باطنی خو بصورتی۔

(Naik Bano, Rawalpindi/Gilgit)
رسول کریم کا ارشا د ہے۔کہ حشر کے روز،ترازو میں کوئی بھی چیز خوش اخلاقی سے زیا دہ بھاری نہ ہوگی
لوگوں کے دلوں پر الفاظ سے زیادہ لحجے اثر کرتے ہیں۔۔

خوبصورت لوگوں کی محفل میں بیٹھ کے بھی کبھی کبھار دل کو چین نہں ملتا ایسا لگتا ہے کہ دل کسی ویران جگہ پہ ہو دل ڈھونڈ تا ہے کہ یہ وہ نہں جس کے ساتھ میں رہنا چاہتا تھا ۔کیونکہ دل کبھی بھی خوبصورتی کو نہیں دیکھتا دل محبت کی آغوش میں رہنا چاہتا ہے۔اور اس رفاقت میں رہنا چاہتا ہے جس کا باطن محبت سے لبریز ہو
دل و ہا ں رہنا چاہتا ہے جہاں محبت بھرے الفا ط سننے
کو ملے
خوبصورت لو گ آ پ کو نفرت بھرے الفاظ کے ساتھ بھی ملیں گے لوگوں کو دھتکارتے ہوے دیکھا ہو گا جن کے ساتھ لوگ ایک پل رہنا نہں چاہتے کیونکہ ان کی زبان نے دلوں کو ریزہ زیزہ کر کے رکھا ہے ۔اور اس رفاقت سے ہرکوئی پناہ مانگتا ہے
جبکہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو خوبصورت نہیں لیکن ا ن سے جڑے لوگ ا ن کی پل بھر کی جدائی بھی برداشت نہیں کرتے
۔یہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو اس عظیم مرتبے تک پہنچ جایئنگے جس کی تعریف قرآن نے کی
ہے۔کہ خدا کے نزدیک سب سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق اور باطن پاک و صاف ہو۔
دل چاہتا ہے کہ بار بار ایسے لوگوں کو سنیں جنکے الفاظ ادب سے بھر پور ہو ں جن کا لحجہ نرم ہو
اس مطلبی دنیا میں انسان کی اصل خوبصورتی اس کی باطنی خوبصورتی ہے۔انسان ظاہر میں جتنا بھی خوبصورت ہو جب تک باطن پاک و صاف نہ ہو ،خوبصورت دکھائی نہیں دیتا۔
ہم اکثر سنتے ہیں کہ وہ دیکھو کتنا خوبصورت ہے قدرت کا حسین شاہکار ہے بنانے والے کا کمال ہے جسطرح چاہا بنا دیا ،تخلیق کیا۔
جبکہ میری نظر میں انسان کی خوبصورتی وہ ہے جسکے لب و لہجے سے لگے کہ واقعی بہتر ین پرورش ہے خوش قسمت ہونگے وہ والدین جنھوں نے اس طرح اولاد کی تربیت ا س طرح کی ہے
تاریخ کے اوراق کو بھی جب میں پلٹ لیتی ہوں تو پاک پیغمبروں کی تعریف بھی ان کی ظاہری خوبصورتی کی اتنی نہیں ہوئی جتنی تعریف ان کے اخلاق کی وجہ سے ہوئی رسول کریم کی تعریف قرآن نے اس انداز میں کی ہے رسول اخلاق کے اعلی درجے پہ فائز ہیں:ان کے نرم لحجے کی تعریف ہویئ ہے۔
انسان کی خوبصورتی اس کے اخلاق میں ہے۔ہر ذی بصیرت کو جب بھی تعریف کرتے سنا ہے میں نے اس کے اخلاق کی تعریف سنی ہے اور باطن تک پہنچ کے تعریف کی ہے۔کونکہ اگر کوئی متاثر ہوا ہے تو صرف اس کے اخلاق سے متاثر ہوا ہے ۔اس کے ظاہر سے نہیں
بہت سارے حسین و جمیل لوگ ہیں اور تعلیم یا فتہ بھی لیکن تلخ کلام اور بداخلاق ہونے کی وجہ سے بہت سارے لوگ ان سے دور رہنا چاہتے ہیں اور دعا کرتے ہوئے سنا ہے کہ کبھی ان کا سامنا نہ ہو۔
حماد صافی جیسا بجہ جسکی زبان میں وہ مٹھاس ہے کہ جب بھی آپ سنیں گے تو چاہینگے کہ آپ اسے بار بار سنیں وہ بار بار بولے
انسان کی خوبصورتی اس کی مثبت سوچ میں ہے اس کا لحجہ ہے اس کا لوگوں کے ساتھ اخلاقی رویہ ہے۔
اس لئے سوچ کو خوبصورت بنائیں اپنے الفاظ کو سنوارنے کی کوشش کرے۔اپنا لحجہ نرم رکھیں اور یقین جانے تب آپ سے بڑھ کے کوئی خوبصورت نہیں
ہے اور یاد رکھیں
نرم لہجہ ہمیشہ مضبوط اور عظیم رشتے تخلیق کرتا

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 117 Print Article Print
About the Author: Naik Bano

Read More Articles by Naik Bano: 16 Articles with 7372 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: