سیّد محمد ناصرعلی -----اردو خاکہ نگاری اور کہانی نویسی کا ایک منفرد نام

(Afzal Razvi, Australia)

Syed Muhammad Nasir Ali

سیّد محمدناصر علی ایک اعلیٰ درجے کے محقق،مضمون نویس، کہانی نویس اورخاکہ نویس ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ریسرچ ڈائریکٹریٹ سے وابستہ رہے اور دوران ملازمت کئی مضامین لکھے۔ان کی تصنیف ”قلم رکنے سے پہلے“ کچھ عرصہ قبل شائع ہوئی تھی جس کی تقریبِ رونمائی ساؤتھ آسٹریلیا میں کی گئی تھی نیز راقم الحروف کو اس تقریب کے اہتمام کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ اب انہوں نے اوربہت سے موضوعات پر بھی قلم اٹھایا ہے۔ مزید یہ کہ ان کی دو تازہ کتابیں ”ہمارے خواب ہمارا عزم“ اور ”The Sound of Baqai“اردو اور انگریزی زبانوں میں حال ہی میں شائع ہوئی ہیں۔آپ کراچی کے موقر حلقوں میں ادب و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔آپ بقائی میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ نشرو اشاعت اور تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر ہیں۔ آپ ایک سادہ متحمل، منکسرالمزاج، نرم دل، نرم خو اور ملنساری کے جذبے سے سرشار ایسے انسان ہیں، جن سے مل کر پہلی ہی ملاقات میں نہ صرف اجنبیت کا احساس ختم ہو جاتا ہے؛بلکہ وہ اپنی شستہ گفتگو سے دوسروں کو اپنا گرویدہ بنالیتے ہیں۔بلاشک و شبہ ایک اچھے انسان ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک اعلیٰ پائے کے ادیب بھی ہیں۔ان کی کتاب ”قلم رکنے سے پہلے“ پر تبصرہ کرتے ہوئے خورشید عابد لکھتے ہیں:
اردو ادب میں کئی بیوروکریٹس نے بہت نام کمایا ہے، شہاب صاحب ایک عمدہ مثال کی صورت
ہمارے سامنے ہیں۔حال ہی میں کراچی سے تعلق رکھنے والے معروف علمی و ادبی شخصیت سید
محمد ناصر علی کی کتاب ”قلم رکنے سے پہلے“ منظرِ عام پر آئی ہے۔اس کتاب کی سب سے بڑی
خوبی اس کی readability ہے یعنی اس کتاب میں سوانح، کالم،مزاح، یادنگاری، سیاست،
فلسفہ اورایسے کئی محاسن ہیں جو سیّدمحمد ناصر علی کی تحریروں میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔

سیّد محمد ناصر علی کی خاکہ اور کہانی نویسی پر اظہارِ رائے سے پہلے اردو ادب کا ایک اجمالی سا جائزہ پیش کرنا میرے نزدیک نہایت ضروری ہے تاکہ سیّد صاحب کے فن کو اس کے ادبی تناظر اور سیاق و سباق میں دیکھا جاسکے۔ اس بات سے ہمارے نقاد انکار نہیں کر سکتے کہ اردو ادب کی وسعتوں کا جس قدر تذکرہ کیجیے، کم ہے کیونکہ یہ ہر صنفِ ادب کو اپنے اندر سمونے اور اسے اپنانے کی صلاحیت اور استعداد رکھتا ہے۔ ریختہ سے اردو زبان کا نام لینے والی یہ زبان اپنی ہمہ گیریت کی بدولت آج دنیا کی چوتھی بڑی زبان کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اپنی ابتدا ہی سے اس نے اپنی وسعت درازی کا ثبوت دیتے ہوئے سب سے پہلے شعرا ء کو اپنا گرویدہ بنایا اور بعد ازاں داستان گوئی کا ملکہ رکھنے والوں نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ابھی داستان گوئی کا فن اپنے عروج کی حدوں کو چھو رہاتھا کہ انگریزی ادب کے زیرِ اثر ناول بھی اس کا حصہ بن گیا اور پھر غلام عباس کے افسانوں کے آتے ہی اس نے اپنا دامن ان کے لیے بھی پھیلا دیا۔داستان، ناول، افسانے کے بعدتنقید، کالم نویسی، کہانی نویسی اور خاکہ نگاری کے ابواب بھی کھل گئے۔ خاکہ نگاری کی ابتدا بھی لاشعوری طور پر مولانا محمد حسین آزاد ؔ کی ”آبِ حیات“سے ہوئی اور بعد ازاں فرحت اللہ بیگ نے ”مولوی نذیر احمد“ کا خاکہ تحریر کرکے اسے اس مقام پر پہنچا دیا جس پر اردو ادب بلا شبہ فخر کر سکتا ہے۔

