انسان کا ضمیر زندہ رہتا ہے؟

(Afzal Razvi, Australia)
کل مملکت خداداد پاکستان میں ایک اورانہونی ہو گئی جب ایک جج کی مبینہ داستان خونچکاں منظر عام پر آگئی۔ یہ وہی جج صاحب ہیں جنہوں نے گزشتہ سال محمد نواز شریف کو ایک مقدمے میں سزا سنائی تھی۔ “ریاست مدینہ” کے خدوخال کیا تھے اور اس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہمُ کا کردار کیا تھا؟”ختم النبین “کہنا نہ آئے اور ریاست مدینہ کی بات کی جائے ، اللہ اللہ ۔

کل مملکت خداداد پاکستان میں ایک اورانہونی ہو گئی جب ایک جج کی مبینہ داستان خونچکاں منظر عام پر آگئی۔ یہ وہی جج صاحب ہیں جنہوں نے گزشتہ سال محمد نواز شریف کو ایک مقدمے میں سزا سنائی تھی۔ اس گفتگو کو مریم نواز شریف مسلم لیگ کی سینئر ترین قیادت کی موجودگی میں سامنے لائیں ۔ اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی پریس کانفرنس نے پوری قوم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ‏ہم تو ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ نیب ایک احتسابی نہیں ، انتقامی ادارہ ہے ‏جس جج کے فیصلے پر نواز شریف جیل میں ہیں وہ خود پھٹ پڑا اور اس نے اعتراف کیا کہ کس طرح یہ فیصلے مجھ سے دباؤ کے تحت لئے گئے۔

دریں اثناء یہ کہنا محال ہے کہ عدالتیں اس پر کیا موقف اختیار کریں گی لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ملکی سیاست پر رائے زنی کرنے والوں کو ایک تازہ ترین موضوع بحث مل گیا ہے۔ جس پر طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جائیں گی ۔ اور تو اور فردوس عاشق اعوان صاحبہ تو جیسے پہلے سے تیار بیٹھی تھیں چنانچہ انہوں آؤ دیکھا نہ تاؤ اور سیدھے سیدھے نہایت وثوق کے ساتھ اعلان فرما دیا کہ”ہم اس ویڈیو کی فرانزق آڈٹ کرانے جارہے ہیں جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا”۔ لیکن پھر وہی یو ٹرین جو موجودہ حکومت کا وطیرہ بن چکا ہے، سامنے آگیا اور اب معاملہ عدلیہ پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ پاکستان کےایک موقر نیوز چینل کے نیوز کاسٹر نے مشیر اطلاعات سے لائیو سوال کر ڈالا کہ کل تک آپ کی رائے یہ تھی کہ فرانزق آڈٹ کرایا جائے گا اور اب ایک دوسرے مشیر نے اس کے برعکس معاملہ عدلیہ پر چھوڑ دیا ہے تو محترمہ غصے سے نہ صرف لال پیلی ہو گئیں بلکہ نیوز کاسٹر کو جھاڑ بھی پلا ڈالی حالانکہ اس پر ان کی سبکی ہوئی تھی اور انہیں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے معاملے کو عقلی دلیل سے ڈیل کرنا چاہیے تھا لیکن مملکت خدادا پاکستان میں تو ایسا کبھی ہوتا نہیں بے چارے صحافی ہی ہمیشہ پستےہیں۔ ابھی یہ سلسلہ جاری ہے اور ایک کے بعد دوسری ٹیپ کے منظر عام پر لانے کے چرچے ہیں تو دوسری طرف قصیدہ گو ہر دو طرف سے اپنے اپنے کام میں مشغول و مصروف ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ کراچی کے سابق مئیر کی ایک درد بھری اور چھبتی ہوئی التجا بھی سامنے آگئی ہے ان کا کہنا ہے کہ”وزیرآعظم صاحب خدا را “ریاست مدینہ” کے الفاظ استعمال کرنا بند کر دیجیے کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا کا قہر نازل ہو جائے”۔ اب جناب یہ بات کسی کو اچھی لگے یا بری لگے جن لوگوں نے پاکستان کے وزیرآعظم کو اس سبق کی تلقین کی ہے انہیں کم از کم یہ ضرور پیش نظر رکھنا چاہئیے تھا کہ “ریاست مدینہ” کے خدوخال کیا تھے اور اس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہمُ کا کردار کیا تھا؟”ختم النبین “کہنا نہ آئے اور ریاست مدینہ کی بات کی جائے ، اللہ اللہ ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 111 Articles with 46332 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More
09 Jul, 2019 Views: 269

Comments

آپ کی رائے