ٹرمپ کارڈ کی مدد سے عمران خان نے عالمی سفارتی کپ جیت لیا

(Dr Salim Khan, India)

عصر حاضر میں ٹوئٹر اپنا ردعمل ظاہر کرنے کا سب سے تیز اور مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ اس پرسب سے زیادہ مقبول لوگوں کی فہرست میں دوسرے مقام پر امریکہ کے سابق صدر براک اوبامہ بارہویں پر صدر ڈونالڈٹرمپ اور بیسویں پر وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ ان تینوں کے حالیہ نمبر ات میں ۲ مشترک ہے۔ ان کے درمیان دیگر موسیقار ،کھلاڑی اور ادارہ جات ہیں۔ مودی جی ٹویٹر کا استعمال بھی خوب جانتے ہیں مثلاً ابھی ابھی انہوں نے اپنی کابینی وزیر ہر سمرت کور بادل کو ان سالگرہ کےموقع پر پیغام بھیجا نیز بورس جانسن کو برطانیہ کا وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دینے سے نہیں چوکے۔ ان کی ٹوئٹر پر دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے جب ہندوستان کی ٹیم میدان میں اتری تو انہوں نے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور جب نیوزی لینڈ سے ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی تو اس کا حوصلہ بڑھایا بلکہ شیکھر دھون کی انگلی کے زخمی ہونے پر بھی افسوس کا اظہار کیا لیکن جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ان کے حوالے سے متنازعہ بیان دے دیا تو انہیں سانپ سونگھ گیا ۔ بقول اقبال (ترمیم کی معذرت)؎
یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے دیوارِ ٹوئیٹر پر
یہ ناداں گر گیاسجدے میں جب وقت قیام آیا

ہندوستان و پاکستان کشمیر کو ایک تنازع تو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے حل کی بابت دونوں کے موقف میں بنیادی نوعیت کافرق ہے۔ ہندوستان اس کو بغیر کسی بیرونی مداخلت کے باہمی گفت و شنید کے ذریعہ حل کرنا چاہتا ہے جبکہ پاکستان اس کے حل کی خاطر عالمی برادری کے تعاون کا روادار ہے۔ اسی لیے پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران مسئلۂ کشمیر میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی درخواست کردی ۔ انہیں توقع رہی ہوگی کہ امریکی صدراس پر تشویش کا اظہار کرکے باہمی مذاکرات سے حل کرنے کی تلقین کریں گے لیکن ٹرمپ کے بیان نے ساری دنیا کو چونکا دیا ۔ انہوں نے دعویٰ کردیا کہ ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی حالیہ جی۲۰ ممالک کے اجلاس میں ان سے کشمیر مسئلے کے حل کی خاطر دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے کہا ہے۔اس مبینہ گذارش پر امریکہ کے صدر کا ردعمل یہ تھا کہ ان کو ثالثی کا کردار ادا کرنے میں خوشی ہوگی۔ ٹرمپ نےعمران خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کشمیر کے علاوہ ہندو پاک تعلقات کے بارے میں بھی کہا کہ ‘‘بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ ہم اس بارے میں بات کریں گے، اور یہ کہ اگر ہم ان تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں تو کریں گے’’ ۔ سوال یہ ہے کہ اس غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کے بعد بھی کیا ہند امریکی تعلقات اچھےر ہیں گے اور امریکی صدر کو اس کے بگڑنے کی ذرہ برابر پرواہ ہے؟

اتفاق سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا جبکہ ہندوستان میں ایوانِ پارلیمان کا بجٹ اجلاس جاری ہے ۔اس کے باعث پارلیمنٹ کے اندر اور باہرسیاسی زلزلہ برپا ہوگیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کوصفائی کے لیے میدان میں اتارا گیا۔ انہوں نے ٹرمپ کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مودی کی طرف سے امریکی صدر سے ایسی کوئی گزارش نہیں کی گئی ۔اسی کے ساتھ موصوف نے پنجرے میں بند طوطے کی مانند اپنا روایتی موقف دوہرا تے ہوئے کہا،‘ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی استواری کے لئے سرحد پار سے دہشت گردی کا بند ہونا ضروری ہے۔ ہندوستان وپاکستان کے درمیان تمام مدعوں کو دو طرفہ بات چیت سے سلجھانے کی خاطر شملا معاہدہ اور لاہورعلامیہ بنیادی حیثیت کا حامل ہے ‘۔امریکی وزارت خارجہ کا ترجمان اگر یہ انکشاف کرتا تو ہندوستان میں اس کے مدمقابل رویش کمار کا جواب مناسب ِ حال ہوتا لیکن یہ دعویٰ تو وزیراعظم کے ساتھ جاپان کے اندر ہونے والی اپنی مخصوص گفتگو کےحوالہ سے ڈونالڈ ٹرمپ خود کر رہے ہیں ۔ اس لیے وزیر اعظم ایوان پارلیمان کے اندر یا کم از کم اپنے ٹوئیٹر پر ہی بذاتِ خود تردید کر دیتے تو کسی قدر اطمینان ہوجاتا ۔

وزیراعظم کو ببانگ دہل کہنا چاہیے تھا کہ ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں یا کم از کم یہ کہ امریکی صدر کو غلط فہمی ہوگئی ہے ۔ ایسے میں ۵۶ انچ کی چھاتی والے مودی جی کی پراسرار خاموشی نے ان کی جرأت و ہمت پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ اسی کے ساتھ عمران خان کو ٹوئٹ کرکے حیرت کا اظہار کرنے کا موقع بھی مل گیا ۔ ایسےمیں حزب اختلاف کیوں کر خاموش رہ سکتا ہے ۔ اس نے کشمیر مسئلہ کے لیے پنڈت نہرو کو موردِ الزام ٹھہرا نے والوں پر ہلہّ بول دیا ۔ ایوان کے اندر اور باہر ہنگامہ ہے برپا مگر مودی جی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ پاکستان پر ہندوستان کی ٹیم کی جیت کو دوسرا ائیر اسٹرائیک بتانے والے وزیرداخلہ کی قینچی جیسی زبان بھی اس سفارتی اسٹرائیک کے بعد کند ہوگئی ہے۔ اسدالدین اویسی کو ڈانٹ کر سننے کی تلقین کرنے والے امیت شاہ کے منہ پر تالہ پڑا ہے۔ ملک کے عوام یہ توقع کررہے ہیں کہ اگر بڑے میاں نہ سہی تو کم ازکم منجھلے شاہ یا چھوٹےمیاں شیو شنکر پرشاد ہی کچھ بولیں لیکن ہر طرف خاموشی کا دور دورہ ہے۔ ایسے میں آنجہانی اے ہنگل کا مشہور مکالمہ یاد آتا ہے‘اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟’

کشمیر کے حوالے سے ہندو پاک کے موقف میں ایک اور فرق یہ ہے کہ پاکستان بین الاقوامی مجالس میں کشمیر کےدگرگوں حالات پر انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کرکے اس کے لیے حکومت ہند کو ذمہ دارٹھہراتا ہے۔ بھارت سرکار کی جانب سے اس کی تردید میں کہا جاتا ہے حالات پرامن ہیں ۔ صوبے میں عوام کی منتخبہ حکومت برسرِ اقتدار ہے ۔ مرکزی حکومت میں کشمیری رہنما وزارتیں لیے بیٹھے ہیں اور جو تھوڑی بہت شورش ہے اس کے لیے پاکستان قصور وار ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے یہ کہہ کرکے ’’کشمیر ایک خوبصورت علاقہ ہے، وہاں بم نہیں برسنے چاہئیں‘‘۔ پاکستانی موقف کی کھلی تائید کردی اور ان کا انداز بیان ایسا تھا کہ کشمیر اور شام کے حالات یکساں ہیں ۔ سوئے اتفاق سے فی الحال حکومت ہند نہ تو یہ کہہ سکتی ہے کہ کشمیر میں ایک منتخبہ سرکار برسرِ اقتدار ہے اور نہ کسی کشمیری مرکزی وزیر سے ٹرمپ کی تردید کرواسکتی ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کشمیر سے مسلح مڈبھیڑ کی خبر نہ آتی ہو ۔ حریت کی جانب سے بات چیت کی پیشکش کو ٹھکرانا اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت ہند طاقت کے زور سے اپنی بات منوانے کے حق میں ہے۔ وہ آئین میں ترمیم کر کے کشمیریوں کو حاصل تمام خصوصی مراعات مثلاً دفع ۳۵۱ وغیرہ کو ختم کرنے کے درپہ ہے ایسے میں ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرنا نہایت مشکل ہوگیا ہے۔

پچھلے پانچ سالوں میں دہشت گردی کے نام پر پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی بات بہت ہوئی ۔ کسی بین الاقوامی اسٹیج سے جب دہشت گردی کے خاتمہ کا ذکر کیا جاتا تو اسے پاکستان کی مخالفت سمجھا جاتا تھا ۔ پاکستان کی سرزمین کا دہشت کے فروغ کی خاطر استعمال اور حکومت پاکستان پر حافظ سعید جیسے دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام لگتا رہاہے ۔ عمران خان نے حافظ سعید کو گرفتار کرواکے اس معاملے پرقابو پانے کی کوشش کی ہے۔ یہ عجیب صورتحال ہے کہ سرزمین ہند پر جب بھی کوئی دہشت گردی کی واردات رونما ہوتی ہے جیش محمد یا لشکر طیبہ اس کی ذمہ داری قبول کرکے اسے اپنے سر لے لیتے ہیں مثلاً پلوامہ کے دھماکوں کو جب حکومت کی کوتاہی قرار دے کر اسے گھیرا جارہا تھا تو سرحد پار سے بیان آگیا ۔ اسی کے ساتھ شیوپال یادو یا راج ٹھاکرے جیسے حکومت پر نکتہ چینی کرنے والوں کو لشکر یا جیش کا ہم پلہ قرار دیا جانے لگا ۔ اس طرح ذمہ داری کو قبول کرکے جیش نےمودی سرکار کا بھلا کردیا ۔ آگے چل کر بالاکوٹ میں جیش کے ٹھکانوں پر حملہ کرکے انتقام کے نام پر انتخاب جیت لیا گیا۔ عمران خان نے لگتا ہے یہ سلسلہ منقطع کرنے کا عزم کرلیا ہے ۔ اس اقدام سے پاکستان کے اوپر پر دہشت گردی کے حوالے سے بین الاقوامی دباو کم ہوجائے گا۔

کشمیر کا معاملہ تو اپنی حساّسیت کے سبب موضوعِ بحث بن گیاورنہ عمران خان کے امریکی دورے کا محور افغانستان تھا۔ عالمی سیاست کی بساط پر بالکلیہ قومی اور ذاتی مفاد میں ہر چال چلی جاتی ہے اس لیے کوئی ملک یا رہنما کسی کا مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا ۔ افغانستان کے اندر امریکہ نے بغضِ سوویت یونین میں دلچسپی لی۔ اس زمانے میں ہندوستان اور یو ایس ایس آر کے درمیان بہت قربت تھی ۔ سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد امریکہ کی نیت بدل گئی اور اس نے افغانستان پر حکومت کرنے کا خواب دیکھنا شروع کردیا ۔یہی وہ زمانہ تھا جب یک قطبی دنیا میں وزیراعظم نرسمھا راو نے امریکہ کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کو چھپانے کے لیے جارج ڈبلیو بش کو ایک بلی کے بکرے کی ضرورت تھی اس لیے اس نے افغانستان پر پنجہ مارا لیکن طالبان نے شیر کی مانند اس کامقابلہ کیا۔ جارج ڈبلیوبش نے بہت جلد اندازہ لگا لیا کہ یہاں اپنی دال نہیں گلے گی اس لیے عراق میں صدام حسین کا تختہ پلٹ کر اپنی قوم کو بیوقوف بنایا اور دوبارہ الیکشن جیت لیا۔ یعنی جو کام اس کا سمجھدار باپ نہیں کرسکا وہ احمق بیٹے نے کردکھایا ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے بالا کوٹ کی ہوا بنا کر انتخاب جیتنا کس قدر آزمودہ اور آسان نسخہ تھا۔

اٹل بہاری واجپائی نے بھی۲۰ سال قبل کارگل کا اسی طرح استعمال کیا تھا اور اس وقت صدر بل کلنٹن نے پاکستان کے خلاف ہندوستان کی پشت پناہی کی تھی۔ اس طرح ہند امریکی تعلقات میں ایک نیا موڑ آگیا تھا اور ۲۰ سال بعد کسی امریکی صدر نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا ۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چل پڑا۔ ریپبلکن بش کے زمانے میں سرد مہری رہی لیکن ڈیموکریٹ اوبامہ کے آتے ہی پہلے والی گرمجوشی لوٹ آئی۔ اوبامہ نے پہلے تو عراق سے انخلاء کیا اور اس کے بعد افغانستان سے جان چھڑانے کی خاطر منموہن سنگھ کو وہاں دلچسپی لینے پر اکسیا۔ چین کی گھیرابندی کے لیے اوبامہ نے ہندوستان کو اہمیت دے کر افغانستان کے بکھیڑے میں شریک کےاپنی ذمہ داریوں کا بوجھ کم کردیا ۔ اوبامہ شاید یہ محسوس کرتے تھے کہ ہندوستان کی مدد سے اگر افغانستان کےمعاملے کو طول دیا جائے تو کبھی نہ کبھی طالبان تھک کر بیٹھ جائیں گے ۔ اس حکمتِ عملی پر کام جاری تھا کہ مودی جی کے ہاتھوں میں زمامِ کار آگئی۔براک اوبامہ نے نریندر مودی کو غیر معمولی اہمیت دی اور کئی مرتبہ انہیں امریکہ آنے کی دعوت دی نیز خود بھی ایک سے زیادہ مرتبہ ہندوستان کا دورہ کیا ۔ یہی وہ زمانہ تھا جب پاکستان عالمی سطح پر الگ تھلگ پڑ رہا تھا اور وہ روس کےساتھ پینگیں بڑھانے پرمجبور ہوگیا تھا ۔

اس دوران یمن میں فوج کشی سے انکار کرکے نواز شریف نے سعودی عرب اور متحدہ امارات کو ناراض کردیا ۔ مودی سرکار نے اس کا بھرپور سفارتی فائدہ اٹھایا اور یہ حالت ہوگئی کہ بالا کوٹ حملے کے بعد جب ہندوستان کی شرکت کے خلاف پاکستان نے بائیکاٹ کی دھمکی دی تو اس کو نظر انداز کرکے سشما سوراج کو اجلاس میں شریک کیا گیا ۔ بین الاقوامی سطح پر یہ پاکستانی اثرو رسوخ کے زوال کا انتہائی نکتہ تھا ۔ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں مسلمانوں کی مخالفت نے ہندو احیاء پرستوں کو باغ باغ کردیا ۔ ان لوگوں نے نہ صرف اس کی حمایت زور شور سے کی بلکہ جیت کا جشن مناتے ہوئے آرتی تک اتاری۔ یہ کم ظرف لوگ بھول گئے تھے کہ ٹرمپ مسلمانوں کی مخالفت کیوں کررہا ہے ؟ ٹرمپ کا نعرہ ‘سب سے پہلے امریکہ’ تھا ۔ اس نعرے کے ذریعہ وہ سفید فام لوگوں کے دلوں میں مہاجرین کے خلاف نفرت پیدا کرکے ان کی خوشنودی حاصل کررہا تھا ۔ مسلمانوں کی مانند ہندو مہاجر بھی اس کی مہم کے زد میں آتے تھے۔

الیکشن جیتنے کے بعد سعودی عرب کو اسلحہ بیچنے کی خاطر ٹرمپ نے مسلمانوں کی مخالفت کم کردی لیکن ہندوستانی مہاجرین کے خلاف اس کے اقدامات جاری رہے۔ آگے چل کر اس نے حکومت ہند کو حاصل خصوصی تجارتی درجہ سے بھی محروم کردیا اور یہاں کی درآمدات پر ٹیکس عائد کردیا۔اب ہوا کا رخ بدل رہا تھا اور امریکہ کی نظرکرم ہندوستان سے ہٹ کر پاکستان کی جانب مبذول ہورہی تھی ۔ اس تبدیلی کی مندرجہ ذیل دو وجوہات ہوسکتی ہیں ۔ اول تو ‘امریکہ سب سے پہلے’ کے تحت افغانستان سے پوری طرح نکل جانا چاہتا ہے ۔ اپنی پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ‘‘امریکہ رفتہ رفتہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلوا رہا ہے۔ گذشتہ 19 برسوں کے دوران امریکہ افغانستان میں لڑائی نہیں بلکہ ایک پولیس مین کا کردار ادا کیا ہے’’۔ اس کی دوسری وجہ یہ اعتراف ہے کہ طالبان ناقابلِ تسخیر ہیں ان کی فتح کو ٹال مٹول سے شکست میں نہیں بدلا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان سے گفتگو کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا اسے سنجیدگی سے آگے بڑھایا گیا اور اب تک اس کے سات روانڈ ہوچکے ہیں۔
طالبان سے سمجھوتے کے بارے میں صدر ٹرمپ نےاعلان کیا ہے کہ ’’پاکستان کی کوششوں سے طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر خاصی پیش رفت ہوئی ہے‘‘۔عمران خان نے اس کی تائید میں کہا کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 1500 کلومیٹر طویل سرحد ہے، اور ہمسایہ ملک میں بدامنی کا براہ راست پاکستان پر اثر پڑتا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے امن اور استحکام میں پاکستان کو سب سے زیادہ دلچسپی ہے’’۔ افغانستان کے معاملے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے امریکہ کے نزدیک ہندوستان کے بجائے پاکستانزیادہ اہم ہے۔ اس طرح ٹرمپ اورپاکستان کا مفاد ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوگئے اور عمران خان کو امریکہ کے دورے کی دعوت مل گئی۔ عمران کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا کہ ‘‘پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ایک سال پہلے کے مقابلے میں بہت اچھے ہیں اور عمران خان کی وجہ سےمزید بہتر ہوں گے’’۔ افغانستان کے حوالے سےامریکی صدر کا سب سے اہم اعلان یہ تھا کہ ‘‘پاکستان افغان امن کے لیے بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے اوروہ افغانستان میں لاکھوں جانیں بچانے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس ضمن میں انھیں وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں بہتر نتائج کے حصول کا ‘‘پورا اعتماد ہے’’۔

عمران خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ‘‘نیویارک میں میرے پاکستانی دوست بہت سمارٹ اور مضبوط ہیں، جیسا کہ عمران خان ایک مضبوط لیڈر ہے‘‘۔عالمی سیاست کی بساط پر بالکلیہ قومی اور ذاتی مفاد میں ہر چال چلی جاتی ہے اس لیے کوئی ملک یا رہنما کسی کا مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا۔ یہ دلچسپ صورتحال ہے کہ جب عمران خان کہتے ہیں کہ ’’ امریکہ سے پاکستان جو وعدے کرے گا انہیں نبھائے گا‘‘تو صدر ٹرمپ جواب دیتے ہیں ‘‘پاکستان جھوٹ نہیں بولتا’’۔ یہ وہی ٹرمپ ہیں جمہوں نے یکم جنوری ۲۰۱۸؁ کو ٹویٹ کیا تھا ‘‘امریکہ نے 15 سالوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر بطور امداد دے کر بےوقوفی کی۔ انھوں نے ہمیں سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ۔وہ ہمارے رہنماؤں کو بےوقوف سمجھتے رہے ہیں۔ اب ایسا نہیں چلے گا‘‘۔آج ہندوستانی ذرائع ابلاغ میں یہ شور بپا ہے ٹرمپ خود جھوٹ بول رہے ہیں ۔ سیاست کے اس گول گنبد میں ہر کوئی بیک وقت چیخ چیخ کر اپنی بولی بول رہا ہے اور صدائے بازگشت نے سب کو آپس میں خلط ملط کردیا ہے۔ جھوٹ کے اس بازار میں عاکف ریاض کے یہ مصرع یا دآتے ہیں ؎
میرے خلاف میرے یار جھوٹ بولتے ہیں
تمام شہر کے اخبار جھوٹ بولتے ہیں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1199 Articles with 433858 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jul, 2019 Views: 507

Comments

آپ کی رائے