ڈاکٹر تنویر انورخان کے’ شگون کے پھول‘

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

شگون کے پھول ‘معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور کہانی کارڈاکٹر تنویر انور خان کے افسانوں کا تازہ بہ تازہ مجموعہ ہے ۔ اس سے قبل ان کے پانچ مجموعے زنجیریں ، پرچھائیں اور عکس، وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی ، پانی کا بلبلہ اور میت رے منظرِ عام پر آچکے ہیں ، ڈاکٹر صاحبہ کی خصوصی عنایت کے انہوں نے مجھے اپنے چھ کے چھ مجموعے عنایت فرمائے بلکہ اپنے خصوصی نمائندہ کے ذریعہ میرے گھر پہنچائے ۔ ارادہ تو یہ تھا کہ تمام مجموعوں پر ایک مضمون ہی لکھوں لیکن ہمارے دوست سلسلہ ادبی فورم و پبلی کیشنز کے روح رواں مرتضیٰ شریف صاحب کا اصرار کہ ڈاکٹر صاحبہ کے تازہ مجموعے ’’شگون کے پھول‘‘ پر پہلے لکھوں وہ بھی مختصر، میرے لیے سب سے مشکل کام لکھنا نہیں بلکہ مختصر لکھنا ہے ۔ شاعر تو ایک شعر میں بہت کچھ بیان کر کے فارغ ہوجاتا ہے لیکن نثر نگار کے لیے اختصار سے لکھنا اور وہ بھی ایک ایسی لکھارے کے افسانوں کے مجموعہ پر جن کو قلم و قرطاس سے جڑے اورقلمی و فکری سفر کو چھ دہائیاں بیت چکی ہوں اور وہ ساتویں دیہائی کے افسانے ، کہانی اور ناول کے سمندر میں سفر کررہی ہوں اور افسانوں کی صورت میں اپنی علمی و فکری کاوشوں سے لمحہ موجود کو مہکارہی ہوں ۔ ڈاکٹر صاحبہ پیشہ کے اعتبار سے طبیبہ ہیں ، ایم بی بی ایس، الٹر سونولوجسٹ ہیں ۔ ان کی پہلی کہانی ماہنامہ ’’پھول‘‘ لاہور میں 1958ء میں شاءع ہوئی، گویا انہوں نے ڈاکٹری نسخے 1974 ء کے بعد لکھنا شروع کیے جب کہ کہانی نویسی کا آغاز 16 سال قبل ہی ہوچکا تھا ۔ افسانے ، کہانیاں اور ناول مختلف اخبارات اور رسائل وجرائد میں شاءع ہوتے رہے لیکن کتابی صورت کی جانب توجہ 2016ء میں دی گئی اور اِسی سال تین مجموعے زنجیریں ، پرچھائیں اور عکس، پانی کا بلبلہ شاءع ہوئے ، 2017ء میں ناولٹ ’وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی‘ ، 2018 ء میں ’ میت رے‘ اور اب 2019ء میں ’ شگون کے پھول‘ کھلانے میں وہ کامیاب ہوئیں ہیں ۔ خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ افسانوں کے دو مجموعے منتظر اشاعت ہیں ۔ تخلیقی و فکری ادب کو تصانیف کی صورت میں شاءع کرنے کا خیال بہت دیر سے آیا، کہتے ہیں دیر آید درست آید ۔

ڈاکٹر تنویرانور خان کا خمیر ہندوستان کے صوبے یوپی کے شہر کانپور کی مٹی سے گوندھا گیا ہے جو علم و ادب کا گہورہ ، مشرق کا مانچسٹر، دنیا کا اہم صنعتی و تجارتی شہر، یوپی کے معاشی دارالخلافہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ’ فسانہ عجائب ‘کے خالق مرزا رجب علی بیگ سرور اور افسانہ نگاری کے سرخیل منشی پریم چند جیسے افسانہ نگاروں کو کانپور سے نسبت رہی ہیں ۔ منشی پریم چند نے متعدد معروف افسانے اسی سرزمین پر بیٹھ کر لکھے اور مقبول ہوئے ۔ ڈاکٹر تنویر انور نے بھی اسی شہر میں آنکھ کھولی تھی ،بھلا ان میں کہانی کار اور افسانہ نگار کی صفات کیسے نہ ہوتیں ۔ پیشہ طب کا اختیار کیا لیکن ان کے اندر تو ایک کہانی کار چھپی بیٹھی تھی جوں ہی اسے موقع ملا وہ باہر آگئی ۔ داستان ،افسانہ ، ناول ، قصہ گوئی، ڈرامہ نگاری ،واقعہ نگاری، حکایت ، تمثیل کی بنیاد کہانی کاری ہے ، کہانی نے رفتہ رفتہ قصہ گوئی، افسانہ ، ناول ، اب افسانچہ کی شکل اختیار کی، کہانیوں میں عام طور پر مذہبی، اخلاقی ، نصیحت آمیزی غالب ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر تنور انور کی تخلیق کاری کا آغاز ایک کہانی ’’پھول‘‘ سے ہی ہوا پھر سات سال بعد وہ افسانہ لکھتی ہیں جو ماہنامہ ’حور‘ لاہور میں شاءع ہوا ۔ اس کے بعد افسانہ در افسانہ اور ناول کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ جہاں تک ان کی تخلیقات جن میں کہانی، افسانہ، ناول شامل ہیں ، مجھے تو ان میں ’زندگی‘ ہنستی مسکراتی، چلتی پھرتی، بھاگتی دوڑتی دکھائی دیتی ہے ، پاکستانی اور مسلم معاشرہ کی اقدار نمایاں نظر آتی ہیں ،غریبی میں حوصلہ کے ساتھ زندگی گزرنے کی داستان ہے، روز مرہ کے واقعات ، معاشرہ میں نت نئے اور مختلف واقعات کا احاطہ کرتی تحریریں ہیں جن کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ یہ تو ہماری ہی زندگی کی بات ہورہی ہے ۔ یہ واقعہ تو ہمارے ساتھ یا ہمارے

کسی قریبی عزیز یا جاننے والے کے ساتھ رونما ہوچکا ہے ۔ اس بنیاد پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ڈاکٹرتنویر انور خان کی تحریریں معاشرہ میں رونما ہونے والے اچھے یا برے واقعات اور حادثات ہیں جن کو وہ خوبصورت اور عام فہم انداز میں بیان کرتیں ہیں ۔

پیش نظر افسانوں کا مجموعہ ’’ شگون کے پھول ‘‘ دس افسانوں پر مشتمل ہے، اس کا پہلا افسانہ ہی’ شگون کے پھول ‘ہے، اس کا آغاز ول لکش موسم ، سرخ ، پیلے سفید پھولوں سے لدے ہرے بھرے درختوں سے ہوتا ہے ۔ کہانی چچا تایا زاد سومیا اور بیٹے امبل جن کے گھر برابر برابر اس طرح تھے کہ دونوں کا لان ایک ہی تھا ۔ سومیاکی مانگ شروع ہی سے امبل کے لیے تھی، دونوں کا رشتہ کم عمری میں طے ہوجاتا ہے ، دادی بہو کے گلے میں شگون کے پھول ڈالٹی ہیں ،امبل لندن چلے جاتی ہے، جاتے ہی حالات پلٹا کھاجاتے ہیں اور سومیا کی شادی اس کے والد کے دوست کے بیٹے فرحان سے ہوجاتی ہے ۔ قسمت پھر پلٹا کھاتی ہے اور فرحان کا جہاز کریش ہوجاتا ہے، سومیا کی زندگی ایک ننھے کو سینے سے لگائے سسک پڑتی ہے، وطب واپس آکر سومیا اپنی ندگی کا آغاز پھر سے کرتی ہے لاہور میڈیکل کالج میں اس کا داخلہ ہوجاتا ہے، وہ اپنے ننھے رومی کو چھوڑ کرلاہور چلی جاتی ہے جہاں وہ سومیاکے بجائے شامی کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ شامی بھی ڈاکٹر بن جاتا ہے، سومیا بھی ڈاکٹر بن کر کراچی واپس آکر اسپتال میں ملازمت شروع کردیتی ہے، سرجن فراز جنہوں نے لاہور میں اس کا امتحان لیا تھا وہ بھی اسی اسپتال میں ہوتے ہیں اور شامی انہی کی شعبہ میں ہاوس جاب کا آغاز کرتی ہے، جہاں پر دونوں کی ملاقات ڈرامائی انداز سے ہوجاتی ہے، دونوں ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں ، اب سومیا اور سرجن فراز کے مابین قربت کا آغاز ہوتا ہے، سرجن فراز سومیا کو مختلف طریقے سے شادی کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، جب شامی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ وہ سرجن فراز کواپنے بارے میں سب کچھ بتا دے گی ، اسپتال میں جوں ہی وہ یہ فیصلہ کرتی ہے اچانک ایمرجنسی میں اسے کال آجاتی ہے جہاں اس کے نظروں کے سامنے اس کے والد کی لاش اور اس کا بیٹا شدید زخمی حالت میں ہوتا ہے وہ بے ساختہ کہتی ہے’’سر میرے بچے کو بچالیں ۔ میرے منے کو بچالیں ۔ ۔ ابو ختم ہوگئے مگر میرا منا تو بچ سکتا ہے ۔ ۔ اسے بچا لیں ۔ ۔ اسے بچا لیں ۔ ۔ نہیں تو میں ۔ ۔ میں مرجاؤں گی‘‘ ۔ سرجن فراز ہکّابکّاسے کبھی سومیا کو دیکھتے اور کھبی خوبصورت بچے کو ۔ وہ ایک دم بچے کو تھیٹر میں لے گئے مگر ننھے رومی کے جسم سے ڈھیروں خو ن بہہ چکا تھا ۔ وہ ننھی سی جان بھلا اتنا دُکھ کہاں جھیل سکتی تھی ۔ آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی بچے نے دم توڑ دیا ۔ سرجن سرفراز دراصل امبل ہی تھے، جب کہ سرجن کو بھی اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ شامی دراصل سومیا ہے ۔ کہانی رفتہ رفتہ امبل اور سومیا کو خاندانی روایات کے تحت باہم شادی کے بندھن میں باندھ دیتے ہیں ، وہ بھی ڈرامائی صورت میں ، عین اس وقت جب سومیا اپنا گھونگھٹ اٹھاتی ہے تو اس کا ہونے والا شوہر امبل ہوتا ہے ۔ یہاں یہ کہانی دونوں کے درمیان آخری مکالموں کے بعد اختتام کو پہنچتی ہے ۔

دوسرا افسانہ ’’پیار کی خوشبو‘‘ ہے ۔ یہ ایک غریب اور لاوارث لڑکی شمع کی کہانی ہے جو گاؤں میں رہتی تھی سیلاب میں والدین بہہ جاتے ہیں وہ سٹرک پر نیم مردہ پڑی ہوتی ہے کہ ایک امیر شخص شیراز اسے اپنی گاڑی میں اپنے گھر لے جاتا ہے پھر یہ کہانے مختلف پیچ و غم کھاتی آگے بڑھتی ہے ، شیراز کی شادی ہوجاتی ہے، شمع اس گھر سے یونیورسٹی میں لیکچرر بن کر ہاسٹل منتقل ہوجاتی ہے، شیراز کے گھر ایک بیٹی حرا کی ولادت ہوتی ہے جس کے دل میں سوراخ ہوتا ہے، بیٹی کی پیدائش میں شیراز کی بیوی مرجاتی ہے، شمع کو جب معلوم ہوتا ہے تو وہ فراز سے ہمدردی اور اس کی بیٹی کی پرورش پر تیار ہوجاتی ہے ، دونوں کی شادی ہوجاتی ہے اور ان کی بیٹی حرا بھی بڑی ہوجاتی ہے وہ اس کی شادی بھی کردیتے ہیں ۔ اس کہانی میں شیراز کی نانی اماں کا کردار بھی مثبت دکھایاگیا ہے ۔ یہ افسانہ روزمرہ کی زندگی کا عکاس ہے ۔ تیسرا افسانہ ’’من مندر ‘‘ ہے ۔ اس کا آغاز میڈیکل چیک اپ سے ہوتا ہے، یہ کہانی شان اور نازیہ کی ہے جو یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں ، شان کو کوڑھ یعنی جذام کی بیماری ہوتی ہے، دونوں کی منگنی ہوچکی ہوتی ہے ، نازیہ کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ شان کو جذام کی بیماری ہے وہ شادی سے انکار کردیتی ہے، کہانی ایک نیا رخ اختیار کرتی ہے شان کی شادی شاما سے ہوجاتی ہے، شان اور نازیہ کی ملاقات میں اختتامی جملے جن میں نازیہ کی شادی نہیں ہوتی وہ کہتی ہے’’ کہ کوئی دوسرا شان ملے گا پھر شادی کرونگی، ورنہ شاید کبھی شادی نہ کروں ‘‘ ۔ کہانی میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ بیماری کوئی بھی ہو وہ اللہ کی دی ہوئی ہوتی ہے، وہی بیماری دینے والا اور وہی اس سے نجات دینے والا ہے ۔

چوتھا افسانہ ’’احساسِ شکست‘‘ کے عنوان سے ہے ، یہ دو سہیلیوں کی کہانی ہے جن میں سے ایک کی شادی ہوجاتی ہے دوسری ائر ہوسٹس بن جاتی ہے، دونوں کی ملاقات پندرہ سال بعد ہوائی جہاز میں ہوتی جب کہ فری ائر ہوسٹس ہے، نیما لندل اپنے شوہر کے پاس جارہی ہوتی ہے ۔ دونوں کا بچپن کانونٹ اسکول میں گزرا تھا ۔ نیما ڈاکٹریٹ کرچکی ہوتی ہے، جہاز میں دونوں اپنی اپنی داستان اور بیتے دنوں کو یاد کرتی ہیں ، فری پڑھ نہ سکی، سوتیلی ماں تھی، ائر ہوسٹس بن گئی، اکیلی رہتی تھی ، زبیر نامی شخص نے سبز باغ دکھائے ، پر شادی نہیں کی، یہاں تک کہ عزت پر ڈاکہ ڈالا اور وہ ماں بھی بن گئی، زبیر نے تعلق ختم کر لیا، اس کا بیٹا لندن میں رہتا ہے ، دونوں نے لندن میں ملنے کا وعدہ کیا، بعد میں جب دنوں نے لندن میں ملاقات کی تو انکشاف ہوا کہ زبیر ہی وہ شخص تھا جو عاطف کے نام سے نیما کا شوہر تھا،نیما نے عاطف کو مجبور کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو اپنائے اور فری سے شادی بھی کر لے، عاطف پر یہ بات پہاڑ بن کر گری ، اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے، نیما نے یہاں تک کہہ دیا کہ عاطف اسے طلاق دیدے اور فری سے شادی کر لے ۔ فری کا بیٹا ندیم انجینئر بن گیا، اللہ نے عاطف اور نیما کوکوئی اولاد نہ دی، دونوں نے ندیم کو بیٹے کی چاہت دی ۔ افسانے کی خوبصورت بات جو مصنفہ نے فری کی زبانی کہی کہ ’’جو لوگ اپنا پیار شادی سے پہلے بانٹ لیتے ہیں وہ شادی کے بعد کبھی خوش نہیں رہتے‘‘ ۔ پانچواں افسانہ ’’وہ ایک رات‘‘ہے جس کا آغاز رات بارہ بجے سے ہوتا ہے، اس میں بھی معمولی سے ایکسیڈنٹ میں لڑکے اور لڑکی کی تکرار ہوتی ہے، بھائی نے بہن کو شکی مزاج دوست کے پلے با ندھ دیا یہ لڑکا وہی ہوتا ہے جس سے سے ندا کی تکرار ہوتی ہے اور شادی کی رات یہ راز عیاں ہوتا ہے تو عمیر ندا کو کھری کھری سناتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’تم ۔ ۔ تم میری بیوی نہیں ہوسکتیں ۔ تم جیسی آوارہ لڑکیاں جو بارہ ایک بجے رات کو تنہا ڈرائیور کے ساتھ سڑکوں پر گھومتی ہیں وہ ۔ ۔ ۔ وہ میری آئیڈیل میری بیوی نہیں ہوسکتی‘‘ ۔ حالانکہ ندا اس وقت ڈرائیور کے ساتھ اسپتال سے واپس گھر جارہی تھی، لیکن شک بری بلا ہے، اس شک نے ندا اور عمیر کے گھر کو اجاڑدیا، اس افسانہ کہ اہم بات جو ندا نے کہی کہ ’لڑکی کو شادی سے قبل لڑکے کو ضرور دیکھ لینا چاہیے، یہ غلطی ندا نے کی جس کی سزا اسے ملی‘‘ ۔ چھٹا افسانہ ’’تجھے خود سے زیادہ چاہوں ‘‘ ہے ۔ یہ میاں بیوی کی کہانی ہے، جس میں شکوک و شبہات زندگی کو برباد کر کے رکھ دیتے ہیں ، بیٹی کے

د ل میں سوراخ پھر اس کا ٹھیک ہوکر ڈاکٹر ہی نہیں کارڈک سرجن بن جانا، اس افسانہ کی اہم بات تمام تر شکوک و شبہات کے ختم ہونے اور حقیقت معلوم ہوجانے کے بعد دونوں مل جاتے ہیں ،بات اسپتال کے وارڈ سے شروع ہوتی ہے اور پیچ و خم کھاتی ڈاکٹر تبریز اور منزہ کے ملاپ پر اختتام ہوتی ہے، آخر میں مونا اپنے شوہر کے پاس چلی جاتی اور کہتی ہے ’’ہاں تبریز میں آگئی ۔ ۔ ۔ کیونکہ سچائی ایک ایسا مضبوط بندھن ہے جو توڑانہیں جاسکتا ۔ ۔ کاش یہ سب کچھ مجھے پہلے معلوم ہوجاتا ۔ ۔ منزہ اپنی سوتیلی بیٹی فلک سے ملتی ہے اور اسے گلے لگالیتی ہے، فلک جس کے دل میں پیدائشی سوراخ تھا نہ صرف باہر جاکر ڈ اکٹر بنتی ہے بلکہ وہ کارڈک سرجن بن کر واپس آتی ہے، اس کے والدین اس کے لیے’ ’فلک کارڈک سینٹر ‘‘ قائم کرو ادیتے ہیں ، وہ خوشی خوشی تالیوں کی گونج میں سرخ ربن کاٹتی ہے ۔ ساتواں افسانہ ’’میرے اپنے آنسو ‘‘ ہے ، اس کہانی میں بھی اسپتال، ڈاکٹر سے بات شروع ہوتی ہے، سسٹر ورجینیا سرجن ڈاکٹر شجیل کو بتاتی ہے کہ پرائیویٹ وارڈ میں ایک سیریس مریض ہے کسی لیڈی ڈاکٹر نے خاصی مقدار میں خواب آور گولیاں کھا لی ہیں ،یہ ڈاکٹر نیل تھی اس کا اصل نام شہنیلا تھا، یہ اور ڈاکٹر شجیل ساتھ پڑھتے تھے، جب ڈاکٹر شجیل ڈاکٹر نیل کی جان بچا لیتا ہے تو نیل کہتی ہے شجی مجھے مرجانے دیتے مجھے زندگی سے نفرت ہے اس پر ڈاکٹر شجی نیل سے کہتا ہے کہ ’’نیل ! شاید مجھے اور تمہیں دونوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ ڈاکٹر زندگی دینے کی کوشش کرتا ہے چھیننے کی نہیں ‘‘ ۔ کہانی میں بتا یا گیا کہ نیل کی شادی شان سے ہوگئی تھی اور وہ لندن چلے گئے ، شجی شادی نہیں کرتا وہ بھی باہر سے کنسلٹینٹ بن کر آگیا تھا اور ایک اسپتال میں خدمات انجام دے رہا تھا، دونوں کے درمیان مکالمہ ہوتا ہے شجی نیل کو شادی کے لیے قائل کر لیتا ہے با وجود اس کے کہ وہ شجی سے کہتی ہے کہ وہ ایک شادی شدہ، طلاق یافتہ لڑکی ہے، وہ اسے شان کے ظلم و ستم کی داستان بھی سناتی ہے، جواب میں وہ کہتا ہے تو پھر کیا ہوا ۔ شجی ایک حادثے میں زخمی ہوجاتا ہے، نیل اس کی تیمار داری کرتی ہے اور دونوں ایک ہوجاتے ہیں ۔ آٹھواں افسانہ ’’شورشِ غم ‘‘ کے عنوان سے ہے ۔ ایک غریب لڑکی کہانی ہے جس میں اس کی ماں مرجاتی ہے، وہ ایک کوٹھری میں تنہا اپنی ماں کو یادکر کے اس کے جلدی چلے جانے کا گلہ کرتی ہے ، اپنی غربت کا افسوس کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ’’شیمی ہم جنم جنم کے غریب تو نہ تھے ۔ یہ تو وقت ہے جس نے ہم سے سب کچھ چھین لیا جس نے ہم سب کو غریبی کے گہرے اور تاریک غاروں میں دھکیل دیا ‘‘َ ، اس کا بھائی بھی چلا جاتا ہے، انہیں سوچوں اور تنہائی میں اسے محسوس ہوتا ہے کہ کوئی سیاہ لباس میں ملبوس کھڑا ہے چہرہ پر سیاہ نقاب تھا‘، وہ سایہ اپنے آپ کو موت کہتا ہے اور شیمی کو سکون دینے کا کہتی ہے اور ساۃ غائب ہوجاتا ہے ۔ شیمی کی بات اس کے خالہ کے بیٹے عاصم سے طے تھی لیکن شیمی پڑھ نہ سکی جب کہ عاصم نے یہ کہہ کر شادی سے انکار کردیا کہ وہ ایک جاہل لڑکی سے شادی نہیں کرسکتا، شیمی اسے بہت سمجھانے کی کوشش کرتی ہے لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہتا ہے، وہ کہتی ہے کہ’ عاصم! کاش یہ بچپن کا رشتہ بچپن میں ہی ٹوٹ جاتا‘،شیمی پریشان ہوکر زہر پی لیتی ہے لیکن زندگی بچ جاتی ہے، شیمی اس دوران پڑھنا شروع کردیتی ہے اور انٹر میں اس کی اول پوزیشن آتی ہے، اس کا بھائی اسے بڑے ارمان سے بتا تا ہے، شیمی کا بھائی باہر سے واپس آگیا تھا ان کے مالی حالات بھی بدل گئے تھے ، عاصم شیمی کی خوشامد کرتا ہے لیکن شیمی کسی طور شادی کے لیے رضامند نہیں ہوئی اس کی شادی اس کے بھائی کے ایک دوست کیپٹن احمر سے ہوجاتی ہے ۔ نواں افسانہ’’ اُفق کے پار‘‘ ہے نگینہ اور اس کی ماں زمین و آسمان کے ملنے کے منظر کی منظر کشی کرتی ہیں جب دن کے اُجالے میں زمین و آسمان کا ملاپ دکھائی دیتا ہے ، وہ اندھیرے اور اجالے پر گفتگو کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ انسان بھی اپنی زندگی کے دو پہلو رکھتا ہے ایک تو ایسا ہی اندھیرا اور دوسرا اُجالا جیسے دن کو پھیلتا ہے ۔ پھر خوشیوں کے اجالوں کے جلد مٹ جانے کی باتیں کرتی ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ ہر انسان کو یکساں خوشیاں کیوں نہیں ملتیں ، ہر انسان کو اور اس کی زندگی کو ایسا اُجالا کیوں نہیں ملتا ، جیسا سورج پوری دُنیا کو دیتا ہے ، یہ لمحہ بھر کی خوشی آکر کھو کیوں جاتی ہے‘‘ ۔ نگینہ مایوس جب کہ اس کی انا اسے حوصلہ دیتی ہیں ، وہ ایک مصورہ تھی، شکیب نے بھی نگینہ کی خبر نہ لی ، شکیب بھی مصور ہی ہوتا ہے، بلکہ اس نے نگینہ کو مصوری کے گر بھی سکھائے ، یہ کہانی دراصل دو مصوروں کی کہانی ہے، آخر میں دونوں مل جاتے ہیں ، دونوں کی ملاقات مصوری کے مقابلے کی تقریب میں ہوتی ہے جہاں نگینہ کو اس کی بنائی ہوئی تصویر پر انعام ملتا ہے ، انعام دینے والے شکیب ماہر مصور ہی ہوتے ہیں ، دونوں کا ملاپ انہیں اور قریب لے آتا ہے، شکیب کہتا ہے ‘‘ہاں نگینہ ، اُفق کے اُ س پار زمین وآسمان کا ملاپ اور اُفق کے اِس پار ہم لوگوں کا ملاپ ۔ ۔ پانچ سال کی جدائی کے بعد ۔ ۔ کیا یہ بات دلچسپ نہیں ۔ شکیب کہتا ہے کہ ’’خدا کرے نگینہ ہم دونوں کا فن ہمیشہ زندہ رہے اب ہم دونوں اپنے فن پاروں میں نئی زندگیاں گھولیں گے ۔ سہاگ رات، اندر کمرہ میں دیوار پر لگے ان دونوں کے شہ پاے جگمگا رہے تھے مگر شکیب کی نظریں نگینہ کی تصویر ’’اُفق کے پار‘‘ پر جمی تھی‘‘ ۔ دسواں اور آخری افسانہ ’’دُعا‘‘ ہے ۔ راشب پڑھائی کے دوران لیباریٹری میں نوکری کرتا ہے بعد میں پڑھ کر انجینئر بن جاتا ہے، والد کا انتقال ہوچکا تھا، بوڑھی ماں معذور تھی، والد کو سیاحت کا شوق ہوتاہے،آٹھ نفوس پر مشتمل یہ خاندان ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آکر آباد ہوتا ہے، لانڈھی کے ایک مکان میں رہائش تھی، آٹھ افراد جن میں چار لڑکے اور چار لڑکیاں تھیں ، دو بھائی اجمل اور جمیل شادی کر کے الگ ہوجاتے ہیں ، بڑے بھائی زبیر تھے، جن بھائیوں نے شادیاں کی تھیں وہ گھر کا سامان بھی اپنے ساتھ لے گئے، کیوں کہ وہ سب ان کی آمدنی سے ہی بنا تھا، اب گھر ویران ہوگیا، راشب بہت ہی سنجیدہ، طبیعت کا مالک تھا، راشب ایک اچھا ڈبیٹر بھی تھا ، مباحثوں میں خوب بولا کرتا، راشب ہاسٹل میں رہتا، پارٹ ٹائم جاب کرتا، پڑھائی پر مکمل توجہ دیا کرتا، راشپ کا دوست منصور اپنے بڑے بھائی عامر کی شادی راشپ کی بڑی بہن افشاں سے کرادیتا ہے، زبیر اور راشپ مل کر اس فرض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں ، راشب انجینئر بن جاتاہے، اب دوسری بہنو اجیلا،نمیرا اور سمیرا کی شادی کا مرحلہ تھا، راشب کے دو بھائی جو شادیا ں کر کے الگ ہوگئے تھے ، اس گھر کے معاملات سے لاتعلق رہے یہاں تک کہ پہلے بڑی بہن کی شادی میں دونوں تنہا آئے دوسری کی شادی میں بالکل ہی نہیں آئے، چھوٹی بہنو ں کی بھی شادیاں ہوگئیں ، پھر زبیر بھائی کی شادی راہینہ سے ہوگئی، اب مرحلہ راشب کا تھا ، راشب نے ایک بنگلہ بھی بنوالیا تھا جس کا نام تھا ’گوشہ راشپ‘ ، مصنفہ کا خوبصورت جملہ ’راشب دولھا بنا، گھر میں شہنائیاں گونجیں اور راشب کی دلھن چھم چھم کرتی ’گوشہ راشب میں داخل ہوگئی‘‘اور یہ خاندان ہنسی خوشی رہنے لگا، لیکن موت ہر ایک کا مقدر ہے اماں بیمار رہنے لگیں ، اور ایک دن سب کو دعائیں دیتی دنیا سے چلی گئیں ، یہ دعائیں ان بیٹوں کے لیے بھی تھیں جنہوں نے اپنی معذور ماں سے ناتا توڑلیا تھا ، وہ ماں کے آخری وقت میں بھی ان کے پاس نہ تھے ۔ جب سفید چادر ماں کے مردہ جسم پر ڈال دی گئی تو دیکھا کہ دروازے پرباغی بیٹے کھڑے تھے لیکن اب کیا ہوسکتاتھا کھیل ختم ہوچکا تھا ۔ یہ ہے دنیا، یہاں ایسا بھی ہوتا ہے ۔ وقت نے اپنے آپ کو دھریا جمیل اور اجمل کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو انہوں نے اپنی زندگی میں کیا تھا ۔ دونوں بھائی اپنے ان باغی بھائیوں کو واپس چلے جانے کا کہتے ہیں اور کہانی اختتام ہوتی ہے ۔

شگون کے پھول‘ کے تمام ہی افسانوں کو میں نے لفظ بہ لفط پڑھا ہے ۔ ہر افسانہ اپنے اندر انفرادیت، دلچسپی، ایک سبق لیے ہوئے تھا، افسانہ نگار نے افسانوں کے کرداروں کا انتخاب اپنے اردگرد موحول سے کیاہے ،یہی وجہ ہے کہ اکثر افسانوں میں کہانی اور کردار اسپتال، ڈاکٹر ، سرجن، مریض، نرسیز، میڈیکل کے طالب علم اور طالبہ ، میڈیکل کالج، اسپتال، لیباریٹریز اورایکسیڈنٹ، زہر پینا، دل میں سوراخ، جذام اور معذوری جیسے مریضوں کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہیں ۔ ممکن ہے دیگر مجموعوں میں کردار مختلف ہوں ، میں صرف شگون کے پھول کی بات کررہا ہوں ۔ کہانی ان کرداروں ، ماحول ، حالات اور واقعات کا خوبصورت اظہار ، کڑی سے کڑی ، کہانی سے کہان، ایک واقعہ سے دوسرا واقعہ ملتا چلا جاتا ہے ۔ خوبصورت افسانہ نگاری پر مصنفہ کو مبارک بات سچ بات تو یہ ہے کہ شگون کے پھول ایسا مجموعہ ہے جس میں ہر افسانوں ایک سے ایک کہانی لیے ہوئے ہے ۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 286 Print Article Print
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 644 Articles with 452794 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Reviews & Comments

Beautiful tajzias and tabsaray on all the books.Congrates to all writers including me for such a wonder full appreciation by Prof Dr Rais Samdani Sahib.He takes time and burden to read all books sent to him for his valuable Tajzia and Tabsara.Shagun kae phool is based on many stories written in medical student life and I liked his beautiful Appreciation.Prof Dr Rais Samdani Sir thanks a lot.
By: Tanvir Anwar Khan , Karachi on Jul, 18 2019
Reply Reply
0 Like
Language: