شیر علی آفریدی.. کوکی خیل قبیلے کا نوجوان، جس نے وائسرائے ہند کو قتل کیا

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)

شیر علی آفریدی اور لارڈ ماؤ

بشکریہ.. محمد شفیع صابر مترجم:مسرت اللہ جان

شیر علی آفریدی واحد شخص تھا جس نے برطانوی وائسرائے کو ہندوستان میں ہلاک کیا تھا اور یہ واقعہ آٹھ فروری 1872 کو پیش آیا تھا اس نے لارڈ ماؤ کو قتل کیا تھا جو اس وقت ہندوستان کا وائسرائے بن کر آیا تھا

آٹھ فروری 1872 کی رات جزیرہ انڈیمان میں تاریخی نوعیت کی رات تھی بحیرہ بنگال میں واقع اس جزیرے کو کالا پانی بھی کہا جاتا تھا انگریزوں کے دور حکومت میں جن قیدیوں کو عمر قید کی سزا سنائی جاتی تھی انہیں اسی جزیروں میں عمر قید گزارنے کیلئے بھیجا جاتا تھا جہاں پر انگریز حکومت ان سے سخت کام کراتے اور بیگار کے کام کرواتے تھے. اور ان کی زندگی یہاں پر ہی گزر جاتی تھی .کالا پانی کے ان جزیروں میں قیدیوں اور ان پر مسلط لوگ تک رسائی تھی کسی کو اس بارے میں کوئی معلومات نہیں تھی کبھی کبھار اخبارات میں وہاں پر قیدیوں کیساتھ ہونیوالی زیادتیوں اور تشدد کی خبریں سامنے آجاتی تھی اور وہ برطانوی حکمرانوں کے تشدد کے طریقے خبروں کی زینت بنتی اور کبھی کبھار ان خبروں کی نتیجے میں قیدیوں کیساتھ ہونیوالے مظالم اور تشدد میں کمی ہو جاتی تھی-

سال 1869 میں لارڈ ماؤ جو کہ ہندوستان کے وائسرائے بن کر آئے تھے نے جزیرہ انڈیمان میں تشدد کا شکار ہونیوالے قیدیوں کے سلوک کا نوٹس لیا اور اس نے 1871 میں قیدیوں کو کچھ سہولیات دینے کا اعلان کیا جس کی وجہ سے لارڈ ماؤ کی مقبولیت میں اضافہ بھی ہوا تھا لارڈ ماؤ کی بڑی خواہش ہے کہ جزیرہ انڈیمان جسے کالا پانی کہا جاتا ہے کو خود جائے اور وہاں پر قیدیوں کی حالت زار کا نوٹس لے اور اسی پروگرام کے نتیجے میں آٹھ فروری 1872 کی صبح وہ وہاں پہنچے تھے اس وقت لارڈ ماؤ کے ہمراہ ان کی اہلیہ لیڈی ماؤ اور اس وقت کے بڑے عہدوں پر تعینات اعلی افسران بھی موجود تھے. یہ اپنی نوعیت کا کسی بھی وائسرائے کا کالا پانی یعنی جزیرہ انڈیمان کا پہلا دور ہ تھا اس سے پہلے کسی وائسرائے نے اس جگہ کا دورہ نہیں کیا تھا اسی وجہ سے اس جگہ پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور قیدیوں کو خصوصی ہدایات بھی جاری کی گئی تھی جو اس سے قبل نہیں کی گئی تھی-

وائسرائے لارڈ ماؤ جیسے ہی وہاں پہنچے تو اس کا استقبال اکیس توپوں کی گولوں کی سلامی سے کیا گیا جس کے بعد جزیرے کے اعلیٰ افسران لائن میں کھڑے ہوگئے تاکہ وائسرائے لارڈ ماؤ سے مل سکیں اور ہاتھ ملائیں - لارڈ ماؤ نے یہ دن مختلف جگہوں پر قائم ورکشاپ‘ بیرکس اور فیکٹریوں کے دورے پر لگا دیا جہاں پر عمر قید کی قیدی کام کرتے تھے تاکہ وہ خود دیکھ سکیں کہ ان کے ساتھ ہونیوالا سلوک کیسا ہے اور ان سے کیسا کام لیا جارہا ہے سارے دن کے دورے کے بعد لارڈ ماؤ رات کے وقت ایک چھوٹے سے پہاڑی جسے اس وقت ماؤنٹ ہیریٹ کا نام دیا گیا تھا وہاں پہنچے یہ جگہ خاموش بھی بہت تھی اور سبزے کی وجہ سے یہاں پر ایک ریزورٹ بھی بنایا گیا تھا جو کہ خاص مہمانوں کیلئے بنایا گیا تھا.یہاں پر لارڈ ماؤ نے اپنی زندگی کے آخری سورج کو غروب ہوتے ہوئے بھی دیکھا بعد میں اندھیرا ہوتے ہی لارڈ ماؤ نے واپس جانے کا ارادہ کیا واپسی پر وہ ایک پل جسے اس وقت امید پل کا نام دیا گیا تھا پہنچا جہاں پر ایک خاص لانچ جس میں اہلکار بھی موجود تھے کھڑی تھی جس میں برطانیہ کے رائل نیوی شپ کے اہلکار تھے جو اسے رائل نیوی کے جہاز لے جاتے جہاں پر اس نے رات گزارنا تھا.لارڈ ماؤ سے آگے دو افراد جارہے تھے جن کے ہاتھ میں ٹارچیں تھی جو راستہ دکھانے کیلئے تھے جبکہ لارڈ ماؤ کے پیچھے ان کے پرائیویٹ سیکرٹری اور دیگر اہلکار بھی آرہے تھے جبکہ ان کے پیچھے اسلحہ لئے سیکورٹی گارڈ بھی آرہے تھے.یہ ایک روایتی طریقہ تھا اور لارڈ ماؤ اپنے اہلکاروں کے ہمراہ گپ شپ کرتے ہوئے چھوٹے جہاز کی طرف جارہا تھا.قیدی سارے بیرک میں تھے اس وقت کوئی خطرہ بھی نہیں تھا.

جیسے ہی لارڈ ماؤ اپنے چھوٹے جہاز میں پہنچا اہلکار سائیڈ پر کھڑے ہوگئے اسی دوران ایک چیخ کی آواز سنائی دی گئی پرائیویٹ سیکرٹری سمیت تمام اہلکاروں نے چونک کر دیکھا تو ایک شخص جس کے ہاتھ میں چاقو تھا نے لارڈ ماؤ کو گردن پر مارا یہ دیکھ کر سیکورٹی اہلکار اور تمام لوگ فوری طور پر پہنچے اور انہوں نے حملہ آور کو پکڑا اور اس کے ہاتھ سے چاقو لے لیا ان کی کوشش تھی کہ لارڈ ماؤ کو بچا سکیں حملہ آور ایک قیدی تھا. پرائیویٹ سیکرٹری نے حملہ آور کو سائیڈ پر کرلیا کیونکہ سیکورٹی اہلکار اسے اس وقت مارنا چاہتے تھے اسی دھکم پیل میں راستہ دکھانے والے دو افراد کے ہاتھوں سے ٹارچ بھی گر گئیں اور سخت اندھیرے میں خوف کا ماحول پیدا ہوگیا. جب ٹارچ کی روشنی کی گئی تو دیکھا گیا کہ لارڈ ماؤ کو زخم آئے ہیں اس وقت لارڈ ماؤ نے اپنے رومال سے اپنا چہرہ صاف کرنا شروع کیا اس نے بتایا کہ وہ زخمی ہے تاہم وہ ٹھیک ہو جائیگا کیونکہ اس کے گردن پرمعمولی زخم آئے ہیں -

اہلکاروں کی بڑی تعداد ٹارچ لیکر آئی تاکہ وائسرائے کو نزدیک سے دیکھ سکیں روشنی میں پتہ چلا کہ وائسرائے کا کوٹ خون سے بھرا ہوا ہے اور اس کے جسم سے خون کا فوارہ ابل رہا ہے اس وقت ہر ایک کی کوشش تھی کہ رومال کے ذریعے لارڈ ماؤ کے زخم کو کنٹرول کرسکیں تاکہ خون کا بہاؤ کم ہو لارڈ ماؤ بھی کھڑے ہوگئے تاہم خون کے بہاؤ کے باعث لارڈ ماؤ کے قدم لڑکھڑا گئے اور لارڈ ماؤ یکدم گر گئے.تاہم لارڈ ماؤ نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونیکی کوشش کی اور اسی دوران اس نے ایک اہلکار کو کہہ دیا کہ میرا سر پکڑنا. یہ اس کے آخری الفاظ تھے جس کے بعد لارڈ ماؤ اسی حملے میں قتل ہوگیا.لارڈ ماؤ کے جسم کے فوری طور پر جہاز پر منتقل کیا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے لارڈ ماؤ کی جسم کو چیک کیا تاہم اس میں زندگی کی کوئی رمق دیکھنے میں نہیں تھی کیونکہ اسے بہت لیٹ جہاز میں آنیوالے ڈاکٹروں کے پاس پہنچایا گیا تھا اس کا زخم کمر سے لیکر سینے تک تھا اور زخم بھی بہت گہرا آیا تھا چونکہ لارڈ ماؤ بھاری بھر کم شخصیت کے مالک تھے اسی وجہ سے وہ اس حملے میں زیادہ دیر تک بچ سکے ڈاکٹروں کے مطابق اگر کسی عام آدمی پر اس طرح حملہ ہوتا تو وہ فوری طور پر ہلاک ہو جاتا.

اس حملے کو کرنے والے کا نام شیر علی آفریدی تھا اور وہ خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ سے تعلق رکھنے والا تھا. کسی زمانے میں ڈپٹی کمشنر پشاور کے دفتر میں ملازم تھا.طبعیت کے لحاظ سے شیر علی آفریدی ایک نرم مزاج شخص تھا لیکن خاندان میں ہونیوالے ایک جھگڑے کے باعث وہ اسی صورتحال کا شکار ہوگیا تھا اس کے قبیلے کے دو خاندانوں میں دشمنی تھی اور یہ کئی سالوں سے آرہی تھی جب بھی مخالف کو موقع ملتا ایک دوسرے کے مخالف کو مارتے اور یہ انتقام کی ایک روایت تھی.

کہتے ہیں ایک دفعہ شیر علی آفریدی اپنے تربور جسے موجودہ دور میں کزن کہا جاتا تھا کو دیکھا جو کہ اس وقت کینٹ پشاور کے علاقے کمپنی باغ کے پاس تھا شیر علی آفریدی ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں ملازم تھا اور اپنے دفتر جارہا تھا شیر علی آفریدی نے موقع پر اپنے تربور کو قتل کیا. یہ واقعہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے ساتھ ہوا تھا فوری طور پر شیر علی آفریدی کو گرفتار کیا گیا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا. شیر علی آفریدی ایسی طبعیت کا مالک تھا کہ ہر ایک کو عزت دیتا تھا اس وقت کے انگریز افسر بھی اس کے خوبی کے معترف تھے اور اس کی سابقہ خدمات کے پیش نظر انگریز افسر بھی اس کے بری کرنے کے حق میں تھے لیکن پھر عدالت میں اسکی سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا اور یہ فیصلہ 2 اپریل 1867 کو آیا.

شیر علی آفریدی کی طبعیت اس کے نرم مزاجی اور سابقہ خدمات جس میں امبیلا کی جنگ بھی شامل تھی میں شیر علی آفریدی کا کردار واضح تھا اسی بنیاد پر اس کی سزائے موت کا فیصلہ عمر قید میں تبدیل کردیا گیا اور اسے کالا پانی کی سزا تجویز کی گئی سال 1869 میں شیر علی آفریدی کو انڈیمان جزیرے بھیج دیا گیا جہاں پر اس نے اپنا قید کا وقت گزارنا تھا اسی وقت شیر علی آفریدی نے انگریزوں کی ٹاپ پوزیشن پر تعینات افسر کو ہلاک کرنے کا عہد کیا تھا.

شیر علی آفریدی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ بہت مذہبی طبعیت کا بندہ تھا دوران قید اس پر تعینات اہلکاروں نے یہ جان لیا تھا کہ وہ پانچ وقت کا نمازی ہے اور روزے بھی رکھتا تھا اور جو رقم اسے وہاں پر کام کرنے کے دوران ملتی تھی وہ دوسرے غریب قیدیوں کو مالی امداد کے طور پر دیا کرتا تھا دوران قید ہر دوسرے اور تیسرے مہینے اپنے حصے کے کھانے میں کھانا بچا کر یتیم قیدیوں کو بھی دیا کرتا تھا اور یہی وہ کردار تھا جس کی وجہ سے شیر علی آفریدی نہ صرف قیدیوں میں مقبول تھا بلکہ وہاں پر تعینات اہلکار بھی اس کی عزت کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ شیر علی آفریدی کی سرگرمیوں کو مانیٹر نہیں کیا جاتا تھا اسے قیدیوں کے بال کاٹنے کی زمہ داری بھی دی گئی تھی اور وہ اسی وجہ سے مختلف بیرکوں میں آتا جاتا رہتا.اسی وجہ سے لارڈ ماؤ کو نشانہ بنانے میں اسے آسانی ہوئی.

لارڈ ماؤ کے المناک موت پر برطانوی حکومت بھی ایک صدمے سے دو چار ہوگئی اس واقعے کے بعد پہلی مرتبہ فارنزک تحقیقاتی ٹیم بھی جزیرہ انڈیمان پہنچی اور انہوں نے اپنی تحقیقات کا آغاز کردیا. برطانوی حکومت کا خیال تھا کہ شائد اس قتل میں تحریک مجاہدین کا ہاتھ ہے اور بعض افراد نے شیر علی آفریدی کو اس کام کیلئے چنا اور اسے اس حملے میں استعمال کیا متعدد تحقیقات کاروں نے اس حوالے سے کوششیں کی کہ معلومات لے سکیں کہ آیا اس حملے کے پیچھے تحریک مجاہدین کا ہاتھ تو نہیں.اور اس عمل میں اس وقت ایک اہلکار جس کا نام ایشوری پرساد تھا اور وہ بعد میں ڈپٹی کلکٹر بھی بن گیا اس نے جعلی اور جھوٹی خبریں دیکر انگریزوں کو بتایا کہ اس کیس میں تحریک مجاہدین کا ہاتھ ہے.

دوران ٹرائل شیر علی آفریدی نے عدالت کو بتایا کہ وہ سارا دن اسی چھوٹے جہاز کے قریب انتظار کرتا رہا بعد میں ماؤنٹ ہیریٹ بھی گیا کیونکہ لارڈ ماؤ بہت لیٹ ہوگیا تھا لیکن وہاں پر بھی اس پر حملے کا موقع نہیں مل سکا اور پھر اسے جہاز کے قریب اس پر حملہ کرنے کا موقع ملا.شیر علی آفریدی لارڈ ماؤ کے مقابلے میں کوئی خاص جسامت کا حامل بھی نہیں تھا لیکن پھر بھی اس نے چھ فٹ کے حامل بھاری بھر کم لارڈ ماؤ کو قتل کیا.

اسی واقعے کے بارے میں مولانا غلام رسول سرگزشت مجاہدین میں تفصیلا لکھتے ہیں
شیر علی آفریدی ایک ایسا شخص تھا جو اپنے ارادوں کی تکمیل کیلئے کچھ بھی کرسکتا تھا اس نے دوران قید بڑی زنجیر بھی توڑ ڈالی تھی اور اپنے آپ کو زخمی بھی کیا اور سیکورٹی گارڈ سے رائفل چھین لی تھی - جب عدالت میں اس سے پوچھا گیا کہ کس نے اسے لارڈ ماؤ کے قتل کرنے کیلئے آمادہ کیا تو شیر علی آفریدی نے جواب دیا تھا میں نے اللہ کے حکم سے اسے قتل کیا..

شیر علی آفریدی نے ایک مرتبہ پھر قتل کیا تھا اسی وجہ سے اسے دوبارہ سزائے موت کی سزا سنائی گئی 11مارچ 1873 کو جب اسے پھانسی کے تختے پر لایا گیا تو اس کے آنکھیں مطمئین تھی اس نے اسی رسی کہ جس پر اسے پھانسی دی جانی تھی کو چوما. اور کہا کہ جب میں نے لارڈ ماؤ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو میں اپنے آپ کو یہاں پر ہی دیکھ رہا تھا. اس وقت پھانسی کو دکھانے کیلئے وہاں پر زبردستی لائے جانیوالے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے شیر علی آفریدی نے کہا بھائیو. میں نے تمھارا دشمن قتل کردیا تم لوگ گواہ رہو کہ میں مسلمان ہوں اسی کے بعد اس نے کلمہ شہادت پڑھا اور کلمہ شہادت دو مرتبہ اس کے زبان سے نکلا لیکن تیسری مرتبہ پھانسی لگ جانے کے باعث اس کے زبان سے الفاظ نہیں نکل سکے.

اس واقعے کے بعد برطانوی سامراج نے بہت کوشش کی کہ مجاہدین کو اس واقعے سے جوڑسکیں تاہم کوئی بھی ثبوت نہیں مل سکے تاہم اس کے باوجود جزیرہ انڈیمان میں قید مجاہدین قیدیوں کی سزا میں دس سال کا مزید اضافہ کیا گیا..
۔۔۔
 

Reviews & Comments

Language:    
The spill-over effect of the Sepoy Mutiny of 1857 was very much there ever after the transfer of Indian government under the British Crown. The bottom line is racial discrimination and repressive rule showed its ugly head here and there, despite the suppressed rebellion of 1857 that began with poor treatment of the Hindus and Muslims in the Army.