے رکھ دے گی۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 127 Print Article Print
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 18 Articles with 2454 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: