قطری قرض یا سرمائے کی حقیقت کیا ہے؟

قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کا دو روزہ دورہ پاکستان تو خاموشی سے گزرا لیکن اس کے بعد اب یہ خاموشی جشن میں تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔ اس خوشی کی وجہ قطر کی طرف سے پاکستان کے لیے ڈیپازٹ اور یہاں سرمایہ کاری کا اعلان ہے۔
 


جب قطری امیر اسلام آباد سے واپس گئے تو سرکاری طور پر جاری ہونے والی پریس ریلیز میں 3 ارب کا کہیں کچھ ذکر ہی موجود نہیں تھا تاہم اس دورے کے ایک دن بعد قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی، قطر نیوز ایجنسی کے مطابق امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کی ہدایت پر قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے پاکستان میں ’تین ارب ریال‘ کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا جو ڈیپازٹ اور براہ راست سرمایہ کاری کی صورت میں ہو گی۔

قطر نیوز ایجنسی کی تازہ ٹویٹ سے یہ ابہام بھی دور ہوگیا ہے کہ یہ رقم ریال میں نہیں بلکہ امریکی ڈالرز میں ہے۔
 


ادھر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے امور خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بھی ٹوئٹر پر قطری امیر کی طرف سے دی جانے والی رقم کو تین ارب ڈالر قرار دے کر ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔
 


ماہرین کے مطابق اگر ایک بڑا ڈپپازٹ سٹیٹ بینک میں جمع ہو جاتا ہے تو اس سے ملک کے زرمبادلہ کی صورتحال بہتر ہو جاتی ہے۔

وزارت خزانہ کی وضاحت
ترجمان وزارت خزانہ ڈاکٹر نجیب خاقان نے بی بی سی کو بتایا کہ دورے کے ایک دن بعد پاکستان اور قطر نے ایک ساتھ تفصیلات بتائی ہیں اور اس میں کسی قسم کی دیر کا تاثر درست نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ کچھ بھی نہیں چھپایا جا رہا، جلد تفصیلات بتا دی جائیں گی کہ تین ارب میں کتنا ڈیپازٹ اور کتنی سرمایہ کاری شامل ہے۔

ان کا کہنا ہے ’اعلان سے قبل وزارت خزانہ تفصیلات تیار کر رہی ہے اور دو دن تک بتا دیا جائے گا۔‘

معاشی امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی شہباز رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کے معاہدوں میں پیسے دینے والے ممالک کی شرائط ہوتی ہیں کہ تفصیلات نہ بتائی جائیں۔

’اس ڈیپازٹ پر شرح سود دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ پاکستان کے معاشی مسائل میں کتنی کمی کا باعث بن سکے گا۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے جب قطری امیر اسلام آباد پہنچے تو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے خود ان کا نور خان ایئر بیس پر استقبال کیا اور ان کی گاڑی بھی خود ڈرائیو کر کے انھیں اپنے ساتھ ملاقات کے لیے ایئرپورٹ سے وزیر اعظم ہاﺅس تک لے کر آئے۔
 


اس دورے کے دوران قطر نے تجارت، سرمایہ کاری، فنانشل انٹیلیجنس اور سیاحت سے متعلق تین مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے۔

منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد اور خفیہ معلومات کے تبادلے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر ڈائریکٹر جنرل فنانشل مانیٹرنگ یونٹ منصور حسین صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کے اہداف کی روشنی میں بھی قطر کے ساتھ یہ یادداشت اہمیت کی حامل ہے۔

ان کا کہنا ہے ’اب ان شعبوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے سے تعاون کریں گے جو ہمارے مفاد میں ہے۔ پاکستان جلد متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ بھی ایسی یادداشتوں پر دستخط کرے گا۔‘
 


بیرونی قرضوں کا ایک سال
اگر حفیظ شیخ کی ٹویٹ کو درست مانا جائے اور قطری پیکج کو 3 بلین ڈالر گِنا جائے تو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے لیے گئے قرضے 15.8 ارب تک پہنچ جاتے ہیں۔

گذشتہ 11 ماہ میں پاکستان نے چین سے 4.6 ارب ڈالر کا پیکج لیا جس میں ڈیپازٹ اور قرضے شامل ہیں جبکہ سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کیش ڈیپازٹ اور 3.2 ارب ڈالر تیل کی تاخیر سے ادائیگیوں سے متعلق ہے۔

شرائط کے مطابق چین کے دو ارب ڈالر ڈیپازٹ پر ایک فیصد سود ادا کرنا ہوگا جبکہ باقی 2.6 ارب ڈالر پر سود کی شرح 5.5 فیصد ہے۔ سعودی اور یو اے ای سے 3.2 فیصد سے زائد سود ادا کرنا ہوگا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے 6 ارب ڈالر کا قرض مختلف اداروں سے بھی حاصل کر رکھا ہے جس میں بینک بھی شامل ہیں جبکہ آئی ایم ایف سے بھی 6 ارب ڈالر کے معاہدے کی منظوری کا امکان ہے۔

تمام بیرونی پیکجز کے باوجود پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر اب بھی 7.6 ارب ڈالر تک پہنچے ہیں۔
 


Partner Content: BBC

Reviews & Comments

Language: