حج کا بلاوا آیا

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

جہاں تک میری یاداشت کا تعلق ہے تو آپا پچھلی دو دہائیوں میں صرف ایک مرتبہ اپنی والدہ کی بیماری کی وجہ سے حج پر نہ جاسکیں۔ اس سال بھی حج کا بلاوا آیا تو روانگی کے وقت آپا کو کمر میں شدید چوٹ لگ گئی، درد سے اس کی چیخیں نکل رہی تھیں۔ سب کا مشورہ تھا کہ آپا کسی ڈاکٹر کے پاس جائے کیوں کہ اس کے درد کی کیفیت کسی سے دیکھی نہیں جارہی تھی لیکن اس کا ایک ہی بیانیہ تھا کہ ائیر پورٹ جانا ہے، کہیں ائیر پورٹ پہنچنے میں دیر نہ ہوجائے کیوں کہ اس کو معلوم تھا کہ چوٹ نہایت شدید ہے اور ڈاکٹروں نے بیڈ ریسٹ تجویز کرنا ہے اور اس کو یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کی تکلیف میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس ساری صورت حال کو جانتے ہوئے بھی وہ لبیک اللھم لبیک کہتے ہوئے روانہ ہوئی۔ اس کے ذہن میں تکلیف کی جگہ بیت اﷲ کا طواف ، زیارت رسول ﷺ ، صفا و مروہ کی سعی ، منیٰ میں قیام ، وقوفہ عرفات ، مزدلفہ کی رات ، جمرات میں شیطانوں کو کنکریاں مارنا وغیرہ نے لے لی تھی۔ فرمان ایزدی ہے ۔ ’’ لوگوں میں حج ( کے فرض ہونے ) کا اعلان کردو۔ ( اس اعلان سے ) لوگ تمہارے پاس ( یعنی تمہاری اس عمارت کے پاس حج کے لئے ) چلے آئیں گے ۔ پاؤں چل کر بھی اور ایسی اونٹنیوں پر سوار ہو کر بھی جو دور دراز راستوں سے چل کر آئی ہوں گی اور سفر کی وجہ سے دبلی ہو گئی ہوں تاکہ یہ آنے والے اپنے منافع حاصل کریں۔ ‘‘ حدیث پاک ﷺ کا مفہوم ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت اﷲ شریف کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا کہ یا اﷲ میری آواز کس طرح پہنچے گی ؟ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ آواز کا پہنچانا ہمارے ذمہ ہے۔ دوسری حدیث پاک ﷺ کا مفہوم ہے کہ جس شخص نے بھی خواہ وہ پیدا ہوچکا تھا یا ابھی عالم ِ ارواح میں تھا اور آپ علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہا وہ حج ضرور کرتا ہے۔ ‘‘ ایک اور حدیث ؐ میں آتا ہے کہ جس نے ایک مرتبہ لبیک کہا وہ ایک حج کرتا ہے ، جس نے اس وقت دو مرتبہ لبیک کہا وہ دو مرتبہ حج کرتا ہے اور اسی طرح جس نے اس سے زیادہ جتنی مرتبہ لبیک کہا ، اُس کو اتنے ہی حج نصیب ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک کی ذرہ برابر گنجائش نہیں ہے کہ آپا نے بیسیوں مرتبہ لبیک کہا ہوگا اور وہ سالہا سال سے متواتر حج کرتی چلی آرہی ہیں۔ بے شک ایسے لوگ بہت خوش نصیب ہیں۔ جنوری 2004 ء میں ہم اکھٹے حج پر گئے تھے، آپا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے چپے چپے سے واقف تھیں اور اکثر مقامی لوگ آپا کو جانتے تھے۔ ایک دن مدینہ منورہ میں قیام کے دوران بازار سے گزر رہے تھے تو ایک دکان دار نے آپا کو سلام کیا اور کہا کہ گزشتہ سال آپ کچھ سامان میری دکان پر بھول گئی تھیں وہ میں نے آپ کے لئے امانت رکھا ہے۔آپا پاکستان سے اپنے ساتھ کھانا پکانے کا سارا ضروری سامان ساتھ لے کر آئیں تھیں ، مکہ مکرمہ پہنچتے ہی اُس نے چکی سے آٹا خریدا اور جس سے روزانہ نماز فجر کے بعد پراٹھے بنا کر دیا کرتی تھی ۔ اس کے علاوہ وہ مارکیٹ سے خود سودا سلف خرید لے کر آتیں، اوقات کی ایسی تقسیم کرتی کہ عبادات اور فرائض کی ادائیگی میں معمولی برابر فرق نہ آتا، یہ سب اُس کے تجربے کی وجہ سے تھا۔ گزشتہ دنوں حجاج کرام کا منیٰ روانگی سے قبل آپا کا صوتی پیغام واٹس ایپ پر ملا، اس کی کمر کی تکلیف زیادہ ہوچکی ہے ، اُس کا اٹھنا بیٹھنا اور چلنا پھرنا مشکل ہوگیا ہے اور وہ حج کے مناسک کی ادائیگی وہیل چیئر پر کرنے کا پروگرام بنا رہی ہے۔ دل سے ایک آواز نکلی ، واہ میرے مولا ! آپ کے چاہنے والے بھی کیسے کیسے ہیں ؟ چلنے پھرنے سے قاصر ہوکر بھی مناسک حج ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ آپا کے حوصلے اور ہمت کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے حج کے تمام مناسک وہیل چیئر پر ادا کئے۔ اﷲ تعالیٰ ان سمیت تمام حجاج کرام کے حج مقبول و مبرور فرمائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بندہ خود کو اپنے رب کے سپرد کردیتا ہے تو اس کی رغبت دنیا سے کٹ جاتی ہے اور وہ صرف اﷲ کا ہی رہ جاتا ہے۔ حضرت سالم بن عبداﷲ رحمۃ اﷲ علیہ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ وہ بیت اﷲ شریف کے طواف میں مشغول تھے کہ ان کو حاکم ِ وقت ملا اور کہنے لگا ۔ ’’سالم ! آپ بتاؤ میں آپ کے لئے کیا کرسکتا ہوں؟ ‘‘ انہوں نے معذرت کرلی۔ حاکم نے پھر کہا۔ ’’ نہیں ، آپ مانگیں جو آپ کو مانگنا ہے ۔ ‘‘ انہوں نے بیت اﷲ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اے خدا کے بندے! اس گھر کے پاس آکے بھی تجھ سے کچھ مانگوں گا۔ آپ ؒ کا جواب سن کر حاکم نہایت شرمندہ ہوا۔ جب حضرت سالم بن عبداﷲ رحمۃ اﷲ علیہ طواف مکمل کرکے حرم شریف سے باہر آئے تو حاکم جو آپ ؒ کے انتظار میں تھا ، آپ ؒ سے ملا اور کہا کہ اَب تو آپ باہر آگئے ہیں ، اَب مجھ سے مانگیں جو مانگتے ہیں۔ آپ ؒ نے فرمایا کہ میں آپ سے دین مانگوں یا دنیا۔ حاکم دین تو کہہ نہیں سکتا تھا کیوں کہ دین میں آپ ؒ بہت آگے تھے اور اپنے وقت کے اکابرین میں شمار ہوتے تھے لہٰذا حاکم نے کہا کہ دنیا مانگیں۔ جب اس نے یہ کہا تو آپ ؒ نے فرمایا کہ جس ذات نے دنیا کو پیدا کیا ہے ، میں نے تو اس سے بھی دنیا نہیں مانگی ، پھر میں تجھ سے دنیا کیا مانگوں گا۔ جب بندہ اﷲ کا مہمان بن جاتا ہے تو وہ اپنی ساری تکالیف اس کے سپرد کردیتا ہے ، اپنی جان اس کے حضور پیش کردیتا ہے تو پھر اس کی رحمتوں ، نعمتوں اور بخششوں میں ڈوب جاتا ہے اور ہر وقت اس کی غیبی امداد ساتھ ہو جاتی ہے۔ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جسمانی طور پر معذور اور نابینا افراد کس خوش اسلوبی سے بیت اﷲ کا طواف یا دیگر مناسک ِ حج ادا کرتے تھے۔ یہ اُن کے میزبان ذات کا انعام تھا۔مجھے دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ آج کل ہم لوگوں کو دکھانے کے واسطے نہ صرف طواف کے دوران بلکہ پورے حج کے دوران موبائل فونوں سے تصاویر بناتے ہیں، براہ راست ویڈیو شیئر کرتے ہیں اور حرم شریف کے اندر فون پر باتیں کرتے ہیں۔ کیا ہم اتنی مشقتیں ، تکالیف اور پیسے اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگ ہمیں دعائیں مانگتا دیکھیں ، طواف کرتا دیکھیں اور نفلیں پڑھتا دیکھیں؟ ہم نے اپنی نیتوں کو ٹھیک کرنا ہوگا اور ہر عمل اﷲ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرنا ہوگا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 124904 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Aug, 2019 Views: 187

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