طوطے کا پنجرہ!!

(Prof Muhammad Khursheed Akhter, Islamabad)
یہ ہمارا المیہ ہے یا خوش قسمتی کہ ہم اپنے دماغ میں ایک بہشت سجا لیتے ہیں اور جب وہ ٹوٹتی ہے تو آہ و بکا شروع ہو جاتی ہے۔کسی لیڈر یا مذہبی رہنما کو تو ہم ایک بت بنا کر آئینہ دل میں سجا کر چپکے چپکے پوجا کرتے ہیں۔اسے معصوم اور مافوق الفطرت جانتے ہیں۔اس کی غلطیوں کو بہی درست سمجھ کر قرآن وحدیث،تاریخ اور دیگر حوالوں سے اس کو سچا ثابت کرتے رہتے ہیں۔یہی نفسیات ہمیں آ گے بڑہنے سے روکتی رہتی ہے ،نتیجتا ہم ہر دفعہ ادھر ہی کھڑے رہتے ہیں۔جبکہ جن کے قیام کا وقت ہوتا ہے وہ سجدے میں گر چکے ہوتے ہیں۔ہمارے ایک محترم کالم نگار خورشید ندیم صاحب نے ایک مرتبہ میاں نواز شریف کی حکومت کو عمر بن عبدالعزیز کے دور حکومت سے جوڑ کر میری بہشت کو زمین بوس کردیا تھا۔خیر بات ہماری قومی نفسیات کی ہو رہی تھی۔عمران خان کی حکومت سے بھی لوگوں کی ایسی ہی ہیں اگر چہ وہ تن۔من۔دہن سے کوششیں کر رہے ہیں لیکن مشکل حالات اور غلطیوں کا بہی سامنا ہے اور امکانات موجود رہتے ہیں۔ ہمارے سابق حکمرانوں کی کچھ شاہی روایات تھیں جو آ ہستہ آ ہستہ ہی بدلیں گی۔ہم ماضی میں کسی ڈی فیکٹو وزیراعظم اور اصل شوہر نامدار کےاصطبل کے لیے ٹیکس دیتے رہے ہیں اور کبھی سرے محل کے لیے مہنگائی کا بوجہ اٹھاتے رہے۔کبھی بھینسوں کے باڑے کے لیے اور بین البراعظمی کارخانوں کے لیے ملکی دولت جمع کرتے زندگانی کا بیشتر حصہ گزرا کبھی کتوں کو امریکی خوراک عوامی حلال پیسوں سے کھلائی۔اب صدر صاحب کے طوطے کا پنجرہ لے ڈوبا۔طوطا فال نکالنے کے بھی کام آتا ہے ہو سکتا ہے کہ موجودہ مشکل حالات سے نکلنے کا کوئی فارمولا ہی نکال دیتا مگر میڈیا کی چیخ و پکار اور سوشل میڈیا کے دباؤ سے صدر پاکستان کو کسی کا کیا ہوا فیصلہ واپس لینا پڑا ہے۔ہمارے غریب یا متوسط طبقے سے جب بھی کوئی کسی منصب پر فائز ہوتا ہے یا دولت جائز و ناجائز ہاتھ لگتی ہے تو وہ پہلے غریبوں سے نظریں چراتا ہے۔نئی شادی رچا کر اس بیوی پر سوکن لا کر بیٹھا دیتا ہے جس نے گردش ایام میں اس کا ساتھ دیا ہوتا ہے۔یہی اشرف المخلوق انسان کی جانچ یا آ زمائیش کا وقت ہوتا ہے جسے وہ ہوس کی نذر کر دیتا ہے۔جو اشرفیہ سے آ کر متمکن ہوتے ہیں وہ تو اپنا شاہانہ انداز چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔چنانچہ ایوانوں میں گھوڑے دوڑاتے۔منجاں اور کتے نہلاتے رہتے ہیں اور وزراء اور مشیر قوال کے ہم نوا بن کر تالی بجاتے ہیں اور سر دہنتے رہتے ہیں۔پھر میناو ساغر بھی آتا ہے اور سونے کی طشتری میں من وسلوی بھی دربار سے اترتا ہے۔ جو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اتارنے کے لئے لاولشکر آ گے بڑہ کر کورنیش بجا لاتا ہے۔موجودہ صدر صاحب شریف النفس ادمی تھے طوطے کے پنجرے سے عزت سادات گنوا بیٹھے۔اگرچہ صدر صاحب کے نیچے کوئی شعبہ ہو گا جس نے طوطے کے پنجرے کا اشتہار دیا ہو گا مگر صدر صاحب کو معاملات دیکھنے چاہیے تاکہ کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ویسے بہی ڈاکٹر عارف علوی صاحب کے بارے میں ہمارا خیال تھا کہ وہ کابینہ میں ہوتے تو بڑا اہم کردار ادا کرتے۔مگر یہ منصب ان کو ملا ہے تو انہیں نیچے سے اوپر تک ہر شعبے اور کام پر نظر رکھنی ہو گی۔تاکہ انہیں فال نکالنے کے لئے کراچی کی گلیوں میں گھومنا نہ پڑے۔وضاحت ضروری ہے،جیسے مشاعرے کے بارے میں وضاحت کی گئی تھی۔یہ نہ ہو کہ۔درویشی بھی عیاری اور سلطانی بہی عیاری کی بازگشت سنائی دی جائے۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 129 Print Article Print
About the Author: Prof Muhammad Khursheed Akhter

Read More Articles by Prof Muhammad Khursheed Akhter: 30 Articles with 7771 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: