جشن آزادی ،یکجہتی کشمیر ، یوم سیاہ

(Muhammad Mazhar Rasheed, Okara)

آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے یہ بہت مشکل سے ملتی ہے اس کا اندازہ صرف وہ ہی لوگ کر سکتے ہیں جو محکوم اور ظلم وبربریت کے سائے میں اپنی زندگیاں بسر کرنے پر مجبور ہیں مقبوضہ وادی کے کشمیری، روہنگیا اور برما،فلسطین کے لوگ آزادی کی اہمیت جانتے ہیں ، 14اگست سال کا وہ اہم ترین دن ہے جب وطن عزیز پاکستان 1947کودنیا کے نقشے پر سب سے بڑی اسلامی ریاست کے طور پر وجود میں آیا ،یہ وطن لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا ،بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے چار صوبوں پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، خیبر پختون خوا (سرحد) بشمول مشرقی پاکستان ایک وفاق کی بنیاد رکھی تھی کہ جس کے سارے یونٹ انتظامی ،معاشی اعتبار سے خودمختار اور ان کے حقوق آئین کی شکل میں انہیں بلاروک ٹوک تفویض کیے گئے،72سال سے وادی کشمیر پر بھارت نے ناجائز قبضہ جما رکھا ہے وہاں کی مسلم آبادی پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کو شہید اور ہزاروں خواتین سے ناروا سلوک رکھے ہوئے ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے انکاری ہے چھ لاکھ سے زائد بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں آئے روز انسانی حقوق پامال کر رہی ہے ،ہمیں سچے دل سے 14اگست کو عہد کرنا چاہیے کہ ہم کسی بھی شعبے میں ہو یا کسی بھی پیشے سے منسلک ہوں ملک کی بنیاد کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں گے تاکہ کوئی میلی آنکھ سے اِس کی طرف نہ دیکھ سکے اور کشمیری مسلمانوں کی اخلاقی وسفارتی سطح پر ہر ممکن مدد کرتے رہیں گے ، دین اسلام کی تعلیمات اور آئین پاکستان کے مطابق یہاں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے وہ آزادانہ اپنی مذہبی عبادات اور رسومات ادا کرتے ہیں ، ایک دہائی سے جاری دہشت گردی نے ملک میں خوف کی فضا پیدا کر رکھی تھی جس کو مکمل ختم کرنے میں پاک فوج کے جوانوں اور دیگر قانون نافذکرنے والے اداروں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے یہاں بسنے والوں کو محفوظ اور روشن پاکستان دیا ہے ، سانچ کے قارئین کرام !پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے قیام سے ہی وطن عزیز پاکستان کو سر سبز وشاداب اور محفوظ بنانے کے کے لئے واضح پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے فوری عمل درآمد کروانے کے لئے اقدامات کئے ضلع کی انتظامی سربراہ ڈپٹی کمشنر مریم خاں نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دن رات کی پرواہ کئے بغیر اپنی ٹیم کے ہمراہ ضلع کی تینوں تحصیلوں دیپالپور ، رینالہ خورد ، اوکاڑہ میں صفائی مہم کو کامیاب کروانے کے لئے بھر پور اقدامات کئے اور شجرکاری مہم کوکامیاب کرانے کے لئے زندگی کے تمام شعبہ جات اور مختلف پیشوں سے منسلک افراد کو حکومت کی مہم میں شامل کیا جس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں صحت اور تعلیم کے شعبہ میں ڈپٹی کمشنر نے اوکاڑہ کے مخیر حضرات کے تعاون سے پناہ گاہوں کے قیام ،بجلی سے محروم تعلیم اداروں میں سولر سسٹم کی تنصیب،ہسپتالوں میں بلاکس کی تزئین وآرئش کو یقینی کر دیکھایا ،عوام کی جان ومال کے تحفظ کے لئے پولیس کا ادارہ اہم کردار ادا کرتا ہے ضلعی پولیس کے سربراہ جہانزیب نذیر ایک انتہائی قابل اور کرائم فائٹر آفیسرکے نام سے جانے جاتے ہیں آپ نے اپنی تعیناتی کے دن سے سماج دشمن عناصر خاص طور پر منشیات فروشوں کے خلاف زیروٹالرینس کی پالیسی اپناتے ہوئے انھیں جیل کی راہ دیکھائی ، سٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لئے ضلع بھر کے ایس ایچ اوز کوخصوصی ٹاسک سونپا جس سے ڈکیتی ، چوری کی وارداتوں میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہانزیب نذیر کا عزم ہے کہ عوام کی داد رسی اور امن کے عمل کا فروغ ہر صورت یقینی بنا یا جائے گا پولیس فورس کی استعداد کار بڑھانے کے ساتھ جرائم پیشہ عناصر کے خاتمہ کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ، اوکاڑہ میں گزشتہ چند سالوں میں سماجی فلاحی حوالوں سے حکومتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں یہاں کی چند شخصیات کا ذکر کرنا ضروری ہے جنہوں نے جب کبھی ملک کو کسی نا گہانی آفت کا سامنا کرنا پڑا اس سے نبردآزما ہونے کے لیے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالا ان میں سماجی، فلاحی، صحافتی و کاروباری معروف شخصیت قمر عباس مغل، چودھری عبداﷲ طاہر ، چودھری سلیم صادق ،رائے احمد حسن ، میاں عبدالرشید بوٹی ،نعمت فیملی کے نام سے جانی پہچانی شخصیات چودھری ارشد اقبال ،فیاض ظفر چودھری ، ممبر قومی اسمبلی چودھری ریاض الحق اور غلہ منڈی کے صدر چودھری حبیب الحق ، ممبرصوبائی اسمبلی چودھری منیب الحق ، موجودہ پی ایم کے صدر ڈاکٹر افتخار امجد قابل ذکر ہیں معاشرے کے تمام طبقات میں ان کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،سانچ کے قارئین کرام ! عیدا لاضحی ،یوم آزادی ،یکجہتی کشمیر ، یوم سیاہ کے حوالہ سے شہر بھر میں ہونے والی تقریبات میں راقم کو مدعو کیا گیا جنکا مختصر احوال بیان کرتا چلا جاؤں ، اوکاڑہ میں انتظامیہ کے زیر اہتمام جشن آزادی کی مرکزی تقریب ڈپٹی کمشنر آفس کے لان جبکہ اوکاڑہ شہر سے منتخب قومی وصوبائی اسمبلی کے نمائندوں کی جانب سے جشن آزادی کی ایک بڑی تقریب مسلم لیگ ہاؤس بے نظیر روڈ پر منعقد کی گئی ،ضلعی انتظامیہ کی جانب سے منعقدہ مرکزی تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر انسانی حقوق واقلیتی اُمور اعجاز عالم آگسٹین تھے،8.58 پر پرچم کشائی کی گئی اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہانزیب نذیر ، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما چودھری عبداﷲ طاہر ، چودھری سلیم صادق ، سیاسی سماجی وکاروباری شخصیات میاں عبدالرشید بوٹی، رائے احمد حسن ، قمر عباس مغل ،رائے حماد اسلم کھرل ،صدر بار ایسوسی ایشن رائے عبدالغفور کھرل، پی ٹی آئی کے ضلعی صدر چوہدری طارق ارشاد ٹکٹ ہولڈر راؤ حسن سکندر،مہر جاوید ،سید گلزار سبطین تینوں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز عمر مقبول ، تبریز مری ، قدسیہ ناز ،چیف آفیسر بلدیہ اوکاڑہ فدا افتخار میر ،تمام سرکاری محکموں کے افسران سمیت سیاسی سماجی مذہبی طلبا وطالبات صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ،پرچم کشائی کے بعد ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی پولیس ایلیٹ فورس، محکمہ جیل خانہ جات، ٹریفک پولیس،ریسکیو 1122 کے خصوصی دستوں نے سلامی پیش کی ، تقریب کے دوران پاکستان زندہ باد اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے گونجتے رہے ،مرکزی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا ڈسٹرکٹ خطیب قاری سعید عثمانی نے تلاوت کا شرف حاصل کیا معروف کمپیئر ریاض خان نے یوم آزادی، یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے ضلع بھر میں ایک ہفتہ سے جاری سرگرمیوں سے آگاہ کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سیاسی سماجی مذہبی صحافیوں وکلاء سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے جذبہ کو سراہا ڈپٹی کمشنر مریم خاں ، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہانزیب نذیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن اُن شہداء کے نام جنہوں نے وطن عزیزپاکستان کی بقا کے لیے اپنی جانوں کا نذرانے پیش کیئے آج کا دن اُن با ہمت کشمیری ماؤں ، بہنوں اور جوانوں کے نام بھی ہے جو پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ اپنے پیاروں لاشے اٹھاتے رہے لیکن ارض پاکستان کے تقدس کو پامال نہ ہونے دیا آج انشاﷲ ہم نے عملی طور اپنے کشمیری بھائیوں کو ثبوت دینا ہے کہ تم تنہا نہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہمارا مال ہماری جان سب کچھ کشمیری بھائیوں اور ارض مقدس کے لیے حاضر ہے آج کا دن اس عہد کا دن ہے کہ ہم کشمیر کی آزادی کے لیے اپنی جان ومال اور ہر قیمتی چیز قربان کرنے کے لیے تیار ہیں آزاد ملک میں عید کی خوشیاں منانے پر اﷲ تعالیٰ کاجتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے ملک میں امن وامان کو برقرار رکھنے کے لیے سیکورٹی فورسزنے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیئے ہم اُ ن کی عظیم قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے ۔ اس سلسلہ میں پولیس ڈیپارٹمنٹ شہدائے پولیس کے خاندانوں کے مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت موجودہے،صوبائی وزیر اعجاز عالم آگسٹین نے کہا کہ آزادی ایک بڑی نعمت ہے اور آج کے دن اس نعمت کی قدر اور اﷲ تعالی کا شکر ادا کرنا ہے ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح کے ایمان اتحاد اور تنظیم کے فرمان کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کا عہد کرنا ہے کہ ہم اپنی بہترین صلاحیتیں پاکستان کی خدمت کے لیے وقف کریں گئے مظلوم کشمیریوں کی ہر سطح پر مدد جاری رکھیں گئے انہوں نے کہا کہ زندہ قومیں اپنی آزادی کی نعمت کو برقرار رکھنے کے لیے قربانیاں دیتی آئی ہیں ،انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے جس جرات سے کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی بات کی ہے وہ لائق تحسین ہے انڈیا اپنے بزدلانہ اقدامات سے کشمیریوں کی جدوجہد کو نہیں دبا سکتا بعد ازاں طالب علموں نے ملی نغمے اور ترانے پیش کیے صوبائی وزیر ڈپٹی کمشنراور ڈی پی او سمیت تمام حاضرین نے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستانی پرچم کے ساتھ ساتھ کشمیر کے پرچم بھی لہرائے اس موقع پرقاضی محمد اسلم اوکاڑوی نے پاکستان کی ترقی ،خوشحالی و سلامتی اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت میں ثابت قدم رہنے اوران کی کامیابی کے لیے دعا کروائی،جبکہ منتخب قومی وصوبائی اسمبلی کے نمائندوں کی جانب سے منعقدہ تقریب سے ممبر قومی اسمبلی چودھری ریاض الحق جج ، چودھری منیب الحق و دیگر نے خطاب کیا ممبر قومی اسمبلی چودھری ریاض الحق نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بزرگوں کا عزم پہاڑوں سے بھی بلند تھا کہ انہوں نے اپنی آزادی کی راہ میں آنے والی دوبڑی قوتوں انگریزوں اور ہندوں سے یوں ٹکرلی کہ اْن کے اتحاد کو پاش پاش کر کے رکھ دیا، اﷲ تعالیٰ نے ہمارے دْشمنوں کی چالوں اور سازشوں کو ناکام بنا دیا، قیام پاکستان کے وقت ہمارے بزرگوں نے جانوں کی قربانیاں دیں ، ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی گئی اور معصوم بچوں کو نیزوں پر اُچھالا گیا۔ ہمارے آباؤاجداد پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے افسوس ہم نے ان کے مقاصدکو پورا نہیں کیا آج ہم باہمی اختلافات اور گروہوں میں بٹے پڑے ہیں،بھارتی فوج نہتے کشمیریوں پر جبروتشدد کے پہاڑ توڑ رہی ہے روایتی مذمت سے نہیں بلکہ کشمیر کے معاملے پر ڈٹنا ہوگا مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں کا تمسخر اُڑیا ہے اس خطے میں اسرائیل نہیں بننے دینگے،اُن کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور آخری دم تک جائیں گے ،کشمیر پر صرف کشمیریوں کا حق ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیریوں کو کرنا ہے انہوں نے کہا کہ 72سال سے کشمیری بھائی ظلم سہتے آئے ہیں مقبوضہ کشمیر میں جب بھی کارروائی کی جاتی ہے تو انٹرنیٹ سروس بند کردی جاتی ہے، وہاں ہونے والے ایک ایک ظلم کی تصویر دنیا کے سامنے لانے کے لئے حکومت کو جرات کا مظاہرہ کرنا ہوگا الحمد ﷲ ہم ایک اسلامی ایٹمی قوت ہیں ہماری پاک فوج نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے ملک کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا ہے ،پاکستان کو بنے 72سال ہو چکے لیکن بدقسمتی ہے کہ ہم اب بھی کشمیر کی وجہ سے نامکمل ہیں یہ یوم آزادی ہم یکجہتی کشمیر کے طور پر تو منارہے ہیں تاریخ میں جتنی آج یکجہتی کی ضرورت ہے کشمیر کے مسئلے پر شاید کبھی اتنی ضرورت نہ تھی اپوزیشن نے کشمیر کے مسئلہ پر حکومت کے ساتھ پوری یکجہتی کا اظہار کیا ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈہ ہے اسے مکمل ہونا چاہیے وہ قوتیں جو اس کی ذمہ دار ہیں ان کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ممبر قومی اسمبلی چودھری ریاض الحق نے مزید کہا کہ بدقسمتی ہے کہ حکومت آج بھی اس میں غیر سنجیدہ ہے شاہ محمود قریشی سے وزیر اعظم عمران خان تک سب کی اسمبلی میں تقریر ایک کنفیوژ شخص کی تقریر تھے عمران خان کا ایک بیان ہے کہ انڈیا ہم پر حملہ کرنا چاہتا ہے وزیراعظم کو علم ہونا چاہیے کہ ہم ایک ایٹمی ملک ہیں ہمیں کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے ہمیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں اس قوم کو بزدل بنانے کی کوئی ضرورت نہیں،غزوہ بدر کی مثالیں دینے والے سوچیں کہ مسلمان 1000کے مقابلے میں صرف 313تھے لیکن پھر بھی مسلمانوں کو جنگ میں فتح حاصل ہوئی اب تو ہم ایٹمی قوت ہیں یہ قوم اپنے حق کی خاطر متحد اور دشمن سے لڑنے کو تیار ہے، 15اگست کو ملک بھر کی طرح اوکاڑہ میں سرکاری اور سیاسی سماجی تنظیموں کی جانب سے بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا ٭


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Mazhar Rasheed

Read More Articles by Muhammad Mazhar Rasheed: 53 Articles with 17795 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Aug, 2019 Views: 214

Comments

آپ کی رائے