ای وی ایم ٹھیک ہے تو یہ سب کیا ہے؟

گودی میڈیا پر تو مجرمانہ خاموشی چھائی ہوئی ہے، لیکن سوشل میڈیا بتا رہا ہے کہ ای وی ایم پر ملک کے گوشے گوشے میں ہنگامہ برپا ہے۔ درست ہو یا غلط،عوام کے ایک بہت بڑے طبقہ میں نہ صرف یہ خیال پایا جارہاہے، بلکہ روز بروز جڑ پکڑتا جا رہا ہے کہ ای وی ایم میں ہیرا پھیری ممکن بھی ہے اور کی بھی گئی ہے۔ ای وی ایم پر بات بعد میں ہوگی،پہلے چند اور امور پر بات کر لی جائے۔ الیکشن میں ہار جانے والوں کا تو سہم کر خاموش ہوجانا ایک فطری امر ہے۔ لیکن الیکشن جیتنے والوں پر سناٹا طاری ہوجانا بالکل غیر فطری عمل ہے۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ الیکشن جیتنے والے امیدواروں پر ایک پراسرار خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ حالانکہ اس بار کی جیت تو پچھلی جیت سے بھی بڑی جیت تھی۔ پھر بھی کہیں کوئی فتح کا جلوس نہیں نکلا۔کہیں پٹاخے نہیں چھوڑے گئے۔ اسمرتی ایرانی نے تو اپوزیشن کی سب سے بڑی اور ملک کی سب سے پرانی پارٹی کے صدر اور وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوارکو شکست دی تھی۔ انہیں تو خود ہی خوشی سے ناچ اٹھنا چاہئے تھا۔ امیٹھی میں تو جشن کا سماں ہونا چاہئے تھا۔ امیٹھی میں سناٹا چھایا ہوا ہے۔ جن ’’پھسٹ ٹائم‘‘ ووٹروں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے کہنے پر اپنا پہلا ووٹ پلوامہ کے شہیدوں اور بالا کوٹ کے جانبازوں کے نام کیا تھا۔انہیں تواپنے جذبہ ٔ قوم پرستی کا جشن منانے کے لئے ناچتے گاتے سڑکوں پر نکل آنا چاہئے تھا۔ جن صوبوں نے مبینہ طور پر بی جے پی کو تمام کی تمام سیٹیں دیں اور60فیصد عوام نے ووٹ دیا تھا، ان میں سے کچھ اور نہیں تو 6ہی فیصد جشن منانے نکلے ہوتے۔ ممبئی جیسے شہر میں ، جہاں جشن منانے کا بہانہ چاہئے ہوتا ہے، مکمل خموشی چھائی رہی۔ کیا یہ سب بی جے پی میں نوزائیدہ بردباری کا نتیجہ تھا ؟یا کہیں یہ اس احساس کا نتیجہ تو نہیں تھا کہ یہ جیت عوام نے نہیں ای وی ایم نے دی ہے، یہ فتح عوامی دین نہیں مشینی دین ہے۔
حالانکہ ہمیں یقین نہیں آتا کہ ای وی ایم میں اتنے بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کی جا سکتی ہے۔ ہمیں کیا ملک کے کئی مقتدر، معتبر اور لگی لپٹی نہ رکھنے والے صحافیوں کا بھی یہی خیال ہے۔ لیکن ہم جب یہ بات ان سے کہتے ہیں، جنہیں پورا پورا یقین ہے کہ الیکشن کے نتائج ای وی ایم میں ہیرا پھیری کا نتیجہ ہیں، تو وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ ہم سب کہنہ مشق صحافی ضرور ہیں، لیکن ای وی ایم ایک کمپیوٹرائزڈ مشین ہے اور ہم صحافی ٹیکنیشین نہیں ہوتے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ الیکٹرک مشینیں کیسے کام کرتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کمپیوٹرائزڈ مشینوں سے حسب خواہ کیسے کام لیا جا سکتا ہے، یہ اس کمپیوٹرائزڈ مشینوں کے ماہرین ہی جانتے ہیں۔ممکن ہے کہ وہ درست ہوں۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ،ای وی ایم پر ہمارا ’’ایمان‘‘ پہلی بار اس وقت ڈگمگایا جب ہم نے یہ سنا کہ پارلیمنٹ کے ۲۷۳ انتخابی حلقوں میں ڈالے جانے والے ووٹوں اور گنے جانے والے ووٹوں کی تعدادمیں کمی یازیادتی پائی گئی۔ پھر بھی چونکہ یہ انکشاف ایک این جی او نے کیا تھا، اس لئے پہلے ہمیں اسے بھی ماننے میں تکلف ہوا۔ لیکن جب یہ معلوم ہوا کہ این جی او کا یہ انکشاف الیکشن کمیشن کی اپنی ویب سائٹ پردرج ووٹنگ کی تفصیلات پر مبنی ہے تو ہمیں ماننا پڑا۔ اس کے بعد جب یہ معلوم ہوا کہ الیکشن کمیشن کی فراہم کردہ ان تفصیلات کوسوشل میڈیا کے ایک ویب پورٹیل ’کوئنٹ‘ نے ڈاؤن لوڈ کر لیا اور الیکشن سے ان تضادات کی وجہ جاننا چاہی تو الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائٹ سے اسے فوراً ہٹالیا۔ اس کا صاف مطلب تھا کہ کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ضرور تھی کیونکہ اتنا تو ہم بھی جانتے ہیں کہ ای وی ایم میں ڈالے جانے ووٹ اورگنے جانے والے ووٹوں میں ایک ووٹ کا بھی فرق ناممکن ہے۔ یہ تو ہر ووٹر جانتا ہے کہ جب وہ ووٹنگ کرنے بوتھ پر پہونچتا ہے، تو پہلے وہاں تعینات عملہ سب سے پہلے ووٹر سے شناخت نامہ طلب کرتاہے۔ شناخت کی تصدیق ہو جانے کے بعد وہ اپنے پاس موجود اس حلقہ کی ووٹرس لسٹ میں ووٹر کا نام تلاش کرتا ہے۔نام مل جانے کے بعد وہ اس نام پرایک نشان لگا دیتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ووٹر نے اپنا حق رائے دہی استعمال کر لیا ہے۔ ووٹنگ کے خاتمہ کے بعد ان نشانوں کو گن لیا جاتا ہے جس سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اس حلقہ میں کل کتنے ووٹ پڑے ہیں۔ پھر کل ووٹوں کی تعداد لکھ کر اس رجسٹر پر رٹرننگ افسر اپنے دستخط ثبت کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ووٹر لسٹ اور ای وی ایم کے ووٹوں کی تعداد ایک ہی ہونا چاہئے۔ پھر یہ کیسے ہوا کہ ووٹرس لسٹ اور ای وی ایم میں تعداد الگ الگ نکلے؟

ہم نے کمپیوٹر کے ایک ماہرسے یہ پہیلی بوجھنے کا کہا۔ اس نے ہمیں جو بتایا وہ کچھ یوں تھا۔ اس نے کہا کہ فرض کیجئے کہ کسی کوایک کیلکولیٹر دیا گیا۔ کیلکولیٹر بھی ایک کمپیوٹر ہی ہوتا ہے۔ اس نے اس کا سوئچ آن کیا، اس کاپتلا سا اسکرین روشن ہو گیا۔ گویا اب اس کیلکولیٹر پر حسب مرضی کام کیا جا سکتاہے۔ اس نے وہ بٹن دبایا جس پر2کا ہندسہ تھا۔ اسکرین پر2 کا ہندسہ نظر آنے لگا۔ اب اس نے وہ بٹن دبایا جس پر+کا نشان تھا۔ اسکرین پر یہ نشان بھی آگیا۔ اب اس نے پھر2 کا بٹن دبایا۔ اسکرین پھر2دکھائی دیا۔ اب اس نے وہ بٹن دبایا، جس پر=کا نشان تھا۔ یہ نشان بھی آ گیا۔ لیکن یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہیں رہی کہ نتیجہ4نہیں 5بتایا جا رہا تھا۔ اس نے کہا کہ ظاہر ہے کہ اس کا پہلا رد عمل یہی ہوگا کہ کیلکولیٹر خراب ہو گیا ہے۔ لیکن کیلکولیٹر بالکل ٹھیک ہے۔ اس نے ہرحکم کی تابعداری کی۔ بس ایک بات غلط بتائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنانے والے نے کیلکولیٹر کی پروگرامنگ ہی اس طرح کی ہے کہ ۲ اور ۲ کی جمع پانچ آئے۔ اس نے ہمیں بتایا کہ ای وی ایم کی بہت سی یا پیپر ٹریل مشینوں میں کسی مرحلہ پر ایسی پروگرامنگ کی گئی تھی کہ گنتی کے وقت اس میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی وہی تعداد نکلے، جو مقرر کر دی گئی ہے۔ یہ کس مرحلہ پر کیا گیا اور کیسے کیا گیا ، اس کا جواب صرف الیکشن کمیشن ہی دے سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ کبھی نہیں دے گا، کیونکہ وہ حکومت وقت کی اس ساز باز میں پوری طرح شامل ہے۔ مشکل سے سمجھ میں آنے والی ان تکنیکی پیچیدگیوں کو بھی ایک کنارے رکھ دیجئے۔ چنداور حقائق پر نظر ڈالئے۔

پارلیمانی انتخابات کے نتائج آنے کے صرف ایک ہفتہ بعد کرناٹک میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ نتائج آئے تو کانگریس اور جے ڈی ایس کے ۰۶ فیصد امیدوار کامیاب ہوئے۔ ۵۱ فیصد دیگر پارٹیوں اور آزاد امیدوارکامیاب ہوئے۔ بی جے پی کے حصہ میں محض ۵۲ فیصد نتائج نکلے۔ کیا صرف ایک ہفتہ میں پلوامہ اور بالاکوٹ کے جوش کا بخار اتر گیا؟ یہی نہیں پچھلے ہفتہ راجستھان میں بھی بلدیاتی چناؤ ہوئے، جہاں ۵۲ کی ۵۲ سیٹیں بی جے پی کو ملی تھیں۶۱وارڈوں میں سے ۸ وارڈ کانگریس کو ، تین آزادامیدواروں کو اور صرف ۵ وارڈ بی جے پی کو ملے۔کیا بس دو تین ہفتوں میں راجستھان کے عوام بھول گئے کہ بی جے پی کو دیا جانے والا ہر ووٹ نریندر مودی کو جاتا ہے۔ اگر اپوزیشن متحد ہو کر ملک بھر میں عوام کو بتائے کہ یہ سب اس لئے ہوا کہ کرناٹک اور راجستھان کے بلدیاتی چناؤ ای وی ایم سے نہیں بیلٹ پیپر سے ہوئے تھے ، تو عوام کو بات سمجھنے کے لئے کوئی اورثبوت درکار نہیں ہوگا۔
کچھ لوگ یہ نالش لے کر سپریم کورٹ گئے ہیں کہ ملک میں اب ہر الیکشن بیلٹ پیپر سے کرایا جائے۔ لیکن یہ جان لیجئے یہ سپریم کورٹ کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے۔ آئین کہتا ہے کہ الیکشن کرانا صرف اور صرف الیکشن کمیشن کے اختیار میں ہے، یا پارلیمنٹ کے دائرۂ اختیار میں ۔دونوں اس پر راضی نہیں ہوں گے۔یہ کام سڑکوں پر اترے اور ایک ملک گیر تحریک چلائے بغیر نہیں ہو سکتا۔ مصیبت یہ ہے کہ ہمارے نازونعم کے پالے اپوزیشن لیڈر سڑکوں پر اترنا بھول چکے ہیں۔ یہ کام پریس کانفرنسیں کر کے نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اپوزیشن کی کسی پریس کانفرنس کا گودی میڈیا کور ہی نہیں کرتا۔ یہ کام صرف عوام کے دباؤ سے ہی ممکن ہے
 

Hassan Kamal
About the Author: Hassan Kamal Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.