حکومت زرا اس طرف بھی توجہ دے

(Sobia Zaman, Faisalabad)

حکومت کا احتسابی عمل روزوشور سے جاری ہے اور یہ احتساب ایک محدود نوعیت کا احتساب ہے جیسا کہ خواص و عام ہر کسی کے علم میں ہے کہ موجودہ حکومت انصاف اور تبدیلی کا نعرہ لے کر اقتدار میں آ ئی ہے اور تبدیلی تو واقعی آئی ہے گالم گلوچ اور بدتہذیبی کا ایک نیا کلچر ہمارے یہاں متعارف کروا یا گیا اور اسے مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔

پارلیمنٹ کا اجلاس ہو یا پارٹی اجلاس یا تحریک انصاف کی کوئی پریس کانفرنس بات نواز شریف، شہباز شریف، مریم، ذرداری اور بلاول سے شروع ہو کر انہی پر ختم ہوتی ہے، وزیر اعظم سے لے کر وزیر مشیر سب سابقہ حکومتوں کے گوشوارے اور ان کی جائدادوں کی تحقیق میں سرگرم ہیں-

کرپشن کی تحقیق، الزامات کے ثبوتوں کی جانچ، جرم ثابت کرنے پر سزا یہ سب عدالتوں کا کام ہے آخر کیوں تمام حکومتی مشینری صرف مخالفین کے احتساب کے علاوہ کسی اور کام پر توجہ نہیں دے رہی؟ اگر سابقہ حکومت کرپٹ بھی ہے تو انہیں سزا دینے کا اختیار عدالتوں کا ہے ، بڑی عام سی بات ہے کہ ہر شعبے کا مخصوص وزیر ہوتا ہے تو پھر کیوں حکومت کا ہر وزیر اپنا کام چھوڑ چھاڑ کے سیاسی مخالفین کی مخالفت کے علاوہ اور کچھ نہیں کر رہا، حالیہ دور حکومت میں جس تواتر سے ٹرین حادثات ہو ئے ہیں ۔
اگر ن لیگ کے دور میں اتنے ٹرین حادثات ہو ئے ہوتے تو اس وقت تک ناجانے کتنے سکینڈلز اور کتنے ثبوت تحریک انصاف کو مل چکے ہونے تھے، لیکن اب سینکڑوں جانوں اور کروڑوں روپوں کا نقصان ہو چکا ہے لیکن اس سلسلے میں کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی، سرکاری اداروں میں ابھی بھی کام چوری اور رشوت ستانی عام ہے کوئی پوچھنے والا نہیں، سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم ابھی بھی کسی طور پرائیویٹ سکولوں کے برابر نہیں، گلیوں اور سڑکوں پر ابھی بھی خاکروب ہفتے میں ایک دن صفائی کرنے آتے ہیں، کوڑا اٹھانے والے کے پیسے الگ اور گٹر صاف کرنے والے کے الگ پیسے دینے پڑتے ہیں، سرکاری ہسپتالوں میں جانے والوں کو پرائیویٹ ہسپتال اور کلینک تجویز کر دئیے جاتے ہیں۔

کیا یہ سب سرکاری ادارے عوام کے ٹیکسوں پر نہیں چلتے؟ ایک سرکاری ملازم جو بھاری تنخواہ لے کر بھی اپنے فرائض سر انجام نہیں دیتا اس سے کوئی باز پرس کیوں نہیں کرتا؟ کیا یہ سب عوام کے پیسے کا ضیاع نہیں ہے؟

حکومت یہ کیوں سمجھتی ہے کہ چوری صرف پیسے کی چوری ہے، اپنی ذمہ داریوں کو نہ نبھا نا بھی چوری ہے اور اپنے فرائض سے غفلت برتنا بھی چوری ہے۔

اور یہ جو ہمارے ایم این اے اور ایم پی اے، وزیر ، مشیر لاکھوں میں تنخواہیں لیتے ہیں انہیں کون بتائے گا کہ ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور اپنے متعلقہ اداروں کو کیسے چلانا ہے ؟ ان سے کیسے کام لینا ہے؟
احتساب کریں لیکن سب کا کریں چار چھے لوگوں کو جیل میں ڈالنا احتساب نہیں ہوتا ، اداروں کو فعال بنائیں، خود ذمہ دار بنیں اور پھر اپنے اداروں کو ذمہ دار بنائیں۔

آج حکومت کہتی ہے کہ مہنگائی ہم نے نہیں کی، گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے مہنگائی ہے، تو سوال یہ ہے کہ اگر مہنگائی گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے بھی ہے تو ذمہ دار کون ہے؟ کون اس کو ختم کرے گا، تو جواب یہ ہے کہ حکومت۔۔۔ گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی خود بخود ختم نہیں ہو گی بلکہ اسے ختم کرنے کے لئے بھی حکومت کو ہی اقدامات کرنے ہوں گے۔

حکومت سے درخواست ہے کہ خدارا سیاسی مخالفین کے احتساب پر ہی ساری توانائیاں صرف نہ کریں بلکہ تمام حکومتی مشینری کی تطہیر کی طرف بھی توجہ دیں، بلند وبانگ دعوے بہت ہو گئے اب کچھ توجہ کام پر بھی ہو جائے۔ خدا کے لئے اب عوام کو باتوں سے بہلانا بند کریں اور اب عملی طور پر بھی کچھ کر کے دکھائیں ،حکومتتیں اپنی کارکردگی سے چلتی ہیں اور اپنی کارکردگی سے ہی کامیاب ہوتی ہیں۔ رونہ خیالی ترقی اور منصوبہ سازی میں تو شیخ چلی بھی کسی سے کم نہیں ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 224 Print Article Print
About the Author: Sobia Zaman

Read More Articles by Sobia Zaman: 12 Articles with 6531 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: