ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

(Rumisa Malik, Karachi)

دیتے ہیں دھوکا بازی گر کھلا ۔۔۔۔ یہ جملے کاروباری حلقے کی جانب سے شٹرڈاون ہڑتال ،کراچی پریس کلب کے باہر اپنے حق میں نعرے لگاتی نرسوں ، قدرتی گیس سےمالا مال ہونے کے باوجود سی این جی بڑھتی قیمتوں اور تبدیلی کا نعرہ لگانے ، مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے والی جماعت پر کیا خوب سجتا ہے ۔ پاکستا ن تحریک انصاف جس نے پاکستان میں تبدیلی لانے کے بائیس سال تک جدوجہد کی ۔ کبھی مدینہ جیسی اسلامی ریاست بنانے کے دعوے کئے گئے تو کبھی مہاتیر محمد کی طرح پاکستان کو ملائیشیا جیسا ترقی پذیر ہونے جیسے خواب دکھائے گئے ۔ کبھی امریکہ اور بھارت سے تعلقات ختم کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کہا گیا ۔ تو کبھی تُرکی جیسی نڈر قوم بننے کا نعرہ لگایا ،کبھی جاگیردارانہ نظام کو للکارا گیا تو کبھی چوروں کےخلاف کڑ ی سزا کا حکم سنایا گیا ۔ کبھی گمشدہ افراد کو جلد سے جلد اپنے گھروالوں سے ملوانے کی نوید سنائیں گئیں ۔ احتساب ، انصاف ، میرٹ ، ترقی، خوشحالی غرض کا شاندار نعرہ لگایا گیا ۔

مہنگائی ، بےروزگاری ، اور ناامیدی کے دور میں ایک آس ، ایک امید لئے پاکستان کی نوجوان نسل عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ۔ وہ نوجوان جو کبھی پاکستان کی سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے ، جنہیں انتخابات کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا غرض بالغ نواجون ہی نہیں بلکہ 18 سال سے کم عمر کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی اس تبدیلی کے لئیے پرجوش دیکھائی دئیے ۔

الیکشن مہم کے دوران پڑھے لکھے ، باشعور ، محنتی نوجوانوں کو ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کی دعوت دی گئی ۔ پاکستان میں فرسودہ نظام کا خاتمہ ہوگا ، نوجوان نسل آگے آئے اور ملک کی با گ دوڑ سنبھالے ۔ اور پھر 2018 میں جولائی کا مہینہ بھی آگیا لوگ اور خصوصا نوجوان نسل بغیر دھوپ ، گرمی اور فاصلے کی پرواہ کئے بغیر الیکشن سینٹرز میں پہنچ گئی ۔ الیکشن سینٹرز کے اندر اور باہر چہروں پر ایک عجیب ہی جوش ، ولولہ ، امید اور خوشی دیکھائی دی ۔ ہر کوئی پاکستان کو تبدیل کرنے گھر سے نکلا تھا ۔ اور پھر پاکستان واقعی تبدیل ہوگیا ۔ خاندانی سیاست کو پچھاڑ ہوئی اور تبدیلی نے پورے پاکستان میں کامیابیاں سمیٹیں ۔

پاکستان تحریک انصاف نے 2018 کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیت اپنے نام کی ۔
پاکستان کا نوجوان طبقہ خوش تھا کہ جس امید ، آس لئیے وہ عمران خان کے ساتھ کھڑی تھی اس کےپورا ہونے کا وقت آگیا ہے ۔

18 اگست 2018 کی صبح پرانے پاکستان کو خیر آباد کہتے ہوئے ہم نئے پاکستان میں داخل ہوگئے ۔جہاں بے روزگارنوجوانوں کے لئیے ایک کروڑ نوکریاں منتظر تھیں ، جہاں قانون کی بالادستی ہونا تھی ، جہاں میرٹ کا بول بالا ہونا تھا، جہاں بے گھروں کے لئیے گھر تھے ، جہاں مہنگائی کا گلا گھونٹا جانا تھا جہاں صرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں جہاں دیکھے جانے والے ہر خوبصورت خواب کی تعبیر تھی غرض صرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔

آہ! لیکن یہ کیا حکومت کے آتے ہی سارے خواب غبارے کی صورت ہوا میں اڑ گئے ، ہم نے تو نئے پاکستان میں آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لینا تھا آہ ہاااااا۔۔ ہم نے تو بینک سے بھیک مانگ لی اور بھیک بھی کوئی تھوڑی کم نہیں بلکہ 6 ارب ڈالرز ۔۔ ہم نے تو قرضے اتارنے تھے یہ کیا ؟؟

ہم نے تو احتساب کرنا تھا کہاں گیا احتساب ؟؟ صرف مخصوص لوگوں کے احتساب ،قانون ؟؟ بابر اعوان صاحب پر تو کیس تھا لیکن کیا حکومت میں آنے کے بعد وہ معصوم ٹھہرے اور راجہ پرویز مجرم، ماڈل ٹاون پر سیاست کرتے کرتے بھول گئے کہ سانحہ ساہیوال میں کیا ہوا تھا ، ماڈل ٹاون میں بے گناہ اور معصوم لوگ مارے گئے تھے تو کیا ساہیوال میں ماارے جانے والے لوگ دہشتگرد تھے ؟؟
ڈالر جو پہلے 80 پر رکے بیٹھا تھا اب تبدیلی آتے ہی اسے بھی پر لگ گئے 158 روپے تو کبھی 160 سے باتے کرتا نظر آتا ہے ۔

پیٹرول پہلے 45 روپے میں بھی ان کو مہنگا نظر آتا تھا اب 112روپے سے بھی تجاوز کرنے کی وجہ بیان کی جاتی ہے کہ یہ سابقہ حکومتوں کی لوٹ گھسوٹ کا نتیجہ ہے۔

سابقہ حکومتیں تو میرٹ کا قتل کرتیں تھیں ، اقربا پروری پر زور رکھتی تھیں تو جناب ہم نئے پاکستان میں بھی اس کا خاتمہ نہ کر سکے ۔ اس کی بہترین مثال خان صاحب کے دوست ، واحباب ہی ہیں ۔
1 کروڑ نوکریا ں ملتے ملتے بےروزگاری میں اضافہ ہوگیا ۔۔

کاروبار چلتے چلتے بھاری ٹیکسز اور اشیا کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے ٹھپ ہوتے جارہے ہیں بیرون ممالک سے جن انویسٹرز نے نئے پاکستان آنا تھا موجودہ صورتحال دیکھتے ہوئے انہوں نے وہیں رہنا مناسب سمجھا ۔

پروٹوکول کو گالیاں دینے والے آج خود بیس سے کم گاڑیوں کو اپنے ساتھ لئیے بغیر چلنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں ارے تو کیوں نہ سمجھے آخر کو وہ بھی وزیر ہیں ۔

نئے پاکستان میں کرپشن اور بد عنوانی کا خاتمہ ہونا تھا ہائے رے قسمت یہ بھی وعدہ رہا ْ۔۔۔
، گمشدہ افراد گھر واپس جانے کے بجائے نہ جانے کن اندھیر نگریوں میں کھو گئے،

صحافت ، صحافی جنھوں نے ان کی تبدیلی کے خواب کو پورا کرنے میں بھرپور ساتھ دیا تھا ، لوگوں کو ان کے قومی فریضے کو نبھانے کے لئیے خان صاحب کے شانہ بشانہ کھڑے تھے ان کے ساتھ کیا ہوا ؟؟ چینل بند ، نوکریاں ختم ، حقائق بتانے پر مذکورہ چینل کو بند کر دیا جاتا ہے ۔۔

انصاف بے چارہ توانصاف کے کٹورے تک ہی رہ گیا ، اقربا پروری معصوم تو ٹس سے مس نہ ہوئی ۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے گھبرانہ نہیں ہے ۔

محمکہ صحت کی کارکردگی پر نظر دوڑائی جائے تو اس کو خودآکسیجن کی ضرور ت ہے ۔جو دوائی پہلے 100 کی تھی وہ اب چار گنا مہنگی کردی گئی ہیں ۔۔

ٹیکسز ان کا تو کیا ہی کہنا وہ تو کھانے پر ، شادی پر ، بچے پیدا کریں ، اور تو اور قربانی جیسے مذہبی فریضے پر بھی آپ کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا ۔۔

سونا خریدنا تو دور کی بات سوچتے ہوئے بھی ایک ٹھنڈی آہ نکلتی ہے ۔۔ خیر ہم نے گھبرانا نہیں ہے ۔۔۔
حکومتی وزیر مراد سعید نے دعویٰ کیا تھاکہ گیس پاکستان سے نکالی جاتی ہے اس لیے فری ہونی چاہے اب اس میں بھی تین گنا اضافہ کردیا ہے ۔

10 ماہ کی کاکردگی کے حوالے سے جب حکومتی وزرا کا جب موقف لیا جائے تو ہمیشہ یہ ہی جواب ملے گا سابقہ حکومتوں نے لوٹ مار کی ہے ، سابقہ سارے حکومتی وزرا چور تھے ، سارے قرضے سابقہ حکومتوں نے لئیے تھے ،، ارے جانب ہم مان لیتے ہیں کہ وہ چور ہیں ، ڈاکو ہیں ، لٹیرے ہیں ، ملک دشمن ہیں لیکن آپ نے بھی تو ان کا احتساب کیا ہیں نہ ؟؟ آپ نے کتنے چور لٹیرے جیل بھیجے ہیں ؟؟ آپ نے بھی تو بینکوں سے پیسے واپس لیئے ہیں ؟؟

لیکن جناب اب بات اس سے آگے کیجئیے جو وعدے ، خواب ، امید ،آس لوگوں کو دیکھائی ہے اسے پورا کردیں ۔ بے روزگاروں کو روزگار دیں ، بھوکوں کو کھانا چایئے ، غریب کو آپ کے چور سپاہی کے کھیل سے کوئی فائدہ ہیں ہوگا وہ تو غریب تر ہوتا جائے گا ۔۔۔ حکومتی دس ماہ کی کارکردگی سے تو یہ لگتا ہے کہ ہم تبدیلی کے بجائے تباہی کی طرف جارہےہیں ،، آس ، امید دم توڑتی نظر آرہی ہیں ۔۔ لیکن میرے ساتھیوں ہم نے گھبران نہیں ہے یہ نیا پاکستان ہے یہاں گھبرانا منع ہے ۔۔۔

، انصاف بے چارہ توانصاف کے کٹورے تک ہی رہ گیا ، اقربا پروری معصوم تو ٹس سے مس نہ ہوئی ۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے گھبرانہ نہیں ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rumisa Malik

Read More Articles by Rumisa Malik: 2 Articles with 620 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Aug, 2019 Views: 232

Comments

آپ کی رائے