کیا ایف بی آر بجٹ میں رکھے گئے ٹیکس اھداف کو پورا کرسکے گی؟

(Mian Khalid Jamil {Official}, Lahore)

پاکستان میں ایف بی آر کا کردار بہر حال کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ٹیکس کے اہداف کو حاصل کرنا اس محکمے کے سرگرم تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ایف بی آر کومطعون کرنے والے تو بہت ہیں لیکن اگر ملک کی مالیاتی گاڑی کچھ چل رہی ہے تو اس کا سہرا اسی محکمے کے سر ہے۔ مگر ملک کی جو معاشی حالت بگڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کی ذمے داری بعض سابق حکمرانوں کے کندھوں پر عائد ہو تی ہے جو اس وقت احتساب کی زد میں ہیں اور وزیر اعظم نے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا ہے جو ماضی کی لوٹ مار کا جائزہ لے گا۔ یہ کام تو اپنی جگہ پر چلتا رہے گا لیکن عوام کو غیر ملکی قرضوں اور مہنگائی سے نجات دلانے کے لئے آنے والے چند برسوں میں ایف بی آر کو بے حد فعال ہونا پڑے گاا ور وفاقی بجٹ کی روح کے مطابق ایک تو جن کے ذمے جو ٹیکس بنتا ہے۔ اسے وصول کیا جائے اور جولوگ ٹیکس دینے سے گریز کرر ہے ہیں ، انہیں بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت ہے۔ ورنہ وہی لوگ پستے رہیں گے جو پہلے ہی کئی اقسام کے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ان کو ریلیف تبھی مل سکتا ہے جب کالے دھن کو سفید کرنے کی مہم کو سرے چڑھایا جائے۔وفاقی بجٹ میں اس کی طرف واضح اشارے موجود ہیں جو ایف بی آر کے لئے مشعل راہ ہونے چاہئیں۔آئندہ مالی سال کے لئے بجٹ خسارہ 3151 ارب روپے ہوگاجسے ٹیکس اصلاحات کے ذریعے پورا کیا جائے گا‘ چینی‘ خوردنی تیل‘ گاڑیاں‘ سگریٹ سمیت دیگر اشیاپر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کی تجویز ہے‘ کم سے کم اجرت بڑھا کر 17500 کی گئی ہے‘ تنخواہ دار طبقے کے لئے 6 لاکھ روپے سالانہ اور غیر تنخواہ دار طبقے کے لئے 4 لاکھ روپے سے زائد پر انکم ٹیکس لاگو ہوگا‘ آئندہ مالی سال کے لئے ٹیکس ریونیو کا ہدف5555 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے‘ عالمی مالیاتی فنڈ سے چھ ارب ڈالر کے پروگرام کا معاہدہ ہوگیا ہے‘ آئی ایم ایف کے بورڈ سے اس کی منظوری کے بعد اس معاہدے پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا‘ سول حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم ہوکر 437 ارب روپے کئے جارہے ہیں جبکہ عسکری بجٹ موجودہ سال کی سطح یعنی 1150 ارب روپے پر مستحکم رہے گا۔

وفاقی بجٹ میں ایف بی آر کے لئے ٹیکس محصولات کا ہدف 5550 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ اخراجات میں کمی پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ بنیادی خسارہ 0.6 فیصد تک رہ جائے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بنیادی اصلاح ٹیکس میں اضافہ ہوگا۔حکومت نے غربت کے خاتمے کے لئے ایک نئی وزارت قائم کی ہے۔

حکومت کو معاشی وراثت میں مجموعی قرضہ اور ادائیگیاں 3100 ارب روپے ملیں۔ ان میں تقریباً 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات اور ادائیگیاں تھیں۔ بہت سے کمرشل قرضے زیادہ سود پر لئے گئے تھے۔ گزشتہ دو سال کے دوران سٹیٹ بنک آف پاکستان کے ریزرو 18 ارب ڈالر سے گرتے گرتے دس ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح 20 ارب ڈالر جبکہ تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ پانچ سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ مالیاتی خسارہ 2260 ارب روپے کی خطرناک حد تک پہنچ گیا تھا۔ اتنا بڑا خسارہ الیکشن کے سال میں مالیاتی بدنظمی کی وجہ سے ہوا۔ بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا اور 38 ارب روپے ماہانہ کی شرح سے بڑھ رہا تھا۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی 1300 ارب روپے کے مجموعی خسارے سے زائد تھی۔ پاکستانی روپے کی قدر بلند رکھنے کے لئے اربوں ڈالر جھونک دیئے گئے۔ اس مہنگی حکمت عملی سے برآمدات کو نقصان پہنچا۔ درآمدات کو سبسڈی ملی اور معیشت کو نقصان ہوا۔ اس کی وجہ سے دسمبر 2017میں روپیہ گرنے لگا۔ اور چیزوں کی قیمتوں پر دبائو بڑھ رہا تھا اور افراط زر چھ فیصد کو چھو رہی تھی۔ حکومت نے مناسب اقدامات سے صورتحال کو قابو میں لانے کے لئے حکمت عملی اپنائی۔ فوری خطرہ سے نمٹنے اور معاشی استحکام کے لئے اقدامات کئے۔ درآمدات پر ڈیوٹی میں اضافے سے جولائی سے اپریل کے دوران درآمدات کم ہو کر 45 ارب ہوگئیں اور تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر کم ہوا۔ وزیر اعظم کے سمندر پار پاکستانیوں کو اعتماد دلانے سے ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بجلی کے گردشی قرضوں کو 26 ارب روپے ماہانہ پر لایا گیا۔چین‘ سعودی عرب‘ یو اے ای سے 9 ارب 20 کروڑ ڈالر کی امداد ملی جس پر ان دوست ممالک کا شکرگزار ہونا چاہئے ۔

سعودی عرب سے فوری ادائیگی کے بغیر 3ارب 20 کروڑ ڈالر سالانہ کا تیل درآمد کرنے کی سہولت حاصل کی گئی تاکہ عالمی کرنسی کے ذخائر پر دبائو کم ہو۔ اس کے علاوہ حکومت نے اسلامی ترقیاتی بنک سے ایک ارب دس کروڑ ڈالر کی فوری ادائیگی کے بغیر تیل درآمد کرنے کی سہولت حاصل کی ہے۔ ان اقدامات کی بدولت اس سال کرنٹ اکائونٹ خسارے میں سات ارب ڈالر کی کمی آئے گی جبکہ آئندہ سال مزید 6ارب 50 کروڑ ڈالر کی کمی آئے گی۔

اثاثہ جات ظاہر کرنے کی سکیم پر عمل جاری ہے جس سے ٹیکس کا دائرہ وسیع ہوگا اور بے نامی اور غیر رجسٹرڈ اثاثے معیشت میں شامل ہوں گے۔ 95 ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کے لئے فنڈز جاری کئے گئے ہیں۔ احتساب کے نظام‘ اداروں کے استحکام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں جن میں سٹیٹ بنک کو مزید خودمختاری دی گئی ہے‘ افراط زر کو مانیٹری پالیسی کے ذریعے کنٹرول کیا جارہا ہے۔ ٹیکس پالیسی کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کیا گیا ہے۔ ایک ٹریژی سنگل اکائونٹ بنایا گیا ہے۔ اب حکومت کی رقم کمرشل بنک اکائونٹ میں رکھنا منع ہے۔ پاکستان بنائو سر ٹیفکیٹ کا اجراء کیا گیا ہے تاکہ سمندر پار پاکستانی 6.75 فیصد کے منافع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے وطن میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ ایف بی آر نے سرمایہ کی کمی دور کرنے کے پچھلے سال کے 54 ارب روپے کے مقابلے میں 145 ارب روپے کے ری فنڈ جاری کئے۔

پاکستان میں 31 لاکھ کمرشل صارفین میں سے صرف 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں۔ بنکوں میں مجموعی طور پر پانچ کروڑ اکائونٹ ہیں جن میں سے صرف دس فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ایک لاکھ کمپنیوں میں سے صرف پچاس فیصد ٹیکس دیتی ہیں۔ نئے پاکستان میں اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔ابھی تک تو ماھرین معیشت کی رائے کا نکلتا ھے کہ حکومت نے جو بجٹ میں ٹیکسز کا ھدف پانچ ھزار پانچ سو پچاس ارب روپے رکھا ھے اس ھدف تک پہنچنا اک معجزہ ہی ھوگا-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mian Khalid Jamil {Official}

Read More Articles by Mian Khalid Jamil {Official}: 333 Articles with 181533 views »
Professional columnist/ Political & Defence analyst / Researcher/ Script writer/ Economy expert/ Pak Army & ISI defender/ Electronic, Print, Social me.. View More
28 Jun, 2019 Views: 333

Comments

آپ کی رائے