اب یہ لوٹ مار کیوں۔۔؟

(Umar Khan Jozovi, )

ہمارے تحریک انصاف کے بھائی ،دوست اورنظریاتی کارکن کہاکرتے تھے کہ اوپربندہ ٹھیک ہوتوپھرنیچے سارے خودبخودٹھیک ہوجاتے ہیں۔سابق وزیراعظم نوازشریف،سابق صدرآصف علی زرداری اوردیگرسابق حکمرانوں کے بارے میں ہمارے یہ دوست ،بھائی اوریوتھیئے کہاکرتے تھے کہ یہ ٹھیک نہیں اس وجہ سے نیچے کوئی بندہ ٹھیک نہیں۔اپنے ان بھائیوں،دوستوں اورتحریک انصاف کے مخلص نظریاتی کارکنوں کی یہ بات ہم نے مانی۔ان کی طرح ہمیں بھی لگاکہ اگراوپربندہ ٹھیک ہوتونیچے پھرواقعی سب ٹھیک ہوں گے۔تحریک انصاف والوں سے ہزاراختلافات کے باوجودہم نے سوچاکہ نوازشریف ،آصف علی زرداری سمیت ماضی میں اقتدارکے باغ ومحل سے گزرنے والے دیگرحکمران خودٹھیک نہیں تھے اس وجہ سے نیچے سسٹم کبھی ٹھیک نہیں ہوا۔سابق حکمرانوں میں کوئی ایک بھی اگرٹھیک ہوتاتونیچے یہ سارے پھرٹھیک ہوتے۔مگریہ کیا۔۔؟آج اوپروالانوازشریف کی طرح کوئی چورہے اورنہ ہی آصف علی زرداری یاکسی اورسابق حکمران کی طرح کوئی ڈاکو۔ بقول تحریک انصاف کے بھائیوں،دوستوں اورکارکنوں کے اقتدارکے محل میں آج جوبندہ خراٹے ماررہاہے وہ خود ٹھیک ہے۔اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ اگراوپروالاآج ٹھیک ہے توپھرملک میں یہ لوٹ مار،اندھیرنگری،چوپٹ راج اورنیچے یہ سارے لوگ پھر خراب کیوں ہیں ۔۔؟آج نیچے والاسسٹم جتناگندلاہے اتناماضی میں بھی کبھی نہیں ہوا۔چوراورڈاکوؤں کی حکمرانی میں پھربھی کہیں نہ کہیں حکومتی رٹ تو نظرآتی تھی۔آج تواس ملک میں ہرچوراورلٹیرے نے اپنی حکمرانی قائم کی ہوئی ہے۔چوراورڈاکوؤں کی حکمرانی میں بھی کسی کوپانچ روپے کی چیزپچاس پربیچنے کی توفیق نہیں ہوئی لیکن آج ایمانداروں کی حکومت اورسربراہی میں ملک کے کونے کونے میں لوٹ مارکاایک بازارگرم ہے۔وہ وہ اشیاء بھی جن پرکمپنی کاپرنٹ شدہ ریٹ درج ہے۔انہیں بھی آج سرعام دن کی روشنی میں ڈنکے کی چوٹ پرمہنگے داموں فروخت کیاجارہاہے۔بندہ اس بارے میں اگرلوٹ مارکرنے والے سے کوئی شکایت یااستفسارکرے تووہ گاہک کوبھڑبھڑانے کے ساتھ ایک ہی جملہ کہتاہے کہ عمران خان کی حکومت ہے کوئی پوچھے توکہناخان آیاتھا۔کیاعمران خان کی حکومت میں یہ سب کچھ ہوناتھا۔۔؟ تحریک انصاف کے بھائی ،دوست اورنظریاتی کارکن توکہتے تھے کہ اوپربندہ ٹھیک ہوناچاہیئے ۔یہ نیچے والے پھرخودبخودٹھیک ہوجائیں گے۔آج اگراوپروالاٹھیک ہے توپھریہ نیچے چوربازاری،اندھیرنگری،لوٹ ماراورغریبوں کیلئے کھائی ہی کھائی کیوں ہے۔۔؟ تحریک انصاف والے نوازشریف اورآصف علی زرداری کوسامنے رکھ کرجومنطق اپناتے تھے اس منطق کی روشنی میں اوپروالاتوپھرآج نوازشریف اورآصف علی زرداری سے بھی زیادہ خراب بلکہ خراب ترہے۔چوراورڈاکوؤں کی حکمرانی میں صرف اوپروالے خراب ہوتے تھے نیچے پھربھی کوئی نہ کوئی ٹھیک مل جاتامگرآج تواوپرسے نیچے تک سارے خرابی کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں ۔اوپروالے نت نئے ٹیکس لگاکرغریبوں کی جیبوں پرڈاکے ڈال رہے ہیں اورنیچے والے اپنی الگ الگ قیمت لگاکرغریب عوام کودونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔نہ اوپروالوں سے کوئی پوچھنے والاہے اورنہ ہی نیچے والوں کوکوئی لگام دینے والا۔دس روپے کی چیزکوبیس اورپچاس کی اشیاء کوسوروپے میں بیچنایہ ظلم نہیں تواورکیاہے۔۔؟محمداسرارجہانگیری ایک سرکاری ادارے میں اسسٹنٹ انجینئرکی پوسٹ پراپنے خدمات اورفرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ہمارے اچھے دوست اورمہربانوں میں شمار ہوتے ہیں ۔قدرت نے کمال کاحافظہ اورذہانت عطاء کی ہے۔شہدمہدوالا نشہ تو وہ نہیں کرتے لیکن بے چارے سادے سگریٹ کی وہ جان کبھی نہیں چھوڑتے۔جہاں بھی ہوسگریٹ کودم سے ضرور پکڑ رہے ہوتے ہیں۔ کچھ دن پہلے ہم ان کے ساتھ بیٹھے تھے کہ انہوں نے اپنے ایک بندے کوسگریٹ لانے کے لئے بھیجا۔وہ جب گولڈلیف کی ڈبی لے کرآئے تواس پر پرنٹ شدہ قیمت غالباً126یا128روپے درج تھی لیکن دکان والے نے انہیں وہ ڈبی 160روپے میں دی۔ پرنٹ شدہ ریٹ کم دیکھتے ہوئے ہم نے اس سے کہاکہ اس کی اصل یہ قیمت ہے ۔دکاندارنے آپ سے کیسے زیادہ پیسے لئے ۔۔؟آپ نے اس کوپرائس کی یہ پرنٹ نہیں دکھائی۔۔؟تووہ کہنے لگے کہ سرجی دکھائی تھی پروہ دکان والا کچھ منٹ کے لئے بھڑبھڑایا۔ پھرکہاکہ عمران خان کی حکومت ہے۔ایماندارعمران خان کی حکومت یہ آج کسی ایک جگہ،گاؤں،گلی ،محلے،شہراورصوبے کامسئلہ نہیں اس وقت پورے ملک میں ہرجگہ عمران خان کی اس بے مثال اورتاریخی حکومت کاڈنکابج رہاہے۔جنہوں نے زندگی میں کبھی عمران خان کودیکھااورنہ ہی کبھی کپتان کانام سنا۔وہ لوگ بھی آج عمران خان کی حکومت کاایک نعرہ بلندکرکے مہنگائی،غربت اوربیروزگاری تلے دبنے اورپیسنے والے غریب عوام کوچونے پرچونالگارہے ہیں ۔ملک میں ہرطرف افراتفری،نفسانفسی ،لوٹ ماراوراندھیرنگری کاایک سماں ہے۔ایسالگ رہاہے کہ اوپرکوئی نوازشریف اورآصف علی زداری سے بھی کوئی زیادہ خراب بندہ آیاہواہے۔ماضی میں بغض نوازاورزرداری میں اوپرنیچے دیکھنے والے تحریک انصاف کے بھائی ،دوست اورکپتان کے کھلاڑی آج یہ لوٹ ماراوربدترحالات کیوں نہیں دیکھ رہے۔۔؟یہ بات توہم نے مانی کہ اوپروالاٹھیک ہوتوپھرنیچے والے بھی ٹھیک ہوتے ہیں ۔آج پھریہ نیچے والے ٹھیک کیوں نہیں ہورہے۔۔؟کہیں اوپروالاہی خراب تونہیں ۔۔؟یاپھران نیچے والوں کوٹھیک کرنے کے لئے کسی اورکے آنے کاکوئی انتظارہے۔۔؟تحریک انصاف والوں کی طرح ہم توکسی کویہ نہیں کہتے کہ یہ ٹھیک ہے اوروہ خراب لیکن یہ ضرورکہتے ہیں کہ اس وقت پورے ملک میں نیچے سے اوپرتک تحریک انصاف کی حکومت ہے ۔اوربقول ان کے ان کے یہ اوپروالے بھی نوازشریف اورآصف علی زرداری کی طرح کوئی چوراورڈاکونہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان سمیت سارے ٹھیک اورایماندارہیں۔اگرواقعی ایساہی ہے تو پھریہ نیچے ان بے ایمانوں،چوروں اورڈاکوؤں کوٹھیک کیوں نہیں کرتے۔۔؟چوروں،ڈاکوؤں اورلٹیروں کولگام ڈالناحکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔لوگ حکمرانوں کوووٹ ہی اس لئے دیتے ہیں کہ وہ پھرریاستی طاقت اوررٹ کے ذریعے ان کواس طرح کے چوروں ،ڈاکوؤں اورلٹیروں سے بچائے۔عوام کوسرعام دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کی اس قدرجرات توماضی میں بھی کسی نے نہیں کی۔جس طرح آج کل عوام کوقدم قدم پرڈسااورلوٹاجارہاہے۔کیااس ملک میں کوئی حکومت نہیں۔۔؟اگرہے توپھراس حکومت سے بھاری تنخواہیں لینے والے پرائس مجسٹریٹ اورفوڈکنٹرول اتھارٹی کے افسران کہاں ہے۔۔؟ہزارہ سمیت ملک بھرمیں چوروں ،ڈاکوؤں اورلٹیروں کواس طرح کھلاچھوڑدینااپنے وعدوں اوردعوؤں کی سراسرنفی اورعوام کی دل آزاری ہے۔ماضی میں عوامی حقوق کے تحفظ کے موضوع پربلندوبانگ دعوے اوروعدے کرکے چوکوں اورچوراہوں پرنعرے لگانے والوں کے بارے میں کسی کویہ امیدہرگزنہیں تھی کہ ان کی حکمرانی میں غریب عوام کو کبھی اس طرح بے دردی سے لوٹاجائے گا۔عوام نے عام انتخابات میں تحریک انصاف کوووٹ نیچے سے اوپرتک سسٹم کوٹھیک اورلوٹ مارختم کرنے کے لئے دیئے۔جس طرح پی ٹی آئی والوں نے کہااسی طرح عوام نے بھی سوچاکہ اوپروالابندہ اگرٹھیک ہوتوپھریہ نیچے والے بھی ٹھیک ہوجائیں گے۔عوام نے تحریک انصاف والوں کی بات مان کردکھائی اب جب ملک میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔تحریک انصاف والے غریب عوام کولوٹنے والے ان چوروں ،ڈاکوؤں اورلٹیروں کوٹھیک کرکے دکھائیں ورنہ کل کوپھروزیراعظم عمران خان کے بارے میں بھی22کروڑعوام یہی کہیں گے کہ اوپروالابندہ ٹھیک نہیں تھا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umar Khan Jozovi

Read More Articles by Umar Khan Jozovi: 112 Articles with 33909 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Jul, 2019 Views: 262

Comments

آپ کی رائے