۔ پختون قوم کا کربلا ۔۔۔

(Adil mehmood, Charsadda)

ویسے تو تحریک آزادی میں پختون قوم کا کردار تمام ہندوستانی اقوام سے زیادہ تھا ۔۔ بلکہ اگر اعداد و شمار کے حوالے سے بات کی جائے تو پورے ہندوستان میں 200 سالہ انگریز اقتدار میں اتنے انگریز گولی سے نہیں مرے جتنے انگریز پختون علاقوں پر 99 سالہ انگریز دور اقتدار میں مرے ہیں ۔۔ کہاں 43 لاکھ مربع کلومیٹر انڈیا اور 200 سال اور کہاں 60 ہزار مربع کلومیٹر پختون خواہ اور 100 سال ۔۔

مگر پھر پختون قوم میں خان عبدالغفار خان باچا خان آیا اور پختون قوم کو پر امن سیاسی جد و جہد کا راستہ دکھایا ۔۔ یہاں بھی وہی صورت حال رہی ۔۔ پرامن سیاسی جد و جہد میں جتنے پختون صرف 20 سال میں شہید ہوئے اتنے پورے ہندوستان میں 1857 کی جنگ آزادی اور کانگریس و مسلم لیگ کے قیام کے بعد شہد نہیں ہوئے ۔ تاریخی موازنے کے لئے مردان ٹکر اور قصہ خوانی پشاور کے شہدا کافی ہیں ۔۔

پختون قوم بنیادی طور پر جمہوریت پسند اور آزادی پسند ہے ۔۔1947 کے بعد حکمران بدل گئے مسائل اور طرز حکمرانی نہیں بدلے ۔۔

قائد اعظم رح انتہائی بیمار تھے اور زیارت میں تھے اور یوم بابڑہ کے ٹھیک ایک ماہ بعد اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔ بد قسمتی سے پختون خواہ پر حکومت ایک غیر منتخب اور امر انسان عبدالقیوم کی تھی ۔ عبدالقیوم نامی بندہ جو کے 1945 تک خدائی خدمتگار تحریک کا حصہ تھا ۔۔ ایک کتاب لکھی ۔ جب اقتدار میں آیا تو اپنے ہی کتاب پر پابندی لگا دی ۔

12 1948 اگست پختون قوم کا ایک پر امن سیاسی مظاہرہ چارسدہ میں بابڑہ کے مقام پر منعقد ہونا قرار پایا ۔۔
عبدالقیوم خان نے دفعہ 144 لگا دی ۔۔پر امن سیاسی پختون قوم کا حق تھا ۔۔ جلسہ ہوا اور محض دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر عبدالقیوم نے سیدھی فائرنگ کا حکم دیا ۔۔ 700 پختون سیاسی کارکن شہید ہوئے ۔۔
برصغیر کے آج دن تک کی تاریخ میں کسی بھی ایک سیاسی اجتماع میں ایک ہی دن شہید ہونے والے سب سے زیادہ افراد ۔۔۔

ظلم کی حد یہ رہی کہ شہید اور زخمی ہونے والے سیاسی کارکنوں کے خاندانوں سے چلائی گئی گولیوں کی قیمت تک وصول کی گئی ۔۔ اور عبدالقیوم نے بی حیثیت وزیر اعلی بیان دیا کہ ہم نے فائرنگ کسی کے اپیل پر بند نہیں کی بلکہ گولیاں ختم ہو گئی تھی ۔۔ اور یہ بیان صوبائی اسمبلی کے فلور آف دی ہاوس دیا گیا ۔۔۔
یہ ہے پختون قوم کا کربلا اور یہ ہے پختون قوم کا شمر ۔۔

اللہ پاک نے عبدالقیوم کو بے اولاد مار دیا ۔۔ وہ 1980 کی دھائی تک پشاور میں مقیم رہا۔ چارسدہ بھی آتا جاتا رہا مگر پختون قوم نے ان قاتل کے خلاف بھی ہتھیار نہیں اٹھایا ۔۔ لیکن اللہ پاک کی مار ضرور پڑی ۔۔
آج 12 اگست ہے ۔۔ آج یوم بابڑہ ہے ۔۔ آج پختون قوم کا کربلا ہے ۔۔پختون قوم کے شہیدو اللہ تمھارے قبروں پر تا قیامت نور افشانی کرے ۔۔ امین۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Adil mehmood

Read More Articles by Adil mehmood: 6 Articles with 2439 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Aug, 2019 Views: 116

Comments

آپ کی رائے