شیخ رشید کی پھرتیاں ریلوے کو ڈبونے لگی․․․!!

(Irfan Mustafa Sehrai, Lahore)

پاکستان میں میرٹ نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے ۔باتوں کے علاوہ کھاتوں میں دیکھا جائے تو بری طرح میرٹ کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔یہ پرانے پاکستان میں ہوتا رہا ہے اور نئے پاکستان نے تو ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔کوئی شعبہ اس مرض سے نہیں بچا تو پاکستان ریلوے کیسے بچ سکتا ہے ۔ریلوے ملک کا ایک اثاثہ ہے ۔پوری دنیا میں یہ منافع بخش اور محفوظ ترین ذریعہ آمدورفت سمجھا جاتا ہے ،مگر ہمارے ہاں ریلوے کے محکمے سے بہت زیادتی کی گئی،منافع بخش محکمہ خسارے کا شکار رہا ،یہاں تک کہ اسے ٹکے کے بھاؤ بچنے کی نوبت آ گئی ۔

پاکستان ریلوے کے اپنے دستاویزات کے مطابق ملک کا آدھے سے زیادہ ریلوے ٹریک اپنی عمر پوری کر چکا ہے۔پشاور سے کراچی تک کا 55فیصد جبکہ اٹک، کوٹری، جیکب آباد اور کوئٹہ کی 80فیصد پٹڑی کی مدّت بھی پوری ہو چکی ہے۔13میں سے 11ہزار پل 100برس پرانے ہیں ۔1800میں سے 600مسافر کوچز بھی زائد المعیاد ہو چکی ہیں۔ان حالات میں ریلوے کا سفر محفوظ ہر گز نہیں رہتا۔

اربوں روپے انتظامی اخراجات ،مسافر کوچز،مال بردار ویگنوں کی کمی اور ڈیڑھ سو سالہ ٹریک نے پاکستان ریلوے کو مالی خسارے سے دوچار کر رکھا ہے ۔نئے پاکستان میں عمران خان (کپتان)نے شیخ رشیدکو ریلوے کی ذمہ داری سونپی۔میڈیا پر تو شیخ رشید کا کوئی ثانی نہیں،مگر کام کے حوالے سے ان کی کارکردگی کبھی بھی کچھ متاثرکن نہیں رہی ہے۔وہ سیاست پر بلند وبانگ دعوے اور بیانات کی حد تک تو ٹھیک ہیں ،مگر کسی زبوحال محکمے کی ذمہ داری سونپنا ان کے بس کی بات نہیں ہے ۔اس کے لئے محنت،ذہانت ،خلوص اور عملی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے ۔پاکستان ریلوے کا مجموعی خسارہ 350ارب سے تجاوز کر چکا ہے ۔اتنے بڑے خسارے کو ختم کر کے منافع بخش محکمہ بنانا صرف بیانات یا دعوؤں سے نہیں بلکہ اس کے لئیاعلٰی منصوبہ بندی اور محنت و لگن کی ضرورت ہے ۔

طورخم سے کراچی تک پھیلا ہوا تقریباً 12ہزار کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک، 73ہزار سے زائد ملازمین رکھنے والا قومی ادارہ بدحالی کا شکار ہوا؟ پیپلز پارٹی دورحکومت جب آصف علی زرداری صدر پاکستان تھے اور انہوں نے ریلوے کی ذمہ داری اپنے ہونہار وزیر غلام احمد بلور کو سونپی۔یہ ان کی بڑی غلطی ثابت ہوئی۔غلام احمد بلور نے بڑی دلجمی سے ریلوے کا بیڑہ غرق کر دیا ۔ان کے دور میں ریلوے کی قبر کھود دی گئی تھی۔ریلوے قومی خزانے پر بڑا بوجھ بن چکی تھی ۔اسے پھینکنے کے سوا کوئی چارا نہیں رہا تھا ۔میاں نواز شریف کا دور آیا ۔ریلوے کو فروخت کرنے کا تقریباً فیصلہ کر لیا گیا۔میاں نواز شریف نے اپنی ٹیم کے سینئر ممبر خواجہ سعد رفیق کو وزارتِ ریلوے کی ذمہ داری سونپ رکھی تھی۔انہوں نے اس چیلنج کو قبول کیا ۔میاں نواز شریف سے ریلوے کی نجکاری کے فیصلے کو بدلوایا اور ریلوے کی بہتری کے لئے کمرکس لی۔خواجہ سعد رفیق نے اپنی محنت،جانفشانی اور بہتر حکمت عملی سے دن رات کی کاوش سے ICUمیں پڑی ریلوے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا۔ریلوے کے ان مشکل ترین حالات میں خواجہ سعد رفیق نے بہت محنت کی،جس کا کریڈٹ اُن کا حق ہے ۔

جب کوئی ادارہ بحران کا شکار ہو ، اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے ۔خواجہ سعد رفیق نے اپنا کام کیا ،اب شیخ رشید کو اس سے آگے کام کو لے کر چلنا تھا ،مگر پہلے دن سے شیخ رشید نے خواجہ سعد رفیق کی پالیسی کو سمجھنے کی بجائے ان پر تنقید برائے تنقید ،منفی پہلواجاگرکرنے اور سیاسی بیان بازی پر زیادہ زور رکھااور اپنی ذمہ داری کو اس انداز میں پورا نہیں کیا، جس طرح کرنا چاہیے تھا ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھی ریلوے بہت خسارے میں ہے بلکہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق بدتر حالات ہیں ۔پاکستان ریلوے میں حادثات بڑھ گئے ہیں ۔ شیخ رشید ٹی وہ پر بڑی تقریریں اور مخالفین کو برا بھلا کہتے نہیں تھکتے ،مگر ان کی وزارت ریلوے میں 44 بڑے حادثات ہوچکے ہیں ،ان میں بڑی تعداد میں جانی اور مالی نقصان ہوا۔تازہ ترین حادثہ کوٹری کے قریب پیش آیا جب کراچی سے لاہور آنے والی جناح ایکسپریس پٹڑی پر کھڑی کوئلہ بردار مال گاڑی سے ٹکرا گئی۔حادثے میں تین بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور جاں بحق ہو گئے ۔لیکن یہاں میرٹ کی بات کریں تو ریلوے کی تحقیق میں ڈرائیور جو کہ جاں بحق ہو چکا ہے۔تمام تر حادثے کی ذمہ داری اس بچارے مرحوم پر ڈال دی گئی ہے ۔حیرت انگیز بات ہے کہ یہ حصہ دہری پٹڑی کا ہے،پھر مسافر گاڑی اس پٹڑی پر کیسے آ گئی ،جہاں مال بردار گاڑی کھڑی تھی۔لیکن جب صحافیوں کی جانب سے جی ایم ریلوے آفتاب اکبر سے حادثے کے بارے میں سوالات کرتے ہیں تو وہ جواب دینے کی بجائے سیخ پا ہو جاتے ہیں ۔صحافیوں ،فوٹو جرنلسٹس کو دھمکیاں دینا شروع ہو جاتے ہیں ۔ان کے فرائض سے مجرمانہ طور پر روکتے ہیں ۔اس سے ان کی نا اہلی کا صاف اندازہ ہوتا ہے ۔

ریلوے معاملات کی تمام تر ذمہ داری شیخ رشید پر عائد ہوتی ہے ۔اگر اچھے کا کریڈٹ لیتے ہیں تو برے کا بھی خوش دلی سے قبول کرنے کا حوصلہ رکھیں ۔یہ نہیں ہو سکتا کہ میٹھا میٹھا ہب ہب اور کڑوا تھو تھو۔کسی دوسرے ملک میں ایسا ایک بھی حادثہ رونما ہوتا تو وزیر اسی وقت گھر چلا جاتا ،مگر ہماری سیاست میں ڈھٹائی کی انتہا ہے ۔وزارت نہیں چھوڑنی چاہے اس کے اہل ہیں یا نہیں ۔حادثات میں اضافوں کی پوری ذمہ داری شیخ رشید کی ہے ۔جنہوں نے اپنی سیاسی گاڑی کو تیز کرنے کے لئے متعدد بند روٹ اور کئی نئی ٹرینیں چلانے کی پھرتی میں پرانی بوگیوں کو رنگ روغن کر کے اور پرانے انجن پٹڑی پر ڈال کر عوام کے ساتھ دھوکا کیا ۔جس کے نتیجے میں بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ہے ۔
شیخ رشید تقریروں ،بیانات ،دوسروں پر تنقید اور سیاست میں فلسفے،کردار کی باتیں کرتے تھکتے نہیں ہیں،مگر عملی طور پر اپنی کارکردگی پر مجرمانہ خاموشی جس میں معافی نہ ہی مستعفی ہوئے ۔اس سے اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ وزارت کی بھوک میں وزیر موصوف تمام حدود پار کر جاتے ہیں ۔عمران خان کی ٹیم میں اقتدار کے بھوکے بھیڑیوں کی کمی نہیں۔اگر اس ٹیم کے ساتھ نیا پاکستان کا خیال کسی کے دل میں بھی ہے تو وہ اپنی سوچ کا علاج ضرور کروالے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Irfan Mustafa Sehrai

Read More Articles by Irfan Mustafa Sehrai: 142 Articles with 47418 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Jun, 2019 Views: 509

Comments

آپ کی رائے