خاکہ نگاری پر گزشتہ تین چار عشروں میں بہت کا م ہوا ہے اور اس سلسلے میں پاک و ہند سے کئی نام ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اردو ادب کے معروف ریسرچ سکالر جناب جمیل جالبی کا تذکرہ کرنا نہایت ضروری ہے کہ انہوں نے اس صنفِ ادب کی جو تعریف -اردو خاکہ نگاری کے معتبر نام ”شاہد احمد دہلوی“کی تصنیف”چند ادبی شخصیتیں“ کے مقدمہ میں -لکھی ہے وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
خاکہ ایک ایسی صنفِ ادب قرارپائی ]ہے[ جس میں کسی ایسے انسان کے خد و خال پیش کیے جائیں،کسی ایسی شخصیت کے نقوش ابھارے جائیں جس سے لکھنے والا خلوت اور جلوت میں ملا ہو۔اس کی عظمتوں اور لغزشوں سے واقف ہواور تمام تاثرات کو ایسے شگفتہ انداز میں پیش کرے کہ پڑھنے والا بھی اس شخصیت سے واقف ہوکراسے ایک کردار کے طور پر قبول کرے جو ان تمام انسانوں سے ذرا سامختلف ہو جن سے ہم اور آپ اپنی اپنی زندگیوں میں دوچار ہوئے ہیں۔ خاکہ نگاری میں قوتِ مشاہدہ، ماضی کے واقعات
کو یاد کرکے پیش کرنے کا ڈھنگ اور ان سب واقعات کو اپنے زاویہ ئ نظر کی لڑی میں پروکر خوب صورت ہار یا گلدستہ بنانے کا سلیقہ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اس اعتبار سے خاکہ نگاری، سیرت نگاری کے فن سے بالکل ایک الگ صنفِ ادب بن جاتی ہے۔دراصل جدید خاکہ نگاری مختصر افسانہ سے بہت قریب ہے۔
(مقدمہ:چندادبی شخصیتیں ازشاہد احمد دہلوی، ص۲۱)

اگرچہ دیگر بہت سی اصنافِ ادب کی طرح خاکہ نگاری بھی انگریزی ادب سے آئی ہے لیکن اردو خاکہ نگاری کا مقام و مرتبہ زمانہ حال میں نہایت بلند ہے کہ اردو خاکہ تہذیب کی حدوں کو پار نہیں کرتا اور یہ بات خاکہ نگار کے پسِ ذہن ہمیشہ موجود رہتی ہے کیونکہ وہ اسی معاشرے کا فرد ہوتا ہے جس معاشرے کی شخصیات کی وہ خلوت اور جلوت کو اپنے قلم کے زور سے اپنے قاری سے متعارف کراتا ہے۔ سید محمد ناصر علی کے خاکے پڑھنے سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ ان کے قلم سے کہیں چونک نہیں ہوئی اور انہوں نے نہایت خو ب صورتی سے قاری کو اپنی شخصیت سے متعارف کر الیا ہے۔وہ اپنی قوتِ مشاہدہ کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے خاکوں میں نہ صرف جاہ و حشمت اور وقار کو پیشِ نظر رکھتے ہیں بلکہ اپنی شگفتہ مزاجی سے کام لے کر قاری کی دلچسپی کو بھی برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

سطورِ بالا میں اردو خاکے کے سفر کے تناظر میں عرض کر رہا تھا کہ یہ بھی انگریزی ادب ہی کی دین ہے۔چنانچہ موقع غنیمت جانتے ہوئے یہ بات بھی یہاں احاطہئ تحریر میں لانا ضروری سمجھتا ہوں کہ انگریزی ادب میں خاکے کی کیا تعریف متعین کی گئی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ ”خاکہ“ انگر یزی لفظ ”سکیچ“ یا ”اسکیچ“کا ترجمہ ہے۔جس کی تعریف جے۔ اے۔ کڈن درج ذیل الفاظ میں کرتا ہے:

Two basic categories of sketch may be distinguished: (a) a short piece of prose (often of perhaps a thousand to two thousand words) and usually of a descriptive kind. Commonly found in newspapers and magazines. In some cases it becomes very nearly a short story (q.v.). A well-known example is Dickens's Sketches by Boz (1839), a series of sketches of life and manners; (b) a brief dramatic piece of the kind one might find in a revue (q.v.) or as a curtain raiser (q.v.) or as part of some other kind of theatrical entertainment. A good example is Harold Pinter's Last Bus. The sketch has also been developed into a particular dramatic form, as a kind of monodrama (q.v.) by monologists like Hetty Hunt, Ruth Draper and Joyce Grenfell. The solo mime Marcel Marceau worked out his own form of dramatic sketch. See also character. (Cuddon, 2012)
جب کہ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا میں اس کی تعریف درج ذیل الفاظ میں کی گئی ہے۔
Literary sketch, short prose narrative, often an entertaining account of some aspect of a culture written by someone within that culture for readers outside of it—for example, anecdotes of a traveler in India published in an English magazine. Informal in style, the sketch is less dramatic but more analytic and descriptive than the tale and the short story. A writer of a sketch maintains a chatty and familiar tone, understating his major points and suggesting, rather than stating, conclusions. (Encylopedia Britannica vol.7, p.398)

اب اگر مندرجہ بالا اردو اور انگریزی تعریفوں کو پیشِ نظر رکھیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ واقعی جدید اردوادب میں خاکہ نگاری کے میدان میں سب سے بڑا نام شاہد احمد دہلوی کا ہے۔ ان کے لکھے ہوئے خاکے ہمیشہ اہلیانِ وعلم و ادب کو متاثر کرتے رہیں گے؛لیکن زمانہ حال کے زندہ و جاوید خاکہ نگاروں میں ایک نام جو سامنے آیا ہے، وہ سیّد محمد ناصر علی کا ہے۔ مجھے ان کے تحریر کردہ خاکے پڑھنے کاموقع میسّر آیا ہے۔ ان خاکوں میں مجھے تصنوع کا عنصر بالکل نہیں ملا۔ وہ سیدھے سادے الفاظ میں ایسا مرقع کھینچتے ہیں کہ شخصیت سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔سیّد محمد ناصر علی کے بقول، ”لفظی خاکے کے معنی لفظی پیمانہ پیش ہے۔ آپ کی رائے قلم کو مہمیز لگاسکتی ہے۔میں نے تو مائیکل انجیلو کے کہنے کے مطابق صرف فالتو پتھر ہٹائے ہیں۔“گویا جن شخصیات کے خاکے اور کہانیاں انہوں نے تحریر کیے ہیں دوسرے لفظوں میں وہ ایسی ہی شخصیات تھیں اور ہیں جیسے ان کے مرقعے کھینچے گئے ہیں۔دیکھیے کس خوبصورتی سے وہ ”بوا“ کی شخصیت کو ہم سے متعارف کراتے ہیں۔

’بوا‘ پرانی تہذیب و معاشرت کی علم بردار۔۔۔ خوش لباس، خوش شکل۔۔۔گھر میں ہمیشہ سفید غرارہ قمیض
پہنتیں اورتقریبات میں رنگین غرارہ سوٹ ان کا پسندیدہ لباس ہوتا۔۔۔ شخصیت سنجیدہ اور وضع داری کا
مرقع۔۔۔چہرے پر ٹھیک ناک کے نیچے نتھنے کے قریب موٹا سا مسہّ ان کی شخصیت کو منفرد بناتاتھا۔۔۔
سرخی پوڈر اور میک اپ سے بے نیاز بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ ان کو اس قسم کے کسی مصنوعی حسن کے سہارے کی جوانی اور بڑھاپے میں ضرورت نہیں پڑی۔۔۔ قدرت نے خود ہی انہیں جاذبیت اور کشش سے نوازاتھا۔

سیّد محمدناصرعلی کے خاکے ”بوا“ میں ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ایک خوب صورت خاکہ تو ہے ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ ہماری توجہ تقسیمِ ہند کے نامساعد حالات و واقعات کی طرف بھی مبذول کراتاہے گویا اس خاکے میں انہوں نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں۔یہ کسی بھی صاحبِ تحریر کا ہنر ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہنر سے قاری کو نہ صرف تحریر میں گم کردے بلکہ اس کے لیے معلومات کے خزینوں کے در بھی وا کر دے۔ میرے خیال میں ناصر ہر دو طرح سے کامیاب ہیں اور یہی ان کا اصل فن ہے۔

تقسیم برصغیر کے بعد ہجرت کی تکالیف خاندان کے بہت سے افراد نے جھیلیں۔پاکستان کے لئے
آسودہ زندگی کو خیر باد کہا اور ناآسودگی کے پہاڑ عبور کئے۔ زمین،جائیداد،دولت سب کچھ پیچھے چھوڑ
دیا۔ البتہ جنہوں نے تعلیم کو اپنا زیور سمجھا ان کے ہاں آسودگی،کشادگی رزق اور خوشحالی نے بھی اپنا
روپ خوب دکھایا۔ یوں ’بوا‘ کی بات سچ ثابت ہوئی کہ تعلیم ایسی دولت ہے جسے کوئی نہیں چھین سکتا۔
جتنی تقسیم کرو اس میں اتنا ہی اضافہ ہوتاہے۔

”فرد فرید__فریدالدین “میں سیّد ناصر علی نے جس مہارت سے ڈاکٹر فریدالدین بقائی کا خاکہ تحریر کیا ہے وہ انہیں اپنے عہد کے خاکہ نگاروں میں ممتاز بناتا ہے۔وہ لکھتے ہیں:
گول چہرہ۔۔۔ کشادہ پیشانی۔۔۔ سرمائی۔۔۔ بال سلیقہ سے بنے ہوئے۔۔۔ متوسط قد۔۔۔
سادہ لباس۔۔۔ پرکشش شخصیت۔۔۔ نپے تلے قدموں کی چال کے ساتھ۔۔۔ ڈاکٹر بقائی
آگئے۔ انہوں نے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے کمرے کے باہربینچ پر بیٹھے منتظر لوگوں پر ایک
طائرانہ نظر دوڑائی اور مجھے اشارے سے کہا کہ پہلے آپ آیئے۔۔۔ اسے قیافہ شناسی کہوں۔۔۔
یا اپنانصیب۔۔۔ یا ان کی مروم شناسی۔۔۔آپ اسے کوئی بھی نام دے سکتے ہیں۔

چونکہ سیّد صاحب نے پروفیسر ڈاکٹر فریدالدین بقائی کے ساتھ کم و بیش ایک عشرہ پر محیط وقت گزارا چنانچہ ان کا جو وقت ڈاکٹر بقائی کی معیّت میں گزرا تو میرے خیال میں یقینا اس دوران میں انہیں اُن کو پرکھنے، جاننے اور سمجھنے کے بھر پور مواقع میّسر آئے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر بقائی کے خاکے میں ہمیں جہاں ان کی شخصیت کے بارے علم ہوتا ہے وہاں ان کے عام لوگوں کے ساتھ رویے پر بھی روشنی پڑتی ہے۔

سیّدناصر صاحب کے خاکوں کا ایک اور خاص وصف جو دورانِ مطالعہ مجھے محسوس ہوا اور جس سے میں خوب محظوظ ہوا اور مجھے یقین ہے کہ ان کا قاری بھی اس سے محظوظ ہوئے بغیر نہ رہ سکے گا وہ ہے مزاح کا عنصر۔ بظاہر سیّد ناصر علی ایک سنجیدہ انسان دکھائی دیتے ہیں،مگر ان کی تحریروں میں شگفتگی کا پہلو بھی نمایاں نظر آتا ہے۔”N/A - Sim“میں آئیے آپ کو ان کے مزاح اور شگفتگی کی ایک ہلکی سی جھلک دکھاتا چلوں:
صبح کے ۲۱ بجے نسیم صبح خیز کا ایک جھونکا آیا۔ مشام جان کو چھوا۔مطلب کہ۔۔۔ چھونے کا وقت تو گزر گیا
جان سمجھ کر چمٹا لیا۔۔۔ غلط نہ سمجھئے گا!چمٹا وہ نہیں جو خواتین باورچی خانہ میں کھانا پکاتے وقت استعمال کرتی ہیں؛ بلکہ بوقت ضرورت اپنے دفاع اور بلاضرورت چمٹنے والے کو دور رکھنے کی غرض سے حملے کے لئے بھی استعمال کرتی ہیں __ مطلب کہ __ ہم نے انہیں گلے لگالیا __ خوش آمدید کہنا ہماری عادت بھی ہے اور آبا کی روایت بھی __ یہ معاشرتی قدر تو ہے ہی۔ اس قدر کی قدر کرنا ہماری پہلی
دوسری بلکہ تیسری __ غلطی بن گئی۔

دیکھئے ایک اور جگہ کس خوب صورتی سے اپنی پیدائش کا ذکر ظریفانہ انداز میں کرتے ہیں:
میری پیدائش نے کوئی تاریخی کارنامہ انجام نہیں دیا__ کوئی ہلچل نہیں مچائی __ بس چند ماہ بعد دنیا
میں امن قائم ہوگیا۔ جنگ عظیم دوم ایک معاہدہ کے تحت اختتام پذیر ہوئی۔ جرمن شکست کھاگئے۔
دنیا میں امن اور کسادبازاری کا دور شروع ہوا۔ میری پیدائش یکم جنوری ۵۴۹۱ء کو ہوئی اور جنگ عظیم
دوم بند کرنے کا معاہدہ مئی ۵۴۹۱ء کو ہوا۔یقین کریں کہ جنگ کے آغاز اور اختتام میں میرا کوئی ہاتھ
یا عمل دخل نہیں تھا۔ پانچ ماہ کا بچہ کیا کردار اداکرسکتا تھا۔
سیّد محمد ناصر علی جس مہارت سے دوسری شخصیات کے خاکے ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں کچھ اسی طرح کے فن کا مظاہرہ وہ اپنی شخصیت کو متعارف کرانے کے لیے بھی کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ سیّد ناصرعلی ایک تہذیب یافتہ اور رکھ رکھاؤ والے انسان ہیں۔میرے اس بیان پر انہی کی وہ تحریر مہر ثبت کرتی ہے،جس میں انہوں نے اپنی شخصیت اور اپنی رول ماڈل فیملی کا تذکرہ کیا ہے۔ موصوف ”کس نمی پر سد“ میں لکھتے ہیں:
میں یہ جانتا ہوں ویسا ہی کہ بس میں ہوں۔ جیسا مجھے ہونا چاہیے۔۔۔میں ایک بیٹا ہوں جسے ذمہ داری
کا احساس ہے۔۔۔ایک متوازن شوہر۔۔۔شفیق باپ اور مختلف اداروں میں کام کرتے کرتے باعزت
مقام تک پہنچنے والا۔۔۔اپنے کام سے غیر مشروط لگاؤ رکھنے والا۔۔۔صرف محنت سے اور کرم الٰہی سے
صاف اور سیدھا راستہ طے کرتا ہوا اس بلندی ئشکر پر پہنچا ہو ں۔۔۔ربِّ ذولجلال کے خاص کرم سے زندگی
خوب نہیں بہت خوب گزری ہے۔۔۔باقی ہر بات ملتوی کرکے۔۔۔داستان حال کا آغاز کرتا ہوں۔

ادب اور ادیب کے بارے راقم الحروف کا ایک نظریہ ہے کہ ایسا ادب تخلیق ہونا چاہئے جس سے معاشرے کے سدھرنے کا کوئی پہلو نکلتا ہو اور جس میں انسانیت اور اس کی قدروں کا تذکرہ ہو، جس سے ہماری آنے والی نسلوں کو اپنی شناخت میں دشواری نہ ہو؛ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی نقاد مجھے اِس تحریک یا اُس تحریک کا پیرو قرار دے۔ سیّد محمد ناصر علی کے خاکے اورکہانیاں پڑھ کر ایک اطمنان تو ہوا کہ یہ طبع زاد ہیں اور پھر ان سے کسی کی دل آزاری یا معاشرے کے بگاڑ کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 170 Print Article Print
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 46 Articles with 9597 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More

Reviews & Comments

Language: