کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

(Sheraz Khokhar, Lahore)
روس کو کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی یہ پیشکش صرف ایک پیشکش نہیں بلکہ تاریخ کا ان قوتوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جنہوں نے پاکستان کے 48سال غربت ، بیروزگاری، دہشت گردی ، کشت و خون ، قتل و غارت اور گولہ بارود کی بھٹی میں جھونک دیئے اور آج پھر سے اپنی خارجہ پالیسی کا یہ سفر 70ءکی دہائی سے شروع کر رہے ہو ۔غیر ملکی آقاﺅں کے اشاروں پر جن طاقتوں نے ملک و قوم کے ساتھ یہ خونی کھیل کھیلا ، کیا ان کے خلاف بھی کوئی کمیشن بنے گا یا نہیں ؟ کیا ان کو انکے کیے کی سزا ملنی چاہیے یا نہیں؟پسماندگی کے گھٹا توپ اندھیروں میں پھینکنے والے ان مجرموں کے چہرے بھی عوام کے سامنے عیاں کیے جائیں گے یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ قرآن میں ماضی کے قصے بطور عبرت بیان کرتا ہے تاکہ تم سبق حاصل کرو لیکن ساتھ ہی فرماتا ہے کہ یہ سبق عقل والوں کے لیے ہے ۔۔۔

ذرا سوچو، ذہن کے بند دریچے کھولو، کل تک جن روسیوں کے خلاف جہاد افغانستان کے نام پر امریکی ڈالرز کی خاطر شہادتیں سمیٹ رہے تھے آج اسی کو اپنا ثالث ماننے پر کیوں مجبورہو گئے ہو؟کل تک آپ امریکہ کو پاکستان کا دوست اور روس کو پاکستان کا دشمن سمجھتے تھے ا س پر یو ٹرن کیوں لینا پڑا؟ذرا سوچو ! کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاسی بصیرت کی بدولت جن خدشات کا اظہار کیا تھا اور وطن عزیز کو مستقبل کے خطرات سے بچانے کے لیے امریکہ کی بجائے روس ، چین ، سعودیہ ، ایران اور افریشیائی ممالک سے مراسم بڑھانے کو ترجیح دی تھی آج 48سال میں دنیا بھر سے پٹنے کے بعدکس منہ سے واپس اسی راہ کو اختیار کررہے ہو ؟ قائد وہ ہوتا ہے جو قوم کو مستقبل میں درپیش آنے والے خطرات بھانپ لے اور بروقت ان خطرات کا سدباب کر ے ۔ذرا سوچو! اپنے دل سے پوچھو کہ کیا قائد عوام کی بصیرت اور ان کٹھ پتلیوں کی سیاسی بصیرت میں 48سال کا فرق نہیں ؟روس کو کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی یہ پیشکش صرف ایک پیشکش نہیں بلکہ تاریخ کا ان قوتوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جنہوں نے پاکستان کے 48سال غربت ، بیروزگاری، دہشت گردی ، کشت و خون ، قتل و غارت اور گولہ بارود کی بھٹی میں جھونک دیئے اور آج پھر سے اپنی خارجہ پالیسی کا یہ سفر 70ءکی دہائی سے شروع کر رہے ہو ۔غیر ملکی آقاﺅں کے اشاروں پر جن طاقتوں نے ملک و قوم کے ساتھ یہ خونی کھیل کھیلا ، کیا ان کے خلاف بھی کوئی کمیشن بنے گا یا نہیں ؟ کیا ان کو انکے کیے کی سزا ملنی چاہیے یا نہیں؟پسماندگی کے گھٹا توپ اندھیروں میں پھینکنے والے ان مجرموں کے چہرے بھی عوام کے سامنے عیاں کیے جائیں گے یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ قرآن میں ماضی کے قصے بطور عبرت بیان کرتا ہے تاکہ تم سبق حاصل کرو لیکن ساتھ ہی فرماتا ہے کہ یہ سبق عقل والوں کے لیے ہے ۔۔۔

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ریاستوں کے آپسی تعلقات مفادات کی بنا پر قائم ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ مفادات بدلتے رہتے ہیں ، دوستیاں دشمنی میں اور دشمنیاں دوستیوں میں بدلتی رہتی ہیں۔فرانس اور برطانیہ کے درمیان پانچ خونی جنگیں لڑی گئیں، چودھویں صدی میں لڑی جانے والی جنگ ایک صدی سے زائد عرصہ تکجاری رہی لیکن یہی دونوں حریف دوسری جنگ عظیم میں جرمن نازیوں کے خلاف حلیف تھے پھر انہی دو روایتی حریفوں نے روس کے خلاف سرد جنگ میں نیٹو اتحاد کی بنیاد رکھی ۔یہ نئے اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ 70ءکی دہائی میں امریکی اتحاد ہمارے پاﺅں کی بیڑی تھی ۔ اس عرصہ میں بھی علاقائی سطح پرملک کو کم و بیش یہی مسائل اورخطرات لاحق تھے جو آج ہیں ۔71ءکی جنگ میں مغربی سرحدوں پر افغانستان کی طرف سے روسی ایماءپر جارحیت کی تیاریاں مکمل تھیں اور مشرقی سرحدوں پر پاک فوج بھارت سے نبر د آزما تھی ۔ اس وقت بھی پاکستان کو خطے میں چین کے علاوہ کوئی دیگر ملک سپورٹ کرنے کو تیار نہیں تھا ، امریکی جنگی امداد تب بھی برائے نام تھی اور وقت آنے پر امریکہ نے بھی پاکستان سے منہ موڑ لیا تھا ۔سانحہ سقوط ڈھاکہ کے بعدپاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی بدلنی پڑی اور یہ تبدیلی باامر مجبوری نہیں بلکہ علاقائی سیاست کی ضرورت تھی ۔مشہور محاورہ ہے کہ جنگل میں رہنا ہے تو اسی جنگل کے شیر سے بنا کر رکھی جائے نہ کہ دوسرے جنگل کے شیر سے ۔اس وقت خطے میں روس سپر پاور تھا اور بھارت نے علیحدگی کے بعد درست طور پر جنگل کے شیر سے مراسم بڑھائے اور سات سمندر پار امریکہ کی بجائے روس کو ترجیح دی ۔اس کے برعکس پاکستان نے اپنا سارا وزن امریکی پلڑے میں ڈال کر تمام تر خسارے اپنی جھولی میں ڈال لیے ۔تاہم سانحہ سقوط ڈھاکہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کو امریکی پلڑے سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوئے اور جس کا خمیازہ بھی انہیں بھگتنا پڑا ۔اس وقت بھی یہ فیصلہ اتنا آسان نہ تھا لیکن کامیاب سفارتکاری کے ذریعے وہ دشمن روس کے رویے میں تبدیلی لانے میں کامیا ب ہو گئے جس کا ثبوت اس دور میں روس کی طرف سے پاکستان میں ہونے والی سرمایہ کاری ہے جس کی ایک مثال پاکستان میں لگی اسٹیل ملز ہے ۔ اس امر میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ روس بلوچستان کے گرم پانیوں تک رسائی چاہتا تھا لیکن امریکی دباﺅ کی وجہ سے پاکستان ایسا کرنے سے عاری تھا ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس مشکل دور میں جب مشرقی پاکستان ہم سے کٹ چکاتھا ، ملک کی خارجہ پالیسی کو آزاد ڈگر پر لانے کے لیے مشکل سے مشکل اور دلیرانہ فیصلے کیے اور اسلامی ممالک سمیت چین ، روس اور دیگر وسط ایشیائی ریاستوں سے تعلقات کے فروغ کے لیے کامیاب سفارتکاری کی ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ 70ءکی دہائی میں اپنائی جانے والی خارجہ پالیسی تسلیم کرنے میں غیر مرئی طاقتوں کو 5دہائیاں لگیں جس کی وجہ سے ملک کی ایک نسل کوپے در پے قربانیوں کے مراحل سے گزرنا پڑا ۔
خیر دیر آید درست آید

وزیراعظم عمران خان شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے لیے کرغستان کے دارالخلافہ بشکیک میں موجود ہیں ۔گزشتہ روز ان کی ملاقات روس کے صدر پیوٹن سے ہوئی جس میں انہوں نے کشمیر ایشو سمیت علاقہ کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ غیر رسمی ملاقات میںانہوں نے اعتراف کیا کہ بدقسمتی سے وہ بھارت کو کشمیر ایشو پر قائل کرنے میں ناکام رہے ہیںتاہم پاک بھارت تعلقات کی راہ میں حائل سب سے بڑے تنازعے کے حل کے لیے روس کو بطور ثالث ماننے کے لیے تیار ہیں۔اس موقع پر انہوں نے مودی سے ایک مرتبہ پھر امید لگائی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے ۔

پانچ دہائیوں کے بعد پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو درست سمت میں لے جانے کے جس سلسلے کا آغا ز کیا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پالیسی پر بلا حیل و حجت جاری رکھا جائے ۔ پاکستان کو درپیش موجودہ علاقائی و معاشی مسائل بھی اسی پالیسی کو اختیار کرنے کی وجہ سے ہے کیونکہ مغربی سامراج پاکستان کو علاقہ میں ایک مکمل خود مختار ملک کی حیثیت سے نہیں دیکھنا چاہتی ۔انہیں اندازہ ہے کہ تین ایٹمی ریاستوں (روس، چین اور پاکستا ن ) کے بڑھتے ہوئے تعلقات انکی سامراجیت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں اور اگر ایسا ہو گیا تو دنیا ایک دفعہ پھر یونی پولر سے بائی پولر میں شفٹ ہوجائے گی اور طاقت کا وہ توازن جو روس کے ساتھ سرد جنگ کے بعد بگاڑا گیا تھا دوبارہ بحال ہو جائے گا ، ایشیا ءپر ان ممالک کی گرفت کمزور ہو جائے گی ۔یوں رفتہ رفتہ ڈالر سکٹرتا ہوا واپس علاقائی کرنسی بن جائے گا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کا بنایا ہو ا ورلڈ ٹریڈ آرڈر اپنی موت آپ مر جائے گا ۔یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ پاکستان کی بجائے بھارت کو اہمیت دے رہا ہے ۔خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پاکستان اور بھارت کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔نئے بننے والے اس اتحاد میں بھارت کی موجودہ پوزیشن پاکستان کی سابقہ پوزیشن کے مطابق ہے ۔بھارت کے علاقائی طاقتوں روس اور چین کے ساتھ بہتر نہیں جبکہ افغانستان سے امریکی انخلاءکے پیدا ہونے والی ممکنہ صورتحال میں بھارت خطے میں تنہا ہوتا نظر آرہا ہے جو بھارت کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر سکتا ہے ۔بھارتی جارحیت سے سفارتی سطح پر نمٹنے کے لیے یہی وہ لائحہ عمل تھا جو 70ءکی دہائی میں ایک سول وزیراعظم نے سفارتی سطح پر اپنایا لیکن اپنے نادانوں کی سنگ باریوں نے خوابوں کے اس محل کو تعبیر سے قبل خود اپنے ہی ہاتھوں مسمار کر دیا ۔آج قدرت نے پھر پاکستان کو وہ موقع فراہم کیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو کھلے دل تسلیم کرتے ہوئے مستقبل میں انہیں دہرانے سے احتراز برتاجائے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sheraz Khokhar

Read More Articles by Sheraz Khokhar: 23 Articles with 7468 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Jun, 2019 Views: 381

Comments

آپ کی رائے